قومی اسمبلی کا کردار

اسپیکر قومی اسمبلی نے قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے اور اس کے خلاف فتویٰ پر غور کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے ۔یہ تحریر تمام پارلیمنٹ اور اس کمیٹی تک پہنچنا ضروری ہے ۔

مسیلمہ کذاب نے نبی مکرم ﷺکو خط لکھا: میرے ساتھ ایک  معاہدہ کر لیں ، جب تک آپ حیات ظاہری میں ہیں ، آپ نبی ہیں ۔ جب آپ کا وصال ہوجائے تو میں نبی۔یا یہ معاہدہ کر لیں کہ

آدھے عرب کے آپ نبی آدھے عرب کا میں نبی۔ معاذالله

اسکے خط پر نبی پاک ﷺ نے جواب میں لکھا :میں تو الله کا رسول ہوں جب کہ تو کذاب ہے ، جھوٹا ہے۔جب نبی پاک نے خط میں کذاب لکھا تو فرمانے لگے :کون لے کے جائے گا یہ خط اس کذاب کے دربار میں۔۔

اب اسکے دربار میں جانا ہے حالات بڑے خطرناک ہیں ۔اس کے آگے بھی بندے اور پیچھے بھی بندے ہیں جان کا خطرہ بھی ہے ۔ایک صحابی تھے چھابڑی فروش، سر پر ٹوکرا رکھ کے مدینے کی گلیوں میں کھجوریں بیچتے تھے ۔۔۔ گیارہ بارہ بچوں کے باپ تھے جسمانی طور پر بھی کمزور تھے، کھجورکھا رہے تھے جلدی سے اٹھے ہاتھ کھڑا کر کے کہا :

’’حضور کسی اور کی ڈیوٹی نا لگائیے گا میں جاؤںگا۔‘‘

جب یہ الفاظ جلد بازی میں کہے تو ان کے منہ سے کھجورکے ٹکڑے مجلس میں بیٹھے صحابہ کے چہروں پر گرے ، ایک صحابی کہنے لگے:

’’ اللہ کے بندے پہلے کھجور تو کھا لے‘‘بڑی جلدی ہے تجھے بولنے کی ۔

مسکرا کے کہنے لگے :’’اگر کھاتے کھاتے ڈیوٹی کسی اور کی لگ گئی تو کیا کرونگا مجھے جلدی ہے‘‘….. (اللہ اکبر)

نبی اکرمﷺ نے اپنا نیزہ دیا، گھوڑا دیا اور فرمایا:’’ ذرا ڈٹ کے جانا اس کذاب کے گھر‘‘۔ وہ صحابی عقیدت سے نظریں جھکا کر کہنے لگے:’’محبوب الٰہی! آپ فکر ہی نا کریں۔‘‘

صحابہ کہتے ہے وہ  اس طرح نکلے جیسے کوئی جرنیل نکلتا ہے،انکا انداز ہی بدل گیا ان کے طور طریقے بدل گئے وہ یوں نکلے جیسے کوئی بڑا دلیر آدمی جاتا ہے ۔ وہ صحابی مسیلمہ کذاب کے دربار میں گئے، وہاں ایک شخص جو بعد میں مسلمان ہوا وہ بتلاتا ہے: وہ صحابی جن کا نام سیدناحبیب بن زید رضی اللہ عنہ تھا جب  وہاں دربار میں پہنچے تو اپنا نیزہ زور سے دربار میں گاڑ دیا ۔مسیلمہ ٹھٹک کے کہتا ہے:’’ کون ہو ؟ ‘‘آپ غراتے ہوئے فرمانے لگے:’’ تجھے چہرہ دیکھ کے پتہ نہیں چلا کہ میں رسول اللہﷺ کا نوکر ہوں، ہمارے تو چہرے بتاتے ہیں کہ نبیﷺ والے ہیں ، تجھے پتہ نہیں چلا میں کون ہوں۔‘‘مسیلمہ کہنے لگا:’’ کیسے آئے ہو ؟‘‘بے نیازی سے فرمایا :’’یہ تیرے خط کا جواب لے کے آیا ہوں۔‘‘

بادشاہوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ خط خود نہیں پڑھتے تھے، ساتھ ایک بندہ کھڑا ہوتا تھا وہ خط پڑھتا تھا تو مسیلمہ نے خط اس کو دیا کہ پڑھو ۔ جب اس نے خط پڑھا تو اس میں یہ بھی لکھا تھا :’’ تو کذاب ہے۔‘‘

یہ جملہ وہاں موجود سب نے سن لیا اکیلے میں ہوتا تو بات اور تھی ۔وہ آگ بگولہ ہوگیا آنکھیں سرخ ہوگئیں سامنے سیدناحبیب بن زید رضی اللہ عنہ تنے کھڑے تھے، غصے سے تلوار لے کے  اٹھا اور کہنے لگا:’’تیرے نبی نےمجھے’’کذاب ‘‘ کہا ہے تیرا کیا خیال ہے؟۔۔ سیدناحبیب بن زید رضی اللہ عنہ مسکرا کے فرمانے لگے:’’ خیال والی بات ہی کوئی نہیں، جسے میرا نبی کذاب کہے وہ ہوتا ہی کذاب ہے ۔ تو سات سمندروں کا پانی بھی بہا دے تو بھی تیرا جھوٹ نہیں دھل سکتا۔‘‘

مسیلمہ غصے کی شدت سے کانپتے ہوئے کہنے لگا :’’ تو پیچھے پلٹ کے دیکھ، سارے میرے سپاہی میرےپہرےدار، تلواریں ، نیزے ، خنجر ، تیر سب تیرے پیچھے کھڑے میرے ماننے والے ہیں ۔

سیدناحبیب بن زید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے:’’ میرے بارہ بچے ہیں ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو دودھ پیتے ہیں کچھ ایسے ہیں جنہوں نے ابھی چلنا نہیں سیکھا ۔ میں جب رسول اللہﷺ کا پیغام لے کے نکلا تھا تو میں نے پلٹ کے بچے نہیں دیکھے تو تیرے پہرہ دار کیسے دیکھ لوں ،جو جی میں آتا ہے کر غلامان محمدﷺ جان دینے سے نہیں ڈرتے ۔

مسیلمہ نے زور سے تلوار ماری بازو کٹ کے گر گیا کہنے لگا :’’ اب بول اب تیرا کیا خیال ہے؟؟؟آپ فرمانے لگے:’’ تو بڑا بیوقوف ہے ہمیں آزماتا ہے، ہمیں تو بدر سے لے کر احد تک سب آزما چکے ہیں ، تو ابھی بھی خیال پوچھتا ہے، میرا خیال وہی ہے جو میرے نبی ﷺنے فرمایا:مسیلمہ نےپھر تلوار ماری دوسرا ہاتھ کٹ گیاکہنے لگا:’’ میں تجھے قتل کر دوں گا باز آجا ۔

آپ فرمانے لگے:’’ تو بڑا نادان ہے ، ان کو ڈراتا ہےجو فجر کی نماز پڑھ کے پہلی دعا ہی شہادت کی مانگتے ہیں ، جو کرنا ہے کر لے۔

مسیلمہ کذاب نے تلوار گردن پر رکھی کہنے لگا:’’ میں تیری گردن  کاٹ دوں گا۔سیدنا حبیب بن زید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے:’’ کاٹتا کیوں نہیں۔‘‘ روایت کرنے والا فرماتا ہے مسیلمہ کے ہاتھ کانپتے تھے ۔ تلوار چلائی گردن کٹ گئی ، ادھر مدینے میں نبی کریم ﷺ کی انکھوں میں آنسو آئے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا :’’ یا رسول اللہ !کیا ہوا؟فرمایا :’’میرا حبیب شہید ہو گیا ہے ۔اور رب کریم نے اس کے لیےجنت کے سارے دروازے کھول دیئے ہیں۔

کی محمد ﷺ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago