تاریخ اسلام میں ماہِ صیام کو خصوصی مرتبت حاصل ہے۔ یہ ماہِ مبارک اطاعاتِ الٰہیہ کا مہینہ ہے، جس میں اہلِ ایمان روزہ، قیام اور تلاوت قرآن کے ذریعے جہنم سے پروانۂ آزادی حاصل کرکے جنت الفردوس میں ابدی ماویٰ کیلئے مصروفِ عمل ہوتے ہیں۔ روزے کے ذریعے اہل اسلام کو اپنی حقیقت کو جاننے میں مدد ملتی ہے۔ انسان کی اصل حقیقت عجز و انکساری ہے، نہ کہ غرور و تکبر۔ روزے کا اصل ہدف حصولِ تقویٰ ہے۔ اس اعتبار سے رمضان المبارک میں جو اعمال مشروع ہیں، ان کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔
روزہ لفظ صوم کا ترجمہ ہے جس کا لفظی معنی کسی چیز کو ترک کرنا یا کسی چیز سے رکنا ہے ۔
شرعی اعتبار سے اس سے مراد مخصوص شرائط کے ساتھ مخصوص ایام میں ، مخصوص اشیاء (یعنی کھانے پینے ، فسق وفجور اور شہوت کے کاموں سے ) طلوع فجرسے غروب آفتاب تک رک جانے کا نام روزہ ہے۔
روزہ ارکان اسلام میں غیر معمولی فضیلت واہمیت کا حامل رکن ہے۔اور جس ماہ مبارک میں روزے فرض ہوئے وہ ماہ مقدس رحمتوں، بخششوں اور برکتوں کا مہینہ قرار پایا ۔ اس کی فضیلت میں محمد عربی رحمت دو عالم ﷺ سے متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں۔جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں ۔
٭ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم کا ہر عمل اس کیلئے ہے سوائے روزہ کے اس لیے کہ وہ میرے لیے ہے ۔ اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ (صحیح بخاری ، کتاب الصیام،حديث:1904)
٭نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے : ’’ جو بھی بندہ اللہ کی راہ میں روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے چہرے کو آگ سے ستر خریف ( یعنی 210میل) دور کردیتا ہے ۔‘‘ ( صحیح بخاری ،حديث:2840)
٭ رسول معظم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ روزہ اور قرآن پاک قیامت کے روز مومن بندے کی سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا اے رب ! میں نے اس کو دن بھر کھانا کھانے سے اوراپنی خواہشات پورا کرنے سے روکے رکھا اس لیے اس کے بارے میں میر ی سفارش قبول فرما اور قرآن کہے گا اے میرے پرودگار!میںنے اس کو رات کے وقت نیند سے روکے رکھا ا س لیے اس کے معاملے میں میری سفارش قبول فرما۔ پھر دونوں کی سفارش قبول کر لی جائے گی۔‘‘( صحیح الترغیب،کتاب الترغیب فی الصوم،حديث:984)
٭ روزوں کی برکت سے رمضان المبارک میں ادا کیا جانے والا عمرہ ثواب میں حج کے برابر ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ آپ ﷺ نے ام سنان انصاریہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا:
’’جب رمضان المبارک آئے تو عمرہ کرلینا کیونکہ رمضان میں عمرہ (کا اجر وثواب ) حج کے برابر ہوتا ہے۔‘‘
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :
’’ ماہ رمضان کاچاند دیکھ کر روزہ رکھو اور (ماہ شوال کا) چاند دیکھ کر روزہ چھوڑو۔‘‘
نبی کریم ﷺ جب چاند دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔
’’ اللہ سب سے بڑا اے اللہ ! تو اسے ہم پر امن اور سلامتی و اسلام کے ساتھ طلوع فرما اور اس چیزکی توفیق کے ساتھ جس کو تو پسند کرتا ہے ۔ اور جس سے تو راضی ہوتا (اے چاند)ہمارا اور تمہارا رب اللہ تعالیٰ ہے ۔‘‘
سیدنا عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ
’’ لوگوں نے چاند دیکھنا شروع کیا تو میں نے نبی کریم ﷺ کواطلاع دی کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے ۔ پھر آپﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اورلوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔‘‘
حدیث نبوی ہے کہ :
’’ اگر دو مسلمان گواہ شہادت دیں تو روزہ رکھو (دو کی گواہی کے ساتھ) روزہ رکھنا چھوڑ دو ۔‘‘
٭اگر چاند نظر نہ آسکے تو ماہِ شعبان 30کے دن مکمل ہونے پر روزہ رکھنا چاہیے:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مر وی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اورچاند دیکھ کر افطار کرو لیکن اگر مطلع ابر آلود ہو نے کے باعث چاند چھپ جائے توپھر تم شعبان کے تیس دن پورے کرو ۔‘‘
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
’’ جس نے مشکوک دن میں روزہ رکھا اس نے ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی ۔‘‘
مشکوک دن سے مراد ماہ شعبان کاانتیسواں روز ہے یعنی جب اس رات ابر آلودگی کے باعث چاند نظر نہ آئے اوریہ شک ہو جائے کہ آیا رمضان ہے یا نہیں؟
(سعودی مجلس افتاء )صحیح سنت مشکوک دن کے روزے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے ۔
روزہ رکھنے والے کیلئے فجر سے پہلے نیت کرنا ضروری ہے ۔
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’جس نے فجر (یعنی صبح صاد ق ) سے پہلے پختہ نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ۔‘‘( سنن الترمذی ، كتاب الصوم ، الحدیث: 662)
نوٹ : روزہ کی نیت کے الفاظ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔
واضح رہے کہ یہ فرض روزے کی بات ہے جبکہ نفلی روزے کیلئے نفلی روزے سے پہلے یعنی فجر کے بعد بھی نیت کی جاسکتی ہے جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ’’ ایک دن رسو ل اللہ ﷺ میرے پاس آئے اور فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ ہم نے کہا نہیں ؟ یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا : تب میں روزہ دار ہوں۔‘‘
خادم رسول انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کھانے میںبرکت ہے۔‘‘
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ سحر ی کھانے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں اور فر شتے ان کیلئے دعا کرتے ہیں ۔‘‘
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ مومن کی بہترین سحری کھجور ہے ۔‘‘
تو فوراً چھوڑ دینا ضروری نہیں بلکہ حسب عادت جلد از جلد کھا لینا جائز ومباح ہے ۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’ جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور (کھانے یا پینے ) کابرتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے رکھے مت بلکہ اس سے اپنی ضرورت پوری کر لے۔‘‘ ( سنن أبی داؤد ، كتاب الصو م ، الحدیث: 2003)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
’’جس شخص نے (روزہ رکھ کر بھی) جھوٹ بولنے اور اس پر عمل کرنے کوترک نہ کیا ،تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی حاجت نہیںہے کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے۔‘‘
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’ روزہ کھانا اور پینا چھوڑنے کا نام نہیں ہے ۔بلکہ وہ فضول اور گندگی سے رکے رہنے کا نام ہے ۔اگر کوئی شخص تمہیں ( روزہ کی حالت میں )گالی دے ،یا تم سے جہالت کاسلوک کرے تو تم اس سے کہہ دو ’’بھئی میںروزے سے ہوں ۔‘‘ ( حاکم ، ابن خزیمہ ، ابن حبان)
سیدناعبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور آپ سب سے زیادہ سخی اس وقت ہوتے جب جبریل علیہ السلام آپ ﷺ کی ملاقات کیلئے آتے۔ وہ رمضان کی ہر رات آپ ﷺ کے پاس آتے اور آپ ﷺ کے ساتھ قرآن پاک کی مدارست ( باہمی تلاوت ) کرتے۔ اس وقت نبی کریم ﷺ تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوا کرتے تھے۔ (صحيح البخاري، كتاب بدء الوحي، الحديث:6)
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’ لوگ جب تک افطار کرنے میں جلدی کریں گے ہمیشہ خیر و عافیت میں ر ہیں گے۔‘‘
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’ لوگ روزہ افطار کرنے میںجب تک جلدی کرتے رہیں گے دین ہمیشہ غالب رہے گاکیونکہ یہود ونصاری تاخیرسے افطار کرتے ہیں۔‘‘
نوٹ : روزہ افطار کرنے میں جلد ی سے مراد وقت سے پہلے افطار کرنا ہر گز مراد نہیں بلکہ وقت ہونے پر جلدی کرنا مقصود ہے ۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
’’ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ نماز مغرب سے پہلے تازہ کھجوروں سے روزہ افطار کرتے ، اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو چھواروں سے روزہ افطا ر کرتے ۔ اگر چھوارے بھی نہ ہوتے تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔‘‘
ایک صحیح روایت میں یہ بھی موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ستو گھول کر روزہ افطار کیا ۔
روزہ کھولتے وقت رسول اللہ ﷺ یہ کلمات کہتے تھے :
’’اے اللہ ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے ہی دیے ہوئے رزق پر افطار کیا ۔‘‘
اس مندرجہ بالاحدیث کو بھی بعض علماء ضعیف کہتے ہیں۔اس میں یہ الفاظ
کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہیں۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ جب روزہ افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے :
کہ پیاس بجھ گئی ، رگیں تر ہو گئیں اور روزے کااجر ان شاء اللہ ثابت ہوگیا۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الصوم، الحدیث: 2357، حدیث صحیح ہے )
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
’’میرا دل چاہا اور میں نے روزے کی حالت میں (اپنی بیوی کا ) بوسہ لے لیا۔ میں نے کہا ، اے اللہ کے رسولﷺ! میں نے آج بہت بڑا (برا) کام کیا ہے ، میںنے روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے بتاؤ اگر تم دوران روزہ کلی کرلو تو؟ میں نے کہا، کلی میں توکوئی حرج نہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پھر کون سی چیز میں حرج ہے ؟ (مراد یہ ہے کہ جب کلی کرنے میںکوئی حرج نہیں تو بوسہ لینے میں بھی کوئی حر ج نہیں )۔‘‘ ( سنن ابی داؤد ، کتاب الصیام ، الحدیث: 2385)
(امام شوکانی رحمہ اللہ )حدیث کے ان الفاظ «أَرَأَيْتَ لَوْ مَضْمَضْتَ مِنَ الْمَاءِ»میںایک مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیںکہ’’ کلی کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔‘‘
سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو اسے چاہیے کہ یوں صبح کرے کہ اس نے تیل لگایا ہوا ہو اور کنگھی کی ہو۔( صحیح بخاری ، کتاب الصو م )
ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ ’’ میں نے نبی کریم ﷺ کودیکھا کہ آپﷺ گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی بہارہے تھے اور آپﷺ روزہ دار تھے۔ ( صحیح ابی داؤد ، کتاب الصیام، الحدیث: 20272)
حالت جنابت میں سحری کھا کر روزہ رکھ لینا اور بعد میں غسل کر لیناجائز ہے ۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ
’ ’رسول اللہ ﷺ کو (بعض اوقات ) اس حالت میں فجر ہوجاتی کہ آپ مباشرت کرنے کی وجہ سے جنبی ہوتے (ایسے ہی آپ ﷺ سحری کھا لیتے ) پھر غسل کر کے روزہ رکھ لیتے۔‘‘
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ
’’نبی کریم نے ماہ رمضان میں روزے کی حالت میں سرمہ لگایا ۔‘‘
اگر مذکورہ حدیث صحیح ہے تو واضح طور پر اس سے دوران روزہ سرمہ لگانے کا جواز نکلتا ہے اوربالفرض اگر اس میں ضعف بھی ہے تب بھی اصل براء ت ہی ہے لہٰذا سرمہ لگانا جائز ہے اور کسی صحیح حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سرمہ لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔
اگر ٹوتھ پیسٹ حلق میں نہ جائے توروزہ نہیں ٹوٹتا لیکن افضل یہ ہے کہ ٹوتھ پیسٹ رات کو استعمال کی جائے۔ اوردن کومسواک استعمال کریں کیونکہ یہی سنت نبوی ہے ۔
’’سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہنڈیا یا کسی چیز کا ذائقہ معلوم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘( صحیح البخاری ، کتاب الصوم )
سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
’’جس شخص نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں کہ ایسا شخص اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔‘‘
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’روزہ (گناہوں سے بچاؤ کی ) ایک ڈھال ہے لہٰذا(روزہ دار ) نہ فحش باتیں کرے اورنہ جہالت کی باتیںکرے۔‘‘
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’روزہ صرف کھانا پینا چھوڑنے کا نام نہیں ہے بلکہ روزہ تو لغو ( ہر بے فائدہ بے ہودہ کام) اور رفث (جنسی خواہشات پر مبنی کلام ) سے بچنے کا نام ہے ۔ لہذا اگر کوئی تمہیں (دوران روزہ ) گالی دے یا جہالت کی باتیںکرے تو اسے دو دفعہ کہہ دو کہ میں تور وزہ دار ہوں۔‘‘
سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’ وضو اچھی طرح پورا کرو اور ناک میں اچھی طرح پانی چڑھایا کرو مگر روزے کی حالت میں (ایسا نہ کیا کرو)۔‘‘
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
’’ نبی کریم ﷺ روزہ دار ہوتے لیکن (اپنی ازواج مطہرات کا ) بوسہ لیتے اور ان کے ساتھ مباشرت کرتے (یعنی ان کے صرف جسم کے ساتھ جسم ملاتے ) اور آپ ﷺ تم سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔‘‘
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
’’ تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے (یعنی صبح صادق رات سے ) ظاہر ہوجائے۔ پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔‘‘ (البقرۃ:187)
تو اس پر نہ کفارہ ہے نہ قضا کیونکہ اس کا روزہ برقرار ہے ۔
’’ روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا۔‘‘
معلوم ہوا کہ دن میں یہ حرام ہے ۔
اگر خود بخود قے آجائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’ جسے روزے کی حالت میں قے آجائے اس پر قضا نہیں ، اگر جا ن بوجھ کر قے کرے تو قضا دے۔‘‘
جان بوجھ کر روزہ توڑنے والے پر ظہار کے کفارے کی طرح کفارہ لازم ہے۔
حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے دوران روزہ اپنی بیوی سے حقیقی مباشرت کرلی تونبی کریم ﷺ نے اسے اس طرح کفارہ ادا کرنے کوکہا ۔ایک گردن آزاد کرو، اگر اس کی طاقت نہیں تو دو ماہ کے پے درپے روزے رکھو اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں تو ساٹھ مساکین کوکھاناکھلاؤ۔‘‘(سنن أبی داؤد، کتاب الصوم ، حدیث : 2390)
روزے کی حالت میںاگر احتلام ہوجائے یا مذی وغیرہ خارج ہوجائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ روزہ ان اشیاء سے ٹوٹتا ہے جو اند رجاتی ہیں ۔ ان سے نہیں ٹوٹتا جو باہر آتی ہیںإلا یہ کہ اس میں قصد شامل ہو۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے باب قائم کیا ہے بَابٌ: الحَائِضُ تَتْرُكُ الصَّوْمَ وَالصَّلاَةَ’’حیض والی عورت نہ نماز پڑھے اور نہ روزے رکھے۔
شریعت اسلامیہ نے بچے کو دودھ پلانا روزہ توڑنے والی اشیاء میں شمار نہیں کیا لہٰذا اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ فقہائے کرام کا اختلاف ہے کہ دودھ پلانے والی عورت کا روزہ دودھ پلانے کے باوجود جائز ہے اس سے اُس پرکچھ اثر نہیںپڑتا۔
(سعودی مجلس افتاء)کے مطابق اگر آپ کو نکسیر آجائے تو آپ کا روزہ صحیح ہے ۔کیونکہ نکسیر کے آنے پر آپ کو کوئی اختیار نہیں۔ اس بنا ءپر اس کے آنے سے آپ کے روزے کو کوئی نقصان نہیں اور نہ ہی وہ فاسد ہے ۔اس کے دلائل میں سے مندرجہ ذیل ارشاد باری تعالی ہے:
’’ اللہ تعالیٰ کسی کو بھی اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔‘‘
(سعودی مجلس افتاء ) کے مطابق وہ خون جو دانتوں سے نکلتا ہے روزہ نہیں توڑتا خواہ خود بخود نکل آئے یا کسی انسان کے مارنے سے نکلے۔‘‘
علامہ ابن باز رحمہ اللہ نے فرمایا اگرچہ اس مسئلے میں اختلاف ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ مطلق طورپر( آنکھوں میں ڈالنے والے ) قطروں سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔‘‘
(سعودی مجلس افتاء ) صحیح بات یہ ہے کہ جس نے اپنی دونوں آنکھوں یا اپنے کانوں میں بطور دواء قطرے ڈالے تو اس کا روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہم سب کو قرآن وسنت کے مطابق روزہ رکھنے اور اس ماہ مقدس کے فیوض وبرکات سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…