﴿اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَؕ﴾ (الزمر: ۲)

’’ اے نبیﷺہم نے آپ کی طرف کتاب برحق نازل کی ہے لہٰذا آپ اپنی تابعداری کو خالص کرتے ہوئے صرف اللہ کی بندگی کریں۔‘‘

﴿قُلْ اِنِّيْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ﴾ (الزمر: ۱۱)

’’اے نبیﷺ انہیں بتلائیں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنی تابعداری کو اللہ کے لیے خالص کر کے اُسی کی بندگی کروں۔‘‘

یہی حکم پہلے لوگوں کو دیا گیا تھا

﴿وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ حُنَفَآءَ وَ يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ يُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِيْنُ الْقَيِّمَةِ﴾ (البینة: ۵)

’’اور انہیں اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور اپنی تابعداری کو اسی کے لیے خالص کر کے بالکل یکسو ہو کر نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو یہی مستقل دین ہے۔‘‘

اخلاص کا لفظ خلوص سے نکلا ہے۔ جس کا معنٰی ہے کہ جو کام کیا جائے اس میں مکمل طور پر یکسوئی اور للہیت پائی جانی چاہیے، گویا کہ اس میں کسی حوالے اور اعتبار سے کسی کی شراکت کا تصور نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے لیے قرآن مجید میں حنیف کا لفظ بھی بولا گیا ہے ، حنیف اور مخلص اسے کہا جاتا ہے کہ جس کی نیت اور عمل میں کوئی دوسرا شریک نہ ہو۔ شریعت کی زبان میں ایسا کام جو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیا جائے، گویا کہ نمود و نمائش سے بچنے کا نام اخلاص ہے۔ قرآن مجید نے امت کے لیے اس کی اہمیت اور افادیت واضح کرنے کے لیے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو نمونہ (Model) کے طور پر پیش کیا ہے۔

﴿قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِيْۤ اِبْرٰهِيْمَ وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗ﴾

’’تمہارے لیے ابراہیم علیہ السلام  اور اس کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے۔‘‘(الممتحنة:۴)

﴿قُلْ صَدَقَ اللّٰهُ١۫ فَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ﴾ ( آل عمران: ۹۵)

’’فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا بس تم سب یکسو ہو کر ملت ابراہیم کی پیروی کرو، وہ مشرک نہیں تھے۔‘‘

﴿اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا١ؕ وَ لَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ﴾ (النحل: ۱۲۰)

’’یقیناًابراہیم علیہ السلام  ایک پیشوا تھا ، اللہ کا فرماں بردار ، صرف اللہ کا ہوجانے والا ، وہ مشرکوں سے نہ تھا ۔ ‘‘

انبیاء کرام علیہم السلام  لوگوں کو اپنی زبان سے صرف اخلاص کا حکم نہیں دیا کرتے تھے بلکہ وہ ان کے لیے سراپا اخلاص ہوا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ وہ نبوت کے بھاری اور مشکل ترین کام پر کسی سے ایک دمڑی کے روا دار نہیں تھے۔

﴿قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ١ؕ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ﴾ (سبأ:۴۷)

’’نبی کریمﷺاِن سے فرما دیں اگر میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہے تو وہ اپنے پاس رکھو۔ میرا صلہ تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور وہ ہر چیز پرنگران ہے۔ ‘‘

﴿وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١ٞ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا﴾ (مریم: ۵۱)

’’اس کتاب سے موسیٰ علیہ السلام  کا تذکرہ فرمائیں وہ نہایت مخلص رسول اور نبی تھا۔‘‘

﴿وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِيْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ يَعْقُوْبَ اُولِي الْاَيْدِيْ وَ الْاَبْصَارِ اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ﴾ (ص: ۴۵، ۴۶)

’’اور ہمارے بندے ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب علیہم السلام  کا ذکر فرمائیں جو بڑی قوتِ عمل رکھنے والے اور صاحبِ بصیرت تھے۔ ہم نے انہیں آخرت کی فکر رکھنے کی بنا پر خاص کر لیا ہے۔‘‘

حدیثِ مبارکہ میں اخلاص کے مفہوم کو بڑی آسان زبان میں یوں بیان کیا گیا ہے:

((عَنْ عُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِاِمْرِیٍٔ مَّا نَوٰی فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ اِلی اللهِ وَرَسُوْلِهٖ فَهِجْرَتُهُ اِلَی اللهِ وَرَسُوْلِهٖ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ اِلَی دُنْیَا یُصِیْبُهَا اَوِامْرَاَةٍ یَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهٗ اِلٰی مَا هَاجَرَ اِلَیْهِ)) (رواه البخاری: باب بدء الوحی)

’’سیدنا عمر بن خطاب  رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: تمام اعمال کا انحصار نیتوںپر ہے ،آدمی اپنی نیت کے مطابق ہی صلہ پائے گا۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہجرت کی اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے، اور جس نے دنیا کے فائدے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہجرت کی اس کی ہجرت اسی کے لیے ہو گی۔‘‘

((عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِﷺإِنَّ اللهَ لاَ یَنْظُرُ إِلَی أَجْسَادِكُمْ وَلاَ إِلَی صُوَرِكُمْ وَلَكِنْ یَنْظُرُ إِلَی قُلُوبِكُمْ وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ إِلَی صَدْرِهِ)) (رواه مسلم: باب تَحْرِیمِ ظُلْمِ الْمُسْلِمِ وَخَذْلِهِ وَاحْتِقَارِهِ …)

’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں اور شکل وصورت کو نہیں دیکھتا وہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے ، یہ بیان کرتے ہوئے آپ نے اپنی انگلی سے اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا۔ ‘‘

اخلاص کا حکم ہوا، اور اس کی اساس

﴿قُلْ اِنِّيْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِيْنَ قُلْ اِنِّيْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِيْنِيْ فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِيْهِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ﴾ (الزمر: ۱۱ تا ۱۵)

’’اے نبیﷺ ان سے فرمادیں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنی تابعداری کو اللہ کے لیے خالص کر کے اُسی کی بندگی کروں، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے تابعدار بنوں، انہیں بتلائیں کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے عظیم دن کے عذاب سے ڈر لگتا ہے۔  فرما دیں کہ میں تو اپنی اطاعت کو اللہ کے لیے خالص کر کے اس کی بندگی کروں گا۔ تم اس کے سوا جس جس کی بندگی کرنا چاہتے ہو کرتے رہو،فرما دیں کہ یقیناً وہ لوگ نقصان پانے والے ہیں کہ جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو نقصان میں ڈال دیا، اچھی طرح سُن لو کہ یہ بہت بڑا نقصان ہے۔‘‘

اے رسول ﷺآپ لوگوں پر واضح فرما دیں کہ میرے اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی عبادت بلاشرکتِ غیرے اس طرح کروں جس طرح اس نے مجھے اپنی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے ،حالا ت جیسے بھی ہوں مجھے حکم ہے کہ میں سب سے پہلے اپنے رب کا فرما نبردار بنوں اور اس کی توحید کا پرچار کرتا رہوں۔ اس کے ساتھ مجھے یہ بھی حکم ہوا ہے کہ میں برملا اعلان کروں کہ میں اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہوئے قیامت کے عظیم دن سے ڈرتا ہوں یعنی اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں بھی اس کے عذاب سے نہیں بچ سکتا۔ اس لیے مجھے باربار تاکید کی گئی ہے کہ میں کھلے الفاظ میں کہوں کہ میں صرف ایک ’’اللہ ‘‘کی عبادت کرتا رہوں گا۔

اخلاص کا دوسرا معنٰی کلمہ طیبہ ہے جس میں توحید کا اثبات اور شرک کی نفی کی گئی ہے اسی لیے سورۃ ’’قل ہو اللہ‘‘ کا نام سورۃ الاخلاص رکھا گیا ہے۔

((عَنْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ حَقًّا مِنْ قَلْبِهِ، إِلَّا حُرِّمَ عَلَى النَّارِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَنَا أُحَدِّثُكَ مَا هِيَ، هِيَ كَلِمَةُ الْإِخْلاصِ الَّتِي أَلْزَمَهَا اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مُحَمَّدًا ﷺوَأَصْحَابَهُ، وَهِيَ كَلِمَةُ التَّقْوَى الَّتِي أَلَاصَ عَلَيْهَا نَبِيُّ اللهِ عَمَّهُ أَبَا طَالِبٍ عِنْدَ الْمَوْتِ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ)) (رواه احمد: باب مسند عثمان بن عفان [اسناده صحیح])

’’سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسولﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے ایسے کلمے کا علم ہے کہ جو بندہ اسے سچے دل کے ساتھ پڑھے گا، تو اس پر جہنم کی آگ حرام کر دی جائے گی، سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ  نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ  سے کہا: میں آپ کو بتاؤں کہ وہ کون سا کلمہ ہے؟ وہ کلمہ اخلاص ہے جو اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ اور ان کے اصحاب  رضی اللہ عنہم  پر لازم ٹھہرایا تھا، یہ وہی کلمہ تقویٰ ہے جو نبیﷺ نے اپنے چچا ابوطالب کی موت کے وقت اس کے سامنے پیش کیا تھا، اور یہ کلمہ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سِوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔‘‘

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ  أَنَّهُ قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللهِﷺ مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِكَ يَوْمَ القِيَامَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِﷺ قَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْ لاَ يَسْأَلنِي عَنْ هَذَا الحَدِيثِ أَحَدٌ أَوَّلُ مِنْكَ لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الحَدِيثِ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ القِيَامَةِ، مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللهُ، خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ، أَوْ نَفْسِهِ (رواه البخاری: بَابُ الحِرْصِ عَلَى الحَدِيثِ)

’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے رسولﷺ  سے پوچھا کہ  قیامت کے دن آپ ﷺکی شفاعت کن لوگوں کو حاصل ہو گی؟ فرمایا: ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  مجھے یقین تھا کہ تجھ سے پہلے اس بارے میں مجھ سے کوئی نہیں پوچھے گا۔ کیونکہ میں حدیث کے بارے میں آپ کی رغبت کو جانتا ہوں۔ سنو! قیامت کے دن میری شفاعت سے فیض یاب ہونے والا وہ شخص ہو گا، جو خلوص دل کے ساتھ ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ‘‘ پڑھنے والا ہو گا۔‘‘

((عَنْ أَبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ فِي هَذَا الْيَوْمِ مِنْ عَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ اسْتَعْبَرَ أَبُو بَكْرٍ وَبَكَى، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: لَمْ تُؤْتَوْا شَيْئًا بَعْدَ كَلِمَةِ الْإِخْلاصِ مِثْلَ الْعَافِيَةِ، فَاسْأَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ)) (رواه احمد: باب مسند أبی هريرة رضی اللہ عنہ  [صحیح])

