سقوطِ ڈھاکہ… ایک کربناک سانحہ

انسانی تاریخ میں کچھ یادیں ، کچھ باتیں اور کچھ کربناک سانحات ایسے بھی رونما ہوتے ہیں جو لوحِ ذہن پر ایسےنقش ہو جاتے ہیں کہ انسان چاہے بھی تو انہیں مٹا نہیں سکتا ، دردناک ماضی بھلائے نہیں بھولتا۔ہمارےآج آنے والے کل میں ہمارا ماضی بن جاتا ہے، جو ہر حال میں درد ناک ہوتا ہے ، اگر خوشگوار گزرا ہو تو اس کی حسین یادیں دل میں کسک پیدا کرتی رہتی ہیں اور اگر دردناک حالات میں انسانوں پر بیتاہو تو اس کی تڑپ، اس کی سوزش انسان کے لیے سوہانِ روح بن کر برسہا برس تک دل کی دنیا کو تہہ وبالا کرتی رہتی ہے۔

سقوطِ ڈھاکہ وطنِ عزیز کی تاریخ کا وہ المیہ اور سیاہ باب ہے، جس کی سیاہی 51بر س گزرنے کے بعد بھی خشک نہیں ہوئی ہے۔ہند کے مسلمانوں کی برسوں کی جاں گسل و جاں سوز قربانیوں کے بعد جو خطہ ارض اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ہمارے اسلاف کی جان و مال اور عصمتوں کی قربانیوں کی دلخراش داستانوں سےتحریک پاکستان کے صفحات رنگین ہیں ، ہمارے ناعاقبت اندیش، خودغرض اور مفا دپرست لوگوں کی سازشوں اور اُدھر تم ،اِدھر ہم کے مسموم نعرے کی گونج نے مملکتِ پاکستان کے ٹکڑے کر دیے ۔ایک بازو ہی کٹوا دیا، اور کلمے کے مضبوط رشتے سے جڑے انسانوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تاکہ بقیہ پاکستان پر اپنی حکومت قائم کر کے اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ سکیں۔قربانیاں اوروں نے دیں اور گل چھڑے وہ لوگ اڑا رہے ہیں جن کی تحریک پاکستان میں ایک انگلی بھی زخمی نہیں ہوئی۔ یا للعجب!

مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کا اتحاد صدیوں بعد دین اسلام کی درخشندہ تعلیمات ،اخوت، بھائی چارگی کی بنیاد پر قائم ہوا تھا ،مگر ہمارے ادارے اور حکمران اس اتحاد کو قائم نہ رکھ سکے ، جس کے سبب یہ مثالی اتحاد انانیت، بغض، کینہ پروری اور حسد کی نظر ہو گیا۔

سقوطِ ڈھاکہ کی تاریخ کا ایک سب سے بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ اس دن ملکوں کی تاریخ میں پہلی بار ایسا اندوہناک منظر دیکھنے میں آیا کہ کسی مسلمان فوج کے کمانڈر کو اتنی ذلت آمیز شکست اٹھانی پڑی کہ ایک بھارتی افسر کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔اور وہ بھارتی کمانڈر 90ہزار پاکستانی جوانوں کو پا بۂ زنجیر کر کے اپنے ساتھ لے گیا۔ ایک کلمہ گو مسلمان کے لیے اس سے بڑا شرمناک موقع اور کیا ہوسکتا ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ ایک وقت میں امت مسلمہ کی وہ شان بھی چشم فلک نے دیکھی ہے کہ مٹھی بھراور مفلوک الحال دین کے سرفروشوں نےوقت کی عظیم ترین سلطنتوں کو تاخت وتاراج کر دیا تھا۔دنیا میں ان سرفروشوں کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔

لیکن 16دسمبر1971 وہ رسوا کن دن تھا جب مسلمانوں کی برسوں کی شجاعت، غیرت و حمیت اور خودداری و عزت ِ نفس کو ملیا میٹ کر دیا گیا۔مشرقی پاکستا کی علیحد گی کا ایک سبب اسے متحدہ پاکستان کا محض ایک جغرافیائی حصہ سمجھ کر وہاں کے عوام کو وسائل، شہری و انسانی حقوق اور اقتدار میں منصفانہ شراکت سے محروم کر نے کی تباہ کن پالیسی تھا۔جو بدقسمتی سے روزِ اول سے ہمارے وطن کی مقتدرہ اشرافیہ کی روش رہی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے اشرافیہ کی اس منفی سوچ میں تا حال کوئی تبد یلی نہیں آئی ہے۔

بہر حال ضرورت اس امر کی ہے جو کچھ آج سے 51سال پہلے ہوچکا ، اب اس سوچ اور اس قسم کی نا روا پالیسوں کا خاتمہ کیا جائے، تاکہ بچا کچھا ملک امن و سلامتی کی فضا میں اپنے وجود کو برقرار رکھ سکے۔دنیا میں ہماری بہت جگ ہنسائی ہو چکی اللہ کے لیے ! اب تو پاکستانی قوم کو سکون و راحت اور عزت و وقار کی زندگی گزار نے کا راستہ ہموار ہونے دو۔پاکستان کے استحکام اور اس کی نظریاتی و جغرافیائی حفاظت اور بقا کی ضمانت دستورِ پاکستان پر مکمل طور پر عمل پیرا ہونے میں ہی ہے۔کاش! کہ ہمارے اربابِ اقتدار اس حقیقت کو سنجیدگی اور حبّ الوطنی کے بے لوث جذبے کے ساتھ سمجھ کر اس پر اپنی فکر و عمل کو استوار کر سکیں۔

نئے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیف کو مبارکباد

ادارہ مجلہ اسوئہ حسنہ پاک فوج کے نئے سپہ سالار جناب حافظ سید عاصم منیر صاحب کو پاک فوج کی کما سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتاہے اور رب العالمین کی دی گئی ’’حفظ قرآن‘‘ کے بعد حفظِ پاکستان کی سعادت پر آپ سے اچھی توقعات رکھتاہے۔ اور ادارہ پُر امید ہے کہ آپ کی اسلامی تربیت اور اپنے دینی رجحان سے جغرافیائی حدود کے ساتھ ساتھ نظریاتی حدود کے بھی محافظ ثابت ہوں گے۔ اور جہالت کے بڑھتے ہوئے اندھیروں کو علوم شرعیہ سے منور کریں گے۔ اسی طرح حکمرانوں میں تہذیب،عدالتوں میں انصاف،اداروں میں شریعت اور عوام میں اخلاق کو ترویج دیں گے۔

ساتھی ہی ادارہ جناب ساحر شمشاد مرزاصاحب کو ’’چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی‘‘ کے عہدے پر فائز ہونے پر مبارکباد دیتاہے۔ اور اُن سے بھی اچھی توقعات رکھتاہے کیونکہ انہوں نے بھی اپنی زندگی میں کئی نشیب وفراز دیکھے اور اللہ نے انہیں ایک یتیم بچے سے ایک عظیم جنرل کے عہدے تک پہنچایا ہے اور وہ بذاتِ خود ملک کی زبوحالی اور عوام کی مجبوریوں سے واقف ہیں۔ ہمیں اُمید ہے کہ وہ ضرور ایسے اقدامات کی کوشش کریں گے جو ارضِ پاکستان اور باشندانِ پاکستان کیلئے یکسر مفید ثابت ہوں اور عوام کے لیے سہولت کا ذریعہ بنیں۔

editor

Share
Published by
editor

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago