Categories: جون2009

فیوض القرآن

أم : الأم

أَمَّ ، یَؤُمُّ ، أَماًّ باب نَصَرَ سے ہے جس کا معنی ارادہ یا قصد کرناہے جس سے اسم فاعل ’’آمٌّ‘‘ بنتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

{وَلَا آَمِّینَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ }(المائدۃ:۲)

“یعنی بیت اللہ کا قصد کرنے والے(حج یا عمرہ کی نیت سے ) -‘‘

ابن الفارس کہتے ہیں کہ اس کے چار بنیادی معنی ہیں:

۱۔بنیاد اور اصل      ۲۔ مرجع

۳۔ جماعت               ۴۔دین

پطرس بستانی اپنی کتاب محیط المحیط میں لکھتے ہیں کہ یہ لفظ جامد ہے اور بچہ کی آواز سے ماخوذ ہے جب وہ بولنا سیکھنے سے پہلے أم ، أم وغیرہ سے شروع کرتاہے۔(محیط المحیط)

اس سے اس کے اولین معانی ماں کے قرار پائے۔ لہذا ماں کی آغوش کے اعتبار سے انسان کا مسکن اولین بھی أمّ کے نام سے معروف ہوا۔

اس کے بنیادی معانی میں سے ایک معنی جماعت کے بھی ہیںیعنی قوم جسے أمت بھی کہتے ہیں : بالخصوص ایک نظریہ رکھنے والے افراد لہذا سورۃ البقرۃ میں ہے :

{تِلْکَ أُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ } (۱۴۰)

’’یہ ایک امت تھی جو گزر چکی ۔‘‘

اس کے بنیادی معانی میں سے دوسرا مطلب اصل اور بنیاد کے ہیں : أمّ القوم ۔ قوم کا سردار ، أم الرأس:دماغ، أم الخبائث : سب سے بڑی برائی ۔ بلکہ وہ مقام جہاں بہت سے أمر یا اشیاء آکر مرتکز ہوجاتی ہیں أم کہلاتاہے جیسے :أمّ القری :مکہ معظمہ کو کہتے ہیں ، أمّ الکتاب: کتابوں کی اصل یا مرکز ۔(تاج العروس ، الصحاح، القاموس)

الأُمَّۃُ: جس سے مراد وقت ، سنت ، زمانہ ، شریعت اور دین کے ہیں اور بعض مقامات پر اس سے مراد امام اور ھادی کے بھی بیان کیے گئے ہیں جیسے :

{إِنَّ إِبْرَاہِیمَ کَانَ أُمَّۃً قَانِتًا } (النحل:۱۲۰)

’’بیشک ابراہیم پیشوا اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے۔‘‘

ابن قتیبہ نے بھی أمّۃ کے معنی دین امام اور جماعت کے تحریر کیے ہیں۔ (القرطین ۲/۱۳۲)

اور لطائف اللغۃ میں مصطفی اللبابیدی نے اس کے معنی بیان کیے ہیںکہ ایسا آدمی جس میں تمام خوبیاں جمع ہوں۔ (لطائف اللغۃ)

اس سے لفظ أمّی بھی نکلاہے جس کا لفظی مطلب ایسا شخص جو لکھنا پڑھنا نہ سیکھے ۔(لطائف اللغۃ)

آپ  ﷺ کو اسی اعتبار سے امّی کہا جاتاہے کہ آپ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے ۔ لیکن قرائن اور شواہد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ کیفیت قبل از نبوت کی تھی نبوت کے بعد آپ  ﷺ نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا اس کی واضح شہادت خود قرآن مجید میں موجود ہے۔

{وَمَا کُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِہِ مِنْ کِتَابٍ وَلَا تَخُطُّہُ بِیَمِینِکَ }(العنکبوت:۴۸)

’’آپ اس سے قبل (قرآن کے نزول) نہ کوئی کتاب پڑھ سکتے تھے اور نہ ہی اپنے ہاتھ سے کچھ لکھ سکتے تھے۔‘‘

’’مِنْ قَبْلِہِ‘‘ کے کلمات اس أمر پر دلالت کررہے ہیں کہ بعد ازنبوت آپ نے پڑھنا لکھنا سیکھ لیا تھا۔

أُمّی کا لفظ بعض اوقات عربوں کیلئے استعمال ہوا ہے لیکن ایسے مقامات پر یہ لفظ اہل کتاب کے مقابلے پر استعمال ہوا ہے۔ (تفصیل ۳/۱۹ ، ۳/۷۴)

