Categories: اپریل 2009

فضائل مصطفی ﷺ

آپ ﷺ اخلاق کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں ۔

قرآن مجید میں ہے

{وَاِنَّ لَکَ لَاَجْراً غَیْرَ مَمْنُوْن ٭ وَاِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیْمٍ} (القلم :۳۔۴)

’’اور بیشک تیرے لئے بے انتہا اجر ہے ، اور بیشک آپ بہت بڑے (عمدہ) اخلاق پر ہے۔‘‘

صاحب احسن البیان ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیںکہ فریضہ نبوت کی ادائیگی میں جتنی زیادہ تکلیفیں برداشت کیں اور دشمنوں کی باتیں آپ نے سنی ہیں ، اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ختم ہونے والا اجر ہے ۔

خلق عظیم سے مراد اسلامی دین یا قرآن ہے ، مطلب ہے کہ آپ اس خلق پر ہے جس کا کلمہ تجھے اللہ تعالیٰ نے قرآن یا دین اسلام میں دیا ہے ، یا اس سے مراد وہ تہذیب وشائستگی ، نرمی اور شفقت ، امانت وصداقت حلم وکرم اور دیگر اخلاقی خوبیاں ہیں ، جس میں آپ نبوت سے پہلے بھی ممتاز تھے اور نبوت کے بعد ان میں مزید بلندی اور وسعت آئی ، اس لئے جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا :

’’کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآن‘‘ (صحیح مسلم ، کتاب المسافرین ، باب جامع صلوٰۃاللیل ومن نام عنہ او مرض)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ جواب خلق عظیم کے مذکورہ دونوں مفہوموں پر حاوی ہے۔‘‘(احسن البیان ، ص/۱۶۱۱)

ٍِِمولانا سید مودودی رحمہ اللہ ان آیات کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ:’’آپ ﷺ کیلئے اس بات پر بے حساب اور لازوال اجر ہے کہ آپ خلق خدا کی ہدایت کیلئے جو کوشش کررہے ہیں۔ ان کے جواب میں آپ کو ایسی ایسی اذیت ناک باتیں سننی پڑھ رہی ہیں پھر بھی آپ اپنے اس فرض کو اندام دیئے جارہے ہیں ۔

اس مقام پر یہ فقرہ دومعنی دے رہا ہے ایک یہ کہ آپ اخلاق کے بہت بلند مرتبے پر فائز ہیں۔ اسی وجہ سے آپ ہدایت خلق کے کام میں یہ اذیتیں برداشت کررہے ہیں۔ ورنہ ایک کمزور اخلاق کا انسان یہ کام نہیں کرسکتاتھا۔ دوسرا یہ کہ قرآن کے علاوہ آپ کابلند اخلاق بھی اس بات کا صریح ثبوت ہیں کہ کفار آپ پر جو دیوانگی کی تہمت رکھ رہے ہیں ، وہ سراسر جھوٹی ہے کیونکہ اخلاق کی بلندی اور دیوانگی دونوں ایک جگہ سے نہیں ہوسکتیں ۔دیوانہ شخص وہ ہوتاہے جس کا ذہنی توازن بگڑا ہوا اور جس کے مزاج میں اعتدال باقی نہ رہا ہو۔ اس کے برعکس آدمی کے بلند اخلاق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ وہ نہایت صحیح الدماغ اور سلیم الفطرت ہے اور اس کے ذہن اور مزاج میںمناسب درجہ توازن ہے ۔رسول اللہ ﷺ کے مزاج جیسے تھے ۔ اہل مکہ ان سے ناواقف نہ تھے۔ اس لئے ان کی طرف محض اشارہ کردینا ہی اس بات کیلئے کافی تھا کہ مکہ کا ہر معقول آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہوجائے کہ وہ لوگ کس قدر بے شرم ہیں جو ایسے بلند اخلاق آدمی کو مجنون کہہ رہے ہیں ان کی یہ بے ہودگی رسول اللہ  ﷺ کیلئے نہیں بلکہ خود ان کے لئے نقصان دہ تھی کہ مخالفت کے جوش میں پاگل ہوکر وہ آپ کے متعلق ایسی بات کہہ رہے تھے جسے کوئی ذی فہم آدمی قابل تصور نہ مان سکتاتھا یہی معاملہ ان مدعیان علم وتحقیق کا بھی ہے ، جو اس زمانے میں رسول اللہ  ﷺ پر مرگی اور جنون کی تہمت رکھ رہے ہیں۔ قرآن پأک دنیا میں ہر جگہ مل سکتاہے اور حضور  ﷺ کی سیرت بھی اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ لکھی ہوئی موجود ہیں ہر شخص خود دیکھ سکتاہے کہ جو لوگ اس بے مثل کتاب کے پیش کرنے والے امور ایسے بلند اخلاق رکھنے والے انسان کو ذہنی مریض قرار دیتے ہیں۔ وہ عداوت کے اندھے جذبے سے مغلوب ہوکر کیسی لغوبات کہہ رہے ہیں۔

رسول اللہ  ﷺ کے اخلاق کی بہترین مثال حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے اس قول سے پیش کی کہ

’’کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنَ‘‘

   قرآن آپ کا اخلاق تھا۔

امام احمد ، مسلم ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی اور ابن جریر رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین نے نقل کیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ رسول اللہ  ﷺؒ نے دنیا کے سامنے محض قرآن کریم کی تعلیم ہی پیش نہیں کی تھی بلکہ خود اس کا مجسم نمونہ بن کر دکھا دیا تھا۔ جس چیز کا قرآن میںکلمہ دیا گیا  آپ  ﷺ نے خود سب سے بڑھ کر اس پر عمل کیا جس چیز سے اس میں روکا گیا آپ  ﷺ خود سب سے زیادہ اس سے اجتناب فرماتے۔جن اخلاقی صفات کو اس میں فضیلت قرار دیا گیا سب سے بڑھ کر آپ  ﷺ کی ذات ان سے متصف تھی اور جن صفات کو اس میں ناپسند ٹھہرایا گیا سب سے زیادہ آپ  ﷺ ان سے پاک تھے۔ (تفہیم القرآن ۶/۵۸۔۵۹)

یہ دونوں آیات دعویٰ اور دلیل ہیں ۔ پہلی آیت میں آپ  ﷺ کے اجر کے ختم نہ ہونے کا دعویٰ ہے اور دوسری آیت آپ  ﷺ کے محل اور اخلاق کو اس دعویٰ کا ثبوت کیلئے بطور دلیل پیش کیا گیا ہے۔

آپ ﷺ کے فضائل میں آپ کے اخلاق بلکہ خلقِ عظیم خود اس کی دلیل میںکہ آپ ﷺ کے اجر کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا۔

احادیث نبویہ میں آپ ﷺ کی بعثت کی غرض وغایت یہ ہے ۔

’’بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْأَخْلاَقِ ۔ وفی روایۃ ’’مَحَاسَنَ الْاَعْمَالِ‘‘

’’میں مکارم اخلاق یا محاسن اعمال کی تکمیل کیلئے مبعوث ہوا ہوں ۔‘‘ (مؤطا امام مالک کتاب الجامع )

اور اپنے ماننے والوں کیلئے اخلاق کریمانہ کی اہمیت بڑھانے کیلئے ارشاد فرمایا :

’’اَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَاناً اَحْسَنُہُمْ خُلُقاً ‘‘  (سنن ابی داؤد ، کتاب السنۃ ، باب الدلیل علی زیادۃ الإیمان )

’’جس شخص کا خلق بہتر ہوگا تمام مومنین میں اس کا ایمان اعلیٰ اور اکمل ہوگا۔

ان احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ اسلام میں اخلاق کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے ۔ اس اہمیت کے پیش نظر قرآن مجید نے حضور ﷺ کو یہ کہیں نہیں کہا کہ آپ بہترین نماز پڑھتے ہیں یا آپ بہترین روزہ رکھنے والے ہیں ۔ بلکہ یہ کہا

{اِنَّکَ لَعَلیَ خُلُقٍ عَظِیْمٍ}

’’بیشک آپ خلق عظیم کے حامل ہیں۔‘‘

رسول اکرم ﷺ اپنی امت کیلئے سب سے زیادہ خیر خواہ، سب سے زیادہ شفقت فرمانے والے اور سب سے زیادہ مہربان ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء انسانوں سے مبعوث فرمائے اور تمام امت کی خیر خواہی کیلئے مامور ہوئے۔ خاص طور سے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ انسانی دکھ درد کو نہ صرف گہرائی سے سمجھتے تھے بلکہ ان کے دکھ درد کو اپنا سمجھتے اور ان کے شریک غم رہتے تھے۔ وہ انسانی مشکلات کے حل سے اتنی گہری دلچسپی رکھتے تھے کہ قرآن مجید نے ان کو رحمۃ اللعالمین کا خطاب دیا اور اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کا تعارف ان لفظوں میں کرایا ہے۔

{لَقَدْ جَاء کُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِکُمْ عَزِیزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیصٌ عَلَیْکُم بِالْمُؤْمِنِینَ رَؤُوفٌ رَّحِیمٌ}(التوبہ :۱۲۸)

محترم ڈاکٹر محمد لقمان سلفی حفظہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی امت اسلامیہ پر احسان عظیم ہے اس سورئہ کا اختتام اس نعمت عظمیٰ کے ذرک خیر پر رکھا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تمام قبائل عرب کو مخاطب کرکے فرمایا ، کہ اس نے اپنی پیغام رسانی کیلئے تم پر مہربانی کرتے ہوئے ایک ایسے انسان کو چنا ہے جو تم میں سے ہیں اور تمہاری زبان بولتے ہیں ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم  ﷺ کا قبیلہ عرب سے خاندانی تعلق ہے۔ (صحیح مسلم اور ترمذی کی روایت ہے کہ نبی کریم  ﷺ نے فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے کنانہ کو اولاد اسماعیل سے چن لیا ، اور قریش کو اولادکنانہ سے اور کنانہ سے بنی ہاشم قریش کو ۔‘‘

نبی ﷺ کی دوسری صفت یہ بتائی گئی کہ آپ پر وہ بات شاق گزرتی ہے جس سے امت مسلمہ کو تکلیف پہنچتی ہے ۔تیسری صفت یہ کہ آپ دل سے تمنا کرتے ہیں کہ آپ کی امت جہنم میں نہ ڈال دی جائے اور یہ بھی تمنا کرتے ہیں کہ دنیا و آخرت کی ہر بھلائی کی طرف اپنی امت کی رہنمائی کرتے۔ چوتھی صفت یہ ہے کہ آپ مومنوں کیلئے بہت ہی رحم دل ہیں اسی وجہ سے یہ کہتے ہیں کہ وہ عمل صالح کریں اور گناہوں کا ارتکاب نہ کریں تاکہ اللہ کی جنت کے حقدار نہیں۔(تیسیر الرحمان لبیان القرآن ۱/۶۰۰ ، مطبوعہ لاہور ۲۰۰۲ء؁ )

مولانا قاضی محمد سلیمان صاحب سلمان منصور پوری رحمہ اللہ لکھتے ہیں ۔

{لَقَدْ جَاء کُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِکُمْ}

تمہارے پاس عظیم الشان رسول  ﷺ آیا ہے جو تم ہی میں سے ہے۔‘‘

{مِّنْ أَنفُسِکُمْ} کے مخاطب اہل عرب اور قریش ہیں ۔

صحیح بخاری میں یہ روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد موجود ہے۔

اللہ تعالیٰ نے مجھے قبائل کی شاخ درشاخ میں بہترین شاخ سے مبعوث فرمایا حتی کہ میں اس قرن سے پیدا ہوا جو میراہے۔ (رحمۃ للعالمین ۳/۸۴)

{عَزِیزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ }

’’تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے۔‘‘

واضح ہوکہ نبی ﷺ کی یہ صفت کفار اور مومنین دونوں کے حق میں تھی ۔ نبی ﷺ جب کفار کو کفر وشرک میں دیکھتے اور خیال فرمایا کرتے تھے کہ یہ لوگ کس قدر انجام بدکاشکار ہونے والے ہیں یہ لوگ کیونکر اپنے ہاتھوں اپنے لئے ہلاکت کھود رہے ہیںتب حضور ﷺ کے دل رحم کونہایت صدمہ گزرتا تھا۔ (رحمۃ للعالمین ۳/۸۶)

{حَرِیصٌ عَلَیْکُم }

’’ہمارا نبی تم لوگوں کونفع رسائی کا کمال درجہ طالب وشائق ہے۔‘‘

آیت بالا سے ثابت ہوتاہے کہ نبی ﷺ کو بنی نوع کے مفاد اور فارع وصلاح کی آرزو بدرجہ کمال تھی۔

سورئہ یوسف میں فرمایا :

{وَمَا أَکْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِینَ} (۱۰۳)

بہت لوگ میں جو ایمان لائیں گے اگر تجھ کو ان سے ایمان لے آنے کی بڑی چاہت ہے۔‘‘

اس آیت سے بھی یہی استفادہ ہوا کہ حضور ﷺ کا منتہائے نظر اور کمال آرزو یہی تھا کہ تمام عالم اسلام کے سر ایک یہی   مالک وحدہ لا شریک لہ کے سامنے جھکے ہوئے ہوں۔ (رحمۃ للعالمین ۳/۹۱)

{بِالْمُؤْمِنِینَ رَؤُوفٌ رَّحِیمٌ}

’’وہ مومنوں سے بہت پیارکرنے والا اور ان پر ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ۔‘‘

نبی کریم  ﷺ کے حق میں یہ امر نہایت شرف وعزت اور غایت تکریم وحرمت کا موجب ہے کہ حضور  ﷺ کی سنت میں وہ دو کام بحالت ترکیبی تجویز فرمائے گئے ہیں جو اسی ترتیب کے ساتھ خود ذات پاک سیمانی کیلئے متعمل ہوتے ہیں ۔

سورہ بقرہ وسورہ حج میں ہے ۔

{اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَؤْفٌ رَّحِیْمٌ} (بقرۃ:۱۴۴، حج، ۶۵)

’’تحقیق اللہ تعالیٰ انسانوں پر رؤف ورحیم ہے۔‘‘

صحیح بخاری وصحیح مسلم میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :

کاَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یَتَبَجَّرُ لَنَا بِالْمَوْعِظَۃِ مَخَافَۃَ السَّامَّۃٍ عَلَیْنَا ۔‘‘

رسول اللہ  ﷺ ہم کو گاہے بگا ہے وعظ سنایا کرتے ، اس اندیشہ سے کہ روزانہ کا وعظ سننا ہم پر گراں نہ گزرے۔

قاضی صاحب مرحوم اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ’’نبی ﷺ کا یہ اصول ازراہ شفقت ورأفت تھا کہ سامعین جس قدر بھی سنیں ، نشاط طبع اور حضور  ﷺ قلب سے سنیں ، اور آئندہ کیلئے شوق تمام باقی رہے۔ (رحمۃ للعالمین ۳/۹۳۔۹۵)

{وَرَفَعْنَالَکَ ذِکْرَکَ }(الم نشرح :۴)

’’اور ہم تیرا نام بلند کردیا۔‘‘

صاحب احسن البیان اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : یعنی جہاں اللہ کا نام آتاہے ، وہیں آپ  ﷺ کا نام بھی آتا ہے مثلاً: آذان ، نماز اور دیگر مقامات پر گزشتہ کتابوں میں آپ  ﷺ کا تذکرہ اور صفات کی تفصیل ہے ۔ فرشتوں میں بھی آپ  ﷺ کا ذکر خیر ہے۔ آپ  ﷺ کی اطاعت کواللہ نے اپنی اطاعت قرار دیا اور اپنی اطاعت کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی اطاعت کا بھی حکم دیا۔ (احسن البیان ، ص/۱۷۲۸)

ڈاکٹر محمد لقمان سلفی حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ : ہم نے آپ کا مقام اونچا کر دیا ہے۔ آپ کا ذکر خیر ہر جگہ پر عام کر دیا ہے۔ آپ کی رسالت کے اعتراف کو قوی ایمانکی شرط قرار دے دی ہے قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ :اللہ تعالی نے دنیا و آخرت دونو ں جگہ آپ کا مقام بلند فرمایا ہے چنانچہ اذان و اقامت اور خطبے میں اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمد رسو ل اللہ پکارا جاتا ہے جب تک دنیا باقی رہے گی آپ کا نام اللہ کے نا م کیساتھ رہے گا ۔

اللہ تعا لی نے مومنو کو حکم دیا کہ وہ آپ  ﷺدرود و سلام بھیجتے رہے

{یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوا تَسْلِیمًا}(الاحزاب :۵۰)

اور نبی کریم ﷺ نے اللہ کی طرف سے خبردی ہے ۔ کہ جو مجھ پر ایک بار درود بھیجے گا اللہ اس پردس بار درود بھیجے گا اور اللہ تعا لی نے مومنو ں کو اپنی اطاعت کے ساتھ آپ  ﷺکی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم دیا

{وَاَطِیْعُوْا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْا الرَّسُوْلَ }(انساء :۵۹)

اور اللہ تعالی نے فرمایا

{وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانتَہُوا } (الحشر:۷)

’’مسلمانوں تمہیں جو رسول دے اسے لے لو اور جس سے منع کریں اس سے منع ہوجا ئو ۔‘‘

گویا اللہ تعا لیٰ نے نبی  ﷺ کے ذکر جمیل سے آسمانو ں اور زمین سے بھر دیا اور جو شہر ت اور مقام آپ  ﷺکو حاصل ہوا وہ دنیا میں کسی کو حاصل نہیں ہو

{ذَلِکَ فَضْلُ اللَّہِ یُؤْتِیہِ مَن یَشَاء وَاللَّہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ}(الحدید :۲۱)

اور یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے  چاہتا ہے اپنا فضل دیتا ہے اور اللہ عظیم والا ہے ۔ اللہم صل وسلم وبارک علی رسولک محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین (تیسیر الرحمن فی بیان القرآن( ۲؍۱۷۵۰ـ۔۱۷۵۱)

حضرت قا ضی محمد سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ کہتے (وَرَفَعْنَالَکَ ذِکْرَکَ )’’اور ہم تیرا نام بلند کردیا۔‘‘

قاضی صاحب رحمہ اللہ کہتے ہیں :

’’بیشک یہ اعلی خصوصیت صرف اسی بر گزیدہ نام کے نامِ نامی کو حاصل ہے جس کی رفعت ذکر کاذمہ دار خود رب العالمین بنا ہے (صفحہ: ۲۸)یہودی ،عسائی ، مسلمان سن رکھے کہ اسی مو جودہ بائبل کے اندر نبی  ﷺ کا مبارک نام ولادت اور دار ہجرت اور حضور  ﷺ پر ایمان لانے والے قبائل کے نام حضور ﷺ سے برسر بیکار آنے والی قوموں کے نام اور ان کے انجام ایسی وضاحت سے پائے جاتے ہیں یہی (وَرَفَعْنَالَکَ ذِکْرَکَ ) کی صحیح تفسیر ہیں۔

اور ان سے یہ امر بے وضوح تام ظاہر ہوجاتاہے کہ رب العالمین نے حضور کی رفعت ذکر کااہتمام صدیوں بیشتر کیسے زبردست اعلانات سے فرمایا تھا۔

بیشک اس فضیلت علیا میں اور کوئی بھی بزرگوار حضور ﷺ کا سہیم ثابت نہیں ہوا ۔ واللہ الحجۃ البالغۃ (رحمۃ للعالمین ۳/۳۱)

کفار مکہ کی طرف آنحضرت ﷺ کو صادق اور امین کا لقب ملنا آنحضرت ﷺ کی نیکی اور بزرگی کا اتنا اثر تھا کہ وہ آپ کو نام لے کر نہیں بلاتے تھے بلکہ الصادق یا الامین کہہ کر پکارتے تھے ۔ آپ کی عمر ۳۵ سال کی تھی۔ جب قریش مکہ نے کعبہ کی عمارت کو جس کی دیواریں سیلاب کی وجہ سے پھٹ گئی تھیں ۔ از سر تو تعمیر کیا عمارت کے بنانے میں مکہ کے سب قبائل شامل تھے مگر جب حجر اسود کو اس کے مقام پر نصب کرنے کا موقع آیا تو ان میں سخت اختلاف پیدا ہوگیا۔ کیونکہ ہر شخص یہ چاہتا تھا حجر اسود اس کے ہاتھ سے نصب ہو چار دن تک یہی جھگڑا چلتا رہا ۔ ……بن مغیرہ نے جو قریش میں سب سے بڑی عمر کا تھا اس نے یہ رائے دی کہ کل جو شخص صبح کے وقت سب سے پہلے خانہ کعبہ میں داخل ہواس کا حکم تسلیم کرلیا جائے اور اس کے فیصلہ پر عمل کیا جائے۔قریش مکہ نے اس سے اتفاق کیا چنانچہ دوسری صبح آنحضرت  ﷺ سب سے پہلے خانہ کعبہ میں تشریف لائے تو سب سردارانِ قریش پکار اٹھے ۔

’’ ھن الأمین رضینا ‘‘

آمین تشریف سے آئے ہیں ہم ان کے فیصلے پر رضا مند ہیں۔

آنحضرت  ﷺ ایسا عمدہ فیصلہ فرمایا کہ سب خوش ہوگئے آپ نے ایک چادر بچھائی اس پر اپنے دستِ مبارک سے حجر اسود کو رکھا پھر یہ قبیلے کے سردارسے فرمایا کہ چادر کو پکڑ کر اوپر اٹھائیں اس طرح حجر اسود کو وہاں تک لائے ، یہاں اس کو نصب کرنا تھا۔ آنحضرت  ﷺ پر اسے اپنے دست مبارک سے پکڑ کر اس کی جگہ پر نصب کردیا آنحضرت  ﷺ نے اپنے حسن تدبر سے ایک خونریز جنگ کا انسداد کردیا۔ (رحمۃ للعالمین ۱/۴۴۔۴۵)

آنحضرت  ﷺ کی جامعیت

علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ اپنے خطبات میں خطبہ نمبر ۵ (آنحضرت  ﷺ کی جامعیت ) میں ارشاد فرماتے ہیں کہ :

’’حضرت نوح علیہ السلام کی زندگی کفر کے خلاف غیظ وغضب کا ولولہ پیش کرتی ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حیات بت شکینوں کا منظر دکھاتی ہے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کفار سے جنگ وجہاد ، شاہانہ نظم ونسق اور اجتماعی دستور وقوانین کی مثال پیش کرتی ہے ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی لائف صرف خاکساری ، تواضع ، عفو ودرگزر اورقناعت کی تعلیم دیتی ہے ، حضرت سلیمان علیہ السلام کی زندگی شاہانہ اولو…کی …گاہ ہے ۔حضرت ایوب علیہ السلام کی حیات صبر وشکر کا نمونہ ہے۔حضرت یونس علیہ السلام کی سیرت ، ندامت وانابت اور اعتراف کی مثال ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی قید وبند میں بھی دعوت حق اور جوش تبلیغ کا سبق ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی سیرت گریہ وبکاہ ، حمدوستائش ، اور دعا وزاری کا صحیفہ ہے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی زندگی امید خدا پر توکل اور اعتماد کی مثال ہے لیکن حضرت محمد ﷺ کی سیرت مقدسہ کو دیکھو تو اس میں نوح ، ابراہیم ، موسیٰ ، عیسیٰ ، سلیمان ، داؤد ، ایوب ، یونس ، یوسف اور یعقوب علیہم السلام کی زندگیاں اور سیرتیں سمٹ کر سما گئی ہیں۔

محدث خطیب بغدادی رحمہ اللہ کی ایک ضعیف روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیدائش کے وقت ندا آئی کہ محمد  ﷺ کو پھیراؤ اور سمندر کی تہمں میں لے جاؤ کہ تمام دنیا ان کے نام کو پہچان لے ۔ جن وانس ، چرند وپرند بلکہ ہر جاندار کے سامنے ان کو لے جاؤ ۔ ان کو آدم علیہ السلام کاخلق ، شعیب علیہ السلام کی معرفت ، نوح کی شجاعت ، ابراہیم کی دوستی ، اسماعیل کی زبان ، اسحاق کی رضا ، صالح کی فصاحت ، لوط کی حکمت، موسیٰ کی سختی ، ایوب کا صبر ، یونس کی اطاعت ، یوشع کا جہاد ، داؤد کی آواز ، دانیال کی محبت ، الیاس کا وقار ، یحییٰ کی پاک دامنی اور عیسیٰ کا زہد عطا کرو اور تمام پیغمبروں کے اخلاق میں ان کو غور دو ۔ (علیہم السلام ) (خطبات مدراس ، ص/ ۱۰۷۔۱۰۸ مطبوع کراچی

علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ خطیب کی اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ

’’جن علماء نے اس روایت کو اپنی کتابوں میں جگہ دی ہے ان کی …درحقیقت یہی ہے کہ پیغمبر علیہ السلام کی صفت جامعیت کو نمایاں کریں کہ کچھ اور انبیاء علیہم السلام کو متفرق طور پر عطا ہوا تھا وہ سب مجموعی طورسے آنحضرت ﷺ کو عطا ہوا۔

حسن یوسف ، دم عیسیٰ ، ید بیضاداری

انچہ خوباں ہمہ دارز تو تنہاداری

(خطبات مدراس ، ص/۱۰۸۔۱۰۹)

عبدالرشید عراقی

Share
Published by
عبدالرشید عراقی

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago