ملحدین اور رائے پرست گمراہ فرقوں کو اہلِ حدیث ومحدثین سے ہمیشہ دشمنی رہی ہے،اور سلسلۂ سند جو کہ امتیازِ محدثین ہے، یہ ان کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ اور ناپسندیدہ چیز ہے۔
جیسا کہ امام ابو نصر احمد بن سلام فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اہلِ الحاد کے لیے سب سے زیادہ بھاری اور ناپسندیدہ چیز حدیث سننا اور اسے سند کے ساتھ بیان کرنا ہے۔‘‘ (معرفة علوم الحدیث للحاكم ، ص : ٤، وسنده صحیح)
اس قول پر امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم رحمہ اللہ (٤٠٥ھ) فرماتے ہیں :
”ہم نے اپنے سفر وحضر میں یہی تجربہ کیا ہے کہ جو شخص بھی اس قسم کے الحاد و بدعت کی طرف نسبت رکھتا ہے وہ طائفہ منصورہ کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے اور انہیں حشویہ (بلا تمیز نقل و جمع کرنے والے) کہتا ہے۔“ (معرفة علوم الحدیث ، ص : ٤)
چونکہ ان کا اپنا علم بے سروپا ہوتا ہے، جب اصحاب الاسانید کو دیکھتے ہیں کہ اُن کے علم کا سلسلہ معروف لوگوں سے ہوتا ہوا ،رسول اللہ ﷺ تک اور پھر جبرائیل کے واسطے سے اللہ تعالی تک جا ملتا ہے جبکہ اِن کا علم ذاتی فلسفے قیل و قال، ذہنی اختراعات پر بلا اصول و فروع چل رہا ہے تو ان کے سینے حسد و جلن سے بھر جاتے ہیں، پھر جو شیطانی وسوسہ ان کے ذہن میں آتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ سند کی اہمیت کا انکار کر دو، کہہ دو کہ حدثنا اور أخبرنا تو کوئی چیز ہی نہیں، لیکن اللہ تعالی کی سنت ہے کہ اصحاب الاسانید تاقیامت یونہی اپنے دین کو نسل در نسل منتقل کرتے رہیں گے اور ان کے دشمن نیست و نابود ہو جائیں گے، بہت سے منکرین پہلے بھی آئے، نام و نشان مٹ گیا اور سندیں اور آثار ویسے ہی قائم و دائم ہیں ۔ وللہ الحمد۔ دلائل کے مقابلے میں ایسی طعنہ بازی ہمیشہ سے ان کا وطیرہ ہے۔
جیسا کہ امام حاکم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
’’میں نے اپنے شیخ ابو بکر احمد بن اسحاق فقیہ رحمہ اللہ کو ایک شخص سے مناظرہ کرتے دیکھا، شیخ نے سند پڑھی؛ حدثنا فلان.. تو وہ کہنے لگا : یہ ’’حدثنا ‘‘ چھوڑ، کب تک ’’حدثنا حدثنا‘‘ کرتے رہو گے۔ شیخ نے کہا : اے منکر اسلام !دفع ہو جا، آئندہ تو میرے گھر داخل نہیں ہو سکتا، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: میں نے اس بندے کے علاوہ کبھی کسی سے یہ نہیں کہا کہ میرے گھر میں نہ آنا۔‘‘ (معرفة علوم الحدیث ، ص : ٤)
ان کا خیال ہے کہ بغیر کسی واسطے سے محض اٹکل پچو اور عقلی موشگافیوں سے اللہ کے دین کو حاصل کیا جا سکتا ہے یعنی بنا سیڑھی کے چھت پر چڑھنا چاہتے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ ایسی کوشش ہمیشہ انہیں منہ کے بَل گرا دیتی ہے۔
جیسا کہ امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ (١٤١ھ) فرماتے ہیں :
’’جو بھی بغیر سند کے دین حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اس کی مثال اس کی طرح ہے جو بغیر سیڑھی کے چھت پر چڑھنا چاہتا ہے۔‘‘
نیز فرماتے ہیں :
’’اسناد دین کا حصہ ہیں اور اگر یہ سندیں نہ ہوتیں تو جس کے منہ میں جو آتا کہہ دیتا۔‘‘( مقدمة صحیح مسلم : ٣٢ وسنده صحیح)
اسی طرح فرماتے ہیں :
”ہمارے اور بدعتی لوگوں کے درمیان فرق ان مضبوط پائیوں یعنی سندوں سے ہے۔‘‘ (مقدمة صحیح مسلم : 33 وسنده صحیح)
اس قول پر حافظ نووی رحمہ اللہ (٦٧٦ھ) فرماتے ہیں :
’’اس بات کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی صحیح سند پیش کرے گا تو ہم اس کی حدیث قبول کریں گے وگرنہ رد کر دیں گے، اسی لیے امام ابن مبارک رحمہ اللہ نے حدیث کو جانور سے تشبیہ دی ہے کہ جس طرح جانور بغیر پائیوں کے کھڑا نہیں رہ سکتا بالکل اسی طرح حدیث سند کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔‘‘
امام ابو سعید احمد بن داود، حداد رحمہ اللہ (٢٢١ھ) فرماتے ہیں :
’’سندوں کی مثال سیڑھیوں اور زینوں کی طرح ہے، اگر آپ کا پاؤں زینے سے پھسل جائے تو نیچے آ گریں گے اور رائے زنی تو گندگی و آلودگی کی طرح ہے۔‘‘ (شرف أصحاب الحديث للخطیب، ص: ٤٢ وسنده صحیح)
امام یحیی بن سعید القطان رحمہ اللہ (١٩٨ھ) فرماتے ہیں :
’’اسناد دین کا حصہ ہیں۔‘‘
اور امام شعبہ بن الحجاج رحمہ اللہ (١٦٠ھ) سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا :
’’حدیث کی صحت، سند کی صحت سے ہی معلوم ہوتی ہے۔‘‘ (التمهيد لابن عبد البر : ١/ ٥٧ وسنده حسن)
اسی طرح امام شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’ہر وہ علم جس میں حدثنا یا أخبرنا نہیں ہے وہ سرکہ و ترکاری ہے۔ (یعنی اس کی کوئی حیثیت نہیں۔)‘‘( المدخل إلى كتاب الاكليل للحاكم، ص : ٢٩ وسنده صحیح)
امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، امام محمد بن مسلم بن شہاب زہری رحمہ اللہ (١٢٤ھ) نے ایک دن حدیث بیان کی تو میں نے کہا:
’’یہ مجھے بغیر سند کے ہی بیان کر دیں ۔‘‘
تو زہری رحمہ اللہ فرمانے لگے:
’’کیا آپ چھت پر بغیر سیڑھی کے چڑھ جائیں گے؟‘‘ (المدخل إلى السنن الكبرى للبيهقي : ١/ ٣٨٩ وفيه من لم أعثر عليه)
عتبہ بن ابی حکیم بیان کرتے ہیں کہ امام زہری رحمہ اللہ نے اسحاق بن عبد اللہ بن فروہ کو (بغیر سند کے) یوں احادیث بیان کرتے سنا : ’’رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں، رسول اللہﷺفرماتے ہیں۔‘‘ تو آپ فرمانے لگے :
’’اے ابن ابی فروہ! اللہ تجھے غارت کرے، تجھے اجر نہ دے، تم اپنی احادیث کو سندوں سے بیان نہیں کرتے؟ ہمیں ایسی احادیث سناتے ہو جو بے مہر و بے لگام ہیں؟‘‘ (العلل الواقع بآخر جامع الترمذي : ٦/ ٢٤٧، معرفة علوم الحدیث للحاکم، ص : ٦ واللفظ له وسنده حسن)
امام سفیان بن سعید ثوری رحمہ اللہ (١٦١ھ) سے مروی ہے :
’’اسناد مومن کا اسلحہ ہے، اگر اس کے پاس اسلحہ ہی نہ ہو تو کس چیز کے ساتھ قتال کرے گا؟‘‘ (المدخل إلى كتاب الإكليل، ص : ٢٩ وفي سنده ضعف)
سند ہم مسلمانوں کا شرف و امتیاز ہے اور یہی ہمیں دیگر امتوں سے ممتاز کرتا ہے کہ جن کے مذاہب مٹ گئے اور ان کے پاس اب کوئی مستند علم و حوالہ باقی نہیں رہا محض ظن و گمان رہ گیا ہے، گمراہ لوگوں کی ہمیشہ سے خواہش ہے کہ ہم بھی ’’حدثنا وأخبرنا‘‘ کو طعنہ بنا دیں اور دین کی بنیادوں کو گرا کر دیگر ادیان کی طرح کر دیں، لیکن یہ صرف ان کی خام خیالی ہے کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
’’یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں، لیکن اللہ تعالی کو یہ بات منظور نہیں بلکہ وہ اپنے نور کو پورا کرکے رہے گا، خواہ یہ بات کافروں کو کتنی ہی بری لگے، وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین کو سب ادیان پر غالب کردے۔ خواہ یہ بات مشرکوں کو کتنی ہی ناگوار ہو۔‘‘ (سورة التوبة : ٣٢، ٣٣، نیز دیکھیے؛ سورة الصف : ٨، ٩)
مفسر قرآن، شیخ عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ (١٤١٥ھ) فرماتے ہیں :
’’اللہ کے نور سے مراد آفتاب ہدایت یا کتاب و سنت کی روشنی ہے جس طرح سورج کی روشنی کو پھونکوں سے بجھایا یا ماند نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح ان کافروں کی معاندانہ سرگرمیوں سے، ان کے لغو اعتراضات سے، ان کی آیات الٰہی میں شبہات پیدا کرنے سے یا اللہ کی آیات، اللہ کے رسول اور مسلمانوں کا مذاق اڑانے سے دین اسلام کی راہ کو روکا نہیں جا سکتا۔ جسے اللہ ہر صورت میں پورا کرنا چاہتا ہے اور یہ تو یقینی بات ہے کہ کافروں کو اسلام کی ترقی ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی۔ ہر ترقی کے قدم پر وہ جل بھن کے رہ جاتے ہیں۔‘‘ (تیسیر القرآن)
امام عبد الرحمن بن عمرو اوزاعی رحمہ اللہ (١٥٧ھ) فرماتے ہیں:
’’علم کا خاتمہ، سند کے خاتمے کے ساتھ ہی ہے۔‘‘ (تاریخ أبي زرعة الدمشقي، ص : ٣١٧، التمهيد لابن عبد البر : ١/ ٢٥١ واللفظ له، وسنده حسن)
امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ (٢٧٧ھ) فرماتے ہیں :
’’اللہ تعالی نے جب سے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ہے اس وقت سے اس امت محمدیہ کے سوا کسی بھی امت میں ایسے حفاظت کرنے والے نہیں تھے کہ جو یوں رسولوں کے آثار کے محافظ ہوتے۔‘‘ (شرف أصحاب الحديث، ص : ٤٢ وسنده حسن)
امیرِ خرسان عبد اللہ بن طاہر رحمہ اللہ (٢٣٠ھ) سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا :
’’حدیث کی سند اللہ تعالی کی طرف سے امت محمد ﷺ کے لیے خاص عنایت ہے۔‘‘ (أدب الإملاء والإستملاء للسمعاني، ص : ٦ وفيه من لم أعرفه)
امام ابو بکر محمد بن احمد بن یعقوب رحمہ اللہ (٣٣١ھ) فرماتے ہیں:
’’مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اللہ تعالی نے اس امت کو تین چیزیں خاص عطا کی ہیں جو اس سے پہلے کسی امت کو عطا نہیں کیں، اسناد، انساب اور اعراب۔‘‘( شرف أصحاب الحديث، ص : ٤٠ وسنده صحیح)
یہی بات حافظ ابو علی الحسين بن محمد الغسانی رحمہ اللہ (٤٩٨ھ) نے اپنی کتاب ’’شرف المحدثين‘‘ میں فرمائی۔ (النكت على مقدمة ابن الصلاح للزركشي : ١/ ٨٧)
حافظ ابن الصلاح رحمہ اللہ (٦٤٣ھ) فرماتے ہیں :
’’سند اس امت کے خصائص میں سے عظیم الشان خصوصیت ہے۔‘‘ (مقدمة ابن الصلاح، ص : ٢٥٥)
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (٤٥٦ھ) فرماتے ہیں :
’’ثقہ روای کا ثقہ سے روایت کرنا، یہاں تک کہ اس سلسلے کو نبی کریم ﷺ تک پہنچا دینا، ہر راوی کا اپنے سے اگلے راوی کے نام ونسب کے ساتھ بتانا، تمام لوگ کا تذکرہ، حالات، عدالت، زمان و مکان سب کچھ معروف ہو، الحمد لله رب العالمين، اور اللہ تعالی نے اس نقل کے ساتھ صرف مسلمانوں کو خاص کیا ہے، اور چار سو پچاس سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود اس امر قدیم کو تروتازہ رکھا ہے کہ مشرق و مغرب، شمال و جنوب سے اَن گنت لوگ کہ جن کا شمار صرف ان کا خالق ہی کر سکتا ہے اس کے حصول لیے سفر کرتے ہیں ۔‘‘( الفصل في الملل والنحل : ٢/ ٦٨)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (٧٢٨ھ) فرماتے ہیں :
’’اسناد اس امت کے اور اسلام کے خصائص میں سے ہے پھر اہل اسلام میں سے بھی یہ اہل السنہ کی خصوصیات میں سے ہے۔‘‘
نیز فرماتے ہیں :
’’اللہ تعالی نے اسناد اور روایت کا علم خاص امت محمدیہ کو عطا کیا ہے اور اسے درایت کے لیے سیڑھی بنایا ہے، اہل کتاب کے پاس کوئی سند نہیں کہ جس سے وہ اپنی منقولات کو آگے بیان کریں اور اسی طرح اس امت کے بدعتی و گمراہ لوگوں کا بھی یہی حال ہے، سند تو ان لوگوں کے پاس ہے جن اہل اسلام و اہل السنہ پر اللہ تعالی کا عظیم احسان ہے، جس کے ذریعے وہ صحیح و ضعیف، الٹے اور سیدھے میں فرق کرتے ہیں، ان کے علاوہ جو اہل بدعت و کفار ہیں، ان کے پاس ماثورات و منقولات ہیں جنہیں وہ بلا سند نقل کرتے ہیں، ان کے دین کا اعتماد انہی پر ہے اور انہیں اس میں سے حق و باطل اور کار و بیکار کی کوئی معرفت و پہچان نہیں۔‘‘
امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ (٢٠٤ھ) فرماتے ہیں :
’’بلا دلیل (بلا سند) علم حاصل کرنے والے کی مثال اس کی طرح ہے جو رات کو لکڑیوں کا گٹھا جمع کر کے اٹھاتا ہے، اس میں اژدھا ہوتا ہے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ اسے کاٹ لیتا ہے۔‘‘ (المدخل إلى السنن الكبرى للبيهقي : ١/ ٢١١ وسنده صحیح)
بقیہ بن ولید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
’’میں نے امام حماد بن زید رحمہ اللہ سے احادیث کا مذاکرہ کیا تو فرمانے لگے : اگر ان کے پَر یعنی اسانید ہوتیں تو آپ کی احادیث کتنی عمدہ ہیں۔‘‘ (الضعفاء الكبير للعقيلي : ١/ ١٦٢ وسنده حسن)
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ (١١٠ھ) فرماتے ہیں :
’’یہ علم دین ہے، لہذا تم دیکھ لو کہ کس سے اپنا دین لے رہے ہو۔‘‘ (مقدمة صحیح مسلم : ١/١٤ وسنده صحیح)
نیز فرماتے ہیں :
”پہلے لوگ سند کے متعلق نہیں پوچھا کرتے تھے، پھر جب فتنہ بپا ہوا تو لوگوں نے پوچھنا شروع کر دیا کہ ہمیں اپنی سند کے راویوں کے نام بتاؤ، لہذا اہل السنہ کی طرف دیکھا جاتا اور ان کی احادیث قبول کر لی جاتیں اور اہل بدعت کی طرف دیکھا جاتا تو ان کی احادیث نہیں لی جاتی تھیں۔“( مقدمة صحیح مسلم : ١/١٤ وسنده صحیح)
سند کی حفاظت کرنا اور اپنے دین کو اسی کے ذریعے طلب کرنا، عظیم شہسواروں اور مردوں کا کام ہے، بزدل و کمزور لوگ اور صفاتِ صنفِ نازک کے حاملین اس کی طاقت و جرأت نہیں رکھتے ۔
امام یزید بن زریع رحمہ اللہ (١٨٢ھ) فرماتے ہیں :
’’ہر دین کے شہسوار ہوتے ہیں اور اس دین کے شہسوار سندوں والے ہیں۔‘‘( المدخل إلى الإكليل للحاکم، ص : ٣٠ وسنده حسن)
امام ابن حبان رحمہ اللہ (٣٥٤ھ) فرماتے ہیں :
’’اس علم کے شہسوار وہ لوگ ہیں، جنہوں نے مسلمانوں کے لیے دین محفوظ کیا اور ان کی سیدھےراستے کی طرف ان کی راہنمائی کی، وہ لوگ جنہوں نے احادیث کے حصول کی خاطر اور اسفار و دوران، مکمل جدوجہد کے ذریعے انہیں جمع کرنے کے لیے صحراؤں اور بیابانوں کے اسفار کو حضر کی نعمتوں پر ترجیح دی، یہاں تک کہ ان میں سے بعض تو ایک حدیث لینے کے لیے کئی فرسخ اور ایک لفظ کے لیے کئی کئی دن سفر کرتے، تاکہ کوئی گمراہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے احادیث میں کوئی چیز داخل نہ کر دے، اگر کسی نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو انہی لوگوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی ذات سے اس جھوٹ کو دور کیا ، انہی لوگوں نے دین کی نصرت وتائید کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔‘‘(المجروحين : ١/ ٣١)
امام حاکم رحمہ اللہ (٤٠٥ھ) فرماتے ہیں :
’’اگر سند نہ ہوتی اور محدثین کے گروہ کا اس کا حصول اور اس کی حفاظت پر تسلسل نہ ہوتا تو نشاناتِ اسلام مٹ جاتے اور ملحد و بدعتی لوگ حدیث کو گھڑنے اور سندوں کو اَدل بدل کرنے پر اختیار پا لیتے۔ احادیث جب سندوں سے عاری ہو جائیں تو بے سروپا ہوجاتی ہیں۔‘‘(معرفة علوم الحدیث، ص : ٦)
امام زہری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا :
’’علم حدیث کو مَرد ہی پسند کرتے ہیں جبکہ مخنث اسے ناپسند کرتے ہیں اور حقیقی مَرد وہ ہیں جو حدیث و علم دین کے طالب ہیں اور اس کی قدر جانتے ہیں، رہے وہ جو مخنث ہیں وہ کہتے ہیں : ہم حدیث کو کیا کریں؟ کیا (اس کی وجہ سے) قرآن کو چھوڑ دیں؟ ۔ بھلا انہیں یہ بھی علم نہیں کہ سنت درحقیقت قرآن مجید (کی تشریح و توضیح کے اعتبار سے اس) پر فیصل و قاضی ہے،اللہ تعالیٰ ہماری اورا ن کی اصلاح فرمائے۔‘‘ (الجامع لأخلاق الراوی وآداب السامع للخطيب : ١/ ١٤٠، وله طريق ثان عند الرامهرمزي في المحدث الفاصل : ٣٢، وطريق ثالث عند ابن عبد البر في جامع بيان العلم : ٢٩٦، وله شاهد عند ابن حبان في مقدمة المجروحين : ١/ ٣١)
حاصلِ کلا م یہ ہے کہ سند(حدثنا،اخبرنا) ہمارادین ہے،امتِ مسلمہ کی خصوصیت اوراہل السنہ،اہل الحدیث کا امتیازہے،ملحدین، اہلِ بدعت، گمراہ فرقے ہمیشہ سے اس کے مخالف رہے ہیں اور اسے گرانے کی سعی لاحاصل کر چکے ہیں،لیکن اللہ کے فضل وکرم سے یہ دین اسی طرح قائم ودائم ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں منہج سلف صالحین، مسلکِ محدثین پر گامزن رکھے، اہل بدعت کے مکروفریب سے محفوظ فرمائے۔آمین
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…