’’سیدنا ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کو منبر رسول پر یہ کہتے ہوئے سنا کہ گزشتہ سال اور آج کے دن نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا ، یہ کہہ کر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  رو پڑے اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، پھر تھوڑی دیر کے بعد فرمایا کہ میں نے آپﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ کلمہ اخلاص سے بڑھ کر تمہیں عافیت دینے والی کوئی بڑی چیز نہیں دی گئی، اس لئے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگا کرو۔‘‘

اخلاص اس قدر ضروری ہے کہ آپ نے فوت ہونے والوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:

((عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ)) (رواه أبی داؤد: بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ[حسن])

’’سیدنا ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسولﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جب تم میت کے لیے نماز جنازہ پڑھو تو اس کے لیے خلوص دل سے دعا کیا کرو۔‘‘

((عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ بَیْنَمَا ثَلاَثَةُ نَفَرٍ یَتَمَاشَوْنَ أَخَذَهُمُ الْمَطَرُ فَمَالُوْا اِلٰی غَارٍ فِی الْجَبَلِ فَانْحَطَّتْ عَلٰی فَمِ غَارِهِمْ صَخْرَةٌ مِّنَ الجَبَلِ فَأَطْبَقَتْ عَلَیْهِمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ اُنْظُرُوْا اَعْمَالًا عَمِلْتُمُوْهَا لِلّٰهِ صَالِحَةً فَادْعُوا اللهَ بِهَا لَعَلَّهٗ یُفَرِّجُهَا فَقَالَ اَحَدُهُمْ اَللّٰهُمَّ اِنَّهٗ كَانَ لِیْ وَالِدَانِ شَیْخَانِ كَبِیْرَانِ وَلِیَ صِبْیَةٌ صِغَارٌ كُنْتُ اَرْعٰی عَلَیْهِمْ فَاِذَا رُحْتُ عَلَیْهِمْ فَحَلَبْتُ فَبَدَأْتُ بِوَالِدَیَّ اَسْقِیْهِمَا قَبْلَ وَلَدِیْ وَاِنَّهٗ قَدْ نَأٰی بِیَ الشَّجَرُ فَمَا أَتَیْتُ حَتّٰی اَمْسَیْتُ فَوَجَدْ تُهُّمَا قَدْ نَامَا فَحَلَبْتُ كَمَا كُنْتُ اَحْلُبُ فَجِئْتُ بِالحِلَابِ فَقُمْتُ عِنْدَرُؤُسِهِمَا اَكْرَهُ اَنْ اُوْ قِظَهُمَا وَاَكْرَهُ اَنْ اَبْدَاَ بِا لِصّبْیَةِ قَبْلَهُمَا وَالصِّبْیَةُ یَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَیَّ فَلَمْ یَزَلْ ذٰلِكَ دَاْبِیْ وَدَأْبُهُمْ حَتّٰی طَلَعَ الْفَجْرُ فَاِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ اَنِّیْ فَعَلْتُ ذٰلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا فُرْجَةً نَرٰی مِنْهَا السَّمَآءَ فَفَرَّجَ اللهُ لَهُمْ حَتّٰی یَرَوْنَ السَّمَآءَ قَالَ الثَّانِی اَللّٰهُمَّ اِنَّهٗ كَانَتْ لِیْ بِنْتُ عَمٍّ اُحِبُّهَا كَاَشَدِّ مَایُحِبُّ الِرّجَالُ النِّسَآئَ فَطَلَبْتُ اِلَیْهَا نَفْسَهَا فَاَبَتْ حَتّٰی اٰتِیَهَا بِمِائَةِ دِیْنَارٍ فَسَعَیْتُ حَتّٰی جَمَعْتُ مِائَةَ دِیْنَارٍ فَلَقِیْتُهَا بِهَا فَلَمَّا قَعَدْتُّ بَیْنَ رِجْلَیْهَا قَالَتْ یَا عَبْدَ اللهِ اتَّقِ اللهَ وَلَا تَفْتَحِ الْخَاتَمَ اِلَا بِحَقِّهٖ فَقُمْتُ عَنْهَا اَللّٰهُمَّ فَاِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ فَعَلْتُ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا فَفَرَجَ لَهُمْ فُرْجَةً وَقَالَ اْلآخَرُ اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ كُنْتُ اسْتَأجَرْتُ بِفَرَقِ اُرُزٍّ فَلَمّٰا قَضٰی عَمَلَهٗ قَالَ أعْطِنِیْ حَقِّیْ فَعَرَضْتُ عَلَیْهِ حَقَّهٗ فَتَرَكَهٗ وَرَغِبَ عَنْهُ فَلَمْ اَزَلْ اَزْرَعُهٗ حَتّٰی جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرَاعِیَهَا فَجَآءَ نِیْ فَقَالَ اتَّقِ اللهَ وَلَا تَظْلِمْنِیْهِ واَعْطِنِیْهِ حَقِّیْ فَقُلْتُ اذْهَبْ اِلٰی ذٰلِك الْبَقَرِ وَرَاعِیَهَا فَقَالَ اتَّقِ اللهَ وَلَا تَهْزَأْ بِیْ فَقُلْتُ اِنِّیْ لَا اَهْزَ اُبِكَ فَخُذْ ذٰلِكَ الْبَقَرَ وَرَاعِیَهَا فَاَخَذَهٗ فَانْطَلَقَ بِهَا فَاِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ اَنِّیْ فَعَلْتُ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ مَابَقِیَ فَفَرَّجَ اللهُ عَنْهُمْ۔ (رواه مسلم: بَابُ قِصَّةِ أَصْحَابِ الْغَارِ الثَّلَاثَةِ وَالتَّوَسُّلِ بِصَالِحِ الْأَعْمَالِ)

’’عبداللہ بن عمر w نبی معظم ﷺسے بیان کرتے ہیںکہ آپ نے بتلایا کہ ایک دفعہ تین آدمی سفر کر رہے تھے کہ انہیں بادو باراں نے آلیا وہ اس طوفان سے بچنے کے لیے پہاڑ کی غار میں بیٹھ گئے۔ اچانک غار کے منہ پر پتھر آگرا۔ جس سے ان کا نکلنا مشکل ہوگیا۔انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ایسا نیک عمل یاد کرو کہ جو تم نے صرف اور صرف اللہ کی رضاکے لیے کیا ہو، تاکہ آج اس کا واسطہ دے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے۔ شاید اس مصیبت سے اللہ تعالیٰ ہمیں نجات عطافرما دے۔ان میں سے ایک نے کہا : اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میرے والدین بہت بوڑھے ہو چکے تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے تھے اور میں ان کی گزران کے لیے بکریاں چرایا کرتاتھا۔ جب میں شام کو واپس لوٹتا اور بکریوں کا دودھ دوہتا تو اپنے بچوں سے پہلے اپنے والدین کو دودھ پلایا کرتا تھا۔ ایک دن مجھے بکریوں کے لیے بڑی دور چارہ دستیاب ہوا۔ جس وجہ سے میں جلد گھر واپس نہ آسکا، یہاں تک کہ رات ہوگئی۔میںنے دیکھا کہ میرے والدین سو چکے ہیں۔ میں نے دودھ دوھیا اور دودھ کا برتن لے کر ان کے سرہانے کھڑا ہو گیا اور میں نے انہیں جگانا پسند نہ کیا اورمجھے یہ بھی پسند نہ تھا کہ اپنے والدین سے پہلے بچوں کو دودھ پلاؤں۔ جب کہ میرے بچے میرے قدموں میں بھوک کی وجہ سے بلک رہے تھے۔ میں اور میرے بچے طلوعِ فجر تک اسی حالت میں رہے۔ اے اللہ! توجانتاہے کہ اگر میں نے یہ کام صرف تیری رضا کے لیے کیاتھا تو، تُو ہمارے لیے اتنا رستہ کھول دے کہ ہم آسمان دیکھ سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اتنا پتھر ہٹا دیا کہ انہیں آسمان نظر آنے لگا۔دوسرے شخص نے دعا کی‘ اے اللہ! مجھے اپنے چچاکی بیٹی کے ساتھ اس قدر محبت تھی کہ جتنی زیادہ سے زیادہ ایک مرد کسی عورت سے کرسکتا ہے۔ میں نے اس سے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔اس نے کہا میں اس وقت تک نہیں مانوں گی کہ جب تک تو مجھے سودینار نہیں دے گا۔میں نے کوشش کر کے سودینار اکٹھے کیے اور دینار لے کر اس کے پاس گیا اور جب میں اس کے پاؤںمیں بیٹھ گیا۔ تو اس نے کہا: اللہ کے بندے! اللہ سے ڈر اور حلال کیے بغیر میری حیا کا پردہ چاک نہ کرو۔ میں اس سے اٹھ کھڑاہوا ۔اے اللہ! تو جانتاہے کہ اگر میں نے یہ برائی تیرے خوف سے چھوڑی تھی توہمارے لیے راستہ کھول دے۔نبیﷺ فرماتے ہیں کہ ان کے لیے تھوڑا سا رستہ اورکھل گیا۔تیسرے نے دعاکی ‘الٰہی! میں نے ایک مزدور کوایک فرق چاول تقریباً سوا چھ کلو  کی مزدوری پر رکھا ۔ جب اس نے اپنا کام مکمل کرلیا تو اس نے اپنی مزدوری کا مطالبہ کیا تو میں نے اس کے سامنے اس کا حق پیش کیا لیکن اس نے اسے تھوڑا سمجھا اور وہ اسے چھوڑ کرچل دیا۔ میں ان چاولوں کو کاشت کرتا رہا ، یہاں تک کہ میں نے ان سے کچھ گائے خریدیں اورایک چرواہا رکھا۔ کچھ مدت کے بعد وہ شخص آیا اور اس نے کہاکہ اللہ سے ڈرو اورمجھ پر زیادتی نہ کرو اورمیرا حق مجھے دے دو۔میں نے اس سے کہاکہ یہ گائے اور ان کا چرواہا لے جاؤ۔اس نے کہا: اللہ سے ڈرو اورمیرے ساتھ مذاق نہ کرو۔ میں نے کہا میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کررہا۔ یہ تیرا ہی مال ہے اس لیے ان بیلوں اور چرواہے کو لے جائو، وہ ان کو لے گیا۔ اے اللہ تو جانتا ہے کہ اگر میں نے یہ کام تیری رضا کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے غار کا باقی دہانہ بھی کھول دے اللہ تعالیٰ نے ان کا راستہ کھول دیا۔ ‘‘

مسافر کا مکھی کا نذرانہ دینے کی وجہ سے جہنم رسید ہونا:

ابھی عرض کیا ہے کہ عقیدۂ توحید کا دوسرا نام اخلاص ہے اور یہ ایسی سوچ اور فکر ہے کہ جس کی بنیاد پر بظاہر ایک چھوٹی سی نیکی انسان کے زندگی بھر کے اعمال پر بھاری ثابت ہوتی ہے اور انسان کی نجات کا ذریعہ بن جاتی ہے۔جس کے لیے اللہ کے رسولﷺ نے دو مسافروں کا واقعہ بیان فرمایا ہے:

((عَنْ طَارِقِ بْنِ شَهَابٍ أنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ دَخَلَ الْجَنَّةِ رَجُلٌ فِیْ ذُبَابٍ، وَدَخَلَ النَّارَ رَجُلٌ فِیْ ذُبَابٍ قَالُوْا وَكَیْفَ ذٰلِكَ یَا رَسُوْلَ اللهِ ؟ قَالَ مَرَّ رَجُلَانِ عَلٰی قَوْمٍ لَهُمْ صَنَمٌ لَا یَجُوْزُهٗ أحَدٌ حَتّٰی یُقَرِّبَ لَهٗ شَیْئًا ، فَقَالُوْا لِاَحَدِهِمَا قَرِّبْ ، قَالَ لَیْسَ عِنْدِیْ شَیْئٌ أُقَرِّبُ ، قَالُوْا لَهٗ قَرِّبْ وَلَوْ ذُبَابًا ، فَقَرَّبَ ذُبَابًا فَخَلُّوْا سَبِیْلَهٗ ، فَدَخَلَ النَّارَوَقَالُوْا لِلآخَرِقَرِّبْ، قَالَ مَا كُنْتُ لِاَقَرِّبَ لِأَحَدٍ شَیْئًا دُوْنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَضَرَبُوْا عُنَقَهٗ ، فَدَخَلَ الْجَنَّةَ)) (رواہ أحمد:مسند طارق بن شهاب [موقوف علی ابن شھاب])

’’سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ایک آدمی مکھی کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گیا اور دوسر امکھی  کی وجہ سے جہنم میںچلا گیا۔صحابہ  رضی اللہ عنہم  نے عرض کی اللہ کے رسول !وہ کس طرح؟آپ نے فرمایا دو آدمی ایک بت پرست قو م کے پاس سے گزرے جو بتوں کے نام نذرانہ دیے بغیر گزرنے نہیں دیتے تھے۔ انہوں نے ان دونوں میں سے ایک کو کہا کہ کوئی نذرانہ پیش کرو۔ اس نے کہا میرے پاس نذرانے کے لیے کچھ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک مکھی ہی نذرانہ کر دو۔ اس نے مکھی پکڑی اور اس کا نذرانہ دے دیا۔ انہوں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔ اس وجہ سے وہ جہنم میں داخل ہو ا ۔ انہوں نے دوسرے سے بھی نذرانہ دینے کے لیے کہا۔ اس نے جواب دیا کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے نذرانہ نہیں دوں گا۔ انہوں نے اس کی گردن اُڑا دی تو وہ جنت میں داخل ہو گیا۔‘‘

مشرک اور موحد میں فرق

دونوں میں یہ فرق ہے کہ مشرک انتہائی مشکل کے وقت اللہ تعالیٰ کو اخلاص یعنی صرف اسے پکارتا ہے اور موحد ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے۔

﴿هُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيْحٍ طَيِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِيْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِيْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ١ۚ۬ لَىِٕنْ اَنْجَيْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ﴾ (یونس: ۲۲)

 ’’وہی ذات ہے جو تمھیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے ، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ انھیں لے کرموافق ہوا کے ساتھ چل پڑتی ہیں اور وہ اس پر خوش ہوتے ہیں اور جب ان کشتیوں کے مخالف ہوا آجاتی ہے اور ان پر ہر طرف سے موجیں چھاجاتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیںکہ یقیناً انہیں گھیر لیا گیا ہے ، تو وہ اللہ کو اس طرح پکارتے ہیں کہ ہر قسم کی تابعداری اس کیلئے خاص کرنے والے ہوتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اگر تو نے ہمیں اس سے نجات دے دی تو ہم ضرور شکر کرنے والوں سے ہوں گے ۔‘‘

اخلاص کی برکت

﴿مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ﴾ (البقرة: ۲۶۱ )

’’جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو (۱۰۰) دانے ہوں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اسے بڑھا چڑھاکر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا، اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ ‘‘

((عَنْ أَبِيْ هُرَیْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِﷺ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍمِنْ كَسْبٍ طَیِّبٍ وَلَا یَقْبَلُ اللهُ إِلَّا الطَّیِّبَ وَإِنَّ اللهَ یَتَقَبَّلُهَا بَیَمِیْنِهٖ ثُمَّ یُرَبِّیْهَا لِصَاحِبِهٖ كَمَا یُرَبِّيْ أَحَدُكُمْ فَلُوَّهٗ حَتّٰی تَكُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ ))  (رواه البخاری: كتاب الزكاة ، باب الصدقة من كسب طیب)

’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں اللہ کے رسولﷺنے فرمایا: جس نے اپنی پاک کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کیاآپ نے مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ چیز ہی قبول فرماتا ہے۔ یقیناً اسے اللہ تعالیٰ اپنے دائیں ہاتھ میں لیتے ہیں اور اسے صدقہ کرنے والے کے لیے بڑھاتے رہتے ہیں جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کو پالتا ہے یہاں تک کہ اس کا کیا ہوا صدقہ پہاڑ کے برابر ہوجاتاہے۔‘‘

ایثار اور اخلاص کی انتہاء:

((عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِینَةَ فَآخَی النَّبِیُّﷺ بَیْنَهُ وَبَیْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِیعِ الْأَنْصَارِیِّ رضی اللہ عنہ  وَكَانَ سَعْدٌ ذَا غِنًی فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ أُقَاسِمُكَ مَالِی نِصْفَیْنِ وَأُزَوِّجُكَ قَالَ بَارَكَ اللهُ لَكَ فِی أَهْلِكَ وَمَالِكَ دُلُّونِی عَلٰی السُّوقِ فَمَا رَجَعَ حَتَّی اسْتَفْضَلَ أَقِطًا وَسَمْنًا فَأَتَی بِهٖ أَهْلَ مَنْزِلِهِ فَمَكَثْنَا یَسِیرًا أَوْ مَا شَاءَ اللهُ فَجَاءَ وَعَلَیْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ فَقَالَ لَهٗ النَّبِیُّﷺ مَهْیَمْ قَالَ یَا رَسُولَ اللهِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ مَا سُقْتَ إِلَیْهَا قَالَ نَوَاةً مِّنْ ذَهَبٍ أَوْ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ)) (رواه البخاری : كتاب البیوع ، باب قول الله تعالی فإذا قضیت الصلاة)

’’سیدنا انس رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ  ہجرت کر کے مدینہ آئے تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے اور سعد بن ربیع انصاریw کے درمیان مواخات قائم کی،سعد رضی اللہ عنہ  مال دار آدمی تھے انھوں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ  سے کہا میں اپنے مال کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہوں آدھا مال میرا ہے اور آدھا آپ کا ہو گا، اور میں آپ کی شادی کا بھی انتظام کرتا ہوں۔ عبدالرحمن بن عوف  رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہارے مال اور اہل میں برکت فرمائے۔ آپ مجھے مارکیٹ کے بارے میں معلومات دیں۔ اس کے بعد عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ  بازار جاتے اور وہاں سے گھی اور پنیر لا کر بیچتے، مدینہ میں ٹھہرے ہوئے ہمیں تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ عبدالرحمن  رضی اللہ عنہ  نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے لباس پر زرد رنگ کے نشان تھے۔ نبی اکرمﷺنے اس سے پوچھا کہ یہ رنگ کیسا ہے ؟ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ  نے کہا : اللہ کے رسولﷺ! میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے، پوچھا: کتنا مہر ادا کیا ہے؟ انہوں نے کہا گٹھلی کے برابر سونا یا اس سے تھوڑا سا کم ہو گا، رسول معظم ﷺ نے فرمایا:ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ہی ذبح کرو۔‘‘

((عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ، يَقُولُ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ أَنْ نَتَصَدَّقَ فَوَافَقَ ذَلِكَ عِنْدِي مَالاً، فَقُلْتُ: اليَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا، قَالَ: فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺمَا أَبْقَيْتَ لأَهْلِكَ؟ قُلْتُ: مِثْلَهُ، وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ مَا أَبْقَيْتَ لأَهْلِكَ؟ قَالَ: أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللهَ وَرَسُولَهُ، قُلْتُ: لاَ أَسْبِقُهُ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا)) (رواه الترمذی: بَابُ مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ  رضی اللہ عنہ وَاسْمُهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ وَلَقَبُهُ عَتِيقٌ [حسن صحیح])

’’سیدنا اسلم  رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب  رضی اللہ عنہ  کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک دن ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ اس وقت میرے پاس بہت مال تھا، میں نے سوچا کہ  اگر میں ابوبکر  رضی اللہ عنہ  سے سبقت لے جا سکتا ہوں تو وہ آج کا دن ہو گا، چنانچہ میں اپنا آدھا مال لے آیا۔ اللہ کے رسول ﷺنے پوچھا: اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ میں نے کہا: آدھا مال چھوڑ کر آیا ہوں۔ پھر ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اپنا مال لے کر آئے، تو ان سے اللہ کے رسولﷺ نے پوچھا: ”اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟ انہوں نے کہا میں ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کبھی نہیں بڑھ سکتا ۔‘‘

((عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ أُمِرْنَا بِالصَّدَقَةِ قَالَ كُنَّا نُحَامِلُ قَالَ فَتَصَدَّقَ أَبُو عَقِیلٍ رضی اللہ عنہ  بِنِصْفِ صَاعٍ قَالَ وَجَاءَ  إِنْسَانٌ بِشَیْءٍ  أَكْثَرَ مِنْهُ فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ إِنَّ اللهَ لَغَنِیٌّ عَنْ صَدَقَةِ هَذَا وَمَا فَعَلَ هَذَا الْآخَرُ إِلَّا رِیَاء ً فَنَزَلَتْ الَّذِینَ یَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِینَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ فِی الصَّدَقَاتِ وَالَّذِینَ لَا یَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ ))(رواه  مسلم: كتاب الزكوٰة ، باب الحمل باجرة تیصدق بها)

’’سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس وقت ہم اپنے کندھوں پر بوجھ اٹھاکر مزدوری کیا کرتے تھے۔ ابو عقیل رضی اللہ عنہ  اس مزدور ی سے آدھا صاع کھجور لے کر آئے تو منافقوں نے کہا کہ ابو عقیل کے صدقے کی اللہ کو کیا ضرورت تھی۔ (عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ  )بہت سامال لائے تو منافق کہنے لگے اس نے اتنا صدقہ ریاکاری کے لیے کیا ہے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی ۔ ‘‘

﴿اَلَّذِيْنَ يَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِيْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ فِي الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١ٞ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ﴾ (التوبة: ۷۹)

