Categories: مئی/جون 2023

صفات المؤمن

2۔عاجزی و انکساری

رسول اللہ ﷺ مکہ میں پیدا ہوئے جب آپ نبی بناکر مبعوث کیے گئے تو مشرکین مکہ نے آپ پر طرح طرح کے ظلم ڈھائے یہاں تک کہ انہوں نے آپ کو مکہ المکرمہ سے نکلنے پر مجبور کردیا۔پھر جب آپ ﷺ مدینہ پہنچے تو اس وقت اُنہی مشرکین نے آپ کے خلاف جنگیں لڑیں جبکہ دوسری طرف مدینہ کے یہود ومنافقین بھی مسلسل آپ کو تکالیف پہنچاتے رہے اور وہ سب آپ کی جان کے درپے تھے۔ ان تمام چیلنجز کے باوجود جب رسول اللہ ﷺ نے 8 ہجری کو مکہ فتح کیا تو فخر و غرور میں مبتلا ہونے کی بجائے آپ اپنی سواری پر سر جھکائے پوری عاجزی سے مکہ میں داخل ہوئے اور اس کامیابی پر اللہ تعالیٰ کی تعریف کی چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کعبہ کی سیڑھی پر کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا:

الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَهُ

’’تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی، اور اسی اکیلے نے (دشمنوں کی) تمام جماعتوں کو شکست دی۔‘‘(سنن ابن ماجہ:2628)

اسی طرح ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا مقام و مرتبہ کیا ہے ۔آپ ﷺ امام الانبیاء ، خاتم النبیین اوررحمۃ للعالمین ہیں۔ آپ اولاد آدم کے سردار ہیں۔سب سے پہلے آپ کی قبر کھولی جائے گی اور جنت کا دروازہ سب سے پہلے آپ کے لیے کھلے گا۔اتنے بڑے مقام اور منصب کے باوجود آپ ﷺ نے کبھی کسی چیز پر فخر نہیں کیا بلکہ آپ ﷺفرماتے ہیں :

اِنَّ اللهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ وَلَا يَبْغِ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ

’’اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی کی ہے کہ تم سب تواضع اختیار کرو حتی کہ کوئی شخص دوسرے پر فخر نہ کرے اور کوئی شخص دوسرے پر زیادتی نہ کرے۔‘‘(صحیح مسلم:2865)

محترم قارئین! عاجزی و انکساری ایک مومن کی بنیادی صفت ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا

’’اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجز ی کے ساتھ چلتے ہیں۔‘‘(الفرقان:63)

یاد رکھیں !جنت میں جانے کا سفر عاجزی و انکساری سے شروع ہوتا ہے۔اگر ایک مسلمان میں عاجزی و انکساری نہ ہو تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو نظر انداز کرنا شروع کردیتا ہے ، اپنے گناہوں پر توبہ کرنے کی بجائے ان پر فخر کرنا شروع کردیتا ہے ۔اسی طرح وہ اپنے علاوہ باقی تمام لوگوں میں عیب ڈھونڈنا اور ان کے راز کھولنا شروع کردیتا ہےنتیجتاً وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں دونوں کے ساتھ اپنا تعلق خراب کربیٹھتا ہے۔

ہم میں سے کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو محض مالدار ہونے کی وجہ سے اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ وہ بہت اچھے ہیں۔بعض دوسرے ہیں تو وہ اپنے منصب کی وجہ سے خود کو بہتر سمجھتے ہیں۔ جبکہ یہ دونوں چیزیں قارون و فرعون کے پاس تھیں مگر پھر بھی وہ دونوں جہنم میں جائیں گے۔ اس کے مقابلے میں نبی کریم ﷺ کے صحابی مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تھے جب وہ شہید ہوئے تو اتنی چادر نہیں تھی کہ جس سے پورا جسم ڈھانپ لیا جاتا۔سر ڈھانپتے تو پاؤں کھلتے پاؤں ڈھانپتے تو سر کھل جاتا۔ حالانکہ وہ مکے کا شہزادہ تھا۔اسی طرح سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھیں کہ جو نسلاً حبشی تھے ۔مگر مقام ایسا کہ چلتے زمین پر تھے مگر ان کے قدموں کی آہٹ کی آوازیں نبی کریم ﷺ نے جنت میں سنی تھی۔ مزید کتنے ایسے صحابہ تھے جن کے پاس کھانے پینے کو نہیں ہوتا تھا۔مگر ان سب کو دنیا میں ہی جنت کی خوشخبری سنا دی گئی تھی۔ان سب کو یہ مقام ان کی عاجزی و انکساری کی وجہ سے حاصل ہوتا تھا۔

نبی کریم ﷺ نے فرماتے ہیں:

أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُتَكَبِّرٍ

’’کیا میں تمہیں جنتیوں کے بارے میں نہ بتا دوں؟ ہر کمزور حال آدمی جسے لوگ حقیر سمجھیں اگر وہ اللہ کی قسم کھائے تو اللہ اسے پوری کر دے۔ کیا میں تمہیں جہنمیوں کے بارے میں نہ بتا دوں؟ ہرسرکش، بخیل اور متکبر آدمی۔‘‘(سنن ترمذی:2605)

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتاہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ

’’یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیےاور اپنے رب کی طرف عاجزی کی یہی لوگ جنت والے ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘(ھود:23)

عاجزی و انکساری کی تین نشانیاں:

محترم قارئین! عاجز لوگوں میں درج ذیل تین نشانیاں پائی جاتی ہیں:

اول: عاجز لوگوں کی پہلی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ کبھی بھی اپنا نام نہیں چاہتے وہ ہمیشہ اپنی نیکیوں کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر وقت محتاط رہتے ہیں کہ کہیں ان کے دل میں ریا کاری پیدا نہ ہوجائے۔

دوم: عاجز لوگوں کی دوسری نشانی یہ ہے کہ جب کوئی ان کی تعریف کرتا ہے تو وہ بے چین ہوجاتے ہیں۔ان کی یہ فکر بڑھ جاتی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے سامنے ان کی کوئی نیکی ظاہر کردی ہے اگر ان کا کوئی گناہ بھی ظاہر ہوگیا تو وہ کہاں جائیں گے۔اس لئے وہ ہردفعہ جب کسی سے اپنی تعریف سنتے ہیں کہ یہ دعا پڑھتے ہیں:

اللهُمَّ لا تُؤَاخِذْنِی بِـمَا يَقُولُونَ، واغْفِر لِی مَا لَا يَعْلَمُونَ واجْعَلْنِي خَيْراً مِـمَّا يَظُنُّونَ

’’اے اللہ ! میری پکڑ نہ کیجئے گا جو یہ کہہ رہے ہیں اور مجھے معاف کردیجیے گا جو یہ نہیں جانتے اور مجھے ان کے گمان سے زیادہ اچھا بنا دیجیے۔‘‘ (الأدب المفرد:761)

سوم: عاجز لوگوں کی تیسری نشانی یہ ہوتی ہے کہ جب بھی ان سے کوئی غلطی ہوجائے تو وہ فوراً اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں سے معافی مانگنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔

ہم اپنے اندر عاجزی و انکساری کیسے پیدا کریں:

1۔تکبر کی ہولناکی اور اس کے برے انجام کو سمجھیں:

نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں:

يُحْشَرُ الْمُتَكَبِّرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْثَالَ الذَّرِّ فِي صُوَرِ الرِّجَالِ يَغْشَاهُمْ الذُّلُّ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَيُسَاقُونَ إِلَى سِجْنٍ فِي جَهَنَّمَ يُسَمَّى بُولَسَ تَعْلُوهُمْ نَارُ الْأَنْيَارِ يُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ طِينَةَ الْخَبَالِ

« متکبر (گھمنڈکرنے والے) لوگوں کو قیامت کے دن میدان حشر میں چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کے مانند لوگوں کی صورتوں میں لایاجائے گا، انہیں ہرجگہ ذلت ڈھانپے رہے گی، پھر وہ جہنم کے ایک ایسے قید خانے کی طرف ہنکائے جائیں گے جس کا نام بولس ہے۔ اس میں انہیں بھڑکتی ہوئی آگ ابالے گی، وہ اس میں جہنمیوں کے زخموں کی پیپ پئیں گے جسے طینۃ الخبال کہتے ہیں، یعنی سڑی ہوئی بدبودار کیچڑ»۔(ترمذی:2492)

2۔اپنے دل کی نگرانی کریں اوراپنی ہر نعمت پر فخر کے جذبے کو شکر سے بدلیں:

یاد رکھیں ہمیشہ اپنی نعمت کو اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھیں نا کہ اس کی وجہ سے خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگ جائیں اپنے علم ، مال اور منصب پر شیطانی، قارونی اور فرعونی رویہ اختیار کرنے کی بجائے انبیاء کا رویہ اختیار کریں سیدناسلیمان علیہ السلام کے پاس کتنی بڑی بادشاہت تھی اس کے باوجود آپ اس پر فخر کرنے کی بجائے فرماتے ہیں:

هَٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ

’’یہ تو میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکرگزاری اختیار کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں۔‘‘(النمل:40)

3۔اپنے باطن کو اپنے ظاہر سے بہتر بنائیں:

اپنی تنہائی کی عبادت کو اپنی ظاہری عبادت سے بہتر بنائیں۔ اگر لوگوں کے سامنے پانچ منٹ اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو اکیلے بیٹھ کر دس منٹ اللہ کا ذکر کرنے والے بنیں۔ اگر باہر لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آتے ہیں تو گھر کے اندر خوش اخلاقی کا تناسب دہرا ہونا چاہیئے۔

4۔اس بات کو ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھیں کہ عزت کی اصل وجہ تقویٰ ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ

’’یقیناً تم میں سے زیادہ عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو زیادہ تقویٰ والا ہے۔‘‘(الحجرات:13)

اللہ تعالیٰ کے ہاں تو متقی لوگ ہی عزت والے اور جنتی ہیں خواہ وہ مصعب بن عمیر ، بلال بن ابی رباح یا عمار بن یاسر جیسے کمزور اور غریب صحابہ ہی کیوں نہ ہو ۔ اس کے برخلاف اگر فرعون جیسا منصب و اختیار ہو، قارون جیسی دولت ہو اور ابو جہل جیسی سرداری ہو مگر تقویٰ نہ ہو تو ایسے لوگ جہنم میں جائیں گے۔

5۔یہ بات بھی یاد رکھیں کہ عزت دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے:

اس وقت کتنے بڑے بڑے لوگ اس دنیا میں موجود ہیں جن کے پاس مال بھی ہے، منصب بھی ہے اور خاندان بھی ہے مگر کتنے لوگوں کے دلوں سے ان کے لئے دعائیں نکلتی ہیں اس کے مقابلے میں ایک کمزور عاجز عالم دین جس کے لئے ہمارے دلوںمیں بے شمار عزت ہوتی ہے۔ہم اس کے جوتے اٹھاتے ہیں اس سے دعائیں لیتے ہیں۔درحقیقت یہ عزت اللہ تعالیٰ نے اسے دی ہے۔۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے معاملات بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

6۔ہمیشہ اپنی کمزوریوں پر نظر رکھیں:

ہمیشہ اپنی کمزوریوں پر اور دوسروں کی اچھائیوں پر نظر رکھیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا پردہ رکھا ہوا ہے۔ورنہ یقین جانیں جتنے گناہ ہم کرتے ہیں اگر لوگوں پر ظاہر ہوجائے تو ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے اوراگر اللہ تعالیٰ ہمارے گناہ ہمارے جسم پر نشانات کی صورت میں ظاہر کرنا شروع کردے تو جسم کا کوئی ایک حصہ ایسا نہیں بچے گاجہاں نشان نہ پڑے۔

7۔ہمیشہ اپنی موت کو یاد رکھیں:

آپ اگر موت کو یاد رکھیں گے تو اس عزت کی فکر کریں گے جو اس دنیا میں بھی ملتی ہے اور آخرت میں بھی ملے گی۔ورنہ پھر ساری توانائیاں اس عارضی دنیا کی عزت حاصل کرنے لئے خرچ ہوں گی جس کے لئے پھر انسان مال جمع کرتا ہے اور منصب کے حصول کی طرف بھاگتا ہے۔لیکن یہ چیزیں مرنے کے بعد دنیا میں ہی رہ جاتی ہیں ۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک صالح بنادے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عاجزی اور انکساری والا بنادے۔اللہ تعالیٰ ہمیں فخر تکبر سےبچائے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر فخر کرنے کی بجائے اس کے فضل پر اس کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

editor

Share
Published by
editor
Tags: aajzi

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago