Categories: مئی/جون 2023

ذو القعدہ کی اہمیت وفضیلت

ذو القعدہ حرام مہینوں میں سے پہلا مہینہ ہے : ذو القعدہ، ذوالحجہ اور محرم (لگاتار) پھر رجب۔

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا … مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ (التوبة:36)

’’بے شک مہینوں کی گنتی، الله تعالیٰ کے نزدیک، بارہ مہینے ہیں،… ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔‘‘

«ذو القعدہ» کی وجہ تسمیہ

اس کو ذو القعدہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ لوگ اس مہینے میں جنگوں اور قتل وغارت سے بیٹھ رہتے تھے۔ اس لیے کہ یہ حرمت والا مہینہ تھا اور وہ اس میں سفر حج کے لیے سامان تیار کرتے تھے۔

جاہلیت میں اس مہینے کی تعظیم

زمانہ جاہلیت میں عرب اس حرمت والے مہینے کی تعظیم کرتے تھے، وہ اس مہینے میں نہ کسی سے لڑتے، نہ ہی کسی سے بدلہ لیتے، حتی کہ اگر کوئی اپنے باپ یا بھائی کے قاتل کو بھی دیکھ لیتا توبھی اس سے بدلہ نہ لیتا اور نہ ہی اسے دھتکارتا۔

حرمت والے مہینوں میں ظلم کرنے کی ممانعت

الله تعالی نے حرمت والے مہینوں میں ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے منع کیا ہے :

فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ (التوبة:36)

’’ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔‘‘

پس ان مہینوں میں ظلم کرنا باقی مہینوں کی نسبت زیادہ گناہ کا باعث ہے اور ان کی حرمت کی شدت کی وجہ سے ان میں ظلم اور گناہ کرنا زیادہ بڑا کام ہے۔

امام قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دوسرے مہینوں کی نسبت ان حرمت والے مہینوں میں ظلم بہت بڑا گناہ اور بوجھ ہے اگرچہ ظلم ہر حال میں بڑا گناہ ہے مگر الله تعالیٰ جس کام کے(گناہ) کو چاہے بڑھادے۔

حرمت والے مہینوں میں مسلمان کیسےاپنی جان پر ظلم کرتاہے؟

حرمت والے مہینوں میں اپنی جان پر ظلم دو طرح سے ہوتاہے:

1۔ فرائض کو ترک کرنے سے، جیسےنماز اور اس طرح کے دیگر واجبات کو چھوڑ دینا۔

2۔ حرام کاموں کا ارتکاب کرنے سے ،جیسے بےحیائیوں کا ارتکاب کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، قطع رحمی کرنا اور دیگر حرام کام سرانجام دینا۔

ذو القعدہ حج کا مہینہ

ذو القعدہ حج کے مہینوں میں سےایک مہینہ ہے جن کے متعلق الله تعالیٰ نے فرمایا:

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ[البقرة:197]

’’حج کے مہینے جانے پہچانے ہیں ۔‘‘

صحیح بخاری میں معلق روایت ہے: سیدناابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اس سے مراد شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں ۔

«ذو القعدہ» میں عمرہ کرنا

ذو القعدہ میں عمرہ کرنا مسنون ہے، نبی کریمﷺ نےکل چار عمرے کیےاور وہ سب ذو القعدہ میں ہی کیے۔

شیخ ابن باز رحمہ الله کہتے ہیں کہ ذو القعدہ میں عمرہ کرنا سب مہینوں سے افضل ہے سوائے رمضان کے، بلکہ سلف صالحین کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ وہ اس مہینے میں عمرے کو رمضان سے بھی افضل قرار دیتے ۔

امام ابن قیم رحمہ اللہ نے ذو القعدہ اور رمضان کے مابین عمرے کی فضیلت میں تردد کا اظہار کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کے بارے میں الله تعالیٰ سے استخارہ کرتے ہیں کہ جو اس کے نزدیک افضل ہے اس کی طرف ہماری راہنمائی کردے ۔

«ذو القعدہ» میں روزہ رکھنا

ذو القعدہ میں روزہ رکھنا مستحب ہے جیسا کہ بعض سلف سے مروی ہے۔ لیکن اس مہینے میں روزے کی کوئی خاص فضیلت نہیں ہے۔

«ذو القعدہ»میں تاریخی واقعات

ذو القعدہ میں عظیم واقعات پیش آئے ہیں۔اسی مہینے میں الله تعالی نے سیدنا موسی علیہ السلام سے تیس راتوں کا وعدہ کیا جیسا کہ امام مجاہد، مسروق اورابن جریج رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ بنو قریظہ کے ساتھ غزوہ بھی اسی مہینے میں ہوا۔

ذو القعدہ میں ہی سن 6 ہجری میں صلح حدیبیہ ہوئی جسے الله تعالی نے فتح مبین کا نام دیا :

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا(الفتح: 1)

’’بے شک ہم نے تمہیں فتح دی، ایک کھلی فتح۔‘‘

سیدناعمر رضی الله عنہ نے کہا اے الله کے رسول کیا یہ فتح ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں ۔

حرمت والے مہینوں میں کرنے کے کام

حرمت والے مہینوں کی تعظیم کرنا۔

ایک مسلمان حرمت والے مہینوں کی تعظیم کرتا ہے خاص طور پر ان میں الله کی حدود کا لحاظ رکھتا ہے، فرائض کی ادائیگی کرتا ہے، الله تعالیٰ کی اطاعت کی حرص رکھتا ہے اور حرام کاموں اور الله تعالیٰ کی ناراضگی کے کاموں کے ارتکاب سے بچتا ہےاور حدودسے تجاوز نہیں کرتا۔

گناہوں اور نافرمانیوں سے بچنا

امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس آدمی کو ان حرمت والے مہینوں میں نیک عمل کرنے کی ہمت ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی جان پر نافرمانیوں سے رک جانے کے ساتھ رحم کھائے۔

خصوصا ظلم کرنے سے بچنا

مثلا والدین کا اولاد پر ظلم ،شوہر و بیوی کا ایک دوسرے پر ظلم ، یتیم کا مال کھانا، چوری کرنا،رشوت لینا وغیرہ۔

گناہوں سے توبہ کرنا

حرمت والے مہینے شروع ہوچکے ہیں لہذا گناہوں اور نافرمانیوں سے توبہ کر لی جائے،مثلا :شرک، والدین کی نافرمانی، قطع رحمی، سود خوری، جھوٹ، غیبت، چغلی، حسد وغیرہ۔

نیکیوں میں آگے بڑھنا

یہ مہینے افضل زمانوں میں سے ہیں جن میں نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھ جانے کی امید ہوتی ہے، اس لیےان مہینوں سے فائدہ اٹھایا جائے اور الله تعالیٰ کی اطاعت کے کاموں میں آگے بڑھا جائے ۔

الله تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر محمد طاہر آصف

Share
Published by
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر محمد طاہر آصف

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago