آہ !عطاء اللہ ساجد رحمہ اللہ

یہ دنیا ایک عارضی قیام گاہ ہے جہاں ہر شخص اپنی مقررہ مدت گزار کر اگلی منزل کی طرف روانہ ہو جاتا ہے، لیکن، کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ان کے نیک کام ان کی یادوں کو تادیر زندہ رکھتے ہیں۔

درج بالا کلمات استاد العلماء الشیخ عطاءاللہ ساجد رحمہ اللہ کے قلم سے 12 سال قبل کے نکلے ہوئے وہ موتی ہیں جو انہوں نے پروفیسر ظفر اللہ رحمہ اللہ پر لکھے مضمون کی ابتداء میں پروئے تھے۔

آج اگر ان کے یہ کلمات انہی کے بارے کہے اور لکھے جائیں تو بلا شبہ ان کے نیک کام ان کی یادوں کو تادیر زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔

آج ہم خود سے سوال کرتے ہیں کہ اگر چند سالوں بعد ہم بھی نہ رہے تو ہماری یادیں کیا ہوں گی اور کن الفاظ میں رقم کی جائیں گی…؟

 ان کے اس مضمون کا اگے مزید مطالعہ کرنے اور ان کی بابت اپنے اساتذہ سے کافی کچھ سننے کے بعد یہ بات ایک واضح حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ وہ جب تک جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں رہے وہ مؤسس الجامعہ پروفیسر ظفر اللہ رحمہ اللہ کے اعلی مشن اور بلند ہدف کو پورا کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو صرف کرتے رہے ، جو کہ دراصل دین اسلام اور بالخصوص مسلک اہل حدیث کی خدمت وترویج ہدف تھا، جو کہ طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی، اور پھر نمایاں اور ممتاز کارکردگی والے افراد تیار کرنا تھا۔

وہ جامعہ کی اڑان کو بلند تر دیکھنا ، وہ جامعہ کو بام عروج پر پہنچا دینا چاہتے تھے،وہ سترہ سال جامعہ کے طلبہ کو یوں سبق پڑھاتے رہے کہ ان کے لیے مثال یہ دی گئی کہ جیسے بچہ اپنی ماں سے ہر قسم کا ہر سوال بلا جھجھک پوچھ لیتا ہے، اسی طرح طلبہ یہ سمجھتے تھے کہ ہم شیخ صاحب سے جس فن کا جو سوال بھی کرلیں شیخ محترم نے بتا دینا ہے۔

اور 1997ء میں جب وہ جامعہ سے گئے تو تب بھی اہل جامعہ کو والدین کی عظمت کا وہ سبق پڑھا گئے کہ شاید اس سے بہتر سبق ممکن نہ تھا چونکہ وہ اپنے اکیلے والد محترم کی خدمت کرنا چاہتے تھے اور ان کے والد محترم کراچی آنے پر رضامند نہ تھے، اور پھر چند مہینوں بعد ان کے والد محترم بھی داعی اجل کو لبیک کہ گئے۔

وہ جامعہ کے انتہائی شفیق مدرس تھے ، تدریس کا انداز ایسا ہوتا کہ ہر طالب علم ان کی بات بخوبی سمجھ جاتا ،  چونکہ وہ ہر سطح کے طالب علم کی ذہنی استعداد کو خوب جانتے تھے۔

طلبا ء نصاب سے ہٹ کر بھی جو کتاب ان سے پڑھنے کے لیے ان کے پاس لے جاتے ، وہ انہیں برضا ورغبت پڑھا دیا کرتے تھے، وہ ہمہ وقت کوئی کتاب ہاتھ میں تھامے یا اپنے ارد گرد طلبہ کے ہجوم کو ان کے سوالات کے تسلی بخش جوابات مرحمت فرماتے ہوئے دیکھتے۔

