اللہ تعالیٰ پر ایمان، اللہ تعالیٰ کی بندگی، ہر پہلو اللہ تعالیٰ پر توکل؛ یہی بندے کی غایت ہے۔ یوں جس قدر بندے کا رب العالمین پر توکل ہوگا اسی قدر وہ رب کا قریبی ہوگا۔
قرآنِ مجید میں رب کی عبادت کو بالخصوص توکل علی اللہ سے جوڑ کر بیان کیا گیا ہے، جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا عمومی ذکر کرکے خصوصی طور پر توکل کا ذکر کرنا در اصل یہ قرآنی عادات اور اسالیب کا حصہ ہے۔
ان آیتوں پر غور کریں: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
چنانچہ آپ اسی کی عبادت کریں اور اسی پر توکل کریں۔ ( هود: 123 )
اس آیت کو بھی سامنے رکھیں:
وہ مشرق ومغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، لہٰذا اسی کو کار ساز بنا لیجیے۔ (المزمل: 9)
نمازوں میں بکثرت پڑھی جانے والی آیت:
اے ہمارے پروردگار! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ ( الفاتحة: 4 )
نیز یہ آیت بھی اس باب کی اہم آیت ہے:
کہہ دیجیے: وہ رحمٰن ہے، ہم اس پر ایمان لائے اور اسی پر ہم نے توکل کیا۔ ( الملك: 29)
مزید ارشاد ہے:
یہی اللہ میرا رب ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ ( الشورى: 10)
سیدناشعیب علیہ السلام کی زبانی سنایا گیا:
اور مجھے اس کی توفیق ملنا اللہ کی مدد کے سوا ممکن نہیں۔ میں نے اسی پر بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ ( هود: 88)
سیدنا موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے مخاطِب ہوکر کہتے ہیں:
اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر توکل کرو اگر تم فرمانبردار ہو۔ ( يونس: 84 )
اور بھی آیات ہیں فی الحال اس تحریر کے لیے یہ کافی ہیں۔
حافظ عماد الدین ابن کثیر الدمشقی (ت 774ھ) رحمہ اللہ مذکورہ آخر الذکر سورۂ یونس کی آیتِ کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کے بہت سے مقامات پر عبادت اور توکل کا اکٹھا ذکر فرمائے ہیں۔
اسی طرح سورۂ مزمل کی مذکورہ آیت کی تفسیر میں رقم طراز ہیں:
ان آیات میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت وعبادت کی جائے اور صرف اسی کی ذات پر توکل کیا جائے۔
حافظ ابن قیم الجوزیہ (ت 751ھ) رحمہ اللہ اپنی کتاب ( مدارج السالكين بين إياك نعبد وإياك نستعين: ١/١٦١، دار طيبة) میں قرآنِ مجید کی اُن چھ آیتوں کا ذکر فرمایا ہے جن میں عبادت اور توکل کا ایک ساتھ ذکر ہوا ہے، رب سے بندے کا رشتہ بھی ان دو اصولوں سے مضبوط ہوتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ کی عبادت میں توکل کا خاص مقام ہے، عبادت کو بالخصوص توکل سے مربوط پیش کرنے میں کیا حکمت ہے؛ اس کو اجاگر کرتے ہوئے شیخ الاسلام ابو العباس ابن تیمیہ (ت 728ھ) رحمہ اللہ ( مجموع الفتاوى: ١٠/١٨ ) میں فرماتے ہیں کہ عبادت اور توکل دین کے سبھی امور کو جامع اور شامل ہیں، اس طرح سے کہ عبادت میں حنیفیت اور اغیار سے قطع تعلق کا سبق ہے، جب کہ توکل میں صرف اللہ الواحد القھار سے جڑنے کا درس ہے، آپ کی عبارت یہ ہے:
سطورِ بالا سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں توکل کا کس قدر اعلیٰ مقام ہے!
قرآنِ مجید میں اس بات کو متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے، انبیاء علیہم السلام کے واقعات اور قصوں میں بھی اس پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے۔
چند دن قبل (ملتقى أهل التفسير)کی مرتب کردہ فائلوں سے تدبرِ قرآن سے متعلق نگارشات پڑھ رہا تھا، ایک حیرت انگیز بات پڑھنے کو ملی، جسے دکتور محمد بن عبد اللہ بن جابر القحطانی حفظہ اللہ نے سورۂ شعراء کی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔
پہلے وہ آیات ملاحظہ کریں جن کی روشنی میں ایمان افروز بات ذکر کی گئی ہے، البتہ آیتوں کے ترجمہ کی فی الحال گنجائش نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی حکایت بیان فرمائی، کہا:
غور فرمائیے!رب کی عبادت میں توکل والی بندگی کس درجہ عظیم ہے غور کرنا چاہیے۔ اور اس پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ توکل علی اللہ سے بندہ رب کا کتنا قریبی ہوتا ہے اور بصورتِ دیگر قربتِ الہی سے کس قدر محروم ہوجاتا ہے۔
مذکورہ بالا آیتوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو لے جانے کا حکم دیا، اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ فرعون بہر حال پیچھا کرے گا، مگر اللہ تعالیٰ سیدناموسیٰ علیہ السلام اور آپ کے متبعین بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دیں گے۔
ایک وقت تھا جب بنی اسرائیل کا ایمان بہت مضبوط تھا، رب العالمین پر کامل توکل تھا، رب کے وعدوں پر اور موسیٰ علیہ السلام کی باتوں پر مکمل یقین تھا، یہی وجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایمان کو سراہا، انہیں یہ شرف بخشا کہ وہ واقعۃً رب کے ( عبد ) ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی نازل فرمائی اور کہا:
راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ۔
بنی اسرائیل کو ( عباد ) کہا، اور رب نے اپنی طرف اضافت دے کر مزید عزت بخشی، توکل اور ایمان کے عوض انہیں اللہ تعالیٰ نے ( میرے بندے ) کہا، بندہ کہلانا خود شرف کی بات ہے مزید رب نے اپنی طرف اضافت دے کر ان کو اپنا قریبی بتایا۔
مگر یہی بنی اسرائیل نے جب اپنی آنکھوں سے آگے سمندر اور پیچھے فرعون کے لشکر کا مشاہدہ کیا تو پل بھر میں رب العالمین کے وعدوں پر ایمان ویقین کھو بیٹھے، اور باطل پر یقین ایسا بڑھا کہ کہنے لگے:
یقینًا ہم تو پکڑے گئے۔
اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے ضعفِ ایمانی کی وجہ سے وہ سبھی تمغے واپس لے لیے جو انہیں بخشے گئے تھے، انہیں ( عباد ) کہا گیا تھا، رب کی طرف اضافت سے بھی نوازا گیا، اب انہیں اس شرف سے اللہ تعالیٰ نے محروم کیا اور کہا:
موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو یقینًا پکڑے گئے ۔
یعنی ایسا نہیں کہا گیا:
بلکہ انہیں
کہہ کر ان کی اضافت مخلوق کی طرف کر دی گئی۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…