أَمَّ ، یَؤُمُّ ، أَماًّ باب نَصَرَ سے ہے جس کا معنی ارادہ یا قصد کرناہے جس سے اسم فاعل ’’آمٌّ‘‘ بنتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
“یعنی بیت اللہ کا قصد کرنے والے(حج یا عمرہ کی نیت سے ) -‘‘
ابن الفارس کہتے ہیں کہ اس کے چار بنیادی معنی ہیں:
۱۔بنیاد اور اصل ۲۔ مرجع
۳۔ جماعت ۴۔دین
پطرس بستانی اپنی کتاب محیط المحیط میں لکھتے ہیں کہ یہ لفظ جامد ہے اور بچہ کی آواز سے ماخوذ ہے جب وہ بولنا سیکھنے سے پہلے أم ، أم وغیرہ سے شروع کرتاہے۔(محیط المحیط)
اس سے اس کے اولین معانی ماں کے قرار پائے۔ لہذا ماں کی آغوش کے اعتبار سے انسان کا مسکن اولین بھی أمّ کے نام سے معروف ہوا۔
اس کے بنیادی معانی میں سے ایک معنی جماعت کے بھی ہیںیعنی قوم جسے أمت بھی کہتے ہیں : بالخصوص ایک نظریہ رکھنے والے افراد لہذا سورۃ البقرۃ میں ہے :
’’یہ ایک امت تھی جو گزر چکی ۔‘‘
اس کے بنیادی معانی میں سے دوسرا مطلب اصل اور بنیاد کے ہیں : أمّ القوم ۔ قوم کا سردار ، أم الرأس:دماغ، أم الخبائث : سب سے بڑی برائی ۔ بلکہ وہ مقام جہاں بہت سے أمر یا اشیاء آکر مرتکز ہوجاتی ہیں أم کہلاتاہے جیسے :أمّ القری :مکہ معظمہ کو کہتے ہیں ، أمّ الکتاب: کتابوں کی اصل یا مرکز ۔(تاج العروس ، الصحاح، القاموس)
الأُمَّۃُ: جس سے مراد وقت ، سنت ، زمانہ ، شریعت اور دین کے ہیں اور بعض مقامات پر اس سے مراد امام اور ھادی کے بھی بیان کیے گئے ہیں جیسے :
’’بیشک ابراہیم پیشوا اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے۔‘‘
ابن قتیبہ نے بھی أمّۃ کے معنی دین امام اور جماعت کے تحریر کیے ہیں۔ (القرطین ۲/۱۳۲)
اور لطائف اللغۃ میں مصطفی اللبابیدی نے اس کے معنی بیان کیے ہیںکہ ایسا آدمی جس میں تمام خوبیاں جمع ہوں۔ (لطائف اللغۃ)
اس سے لفظ أمّی بھی نکلاہے جس کا لفظی مطلب ایسا شخص جو لکھنا پڑھنا نہ سیکھے ۔(لطائف اللغۃ)
آپ ﷺ کو اسی اعتبار سے امّی کہا جاتاہے کہ آپ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے ۔ لیکن قرائن اور شواہد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ کیفیت قبل از نبوت کی تھی نبوت کے بعد آپ ﷺ نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا اس کی واضح شہادت خود قرآن مجید میں موجود ہے۔
’’آپ اس سے قبل (قرآن کے نزول) نہ کوئی کتاب پڑھ سکتے تھے اور نہ ہی اپنے ہاتھ سے کچھ لکھ سکتے تھے۔‘‘
’’مِنْ قَبْلِہِ‘‘ کے کلمات اس أمر پر دلالت کررہے ہیں کہ بعد ازنبوت آپ نے پڑھنا لکھنا سیکھ لیا تھا۔
أُمّی کا لفظ بعض اوقات عربوں کیلئے استعمال ہوا ہے لیکن ایسے مقامات پر یہ لفظ اہل کتاب کے مقابلے پر استعمال ہوا ہے۔ (تفصیل ۳/۱۹ ، ۳/۷۴)
اور یہی لفظ ماں اور والدہ کیلئے بھی استعمال ہوا جس کی جمع ’’امّہات‘‘ بیان کی جاتی ہے۔
٭ قرآن مجید میں اس کے درج ذیل مشتقات استعمال ہوئے ہیں:
٭ قرآن مجید میں یہ لفظ درج ذیل مفاہیم میں استعمال ہوا ہے :
۱۔ ماں
’’اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے حمل میں رکھا۔‘‘
۲۔ أصل ، بنیاد ، أساس
’’جس میںواضح مضبوط آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں۔‘‘
’’لوح محفوظ اسی کے پاس ہے۔‘‘
۳۔ مرجع : پناہ کا ٹھکانہ
’’اور جس کی تول ہلکی ہوگی ٭ اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہے۔‘‘
۴۔ مجمع : بڑی بستی
’’جب تک کہ ان کی کسی بڑی بستی میں اپنا کوئی پیغمبر نہ بھیج دے۔‘‘
۵۔ ایک نبی کا پیروکار یا مذہب کے ماننے والے
’’دراصل لوگ ایک ہی گروہ تھے۔‘‘
’’ہر امت کیلئے ہم نے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کردیا ہے ، جسے وہ بجالانے والے ہیں۔‘‘
۶۔ گروہ ، جماعت
’’جس وقت بھی کوئی جماعت ہوگی اپنی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی۔‘‘
’’اور جب کہ ان میں سے ایک جماعت نے یوں کہا۔‘‘
’’بیشک ابراہیم پیشوا اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور یک طرفہ مخلص تھے۔‘‘
۷۔راہ ، طریقہ
’’کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک راہ پر اور ایک دین پر پایا ۔‘‘
’’یہ تمہاری امت ہے جوحقیقت میں ایک ہی امت ہے۔‘‘
۸۔مدت ، وقت ، زمانہ
’’اور اگر ہم ان سے عذاب کو گنی چُنی مدت تک کیلئے پیچھے ڈال دیں۔‘‘
’’اسے مدت کے بعد یاد آگیا۔‘‘
اس لفظ کا دوسرا حصہ أمّۃ اگلی قسط میں پیش کیا جائے گا۔ إن شاء اللہ تعالیٰ
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…