’’جولوگ صدقات میں فراخ دلی سے حصہ لینے والے ایمانداروں پرطعن کرتے ہیں جو اپنی محنت کے سواکچھ اپنے پاس نہیں پاتے وہ لوگوں کو مذاق کرتے ہیں اللہ ان سے مذاق کرے گاان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔‘‘

((عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ)) (رواه مسلم: بَابُ تَحْرِيمِ سَبِّ الصَّحَابَةِ  رضی اللہ عنہم )

’’سیدنا ابو سعید خدری  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : تم میرے صحابہ کو گالی نہ دو، اس لیے کہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے، تب بھی وہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ایک مد یا آدھے مد کے برابر ثواب نہیں پا سکتا۔‘‘

﴿لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ وَّلَا عَلَى الَّذِيْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْيُنُهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا يَجِدُوْا مَا يُنْفِقُوْنَ﴾ (التوبة: ۹۱ تا ۹۲)

’’ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں اور کمزوروں ، نہ بیماروں اورنہ ان لوگوں پرجوخرچ کرنے کے لیے کوئی چیز نہیںپاتے جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے مخلص ہیں نیکی کرنے والوں پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں اور اللہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔اور نہ ان لوگوں پر کوئی گناہ ہے جو آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ انہیں سواری دیں تو آپ نے فرمایا کہ میں اپنے پاس کوئی سواری نہیں پاتا کہ جس پر تمہیں سوار کروں یہ سُن کر وہ واپس ہوئے تو اس غم سے ان کی آنکھیں آنسوئوں سے بہہ رہی تھیں کہ وہ خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں پاتے۔‘‘

((عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ﷺ فِی غَزَاةٍ فَقَالَ إِنَّ بِالْمَدِینَةِ لَرِجَالًا مَا سِرْتُمْ مَسِیرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِیًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ حَبَسَهُمْ الْمَرَضُ)) (رواه مسلم :باب ثواب من جسه عن النفر مرض اور عذر)

’’سیدنا جابر  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوۂ میں رسول معظمﷺ کے ساتھ تھے، آپ نے فرمایا: بلاشبہ مدینہ میںکچھ ایسے لوگ ہیں جو اپنے گھروں میں بیٹھے ہونے کے باوجود جہاں تم نے قیام کیا وہ ہر جگہ تمھارے ساتھ تھے یا کسی وادی کو تم نے عبور کیا حالانکہ وہ اپنی بیماری کی وجہ سے مدینہ میں ٹھہرےہوئے ہیں۔ ‘‘

اس فرمان میں نبی ﷺ نے خلوص کی وجہ سے ان لوگوں کو غزوہ تبوک میں شریک تصور کیا ہے جوبیماری یا سواریاں نہ ہونے کی وجہ سے اس میں شریک نہ ہوسکے تھے بے شک وہ شریک ِسفر نہیں تھے لیکن ان کے اخلاص اور دعائیں مسلمانوں کے ساتھ تھیں ۔اس لیے آپ نے انہیں ثواب میں شریک فرمایا۔

مخلص بندوں کی جزا:

﴿اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِيْرًا﴾

(مخلص بندے غریبوں سے کہتے ہیں کہ ) ’’ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں ہم تم سے نہ کوئی جزا چاہتے ہیں نہ شکریہ۔ ہمیں اپنے رب سے اس دن کے عذاب سے ڈر لگتا ہے جو بڑا مصیبت والا اور طویل دن ہو گا۔‘‘

﴿فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْيَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًا وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِيْرًا﴾

پس اللہ انہیں اس دن کے شر سے بچا لے گا اور انہیں تازگی اور سرور عطا فرمائے گا اور انہیں صبر کے بدلے جنّت اور ریشم کا لباس پہنایا جائیگا۔

﴿مُّتَّكِـِٕيْنَ فِيْهَا عَلَى الْاَرَآىِٕكِ١ۚ لَا يَرَوْنَ فِيْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِيْرًا وَ دَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا﴾

وہاں وہ اونچی مسندوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے، نہ انہیں دھوپ کی گرمی ستائے گی نہ سردی کی ٹھنڈک۔ ان پر جنّت کی چھائیں سایہ فگن ہو گی ۔

﴿وَ يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِاٰنِيَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِيْرَاۡ قَؔوَارِيْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِيْرًا وَ يُسْقَوْنَ فِيْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا عَيْنًا فِيْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِيْلًا﴾

اور جنت کے پھل ان کے قریب تر ہوں گے، ان کی خدمت میں چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے پیش کیے جارہے ہوں گے۔ شیشے بھی وہ جو چاندی کی قسم کے ہونگے اور ان کو ٹھیک اندازے سے بھرا ہو گا۔ وہاں انہیں شراب کے ایسے جام پلائے جائیں گے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہو گی اور جنّت میں ایک چشمہ ہو گا جس کا نام سَلْسَبیل ہے۔

﴿وَ يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا وَ اِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّ مُلْكًا كَبِيْرًا﴾

ان کی خدمت کے لیے ایسے لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ ایک جیسے رہیں گے، تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ یہ تو موتی بکھیر دیے گئے ہیں۔ تم جدھر بھی نگاہ اٹھائو گے نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک بڑی سلطنت دیکھو گے۔

﴿اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا﴾

اور انہیں کہا جائے گا یہ تمہاری جزا ہے اور تمہاری کوشش کی قدر افزائی ہو گی۔ (الدھر: ۹ تا ۲۲)

نمود، نمائش کا انجام اور اس سے بچنے کا حکم

﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰى١ۙ كَالَّذِيْ يُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَايَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ …..اَيَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِيْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ﴾ (البقرة: ۲۶۴، ۲۶۶)

’’اے ایمان والو !اپنی خیرات کو احسان جتلا اور ایذا دے کر برباد نہ کرو، جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتا۔ اس کی مثال اس صاف پتھر کی طرح ہے جس پر معمولی سی مٹی ہوپھر اس پر زور دار بارش برسے اور وہ اسے صاف کر دے، ایسے ریا کاروں کو اپنی کمائی سے کچھ حاصل نہیں ہوگااور اللہ تعالیٰ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا ……کیا تم میں سے کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہتی ہوں اور اس میں ہرقسم کے پھل ہوں اور اس کے مالک کو بڑھاپا آچکا ہو، اس کے ننھے منھے بچے ہوں اور اچانک باغ کو آگ کا بگولا آلے جس سے باغ جل جائے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آیات بیان کرتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔‘‘

((عَنْ أَبِی هُرَیْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ  ﷺ تَعَوَّذُوا بِاللهِ  مِنْ جُبِّ الْحُزْنِ قَالُوا یَا رَسُولَ اللهِ  وَمَا جُبُّ الْحُزْنِ قَالَ  وَادٍ فِی جَهَنَّمَ تَتَعَوَّذُ مِنْهُ جَهَنَّمُ كُلَّ یَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ قُلْنَا یَا رَسُولَ اللهِ  وَمَنْ یَدْخُلُهُ قَالَ الْقُرَّاءُ الْمُرَاءُونَ بِأَعْمَالِهِمْ)) (رواه الترمذی:باب مَا جَاءَ فِی الرِّیَاءِ وَالسُّمْعَة[حسن  غریب] )

’’سیدنا ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: جُبُّ الحزن سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم  نے عرض کی اللہ کے رسولﷺ  جُبُّ الحزن کیا ہے ؟آپ نے فرمایا: یہ جہنم کی وہ وادی (Ward) ہے کہ جس سے جہنم ایک دن میں سو بار پناہ مانگتی ہے۔ ہم نے عرض کی: اللہ کے رسولﷺ  اُس میں کون داخل کیے جائیں گے۔آپ نے فرمایا: قراء جو اپنے اعمال میں دکھلاوا کرتے ہیں۔ ‘‘

(( عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ لَهُ نَاتِلُ أَهْلِ الشَّامِ: أَيُّهَا الشَّيْخُ، حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ ، قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِﷺ  يَقُولُ: «إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُقَالَ: جَرِيءٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ، وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ، وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ: عَالِمٌ، وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ: هُوَ قَارِئٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللهُ عَلَيْهِ، وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ: هُوَ جَوَادٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ )) (رواه مسلم: بَابُ مَنْ قَاتَلَ لِلرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ اسْتَحَقَّ النَّارَ)

’سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ جب لوگ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  کی مجلس سے چلے گئے تو شام کے رہنے والے ایک آدمی نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ   سے کہاکہ ہمیں وہ حدیث بیان کرو، جو آپ نے اللہ کے رسولﷺ سے سنی ہو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  نے فرمایا: ہاں، میں نے اللہ کے رسولﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے تین قسم کے لوگوں کا فیصلہ کیا جائے گا: 1 شہید کو لایا جائے گا، اللہ تعالی اسے اپنی نعمتیں یاد کروائے گا، اور وہ ان کا اقرار کرے گا۔ اللہ تعالی اس سے پوچھے گا: تو نے کیا عمل کیا وہ کہے گا: میں نے تیرے راستے میں جہاد کیا، یہاں تک کہ میں تیرے راستے میں شہید ہو گیا۔ اللہ تعالی فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، تو نے اس لئے جہاد کیا تھا تاکہ تجھے بہادر کہا جائے اور تجھے بہادر کہہ دیا گیا، حکم دیا جائے گا کہ اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ 2 علم سیکھنے، سکھلانے اور قرآن مجید پڑھنے والے کو لایا جائے گا، اللہ تعالی اسے اپنی نعمتوں کا تعارف کرائے گا، وہ اقرار کرے گا۔ اللہ تعالی فرمائے گا: تو نے کیا عمل کیا ہے؟ وہ کہے گا: میں نے آپ کی خاطر علم سیکھا اور سکھایا اور قرآن پڑھا اور پڑھایا، اللہ تعالی فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، اس سے تیرا مقصد یہ تھا کہ تجھے عالم کہا جائے اور تو قرآن اس لیے پڑھا کرتا تھا کہ تجھے قاری کہا جائے، سو تجھے تو کہا گیا تو اس کے بارے میں حکم ہو گا کہ اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ 3 پھر ایسے آدمی کو لایا جائے گا جسے اللہ تعالی نے خوشحال کیا اور اسے ہر قسم کا مال دیا، اللہ تعالی اسے اپنی نعمتوں کے بارے میں پوچھے گا، وہ ان کا اقرار کرے گا۔ اللہ تعالی فرمائے گا: تو نے اس بارے میں کیا عمل کیا ہے؟ وہ کہے گا: میں جہاں تجھے خرچ کرنا پسند تھا، میں نے اپنا مال تیرے لیے وہاں خرچ کیا۔ اللہ تعالی فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، تیرے خرچ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ تجھے سخی کہا جائے اور تجھے سخی کہہ دیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں بھی حکم ہو گا، کہ اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔‘‘

admin

Share
Published by
admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago