حُبّ رسول ﷺ کے عملی تقاضے

مفکر اسلام علامہ اقبال نے اپنی تصنیف ’’تشکیل جدید الہٰیا ت اسلامیہ‘‘کے دیباچہ میں لکھا ہے ۔’’قرآن پاک کا رجحان زیادہ تر اس طرف ہے کہ ’فکر‘ کے بجائے ’عمل‘ پر زور دیا جائے۔‘‘ اسلام قرآن حکیم کے توسط سے ہی دنیا میں متعارف ہوا ہےاور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اسلام کوئی ساکت و جامد دین نہیں بلکہ اپنے قالب میں ایک متحرک اور انقلابی تصور لیے ہوئے آیا ہے۔

انسان کی زندگی سے غور و فکر کے مراحل کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اس لیے کہ نظریات میں عملی حرارت تفکر و تدبر سے ہی پیدا ہوتی ہے۔عام طور سے انسانی علم کے پانچ ذریعے خیال کیے جاتے ہیں ، پہلا علمِ وجدانیات یعنی آدمی کے اندرونی حواس کا نتیجہ ہوتا ہے،دوسرا یعنی فطریات کا علم ،خالق فطرت خود آدمی کے اندر ودیعت کرتاہے، تیسرا علم محسوسات کا علم ہےجو آدمی کے ان ظاہری حواس کا نتیجہ ہوتا ہے جو اگرچہ باہر ہوتے ہیں مگر آدمی کے جسم کے اندر ہی ہوتے ہیں ،چوتھا علم بدیہیات اولیہ کہلاتا ہے جو آدمی کے حواس اور ذہن کا مشترکہ فیصلہ ہوتا ہے، پانچواں ذریعہ علمِ انسان کی عقل و ذہن کی قیا س آرائی ہے۔وہ آدمی ہی کے اندر کے دماغی قویٰ کا عمل ہوتا ہے، یوں اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انسان کا علم وجدان سے ذہن تک بتدریج مادیت سے ترقی کر کے ماورائے مادہ کے قریب تک پہنچتا ہے ،ان کے بعد اُس علم کا درجہ آتا ہے جس کی سرحد اس کے بعد آتی ہے اور جس کا تعلق مادے سےاتنا ہی تعلق ہوتا ہے جتنا معقولات اور ذہنیات کا ہے وہ تمام تر مادیات سے پاک ہے۔اس کو مادےسے اتناہی تعلق ہوتا ہے کہ وہ علم مادی دل و دماغ کے آئینے پر اوپر سے آکر اپنا اثر ڈالتا ہے۔اس غیر مادی علم کے بھی مختلف درجے ہیں جن کو راست، حدس،کشف، الہام اور وحی کہتے ہیں ۔

جس طرح انسانی علم کے مذکورہ بالا پانچوں ذرائع انسان کے جسمانی قویٰ سے تعلق رکھتے ہیں، اسی طرح یہ غیر مادی ذرائع انسان کے روحانی قویٰ سے وابستہ ہوتے ہیں ۔اور یہ سب برائے نام مادی و روحانی سے ترقی کر کے آخر کار خالص روحانی کے ذریعے تک ترقی کرتے چلے جاتے ہیں۔

محمد عربی ﷺ نے اپنی بعثت سے قبل ایک عرصہ غارِ حرا کی تنہائیوں میں آفاق و انفس کی صحیح حقیقت جاننے کی فکر و تدبر میں ہی گزارا تھا۔اپنے تخلیق کار کی تلاش نے آپ ﷺ کو اپنی ذات سے بھی بیگانہ کردیا تھا۔لیکن کسی شے کے ادراک کے لیے غور و فکر کرنے کا بھی ایک وقت متعین ہوتا ہے،اس کے بعد اپنے زاویۂ نگاہ کو تبدیل کرنا ناگزیر ہوجاتا ہے۔چناں چہ غور و فکر اور تجسس و تردد کی ساعتیں گزارنے کے بعد پھر اگلا قدم عمل کی دنیا میں رکھنا پڑتا ہے۔ایسی فکر جسے عمل کا جامہ نہ پہنایا جائے سعی لاحاصل ہوتی ہے۔یہ عملی قدم ہی نظریات کو پختگی دیتا اور مطلوبہ نتائج بر آمد کرتا ہے۔

