خلیفۃ الرسول سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ

عہد صدیقی در دین تحریف نہ باشد

خلیفۃ الرسول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے    عہد خلافت میں کتاب وسنت کے نفاذ کا اہتمام کیا۔شرعی احکام میں کمی وبیشی نہیں کی جبکہ جنہوں نے دین کے بنیادی اصولوں میں ترمیم کرنا چاہی آپ نے اُن مرتدین کے خلاف قتال کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو غلبہ نصیب فرمایا۔ مخالفین اہل سنت کے شیخ محمد حسین نے سیدنا امیر (علی رضی اللہ عنہ) کے ثلاثہ (ابو بکر،عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم) سے جنگ نہ کرنے کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے اقرار کیا ہے۔

چنانچہ شرح نہج البلاغہ جلد3 ص:57 طبع بیروت میں مروی ہے کہ ایک دن سیدہ نے حضرت امیر کو جنگ پر آمادہ کرنا چاہا اس اثناء میں مؤذن کی آواز بلند ہوئی جو کہہ رہا تھا ’’ أشھد أن محمدا رسول اللہ‘‘ جناب امیر نے سیدہ سے فرمایا کہ آیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ ندا روئے زمین سے ختم ہوجائے؟ جناب سیدہ نے کہا: نہیں ، فرمایا: یہی وہ چیز ہے جو میں تم سے کہتاہوں (میرے کرنے سے یہ آواز ختم ہوجائے گی)۔ ( تجلیات صداقت، 1/245)

اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنے عہد میں عہد نبوی کی طرح کے کلمہ واذان کے دوران اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کی شہادت کو برقرار رکھا اس میں اپنی خلافت کی شہادت کا اضافہ نہیں کیا یہی وہ بنیادی وجہ تھی جس بناء پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اُن کے خلاف جنگ نہیں کی۔

سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں شرعی احکام کا نفاد کیا جن شرپسندوں نے عقائد میں ترمیم کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو عبرتناک سزا دی، جس طرح بعض لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے اعلان کیا کہ آپ ہمارے رب اور خالق ہیں۔ انہوں نے مہلت ملنے کے باوجود توبہ نہیں کی تو پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اُن کو آگ میں پھینکنے کا حکم دیا وہ جل کر خاکستر ہوگئے اگر کسی نے آپ کے عہد خلافت میں اذان کے دوران علی ولی اللہ وخلیفتہ بلا فصل کی شہادت کا اضافہ کیا ہوتا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سختی سے اُس کا نوٹس لیتے۔

اہل سنت کا اس امر پر پختہ یقین ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سمیت تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ کے ولی ہیں اور سیدنا ابو بکر ،سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم خلیفہ برحق ہیں لیکن ان کی ولایت وخلافت کی شہادت کلمہ واذان کا جزو نہیں۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفۃ الرسول بلافصل ہیں لیکن انہوں نے اذان میں اپنی خلافت کی شہادت کے اظہار کرنے کا حکم جاری نہیں کیا اگر کمی وبیشی کی ہوتی تو آپ کے مجتہد کے بقول سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے خلاف جنگ کرتے۔ اسی طرح امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ برحق ہیں لیکن انہوں نے بھی اذان میں ولایت وخلافت کی شہادت کا حکم جاری نہیں فرمایا۔تاریخ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول کوئی قول نہیں۔

یہی دعوت فکر ہے کہ خلیفۃ الرسول رضی اللہ عنہ کے عہد میں دین کے اندر تحریف نہیں ہوئی بلکہ اسلام کو غلبہ اور ریاست میں وسعت واستحکام نصیب ہوا۔

سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور لشکر اسامہ شبہ کا ازالہ

اہل سنت خلیفۃ الرسول سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے حق میں دلیل پیش کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حیات مبارکہ کے آخری ایام میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا جبکہ امامیہ مجتہد شیخ محمد حسین نے تردید کی۔

’’تمام اہل سیر وتواریخ اس امر پر متفق ہیں کہ سیدنا ابوبکر لشکر اسامہ بن زید میں داخل تھے ….. ان حالات میں یہ کیسے مقصود ہوسکتاہے کہ آپ نے سیدنا ابو بکر کو مسجد نبوی میں نماز پڑھانے پر مأمور کیا تھا؟ ۔ ‘‘ (اثبات الامامت، ص:78)

نبی کریم ﷺ نے آخری ایام حیات میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بلاد شام میں بلقاء نامی علاقہ کی طرف کوچ کرنے اور اہل موتہ پر حملہ کرنے کا حکم دیا تھا جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کے حکم کے مطابق تیار ہوگئے تو آپ ﷺ نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر بنادیا۔

سرور کائنات محمدﷺ کسی غزوہ یا سریہ میں نکلنے کے لیے لوگوں کے نام لے کر انہیں تلقین نہیں فرماتے تھے بلکہ آپ عمومی طور پر ترغیب دیا کرتے تھے پھر جناب کے پاس اتنے لوگ جمع ہوجاتے جن سے مقصود پورا ہوسکتا ہو تو آپ ﷺ ان میں سے کسی ایک کو ان پر امیر مقرر فرماتے پس اس لشکر میں بڑے بڑے مہاجرین وانصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی شامل ہوگئے تھے۔

سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اس لشکر اسامہ میں شامل تھے یا نہیں۔ اس بارے مؤرخین کا ایک قول یہ ہے کہ آپ اس لشکر میں شامل نہ تھے۔ انہوں نے جیش اسامہ رضی اللہ عنہ میں شریک کبار صحابہ رضی اللہ عنہم کے نام گنوائے ہیں ان میں کہیں بھی سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا نام نہیں آتا۔ (المغازی ۳/۱۱۱۸ ، الطبری ۳/۲۲۶ ، سیر اعلام النبلاء ۲/۴۹۷)

سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کا پرچم رسول اللہ ﷺ کی بیماری سے قبل باندھ دیاگیا تھا پھر جب آپ بیمارہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائے تو آپ رسول اللہ ﷺ کی وفات تک لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے۔

جبکہ بعض روایات سے ثابت ہوتاہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کا حکم سن کر لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ میں داخل تھے آپ اس وقت کے حالات کو مدنظر رکھیں۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سیدنا اسامہ کے ساتھ روانگی کے لیے تیار ہوچکے تھے آپ ان کو لے کر نکلے اور ’’جرف‘‘ میں پڑاؤ ڈالا تاکہ وہاں سے فوری روانگی کے لیے مستعد رہیں لیکن ایسے ہوا کہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی تکلیف بہت بڑھ گئی۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس عیادت کے لیے تشریف لائے اور عرض گزار ہوئے یا رسول اللہ! آپ بہت کمزور ہوچکے ہیں اور میں اللہ تعالیٰ سے آپ کی صحت یابی کی امید کرتاہوں۔ آپ مجھے یہاں پر اس وقت تک رکنے کی اجازت مرحمت فرمائیں حتی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو شفایاب کردے اگر میں اس حالت میں نکلا کہ آپ کی بیماری کا یہ حال ہے تو میرا دل آپ کی وجہ سے پریشان رہے گا اس پر رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے۔ ( مأخوذ منہاج السنہ ۵/۴۸۸)

تاریخ سے ثابت ہے کہ جو لوگ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جرف میں تھے وہ نبی کریم ﷺ کی مرض کا سن کر مدینہ لوٹ آئے تھے ان میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ جن لوگوں کو رسول اللہ ﷺ نے شام میں بلقاء کی ملحقہ ۔سرحد پر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ، سیدنا جعفر طیار رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے۔ جانے کا حکم دیا تھا کہ وہ اس علاقہ کا قصد کریں انہوں نے جرف میں جاکر خیمے لگالیئے ان لوگوں میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ۔

کہتے ہیں کہ ان میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ نے نماز کے لیے مستثنیٰ کردیا تھا پس جناب محمد ﷺ کا مرض شدت اختیار کر گیا تو انہوں نے وہیں قیام کر لیا۔(تاریخ ابن کثیر ۶/۴۰۵)

اس فرمان کی تائید بخاری ومسلم میں موجود ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر تشریف لائے تو فرمایا:

مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ

’’ابو بکر کو حکم دیں کہ نماز پڑھائیں۔‘‘ (بخاری:679، مسلم:418)

سيدنا ابو بكر رضي الله عنه لشكر اسامه رضي الله عنه میں داخل ہوئے تو سرور کائنات ﷺ نے نماز پڑھانے کے حکم سے پہلا حکم منسوخ ہوگیا۔ جس طرح آپ ﷺ نے ایک دفعہ پیوندکاری سے منع فرمایا لیکن پیداوار کی کمی کے باعث آپ ﷺ نے اجازت مرحمت فرمائی۔

فریق ثانی اعتراض کرسکتے ہیں کہ مذکورہ بالا حوالے اہل سنت کی کتب سے مرقوم ہیں مولانا محمد عبد الحمید تونسوی نے ارشادات علی رضی اللہ عنہ ص:34 پر امامیہ کی معتبر کتاب شرح نہج البلاغہ درنجفیہ کے حوالہ سے ثابت کیا ہے کہ خود امام الانبیاء محمد ﷺ نے نیابت کے لیے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو امامت نماز کا شرف بخشا تھا۔

كان منه خفة مرضه يصلي بالناس بنفسه …… فلما اشتد به المرض أمر أبا بكر أن يصلي بالناس ….. وأن أبا بكر صلي بالناس بعد ذلك يومين (شرح نهج البلاغة دره نجفيه ، ص:225)

’’جناب رسول اللہ ﷺ اس وقت تک خود لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے جب تک مرض خفیف رہا ……. پھر جب مرض سخت ہوگیا تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں ….. اس کے بعد سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ دو دن تک جنا ب رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں تمام لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے پھر رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی۔‘‘

جب اہل سنت اور امامیہ روایات سے واضح ہوگیا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ کے آخری ایام میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مسجد نبوی میں نماز پڑھانے کا حکم دیا تو امامیہ مجتہد شیخ محمد حسین کا اعتراض ’’ان حالات میں یہ کیسے مقصود ہوسکتاہے کہ آپ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو مسجد نبوی میں نماز پڑھانے پر مأمور کیا تھا۔

مصدقہ حقائق کے سراسر منافی وناپاک جسارت ہے۔

editor

Share
Published by
editor

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago