شاید اس کی نگاہ نے بھانپ لیا تھا کہ اہل پاکستان مادہ پرستی کی آخری حد عبور کر چکے ہیں یا وہ یہ جان چکا تھا کہ اب لفظ خلافت کی تسبیح تو رولی جا سکتی ہے مگر تعمیر خلافت کی بات کی سزا خانہ کعبہ میں بھی موت سے کم نہیں ،یہ بھی امکان ہے کہ یہ مرد قلندر اللہ پر اتنا توکل رکھتا ہو کہ اللہ کے وعدہ خلافت کی باریکیوں تک رسائی حاصل کر چکا ہو ،یہ شرک و بدعت سے واقف ہی نہیں علم کے اعلی درجے پر فائز تھا ، یہ وہ شخص تھاجو 6جون 2022ءکو ہم سے جدا ہوا ،یہ مہاجر بھی تھا اور مجاہد بھی،اس کا تعارف اس کی فکر اور منشور تھا ، ہر کوئی اس شخص کو اپنے انداز سے جانتا اور پہچانتا تھا ، اکثر لوگ دعائیں لینے آتے اور دعا کے نتیجے میں جھولی بھر کر لوٹتے تھے ، کچھ سمجھدار اس شخص سے وظائف کی گزارش کے ساتھ حاضر ہوتے اور علم و عمل کا یہ سمندر وظائف کا خزانہ دے کر انہیں روانہ کر دیتا ، یہ اکثر جھولی پھیلاتا مگر اپنے لئے نہیں بلکہ اپنے اکابرین کی نشانیوں جامعہ ابی بکر و جامعہ تعلیم الاسلام کے لئے ، اسے اللہ کی راہ میں غرق کرنے میں سب سے زیادہ ہاتھ اس کی ماں کا تھا ،جس ماں نے ایسی تربیت کی کہ یہ بندہ خدا دنیا والوں سے جدا ہو کر ایک اللہ کی بولیاں بولنے لگا ،یہ تھے وہ صوفی عائش محمد جو مستجاب الدعوات بزرگ تھے ،جوش خطابت میں وجد کی کیفیت اور عبادت میں گویا اللہ سے باتیں کر رہا ہو ، اس شخص کو خلافت کا سورج طلوع ہونے کی اتنی ہی امید تھی جتنی مجھے آج دوپہر ہونے کی امید ہے ، شاہ اسماعیل شہید اور سید احمد شہید کی شہادت کو 191 سال گزر چکے مگر یوں محسوس ہوتا ہے یہ سانحہ پرسوں ہوا کیونکہ بہت سے لوگوں نے لکھا سیدین شہیدین کی آخری نشانی مولانا عائش محمد رحمہ اللہ191 برس کے بعد بھی بالاکوٹ کی دو قبروں کے گرد لوگ حلقے بنا کر دعا کرتے نظر آتے ہیں ،گڑھی حبیب اللہ سے گزرتے ہیں تو ایک قبر کو تاریخی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس کے بارے میں یہ مشہور ہے یہاں سید احمد شہید کا سر مدفون ہے ،یعنی دھڑ بالاکوٹ میں اور سر گڑھی حبیب اللہ میں ،شہید گلی ہو یا چمرکنڈ ، بالاکوٹ ہو یا شنکیاری ،دہلی کی جامع مسجد ہو ساحل سمندر ،ہر جگہ سیدین شہیدین کے پائوں کے نشان دکھائی دیتے ہیں ، اس خاک کی تاثیر ہی یہ ہے کہ جو اس خاک میں مل گیا اس کے دل میں جذبہ خلافت کی فصل تیار ہو گئی،پرسوں مغرب کی نماز کے بعد جب اس قافلے کے رہبر کی جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن میں نماز جنازہ کی صف بندی ہو رہی تھی تو سوچ رہا تھا ،اللہ والوں کے آنے کا بھی اپنا انداز اور جانے کا بھی اپنا ہی حسن ہے ، نہ کوئی صحافی ،نہ بادشاہ اور نہ لیڈر نظر آیا مگر ہزاروں لوگ یوں صف بستہ کھڑے تھے گویا مولانا عائش محمد کوئی بادشاہ تھا جو آج جا رہا ہے اور نماز جنازہ پڑھانے کی سعادت بھی ایک داعی خلافت حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ کو ملی ،وہ حافظ مسعود عالم جو خلافت کے سپاہی ہی نہیں بلکہ خلافت کے دیوانوں کے استاد بھی ہیں ، گوشہ نشین ضرور ہیں مگر علم کے پیاسے ان کے گرد یوں منڈلا رہے ہوتے ہیں گویا پروانے شمع پہ مر رہے ہوں ، جنازہ گاہ کے پہلو میں صرف ایک قبر تھی جو ان سے پیش رو امیر صوفی عبداللہ غازی کی ہے ، وہ عبداللہ جو انگریز کے خلاف لڑتے رہے اور پاکستان کے قیام کے بعد فیصل آباد کے ہی ہو گئے ،یہ بھی مستجاب الدعوات تھے ،ان کے ہاتھ میں بھی شاہ شہید کا پرچم تھا جو کبھی سرنگوں نہ ہونے دیا ،مولانا عائش محمد ان کے بعد امیر کارواں بنے اور اپنے منفرد انداز میں خلافت اور شہادت کی بولیاں بولتے رہے، جامعہ ابی بکر کراچی کی سہولتوں کے باوجود خلافت کا یہ مسافر سال میں 6ماہ پنجاب میں گزارتا ، مولانا ضیاء اللہ عابد رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے بہت پہلے بتایا تھا ، مولانا فیصل آباد مدرسے میں آتے اور جہاد کے حق میں خطاب کرتے ،پھر بچوں سے کہتے بچو دعا کرو اللہ خلافت بحال فرمائے ،یہ اس زمانے کی بات ہے جب افغان جہاد کا نام تک نہ تھا ، یعنی صوفی صاحب کو یقین تھا کہ خلافت کی بحالی اللہ ہی نے کرنی ہے ،وہ کبھی کسی گورنمنٹ کے سامنے خلافت کا مطالبہ لے کر نہیں گئے، پرسوں جب روانہ ہوئے تو ان کے چاہنے والے یوں روتے رہے گویا ماں بچوں سے جدا ہو گئی ہو ، شفیق و مہربان شخص سادگی جس کا لباس تھا اور عاجزی جس کا زاد راہ ، آج میں جماعت المجاہدین کے امیر مولانا فضل الہی وزیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ کے تاریخی جملے لکھ کر بات ختم کروں گا انہوں نے اپنی کتاب تاریخ جہاد کشمیر میں لکھا ہے :
خاندانوں اور قبائل پر لکھنے کا میرا مقصد یہ نہیں کہ قبائل کی فضیلت بیان کی جائے بلکہ میرا مقصد یہ ہے کہ آنے والی نسلیں اپنے بزرگوں کے اچھے کاموں کو جاری رکھیں ۔
آج مولانا عائش محمد رحمہ اللہ پہ لکھنے کا میرا مقصد یہ ہے کہ علماء ان کے نقش قدم پر چلیں ،سیاسی اور سرکاری درباروں کے گرد چکر نہ کاٹیں ، دنیا میں عزت اور آخرت میں جنت اللہ نے دینی ہے، صوفی عائش محمد نے بھی قرآن و حدیث کے وہی ابواب پڑھے تھے جو دیگر علماء پڑھتے ہیں مگر کیا وجہ ہے کہ صوفی صاحب کو صرف خلافت ہی اسلامی سیاست میں ملی جس پر وہ قربان ہو گئے جبکہ دیگر اکثر علماء کو خلافت نظر ہی نہیں آتی ، آخر وجہ کیا ہے ؟
بہرحال پرسوں سیدین شہیدین کی تحریک کا آخری امیر دنیا سے روانہ نہیں ہوا بلکہ سیدین کی تحریک پھر سے زندہ ہوئی ہے اور ان شاءاللہ قیام خلافت کے بعد بھی شہدا کربلا کے ساتھ ساتھ شہداء بالاکوٹ اور دیگر شہداء خلافت اور داعیان خلافت کو بھی یاد رکھا جائے گا ،جنہوں نے خلافت نہ ہونے کے باوجود خلافت خلافت کی بولی لگائے رکھی اللہ تعالی ہمارے شیخ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور ہمارے قلوب کو محبت خلافت سے بھر دے ۔آمین
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…