تاریخ انسانی شاہد ہے کہ رسول عربیﷺ کے برپا کیے ہوئے ہمہ گیر انقلاب میں اور دنیا میں برپا ہونے والے دیگر انقلابات خواہ وہ انقلابِ فرانس ہو یا انقلابِ روس یا اور کوئی انقلاب ، ان میں بنیادی فرق ہی یہ ہے کہ اُن انقلابات کی فکر دینے والے کوئی اور تھے اور ان کو عملی جامہ پہنانے والے کوئی اور لوگ!لیکن رسول اکرمﷺ کا اصل اور بے مثال کارنامہ یہ ہے کہ جس انقلاب اور انسانی نفوس کی قلبِ ماہیت کی فکر لوگوں کے ذہن میں راسخ کی اس کے عین مطابق اس فکر کو عملی طور پر بھی نافذ کر کے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔چنانچہ آپﷺ کی حیاتِ طیبہ میں جب وہ وقت آیا تو آپﷺ نے خلوت نشینی ترک کرکے عملی دنیا میں قدم رکھاارشاد ربانی ہوا:

يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ۰۰۱ قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ۰۰۲وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ۰۰۳

’’اے محمد ﷺ جو کمبل اوڑھے سو رہے ہو۔اُٹھ جایئےاور خبردار کیجیے اور اپنے ربّ کی بڑائی بیان کیجئے‘‘ (سورۃ المدثر:۱۔۳)

اسلام میدان میں آکر اپنی حقانیت کا اعلان کرنے اور اس کو تمام ادیان پر عملی طور پر غالب کرنے کا لائحہ عمل لے کر آیا ہے۔یہ خانقاہوں، درگاہوں،اور کونوں کھدروں میں بیٹھ کر ،دینا و ما فیہا سے کنارہ کشی کر کے اپنی ہی ذات کا طواف کرتے رہنے کے لیے نہیں آیا۔یہ الہامی دین ایک مکمل ضابطۂ حیات ہےجس میں انسانی ڈور کو سلجھانے کی پوری استعداد اور بھر پور صلاحیت موجود ہے۔

محمد عربیﷺ کے لائے ہوئے دین متین پر کامل ایمان و ایقان کے ساتھ عمل کرنے سے دنیا اور آخرت دونوں ہی سنور جاتے ہیں۔کسی انسان کا ایمان کامل ہی نہیں ہوتا جب تک محمد عربیﷺ اس کو دنیا کی ہر شے سے عزیز تر نہ ہوجائیں۔ارشاد نبی کریم ﷺ ہے:

لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

’’تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کی نگاہ میں اس کے باپ،اس کی ماں ،اس کے بیٹے اور سارے انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں‘‘(متفق علیہ)

اب چوں کہ موجودہ دور میں ہر عبادت کو ایک رسم بنا لیا گیا ہے۔چنانچہ ربیع الاول کے اس ماہِ مبارک میں بھی حبّ رسولﷺ کے اظہار کے لیے بھی کچھ ایسی بدعات و رسومات ایجاد کر لی گئی ہیں جس کو ثواب سمجھ کر پورے زور و شور سے منایا جارہا ہے۔مثلاً گھروں، دکانوں اور شاہراہوں کو رنگ برنگے قمقموں سے سجانا،جلسے ،جلوس اور ریلیاں نکالنا،میلاد کی محفلوں میں جھو جھوم کر نعتیں پڑھنا ،عشقِ رسول کے بڑے بڑے دعوےکرنا،یہ سب کر کے شاید وہ اپنے دلوں میں چھائے ہوئے اندھیروں کو روشنیوں میں بدلنا چاہتے ہیں۔ان میں بعض عاشقانِ رسول ﷺ پٹاخے پھوڑ کر ،پھول جھڑیاں چھوڑ کر،گھروں اور بازاروں میں سبز جھنڈیاں لگا کر ہی اپنی والہانہ محبت کا اظہار کر لیتے ہیں۔

صحابہ ٔکرام کا یہ طرز عمل تھا کہ وہ آپﷺ کے وضو کا پانی اپنے چہرے پر مل لیتے تھے۔آپ ﷺ نے اس کی وجہ دریافت کی تو آپﷺ کے رفقا نے اپنے اس عمل کو اللہ اور اس کے رسول کی محبت بیان کیا۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جن لوگوں کو اس بات کی خوشی ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ جب بات کریں تو سچ بولیں ، جب ان کے پاس کوئی امانت رکھی جائے تو اس کو اس کے مالک کے حوالے کریں اور پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں۔‘‘( مشکوٰۃ)

اب ہم جو عشقِ رسولﷺ کے بہت بڑے دعوےدار بنتے ہیں ،کیا اللہ کے رسولﷺ کی فرمائی ہوئی صرف ان تین باتوں پر ہی پوری طرح،شعوری کوشش کے ساتھ عمل کرتے ہیں؟ ہم اگر پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو یہ حقیقت واضح ہوگی کہ ہمارا طرزِ عمل بحیثیت امت مسلمہ اس کے برعکس ہے۔نہ ہمارے قول و فعل میں کوئی مطابقت رہی ہے، نہ صداقت و حق گوئی کی ہماری زبان عادی ہے،ہم انفرادی سے اجتماعی سطح تک خیانت اور بد دیانتی کے عادی ہوچکے ہیں۔اور نہ پڑوسیوں کے حقوق کا کوئی احساس ہے اور نہ بھائی چارے کاجذبہ موجود ہے۔ہم بحیثیت امت انسانی بنیادی اوصاف سے بھی تہی دامن ہیں۔

عوام الناس عشق ِرسولﷺ کے اظہار کے لیے ہر سال ربیع الاول کے مہینے میں جو کچھ کر تے یہ اصل میں جھوٹا اطمینان ہے جو ہمیں اس حقیقت کی جانب متوجہ ہونے نہیں دیتا کہ ہم دیانت داری اور پورے اخلاص کے ساتھ یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ قرآن حکیم کی ہدایات کی روشنی میں رسولﷺ سے ہمارے تعلق کی بنیادیں کیا ہیں؟ ارشاد ربانی ہے:

قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا ا۟لَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُحْيٖ وَيُمِيْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۰۰۱۵۸ (الاعراف 158)

آپ کہہ دیجیے :» لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے اس کے سوا کوئی الہٰ نہیں ،وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔لہٰذا اللہ اور اس کےارشادات پر ایمان لاؤ اسی کی پیروی کرو، امید ہے تم راہِ راست پالوگے۔»

اس آیت کی روشنی میں واضح ہوگیا کہ انسانی معاشرے کی اصل فوز و فلاح اور کامل ہدایت کے لیے رسول کریمﷺ کی اطاعت اور اتباع ہی اصل طریقہ ہے۔انسانوں کے ناقص ذہنوں کے تراشے ہوئے حب رسول ﷺ کے اظہار کے وہ تمام طریقے جن کا مظاہرہ بڑے دھوم دھام سے ہر سال ہمارے ہاں ہوتا ہے، محض خود کو طفل تسلیاں دینے کے سوا کچھ نہیں۔جب کہ اتباع رسولﷺ کے پیمانے کچھ اور ہی ہیں اور اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔بحیثیت مسلمان ہمارا ہر عمل،ہمارا ہر قول ،ہمارا رہن سہن ؛ گفتگو،ہماری وضع قطع ،ہماری نجی اور اجتماعی زندگی غرض کہ اس دنیا میں شعور و ادراک کی سطح پر قدم رکھنے سے لے کر زندگی کی آخری سانس تک اسی کی ذات سے منسوب ہو جسے اللہ کا رسولﷺ مانا جائے۔اور یہ سب اس وقت تک ہو نہیں سکتا جب تک دل کی گہرائیوں میں اللہ اور اس کے رسولﷺ پر کامل ایمان نہ ہو۔زبانی اقرا ر کے ساتھ تصدیق با لقلب بھی لازمی ہے۔

آج امت مسلمہ کی اکثریت کا ہر عمل اغراض و مفادات کے پردوں میں چھپا ہو اہے۔ہماری عبادات ،معاملات ، معیشت وتجارتی لین دین کے پیمانوںمیں مکاری اور دو رخی ہے، حتیٰ کہ حب رسولﷺ کے اظہار میں بھی ریاکاری اور جھوٹ کا عنصر شامل ہے۔اور بدعات و شرکیہ رسومات کو ہی رسولﷺ کی محبت سمجھ لیا گیا ہے۔مولانا احمد رضا خان بریلوی اطاعت رسولﷺ کے حوالے سے فرماتے ہیں :

«روضۂ رسولﷺ کا طواف نہ کرو،نہ سجدہ کرو ،نہ اتنا جھکو کہ رکوع کے برابر ہو۔حضور نبی کریمﷺ کی تعظیم ان کی ا طاعت میں ہے۔» (فتاویٰ رضویہ جدید جلد 10 ص 769)

اب حضرت کے ان فرمودات کی آئینے میں ان لوگوں کو اپنا جائزہ لینا چاہیے جو اس کے بر خلاف محض اپنے خود ساختہ اصولوں کو معیار بنا کر عشقِ رسولﷺ کے نام پر میلے ٹھیلوں کا بڑے جوش و خروش سے اہتمام کرتے ہیں اور اس کو ہی اصل دین اور رسول اللہ ﷺ کی محبت قرار دیتے ہیں۔جب کہ سنت کے دائرے سے باہر نکل کر کیا ہوا کوئی عمل بھی معتبر نہیں ہوتا۔

آج ہم بحیثیت مجموعی اس منہج سے ہٹ گئے ہیں جس کو اختیار کر کے رسول اللہ ﷺ اور ان کے جاں نثاروں نے ہواؤں کے رخ بدل دیے تھے۔آج ہماری ذلت و رسوائی اور جگ ہنسائی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری اطاعت ہے تو اس میں اصل رو ح موجود نہیں ، احکامِ شریعت کو ایک مذاق بنایا ہوا ہے اور اوامر و نواہی کی فرضیت سے ہم غافل ہیں ۔برائی ہوتے دیکھ کر ہمیں اپنے دل میں کوئی کڑھن محسوس نہیں ہوتی جو ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ہمارا یہ طرز عمل معصیت اور منافقت کی علامت ہے۔ایک طرف عشق رسولﷺ کے بلند بانگ دعوےہیں اور دوسری جانب سچی اطاعت سے گریز،اخلاصِ نیت پر مبنی رسول اللہﷺ کی پیروی کا فقدان، اپنے وجود اور اپنی وضع قطع میں اغیار کی نقالی، تربیت اولاد میں غفلت، انہیں ایک اچھا انسان اور سچا مسلمان بنانے کے بجائے مغربی طرزِ زندگی کا نمونہ بنانے کی کوششیں ہیں۔پھر ہم کس منہ سے خیر الامت کہلانے اور شافع محشر کی شفاعت کی امیدیں لگاکر بیٹھ سکتے ہیں۔

ہماری میلاد کی محفلیں،چراغاں،آتش بازیاں،گھروں میں سبز جھنڈے لہرانا،اگر یہ سب اطاعت رسول کے حقیقی جذبے اور اتباع سنت کی روح سے خالی ہیں تو یہ سب سراپا ڈھونگ اور فریب نفس ہے۔اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نظر میں کوئی وقعت ہے اور نہ اعمال کے میزان میں اس کا کوئی وزن۔بلکہ یہ محض ملمع کاری ہے اور جو قابل مواخذہ بھی ہوسکتی ہے۔

انسانی زندگی کے بہت سے دائرے ہیں اس کی پوری زیست ان ہی دائروں کے گرد گھومتی ہے اور دنیا و آخرت دونوں کے اعتبار سے کامیاب شخص وہی ہے جو ان تمام دائروں میں رہتے ہوئے اور تمام لوازم زیست کو برتنے اور استعمال کرتے ہوئے ان میں سے کسی ایک دائرے میں اپنے آپ کو گم نہیں کرتا اور کسی دائرے میں اس کا اپنا وجود ضم نہیں ہوتا،بلکہ وہ سب کچھ دیکھتا ہےاور برابر دیکھتا ہے،سب کے حقوق ادا کرتا ہے اور اس سلسلے میں مکمل عدل و انصاف سے کام لیتا ہے۔وہ احباب کے تعلق کو نبھاتے ہوئے اہل قرابت کو فراموش نہیں کرتا اور اپنی ضرورتوں کی کفالت کی خاطر اپنے متعلقین کے حقوق اور ان کی ضرورتوں سے صرف نظر نہیں کرتا، یہ تمام اخلاقی اوصاف ایسے ہیں جنہیں سراہنے والے دنیا کے ہرکونے میں پائے جاتے ہیں ،اور جن کے عمدہ اور اچھے ہونے میں کسی کو کلام نہیں ہوسکتا۔لیکن اسوۂ نبی علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام کا امتیا ز یہ ہے کہ ان خالص دنیاوی امور کی ڈور کو آخرت کی فلاح سے منسلک کر دیا۔اور کامیاب مؤمن اسی کو قرار دیا ہے کہ جو ان پہلوؤں کے اعتبار سے بھی کما ل و حسن رکھتا ہو۔

نبی رحمت ﷺکی حیات ِ طیبہ کی صرف یہی خوبی نہیں ہے کہ وہاں قول و عمل ایک ہیں اور ایک کو دیکھ کر دوسرے کو بہ سہولت جان اور پہچانا جا سکتا ہے، بلکہ اس کا ایک اہم امتیاز یہ بھی ہے کہ آپﷺ کے ہاں زندگی کے یہ دائرے اپنے اپنے مدار میں یکساں فاصلے اور بالکل متناسب رفتار سے گردش کرتے نظر آتے ہیں۔کوئی دائرہ نہ تو دوسرے سے ٹکراتا ہے ،نہ دوسرے کی حدود میں مداخلت کرتا ہے۔اس بات کو صفحہ قرطاس پر منتقل کرنا تو بہت آسان ہے لیکن اس کا حق ادا کرنا کارِ دارد ہے، اور اسی لیے ایک مؤمن کامل کی پہچان بھی یہی ہے۔جس کا بہترین اسوہ رسول کریمﷺ کی ذاتِ مبارکہ میں اپنی پوری حقانیت کے ساتھ موجود ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ سیرت النبیﷺ کےچشم کشا تذکرے کو محض رسم و رواج ،جلسوں جلوسں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ہم اپنی انفرادی اور قومی زندگی میں اسوۂ حسنہ کو زندہ کرنے کا پختہ عزم کریں کیوں کہ یہ ہماری مادی اور روحانی بقا اور سلامتی کا ضامن ہے۔

مآخذ و مصادر

1۔تشکیل جدید الہیاتِ اسلامیہ ازعلامہ اقبال، ترجمہ : نذیر نیازی

2۔اخلاق اور فلسفہ اخلاق ازمولانا حفظ الرحمٰن سیو ہاروی

3۔عالمی السیرۃ، کراچی               ،شمارہ اپریل 2004ء

editor

Share
Published by
editor

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago