Categories: اپریل 2009

فیوض القرآن

أ ک ل

أَکَلَ یَأْکُلُ أَکْلاً باب نَصَرَ جس کا مطلب کھانا ہے۔

اگر أَکِلَ یَأْکَلُ أَکَلاً باب سَمِعَ سے ہوتو اس کا مطلب دانت یا لکڑی کا کھوکھلا ہوکر گرجانا۔

لہذا أکل کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیزکو چبا کر کھا لینا لہذا جو چیز بغیر چبائے نگل لی جائے اسے مأکول نہیں کیا جاتا۔ قرآن مجید میں سورۃ الفیل میں ہے کہ

{کَعَصْفٍ مَّأْکُوْل} (سورۃ الفیل :۵)

’’جیسے (جانوروں کا) کھایا ہوا بھوسا۔‘‘

الْأُکُل کا لفظ عمومی طور پر پھلوں کے لئے ہوتا ہے لیکن درحقیقت درختوں اور پودوں سے جو کچھ بھی کھایا جائے الْأُکُل کہلاتا ہے ۔ قرآن مجید میں جنت کے متعلق ہے۔

{أُکُلُہَا دَائِمٌ} (۳۵/۱۳)

’’اس کے پہل ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

صاحب تاج العروس نے کہا کہ : وسیع رزق ، عقل اور رائے اور وزنی عقل کو بھی  الْأُکُل کہتے ہیں ۔ (تاج العروس)

اس کے بنیادی معنی ویسے تو کھانے کے ہیںلیکن اس کے مجازی معنی میں کسی چیز کو لینے کیلئے بھی آتے ہیں  جیسا کہ قرآن مجید میںہے ۔

{لاَ تَأْکُلُوْا الرِّبَا } (آل عمران :۱۶۹)

’’یعنی سود مت لو۔‘‘

اس کے ایک مطلب سود نہ کھانے کا بھی بیان کیا جاتاہے جوکہ اردو زبان میںاستعمال کیا جاتاہے۔

راغب اصفہانی نے ایک مقام پر لکھا کہ : اکل مال سے مراد انفاق مال ہے اس لئے کہ مال کا بیشتر مصرف کھانے پینے او ر معاشی ضروریات سے متعلق ہوتاہے۔(مفردات)

ابن فارس نے کہا ہے کہ اس مادہ کے بنیادی معنی بتدریج کم ہونا ہیں کیونکہ جس چیز کو کھایا جائے وہ کم ہوجاتی ہے۔

الإِکْلَۃٌ اور الآکِلَۃٌ  کا مطلب خارش بھی لیا جاتاہے ۔ الآکِلَۃٌ سے مراد وہ بیماری جو عضو کو گلا دے۔

أبو الفضل نے غریب القرآن میں لکھا کہ أُکُلٌ سے مرتبہ کھانا، اڑانا ، ضائع کرنا یا حریصانہ طریقے سے کھانا۔

قرآن مجید میں اس کے درج ذیل مشتقات استعمال ہوئے ہیں۔

أکل ، فأکلا ، لأکلوا ، تأکل ، تأکلوا ، تأکلون ، نأکل ، یأکل ، یأکلون ، یأکلن ، یأکلوا ، یأکلون ، کلا ، کلوا ، کلی ، أکلا، أکلہم ، لآکلون ، للآکلین ، أکّالون ، کعصف مأکول ، أکُل ، الأکُلُ ، أُکُلُہَا ۔

یہ لفظ قرآن مجید میں درج ذیل مفاہیم میں استعمال ہواہے۔

۱۔ پھل

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

{کِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ آتَتْ أُکُلَہَا } (الکہف :۳۳)

’’دونوں باغ اپنا پھل خوب لائے۔‘‘

اور سورۃ الرعد میں ہے ۔

{أُکُلُہَا دَائِمٌ وَظِلُّہَا }(رعد:۳۵)

’’اس کے پھل (میوہ)اور سایہ ہمیشگی والے ہیں۔‘‘

{وَنُفَضِّلُ بَعْضَہَا عَلیَ بَعْضٍ فِی الْأُکُلِ}(رعد :۴)

’’پھر بھی ہم ایک کو ایک پر پھلوں میں برتری دیتے ہیں۔‘‘

۲۔کھانا

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الأعراف میں فرمایا :

{فَکُلاَمِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا } (الأعراف:۱۹)

’’پھر جس جگہ سے چاہو دونوں کھاؤ۔‘‘

۳۔جلانا

{حَتَّی تَأْتِیْنَا بِقُرْبَانٍ تَأْکُلُہُ النَّارُ } (آل عمران :۱۸۳)

’’جب تک وہ ہمارے پاس ایسی قربانی نہ لائے جسے آگ کھا جائے (یعنی جلا دے)۔‘‘

۴۔استئصال

{ثُمَّ یَأْتِیْ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّأْکُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَہُنَّ } (یوسف :۴۸)

’’اس کے بعد سات سال نہایت سخت قحط کے آئیں گے وہ اس غلے کو کھا جائیں گے۔ یعنی استئصالا۔‘‘

۵۔پھاڑ کھانا

{وَاَخَافُ أَنْ یَّأْکُلَہُ الذِّئْبُ }(یوسف :۱۷)

’’مجھے یہ خدشہ لگا رہے گا کہ تمہاری غفلت میں اسے بھیڑیا کھا جائے۔‘‘

۶۔ نگلنا

{إِنِّیْ أَرَی سَبْعَ بَقَرَاتٍ سِمَانٌ یَّأْکُلْنَ سَبْعٌ عِجَافٌ } (یوسف :۴۳)

’’میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی فربہ گائیں جن کو سات لاغر دبلی پتلی گائیں نگل رہی ہی۔‘‘

۷۔ بغیر حق مال غصب کرنا

{إِنَّ الَّذِیْنَ یَأْکُلُوْنَ أَمْوَالَ الْیَتَامَی ظُلْماً } (النساء :۱۵)

’’جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال غصب کرکے کھا جاتے ہیں۔‘‘

۸۔انتفاع یعنی مستفید ہونا

{یَأَیُّہاَ النَّاسُ کُلُوْا مِمَّا فِیْ الْأَرْضِ حَلاَلاً طَیِّباً } (البقرۃ:۱۶۸)

’’اے لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں انہیں کھاؤ ۔‘‘

۹۔ رزق

{لَأَکَلُوْا مِنْ فَوْقِہِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِہِمْ } (المائدۃ : ۶۶)

’’تو یہ لوگ اپنے اوپر سے اور نیچے سے رزق پاتے اور کھاتے ہیں۔‘‘

الشیخ شاہ فیض الابرار صدیقی

Share
Published by
الشیخ شاہ فیض الابرار صدیقی

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

5 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago