قارئین کرام ! رسول اللہ ﷺ کے فرامین میں ہمارے لیے بہت سی نصیحتیں اسباق و احکام موجود ہیں۔ حدیث نبوی کے بہت سے جہات ایسے ہیں جن کی طرف ہماری توجہ نہیں جاتی اس لیے وہ گوشے ہم سے مخفی رہتے ہیں۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم رسول اللہ کے تمام فرامین کا مطالعہ رکھیں۔ لہذا اس ضمن میں ہم آپ کی خدمت میں بعض ایسی احادیث کا ذکر کر رہے ہیں جن کا تعلق حیوانات اور حشرات سے ہے جن میں بہت سے فضائل احکام اور اسباق موجود ہیں۔ آئیں حدیث نبوی کا یہ گوشہ ملاحظہ فرمائیں۔
سيدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
بکری جنت کے جانوروں میں سے ہے ۔(سنن ابن ماجة: 2306)
سيدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
بکریاں پالو، اس لیے کہ ان میں برکت ہے ۔(سنن ابن ماجة: 2304 مسند أحمد: 27381)
سیدنا عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اونٹ ان کے مالکوں کے لیے قوت کی چیز ہے، اور بکریاں باعث برکت ہیں، اور گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لیے بھلائی بندھی ہے ۔(سنن ابن ماجة: 2305)
سیدنا عبدالرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
ایک طبیب نے نبی اکرم ﷺ سے دوا میں مینڈک کے استعمال کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے مینڈک قتل کرنے سے منع فرمایا۔(سنن ابي داود: 3871)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے :
نبی مکرم ﷺ نے چار جانوروں کے قتل سے روکا ہے چیونٹی، شہد کی مکھی، ہد ہد، لٹورا چڑیا۔(سنن ابى داود: 5267)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
چھپکلی فاسق جانور ہے۔(صحیح بخاری: 1831 سنن نسائی: 2886)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
جس شخص نے پہلی ضرب میں چھپکلی کو قتل کر دیا اس کے لیے اتنی اتنی نیکیاں ہیں اور جس نے دوسری ضرب میں مارا اس کے لیے اتنی اتنی ، پہلی سے کم نیکیاں ہیں اور اگر تیسری ضرب سے مارا تو اتنی اتنی نیکیاں ہیں ، دوسری سے کم ( بتائیں ۔ )(صحيح البخاري: 2240)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
سانپوں کو مار ڈالو، دو دھاری اور دم کٹے سانپ کو ضرور مارو، اس لیے کہ یہ دونوں آنکھ کی بینائی زائل کر دیتے ہیں اور حمل کو گرا دیتے ہیں۔ (صحیح بخاری: 3297)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جو شخص سانپوں کو اس ڈر سے چھوڑ دے کہ وہ پلٹ کر ہمارا پیچھا کریں گے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔(سنن ابي داود: 5250)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
نماز میں دونوں کالوں سانپ اور بچھو کو ( اگر دیکھو تو ) قتل کر ڈالو ۔ (سنن ابی داود: 921)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
پانچ جانور ایسے ہیں جو سب کے سب موذی ہیں اور انہیں حرم میں بھی مارا جا سکتا ہے کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔(صحيح بخاري: 1829)
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
یقینا اللہ عزوجل نے جو بھی بیماری نازل كی اس كے ساتھ شفا بھی نازل كی ہے سوائے بڑھاپے کے ۔ گائے كا دودھ لازم كرو كیوں كہ یہ ہر درخت سے چرتی ہے۔(الصحيحة: 518)
ایک روایت کے لفظ ہیں:
اس كا دودھ شفا ہے اس كا گھی دوا ہے اور اس كا گوشت بیماری ہے۔ (الصحیحة: 1533)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب مکھی تم میں سے کسی کے برتن میں پڑ جائے تو پوری مکھی کو برتن میں ڈبو دے اور پھر اسے نکال کر پھینک دے کیونکہ اس کے ایک پر میں شفاء اور دوسرے میں بیماری ہے۔(صحیح بخاری: 5782)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں سے کچھ پی لے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے۔(صحيح بخارى: 172)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جس شخص نے کوئی کتا رکھا، اس نے روزانہ اپنے اعمال میں سے ایک قیراط کی کمی کر لی۔ البتہ کھیتی یا مویشی کی حفاظت کے لیے کتے اس سے الگ ہیں۔(صحيح البخاري: 2322)
ایک روایت کے لفظ ہیں:
اس کے اجر میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے۔(صحیح مسلم: 1574)
سيدنا ابن عمر رضى الله عنہما سے روایت ہے کہ:
ایک مرتبہ جبریل علیہ السلام نے نبی اکرمﷺ کے پاس آنے کا وعدہ کیا تھا ( لیکن نہیں آئے ) اور کہا: ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں تصویر یا کتا ہو۔(صحیح بخاری: 3227)
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
میں نے رسول اللہ ﷺ سے خالص سیاہ کتے کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ شیطان ہے ۔(سنن ابن ماجة: 3210)
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مرغ کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ نماز (فجر) کے لیے جگاتا ہے ۔(سنن ابی داود: 5101)
سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو، بیشک اس نے فرشتہ دیکھا ہے۔(صحیح البخاري: 3302)
سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے۔(صحیح البخاري: 3302)
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ سے چوہے کے بارہ میں پوچھا گیا جو گھی میں گر گیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
اس کو نکال دو اور اس کے آس پاس ( کے گھی ) کو نکال پھینکو اور اپنا باقی گھی استعمال کرو۔(صحيح البخاري: 235)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
ہم نے مر الظہران کے مقام پر ایک خرگوش کو ابھارا لوگ اس کے پیچھے دوڑے مگر نہ پایا پھر میں اس کے پیچھے لگا اور اسے پکڑ لیا اور اسے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا، انہوں نے نبی مکرم ﷺ کی خدمت میں اس کا کولھا اور دونوں رانیں بھیجیں تو آپ ﷺ نے انہیں قبول فرما لیا۔(صحیح بخاری: 5489)
سنن ابی داود میں ہےمحمد بن صفوان بیان کرتے ہیں کہ:
میں نے دو خرگوش شکار کئے اور انہیں ایک سفید (دھار دار) پتھر سے ذبح کیا، پھر ان کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے مجھے ان کے کھانے کا حکم دیا۔ (سنن ابی داود: 2822)
سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ایک چیونٹی نے ایک نبی کو کاٹ لیا۔ تو ان کے حکم پر چیونٹیوں کے سارے گھر جلا دئیے گئے ۔ اس پر اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تمہیں تو فقط ایک چیونٹی نے کاٹا تھا اور تم نے ایک ایسی مخلوق کو جلا دیا جو اللہ کی تسبیح بیان کرتی تھی ۔(صحیح البخاري: 3019)
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ اپنی ضرورت کے لیے گئے، ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے ساتھ دو بچے تھے، ہم نے ان بچوں کو پکڑ لیا، وہ چڑیا آ کر زمین پر پر بچھانے لگی، اتنے میں نبی کریمﷺ آ گئے، اور یہ دیکھ کر فرمایا: اس چڑیا کا بچہ لے کر کس نے اسے بے قرار کیا ہے؟ اس کا بچہ اسے واپس کردو۔(سنن أبي داود: 2675)
سيدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
یہ (بلی) نجس نہیں ہے، یہ تو تمہارے پاس برابر آنے جانے والوں یا آنے جانے والیوں میں سے ہے۔(سنن الترمذي: 92)
سيدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب ہوا جسے اس نے اتنی دیر تک باندھے رکھا تھا کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی۔ اور وہ عورت اسی وجہ سے دوزخ میں داخل ہوئی۔ (صحيح البخاري: 2365)
نبی معظمﷺ نے کتے اور بلی کی قیمت ( لینے ) سے منع فرمایا ہے۔(سنن أبي داود: 3479)
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے:
خیبر کے زمانے میں ہم نے جنگلی گدھوں ( گورخر ، زیبرا ) اور گھوڑوں کا گوشت کھایا اور نبی معظمﷺ نے ہم کو پالتو گدھے کے گوشت سے منع فرما دیا ۔(صحیح مسلم: 1941)
سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
میں نبی کریم ﷺ كے پاس آیا اور كہا: اے اللہ كے رسول ! جوچیزیں مجھ پرحرام ہیں ان میں سے میرے لئے حلال بیان کیجیے؟ تو آپ نے فرمایا: گھریلو گدھا نہ كھاؤ اور نہ كچلی والا درندہ كھاؤ۔(الصحيحة: 475)
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ :
جنگ خیبر میں رسول اللہ ﷺ نے گدھے کا گوشت کھانے کی ممانعت فرما دی تھی اور گھوڑے کا گوشت کھانے کی رخصت دی تھی۔(صحیح بخاری: 5520)
ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں گھوڑے کا گوشت کھاتے تھے۔ (سنن نسائی: 4335)
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…