اور یہی لفظ ماں اور والدہ کیلئے بھی استعمال ہوا جس کی جمع ’’امّہات‘‘ بیان کی جاتی ہے۔

٭ قرآن مجید میں اس کے درج ذیل مشتقات استعمال ہوئے ہیں:

آمّین ، إمام ، لإمام ، إماماً ، بإمامہم ، أئمۃ ، أم موسیٰ، ابن أم ، أم الکتاب ، أم القری ، أمک ، أمہ ، أمہا، أمی ، أمہات، أمہاتکم ، أمہاتہم ، أمۃ ، أمتکم ، أمم ، الأمم ، أمما ، أمامۃ، الأمّی ، أمیون ، الأمیین ۔

٭ قرآن مجید میں یہ لفظ درج ذیل مفاہیم میں استعمال ہوا ہے :

۱۔ ماں

{حَمَلَتْہُ أُمُّہُ وَہْنًا عَلَی وَہْنٍ } (لقمان:۱۴)

’’اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے حمل میں رکھا۔‘‘

۲۔ أصل ، بنیاد ، أساس

{مِنْہُ آَیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ ہُنَّ أُمُّ الْکِتَابِ } (آل عمران:۷)

’’جس میںواضح مضبوط آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں۔‘‘

{وَعِنْدَہُ أُمُّ الْکِتَابِ }(الرعد:۳۹)

’’لوح محفوظ اسی کے پاس ہے۔‘‘

۳۔ مرجع : پناہ کا ٹھکانہ

{وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِینُہُ ٭فَأُمُّہُ ہَاوِیَۃٌ } (القارعۃ:۸۔۹)

’’اور جس کی تول ہلکی ہوگی ٭ اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہے۔‘‘

۴۔ مجمع : بڑی بستی

{حَتَّی یَبْعَثَ فِی أُمِّہَا رَسُولًا } (القصص:۵۹)

’’جب تک کہ ان کی کسی بڑی بستی میں اپنا کوئی پیغمبر نہ بھیج دے۔‘‘

۵۔ ایک نبی کا پیروکار یا مذہب کے ماننے والے

{کَانَ النَّاسُ أُمَّۃً وَاحِدَۃً }(البقرۃ:۲۱۳)

’’دراصل لوگ ایک ہی گروہ تھے۔‘‘

{ لِکُلِّ أُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا ہُمْ نَاسِکُوہُ }(الحج:۶۷)

’’ہر امت کیلئے ہم نے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کردیا ہے ، جسے وہ بجالانے والے ہیں۔‘‘

۶۔ گروہ ، جماعت

{کُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّۃٌ لَعَنَتْ أُخْتَہَا } (الأعراف:۳۸)

’’جس وقت بھی کوئی جماعت ہوگی اپنی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی۔‘‘

{وَإِذْ قَالَتْ أُمَّۃٌ مِنْہُمْ }(الأعراف:۱۶۴)

’’اور جب کہ ان میں سے ایک جماعت نے یوں کہا۔‘‘

{إِنَّ إِبْرَاہِیمَ کَانَ أُمَّۃً قَانِتًا لِلَّہِ حَنِیفًا } (النحل:۱۲۰)

’’بیشک ابراہیم پیشوا اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور یک طرفہ مخلص تھے۔‘‘

۷۔راہ ، طریقہ

{إِنَّا وَجَدْنَا آَبَاء َنَا عَلَی أُمَّۃٍ} (الزخرف:۲۳)

’’کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک راہ پر اور ایک دین پر پایا ۔‘‘

{إِنَّ ہَذِہِ أُمَّتُکُمْ أُمَّۃً وَاحِدَۃً } (الأنبیاء:۹۲)

’’یہ تمہاری امت ہے جوحقیقت میں ایک ہی امت ہے۔‘‘

۸۔مدت ، وقت ، زمانہ

{وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْہُمُ الْعَذَابَ إِلَی أُمَّۃٍ مَعْدُودَۃٍ} (ہود:۷)

’’اور اگر ہم ان سے عذاب کو گنی چُنی مدت تک کیلئے پیچھے ڈال دیں۔‘‘

{وَادَّکَرَ بَعْدَ أُمَّۃٍ } (یوسف:۴۵)

’’اسے مدت کے بعد یاد آگیا۔‘‘

اس لفظ کا دوسرا حصہ أمّۃ اگلی قسط میں پیش کیا جائے گا۔ إن شاء اللہ تعالیٰ

الشیخ شاہ فیض الابرار صدیقی

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago