اسلام کے نظریہ حلال و حرام کے حوالے سے سابقہ شمار ہ میں قرآن مجید سے ماخوذ تین اصول بیان کیے گئے تھے یہ اصول اس حوالے سے بنیاد کا درجہ رکھتے ہیں اس لئے قرآن پاک میں ان کی جا بجا تاکید ملتی ہے یہ اصول درج ذیل ہیں:
حلت و حرمت کا تعلق شارع سے ہے اور اس میں انسانی عقل کا کوئی عمل و دخل نہیں ہے۔
کائنات میں موجود تمام اشیاء کی تخلیق انسانوں کیلئے ہوئی ہے، اس لئے ہر چیز کا اصل حکم اباحت (جائز)کا ہے۔
طیبات حلال اور خبیث و ناپسندیدہ اشیاء حرام ہیں۔
ان تینوں کی مکمل وضاحت کے لیے مجلہ اسوۃ حسنہ کا سابقہ شمار ہ ملاحظہ کیجیے ۔ اس حوالے سے ذخیرہ احادیث سے منتخب احادیث اور ان کے تحقیقی فوائد درج کیے جا رہے ہیں تاکہ سابقہ تینوں اصولوں کی فہم و تفہیم مزید آسان ہو جائے۔
’’رسول اللہﷺ نے فرمایا: « اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں فرض کی ہیں، سو اُن کو ضائع مت کرو اور کچھ حدود مقرر کی ہیں سو اُن سے تجاوز مت کرو۔ اور کچھ چیزوں کو حرام کیا ہے سو اُن کا ارتکاب نہ کرو اور کچھ چیزوں سے خاموشی اختیار فرمائی ہے تم پر رحمت کی وجہ سے نہ کہ بھول کر۔ سو تم اُن چیزوں کا تجسس نہ کرو‘‘۔
مذکورہ بالا حدیث حلال و حرام کے احکام سے متعلق انتہائی جامع اور اہم حدیث ہے۔ چنانچہ بعض محدثین کے بقول رسولﷺ کی احادیث میں کوئی حدیث بھی تنہا علمِ شریعت کے اصول و فروع کو اتنی جامع نہیں جتنی سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ روایت ہے۔
’’سید نا واثلہ مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے پورے دین کو چار کلمات میں جمع کردیا ہے۔ پھر انہوں نے سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث ذکر فرمائی‘‘۔
’’اورامام ابوبکر سمعانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث دین کے اصولوں میں سے ایک بڑا اصول ہے‘‘۔
اس حدیث کی مختصر تشریح یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے پورے دین پر عمل کا یہ نسخہ ارشاد فرمایا ہے کہ فرائض یعنی جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے اُن پر عمل ہو، محرمات یعنی اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے اجتناب ہو اور مسکوتات یعنی جن چیزوں کے بارہ میں قرآن و حدیث میں خاموشی ہو اُن کے بارے میں تجسس نہ کیا جائے۔
اس حدیث سے یہ اہم اصول معلوم ہوتا ہے کہ:
جس چیز کے حلال یا حرام ہونے کا قرآن و سُنت میں کہیں ذکر نہ ہو وہ مباحات میں داخل ہے۔
تاہم اس سلسلے میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ: کسی چیز کے حرام ہونے کیلئے یہ ضروری نہیں کہ قرآن و حدیث میں اس کا ذکر صریح آئے۔
بلکہ کسی عام اصول کے ضمن میں اس کا ذکر ہوجانا بھی کافی ہے۔ لہٰذا اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ جس چیز کا صراحتاً یا تبعاً کسی بھی طرح قرآن و حدیث میں ذکر نہ ہو وہ مباح اور معاف ہے۔
’’رسول اللہﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال فرما دیا حلال ہے اور جو کچھ حرام فرما دیا حرام ہے، اور جس چیز سے خاموشی اختیار فرمائی ہے وہ معاف ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی اس کی عافیت کو قبول کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو بھولا نہیں کرتے۔ پھر آپﷺ نے سورۃ مریم کی آیت تلاوت فرمائی‘‘۔
اس حدیث میں یہ اصول بیان ہوا ہے کہ:
حلال و حرام صرف وہی چیز کہلا سکتی ہے جس کی حرمت یا حلت اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔
تاہم اس سے متعلق بھی ایک تو وہی وضاحت ہے جو اوپر ذکر ہوئی کہ کتاب اللہ میں حلت یا حرمت ذکر ہونے کی دونوں صورتیں ہیں: ایک یہ کہ صراحتاً ذکر ہو، دوسرے یہ کہ کسی عام اصول کے ضمن میں ذکر ہو۔
دوسری وضاحت یہ ہے کہ کتاب اللہ سے مراد بھی کتاب و سُنت دونوں ہیں چنانچہ اسی طرح کی ایک روایت امام ابو داؤدرحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی ہے جس میں یہ اضافہ ہے کہ:
’’زمانہ جاہلیت کے لوگ کچھ چیزیں کھا لیا کرتے تھے اور کچھ چیزوں کو گندا سمجھ کر چھوڑ دیا کرتے تھے۔ سو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی بھیج کر اور اپنی کتاب نازل فرما کر حلال چیزوں کو حلال اور حرام چیزوں کو حرام قرار دیا۔ لہذا جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال فرما دیا ہے وہ حلال ہے اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرما دیا ہے وہ حرام ہے، اور جس چیز سے اللہ تعالیٰ نے خاموشی اختیار فرمائی ہے وہ معاف ہے۔ پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سورہ انعام کی آیت تلاوت فرمائی‘‘۔
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے اسی روایت کی ایک اور سند سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں اس طرح ہے کہ:آپﷺ سے گھی، پنیر اور پوستین کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس کے جواب میں آپﷺ نے مذکورہ بالا الفاظ ارشاد فرمائے۔
’’سیدنا نعمان بن بشیررضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سُنا کہ بے شک حلال واضح ہے اور بے شک حرام واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ پس جو شخص شبہات سے بچا، اس نے اپنے دین و آبرو کو بچالیا اور جو شبہات میں پڑا وہ حرام میں پڑگیا۔ جیسے چرواہا جو چراگاہ کے اردگرد بکریاں چراتا ہے ، قریب ہے کہ چراگاہ میں چرا لے، اور بے شک ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے، اور سُنو! اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور سُنو! انسانی جسم میں ایک ٹکڑا ہے، جب وہ تندرست ہوتا ہے تو سارا جسم تندرست ہوتا ہے اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو سارا جسم بیمار ہوجاتا ہے، سنو وہ ٹکڑا دل ہے‘‘۔
یہ حدیث احکام حلال و حرام اور مشتبہات کے سلسلے میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے ۔ ہم اس حدیث کو بنیاد بنا کر احکام کے تینوں جوانب یعنی حلال و حرام اور مشتبہات کے بارے میں بات کریں گے ۔
امام ابو داؤد رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’دین کے احکامات میں درج ذیل چار احادیث بنیادی اہمیت کی حامل ہیں :
اس حدیث میں استعمال ہونے والی اشیاء کی تین اقسام بتائی گئی ہیں:
1. حلال
2. حرام
3.مشتبہات
یعنی بنی نوع انسان کے استعمال میں کائنات میں جتنی بھی اشیاء ہیں وہ شرعی حکم کے اعتبار سے تین انواع میں سے کسی ایک نوع میں شمار کی جا سکتی ہیں جن کا ذکر اس حدیث میں کیا گیا ہے۔
حلال و حرام کے بعد مشتبہ چیزوں سے بچنے کا حکم دے کر «حمی» کی مثال سے اس کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔››حمی›› اس چراگاہ کو کہاجاتا تھا جسے زمانہ جاہلیت میں کوئی بادشاہ یا سردار اپنے لئے مخصوص کر کے یہ اعلان کردیتا تھا کہ اس چراگاہ میں کسی اور کو اپنا جانور چرانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس حدیث میں حمی کی مثال سے مشتبہ امور سے بچنے کی اہمیت واضح فرمائی کہ جس طرح وہاں پر عام لوگ اس خوف سے حمی کے اردگرد اپنا جانور نہیں چراتے تھے کہ اگر جانور بھٹک کر اس حمی کے اندر چلا جائے گا تو یہ بادشاہ کی سزا کا باعث بن جائے گا، اسی طرح مشتبہ امور کا ارتکاب بھی ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی حمی کے اردگرد رہنا، جس میں اس بات کا خطرہ ہے کہ کہیں بندہ محرمات کا ارتکاب کرکے اللہ تعالیٰ کی سزا کا مستحق نہ ہوجائے۔
اس حدیث کا جملہ ’’جو آدمی مشتبہات میں پڑ جائے وہ حرام میں پڑ جاتا ہے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ: جو چیز مشتبہ ہو اور آدمی کو اس کے حلال یا حرام ہونے کا علم نہ ہو، اگر آدمی اس میں احتیاط نہ کرے تو ہوسکتا ہے کہ وہ چیز حقیقت میں حرام ہو اور اس میں پڑنے سے آدمی اس طرح حرام میں واقع ہوجائے کہ ا س کو پتہ نہ چلے۔
جیساکہ معجم طبرانی میں روایت ہے:
’’یعنی جو جانور چراگاہ کے گرد چرتا ہے وہ چراگاہ میں داخل ہوجاتا ہے، جبکہ اس کو پتہ بھی نہیں ہوتا‘‘۔
بسااوقات مشتبہات میں مبتلا ہونا آدمی کو صریح حرام تک پہنچا سکتا ہے۔ جیسا کہ اس روایت میں ہے:
’’جو شخص چھوٹی اور حقیر سمجھی جانے والی چیزوں میں غفلت سے کام لیتا ہے اور انہیں معمولی تصور کرتا ہے وہ بڑے گناہوں میں پڑ جانے کے بہت قریب ہوتا ہے۔‘‘
اور اسی مفہوم میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی ہے کہ:
’’چھوٹے گناہوں سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ، کیونکہ بعض اوقات بہت سے چھوٹے گناہ بھی اکٹھے ہو کر انسان کو ہلاک کر دیتے ہیں اور نبی (ﷺ) نے اس کی مثال اس قوم سے دی جنہوں نے کسی جنگل میں پڑاؤ ڈالا، کھانے کا وقت آیا تو ایک آدمی جا کر ایک لکڑی لے آیا، دوسرا جا کر دوسری لکڑی لے آیا یہاں تک کہ بہت سی لکڑیاں جمع ہوگئیں اور انہوں نے آگ جلا کر جو اس میں ڈالا تھا وہ پکا لیا۔‘‘
لہذا یہ حدیث اصولی طور پر ‘›سدِ ذریعہ›› کے معروف اصول کی اساس بنتی ہے یعنی اسلام اپنےماننے والوں کو نہ صرف حرام سے روکتا ہے بلکہ ایسی مشتبہ چیزوں سے بھی روکتا ہے جن میں مبتلا ہونےسے اس امر کا اندیشہ ہو کہ لوگ حرام میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اس اصول کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے جس میں اللہ تعالی بندوں کو حکم دیتے ہیں کہ : ’’ولا تقربوا الزنا‘‘ کہ زنا کے قریب بھی نہ جاؤ ، اس سے مراد زناتو حرام ہے ہی زنا کی طرف لے جانے والے راستے بھی حرام ہیں ان کے بھی قریب نہ جاؤ مبادا تمہیں یہ راستے زنا میں مبتلا نہ کردیں۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…