 وہ کئی علماء کے استاذوہ نہ صرف عربی ، اردو ، فارسی اور دینی علوم میں مہارت رکھتے تھے بلکہ انہیں انگریزی اور عصری علوم بھی خوب ازبر تھے۔ چند سال قبل جب جامعہ ابی بکر ملتقی ابناء الجامعہ کی تقاریب کی میزبانی کر رہا تھا ان سمیت اس تقریب میں محدث العصر حافظ مسعود عالم صاحب حفظہ اللہ نے خطاب کرتے ہوئے انہیں ’’ الکل فی الکل ‘‘ کے خطاب سے نوازا۔

چند یادیں چند باتیں

سابق سیکرٹری جامعہ اور امین المکتبہ حالیًاحافظ نذیر احمد صاحب حفظہ اللہ سے جڑی ان کی چند یادیں۔ جن میں ہمارے سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔

 تنخواہ بڑھنے پر غم:  ایک دفعہ کھانا کھانے کے لیے جمع ہوئے تو غم کی ایک عجیب کیفیت ان پر طاری نظر آئی ، سبب غم پوچھا ، بتلانے لگے کہ «آپ کے دفتر والوں نے میری تنخواہ بڑھا دی ہے جبکہ میں تو پچھلی تنخواہ ہی کا حق ادا نہیں کر پا رہا»۔

 نحو وصرف میں مہارت: شیخ عیاض رحمہ اللہ جو کہ نحو وصرف میں مہارت کے حوالے سے شہرت رکھتے تھے ، ایک دفعہ وہ خود بتا رہے تھے کہ بعض اوقات میں پوری پوری رات نحو ،صرف کے ایک مسئلے کے حل کے سوچنے میں لگا دیتا ہوں، لیکن مسئلہ ہوتا کہ مجھ سے حل ہی نہ ہو پاتا صبح جامعہ پہنچتے ہی شیخ سے دریافت کرتا اور شیخ ہوتے کے راہ چلتے ہی بڑے اطمینان سے مسئلہ حل کردیتے۔

عربوں کے لیے بھی حیران کن مترجم: بعض دفع سعودی سفارت خانے والے ان کے ہاتھوں سے عربی سے انگریزی اور انگریزی سے عربی ترجمے کو دیکھ کر حیران ہو جایا کرتے۔ نہایت عمدہ مترجم تھے۔

 سادہ زندگی: کھانا کھانے کے لیئے تشریف لاتے ، کھانوں میں زیادہ دلچسپی نہ ہوتی ، دنیا سے بے رغبتی کا عنصر غالب رہتا ، کبھی عیب نہیں نکالا ، مناسب معلوم ہوا کھالیا ، نہیں تو چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے۔

عمر بھر تدریسی فرائض کی ادائیگی:شیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ان سے میرے پاس (بحیثیت سیکرٹری جامعہ) اپنے کاغذات جمع کروانے کو کہا ، تاکہ سعودی عرب بھیج کر انھیں فکر معاش سے آزاد کر دیا جائے ،  اگلے دن وہ اپنے کاغذات لے آئے ، اور پھر ان کی زندگی اپنے اخری وقت تک تدریس سے وابستگی میں گزری اور انہیں سعودی عرب سے معاوضہ آتا رہا۔

غفور الرحیم سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ان کے حسنات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخشے ، انہیں اپنے پاس بلند مقام عطا فرمائے ، اور ہمیں شہداء کے چمن کی آبیاری اورشہداء کے مشن سے وفا داری کی کما حقہ توفیق عطا فرمائے۔ آمین

یہ مضمون لکھنے میں میرے ساتھ اللہ کی مدد کے بعد اپنے اساتذہ کی شفقت شامل حال رہی میں شکر گزار ہوں بالخصوص حافظ نذیر احمد صاحب حفظہ اللہ کا جنہوں نے اپنے دل کی باتوں کو رقم کرنے کے لیے مجھ ناچیز کے معمولی قلم کا انتخاب کیا۔(محمود سلطان مغل)

فجزاھم المولی خیرا وأحسن الجزاء، وما توفیقی إلا باللہ
admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago