اسلامی سن کی ابتداء قمری سال سے کی گئی ہے اور قمری سال جوکہ عرب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے زمانے میں رائج تھا اور اس کے نام بھی اسی ترتیب سے تھے۔ محرم ، صفر، ربیع الاول وغیرہ ، اور سال کے آخری مہینہ میں حج ہوتا تھا۔ کیونکہ حج ایک مذہبی فریضہ تھا لیکن اس موقع سے تجارتی اور ثقافتی فائدے اٹھانے لگے اور اس کو بڑے وسیع پیمانے پر کاروباری اور ادبی اجتماعات کا ذریعہ بنادیا گیا سید الکونین ﷺ کی ولادت سے قبل تین سو برس لوگوں میں بُت پرستی اور دیگر خرابیاں اس قدر بڑھیں کہ پورا معاشرہ تہذیب وتمدن سے عاری ہوکر رہ گیا۔ تو غیر مہذب دور میں حج کا مفہوم صرف میلہ تک محدود ہوکر رہ گیا تھا۔
جب امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی تو مدنی اورمکی دونوں کیلنڈر رائج تھے۔ تاریخوں اور مہینوں کے فرق کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ سن ہجری تک جاری رہا اس سال ذی الحجہ کی نو تاریخ کو جمعہ کے دن حج ہواتو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ اب زمانہ صحیح وقت پر آگیا ہے ۔ اس کے بعد سے ایک ہی قسم کا قمری سال مقرر کیا گیا جس کا ابتدائی مہینہ محرم مقرر ہوا سال کا آغاز اس وقت سے کیا جب رسول اکرم ﷺ نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی یہاں پر یہ بات ذہن نشین رہے کہ ہجرت نبوی ﷺ تو یکم ربیع الاول بروز سوموار ۱۴ بعثت نبوی میں ہوئی اور اسلامی سن کا آغاز دو ماہ قبل محرم سے کیا جاتاہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب سال کی ابتداء محرم الحرام سے کرتے تھے اس لئے اس قانون کو برقرار رکھتے ہوئے سال کی ابتداء محرم ہی سے کی گئی ہے۔
عام طور پر یہ بات مشہور ہے کہ سن ہجری کا آغاز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد سے ہوا۔ جیسا کہ کہاجاتاہے کہ ہجرت سے پہلے لوگ ملکی مفادات ، باہمی معاملات کو یاد رکھنے اور ان کو تاریخی حیثیت دینے کیلئے کعب بن لوئی کے انتقال سے شمار کرتے تھے۔ کچھ عرصہ کے بعد عام الفیل اور عام الضمار سے تاریخی سنہ شمار ہونے لگا۔ جب اسلام ایک مستقل ضابطہ حیات تھا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سن کیلئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا اجلاس بلایا۔ اس میں سنہ کے متعلق آراء پیش ہوئیں۔ بعض کی رائے تھی کہ حضور اکرم ﷺ کی ولادت طیبہ سے سن شروع کیا جائے۔ اس رائے پہ نظر عمیق کرتے ہوئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میلاد ی سنہ کی مشابہت عیسائیوں سے ہوجائیگی کیونکہ ان کا سنہ بھی میلادی ہے لہذا اسلامی سنہ کی بنیاد ایک امتیازی نشان سے ہونی چاہیے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا نزول وحی وعہدہ نبوت کی تاریخ سے اسلامی سال کا آغاز ہونا چاہیے اس رائے پر کافی بحث مباحثہ ہونے کے باوجود کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔آخر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نہایت غوروفکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی سنہ کی بنیاد ماہ ہجرت سے رکھی جائے۔ اس رائے کو پسند کرتے ہوئے بالاتفاق سنہ ہجری کا فیصلہ ہوا۔ اس واقعہ کی تصدیق مستند کتاب سے نہیں ملتی اصل حقیقت یہ ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سرکاری معاملات میں تاریخ کااندراج لازمی قرار دیا تھا۔ ورنہ سنہ ہجری کی ابتداء خود حضرت محمد ا کے حکم سے ہوچکی تھی۔ کیونکہ آپ ا نے سرکاری مراسلات ، خطوط میں تاریخ کا اندراج لازمی قرار دیا تھا البتہ یہ بالکل درست ہے کہ سب سے پہلے اسلام نے تواریخ ، سنوں کی ابتداء کی ورنہ اس سے پہلے اساطیر ، قصہ کہانیاں میلہ وغیرہ سے زیادہ تاریخی واقعات کی پوزیشن نہ تھی۔
واضح رہے کہ قمری سال کو مسلمان کے لئے اختیار کرنا سید البشر ﷺ ہادئ کل حضرت محمد ﷺ کا حکم ہے اس بات کی تائید قرآن بھی کرتاہے۔
۱۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’وہی ہے جس نے سورج کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو روشن اور کچھ چاند کی منزلوں کا اندازہ ٹھہرایا تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے حکمت اور مصلحت کے ساتھ بنایا ہے۔‘‘
ارشاد خداوندی ہے :
’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ایسا ہی لکھا گیا جس دن آسمانوں اور زمین کو اس نے پیدا کیا یعنی جب سے اجرام سماویہ بنے ہیں خدا کا ٹھہرایا ہوا حساب یہی ہے ان بارہ مہینوں میں سے چار حرمت کے مہینے ہوئے رجب ، ذوالقعدہ ، ذی الحجہ ، محرم۔ ہر صورت تمام اسلامی ودینی اداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے حساب وکتاب اور معاملات میں قمری سال جو اسلامی سال اور دینی نظام کی عکاسی کرتاہے رائج کریں ۔
اسلام میں سن کے آغاز کے لئے انتہائی اہم واقعات موجود تھے لیکن ان کو نظر انداز کرتے ہوئے اگر واقعہ ہجرت نبوی ﷺ کو اسلامی کیلنڈر کے لئے منتخب کیا تو کیوں ؟
اسلامی تاریخ کا سب سے عظیم واقعہ خود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے جوکہ کرئہ ارضی پر آفتاب ہدایت بن کر طلوع ہوئے۔ جس نے انسانیت کی پوری تاریخ کی کایا پلٹ کر رکھ دی اور پھر وہ بھی وقت آیا جب نبی علیہ السلام کے سر پرامام انبیاء علیہم السلام کا تاج رکھ دیا گیا۔ اور ابراہیم ،قاسم بن محمد ا کی خوشی کا بھی موقع آیا۔ ان سے بڑھ کر ایک وقت یہ بھی تھا کہ ایک ہی رات میں آسمانوں ، جنت دوزخ کی سیر کرائی جسے معراج کے نام سے یاد کیا جاتاہے اور ہجرت کے بعد غزوات کا دور آیا بدر کا میدان کفر اور اسلام کی جنگ کی جھلک پیش کرتے ہوئے اسلام کا غلبہ و فتح کی نشان دہی کرتاہے۔ جنگ خیبر سے پہلے جنگ احزاب کا منظر دیکھ لو۔ ارشاد نبوی ا ہے آج کے بعد ہم پر کوئی حملہ آور نہ ہوگااب ہم حملہ کیا کریں گے تھوڑی سی نظر آگے دوڑائیں تو فتح مکہ کا نقشہ سامنے آتاہے جس دن کلی طور پر اسلام کو غلبہ حاصل ہوا۔ اور نہ صرف پورے عرب پر بلکہ پوری دنیا پر اسلام کا سِکہ تسلیم ہوا اور اس طرح اگر حزن وملال اور المناک اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو شہداء بدر ، شہداء احد ، جن میں خصوصی طور پر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت اور آپ کے لخت جگر ابراہیم کی وفات حضرت زینب ، ام کلثوم رضی اللہ عنہما کی وفات ، غزوات میں جنگ احد میں فتح کی تبدیلی ہزیمت جنگ حنین میں شکست کا منظر اور طائف کو بغیر فتح کئے واپسی وغیرہ ایک المناک داستان پیش کرتے ہیں۔
ان واقعات کو نظر انداز کردیا اور اسلامی سن وتقویم کے لئے منتخب نہیں کیا کہ اسلام فتح ، نصرت ، شکست ، ہزیمت وغیرہ کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا، فتح بدر فتح مکہ تاریخ اسلام کے عظیم کارنامے کہلاسکتے ہیں لیکن اسلام صرف جہاد کانام نہیں ہے۔ جنگی واقعات اور لڑائی جھگڑوں میںکامیابی حاصل کرنا مقصد نہیں ہے بلکہ اسلام ضابطہ حیات ہے جس کی نہایت صاف ستھری دعوت ہے اور ذہنی طور پر لوگوں کی کایا اس طرف پلٹنی ہے کہ جو دنیا وآخرت میں کامیابی کامرانی کا باعث بن جائے۔
جہاد ، جنگ ، شکست ، فتح ، خوشی ، مسرت ، غم ، الم ، اگرچہ اپنی جگہ پر ایک حیثیت رکھتے ہیںلیکن ان کو اسلامی سن تقویم کیلئے منتخب نہیں کیا جاسکتا۔ اب ذرا نظر التفات واقعہ ہجرت پر ڈالتے ہیں کہ جنگ جہاد میںمال غنیمت کا حرص اور خوشی میں ذاتی مسرت اور غم الم میں ذاتی دشمنی باعثِ شائبہ بن سکتی تھی لیکن ہجرت ایک ایسا عزم ہے کہ مہاجرین اسلام نے اپنا وطن چھوڑا عزیز اقارب سے تعلقات منقطع کئے اپنے گھر بار کو خیر باد کہا ۔زمین ، جائیداد لوٹادیں اور تمام کاروباری رشتے ختم کردئیے۔ اور پیغمبر اسلام ا کے حکم پر ایسی جگہ پر جانے کیلئے تیار ہوگئے جہاں وسائل آمدنی اور ذرائع معاش بہت کم تھے۔اور بظاہر مستقبل تاریک تھا اور اپنے وطن مقدس جہاں حرم پاک مکہ مکرمہ ہے ، سے دور ہوئے سب کچھ برداشت کرلیا لیکن صرف تبلیغ اسلام کی حدود کو وسیع کرنے ، دینی قدروں کو پھیلانے ،توحید الٰہی کی برکتوں کو عام کرنے اور اسلام کی بتائی ہوئی صاف ستھری تہذیب ، ثقافت کو ہمکنار کرنے کی غرض سے انہوں نے سب کچھ قربان کردیا۔ اور اللہ و رسول کی اطاعت میں زندگی گزارنے کو ترجیح دی ۔ تو کیوں نہ ایسا ہو کہ ان کے نام سے جنہوں نے اسلام کے غلبہ کی خاطر سب کچھ قربان کردیا اسلامی سنِ تقویم کا آغاز کیا جائے۔
مسلمانوں کا سن نہ میلادی نہ نبوی ﷺ ہوابلکہ مقصد اسلام کے پیش نظر باہمی واقعات کو محفوظ رکھنے کیلئے سنہ ہجری کو مقبولیت حاصل ہوئی جس میں بے شمار حکمتیں مضمر ہیں مثلاً :
۱۔ سنہ ہجری ہر سال سبق دیتاہے کہ بحکم خدا حضور اکرم ﷺ نے قرآنی اصول کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کرنے کیلئے مصائب کا مقابلہ کرتے ہوئے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی۔ سن ہجری مقصد حیات کو واضح کرتاہے کہ انسان انسان کا غلام نہیں بلکہ وہ ہم مثل انسان سے آزاد بے مثل اللہ تعالیٰ کا غلام ہے ۔ایسی آزادی کو برقرار رکھنے کیلئے اپنا وطن ، جائیداد اور اقرباء چھوڑ دو خاص کر امتِ محمدیہ کیلئے سنہ ہجری ایک راہ عمل ہے۔ اگر گہری نظر سے اس کا مطالعہ کیا جائے۔
۲۔ مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ اس کو اپنے نبی جناب محمدرسول اللہ اکے نقش قدم پر چلنے کیلئے اگر وطن چھوڑنا پڑے تو خند ہ پیشانی سے مصائب کا مقابلہ کرتے ہوئے ہجرت کرجائے۔
۳۔سن ہجری یاد دلاتا ہے کہ نزول قرآن سے کیسا انقلاب برپاہوا ؟ رسول خدا کو ہجرت کا حکم کیوں ہوا؟ حضور اکرم ا نے مصائب کیوں برداشت کیے ؟ سردارانِ کفر سے کیسے مقابلہ ہوا ؟ حق کو باطل پہ کیسے غلبہ حاصل ہوا ۔اسلامی اصول کا نفاذ کیسے ممکن ہوا ۔مخالفین اور باغیوں کو کیسے سزا ملی مسلمان کا غیر مسلم سے کیا سلوک تھا ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہا کی کیسے فرمانبرداری کی؟ اور انہوں نے ملک ملک شہر شہر پیغام خداکو کیسے پہنچایا اور انہوں نے راہ حق میں کیسے خون بہایا؟ انہوں نے سلاطین باطل سے کیسے مقابلہ کیا ؟ انہوں نے ممالک کفر پر کیسے قبضہ کیا ؟ اور ان پر کیسے حکمرانی کی قلیل جماعت کثیر پر کیسے غالب آئی؟ مومن اور منافق کا کیسے فرق ہوا ؟
۴۔ سن ہجری سے ثابت ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مخالفین کو کیسے تباہ کیا ؟ ان پر عذاب کیسے نازل ہوا؟ وہ دنیا میں کیسے ذلیل ہوئے ؟ اور اہل حق کو غیبی امداد کیسے پہنچی ؟ فرشتوں نے دشمنانِ خدا پر کیسے حملہ کیا؟ بحکم خدا جانوروں اور پرندوں نے کیسے مدد کی ؟ اور بارش سے اہل اسلام کو کیسے فتح ہوئی ؟ کائنات پر اسلام کا عالمگیر غلبہ کیسے ہوا ؟
ہرسال کا پہلا مہینہ محرم الحرام دعوت دیتاہے کہ مسلمان کا مقصد حیات نہ وطن ہے نہ جائیداد ہے۔ نہ عیش وعشرت ہے نہ اکرام وعزت ہے ، بلکہ قیام دین اور رضائے الٰہی ہے لہذا ہر باطل سے ٹکراتے ہوئے مقصد حیات پر قائم رہو اور کفر ، شرک ، بدعت اور خرافات کو جڑ سے اکھیڑ کر رکھ دو۔ اور صرف ایک اسلام کا ہی غلبہ دنیا اور پوری کائنات پر قائم کرو۔
افسوس صد افسوس ان انسانوں پر جو محرم الحرام کا خوشی مسرت سے استقبال کرنے کی بجائے ماتم رونے دھونے سے استقبال کرتے ہیں بلکہ غیر مسلم بھی سالوں کی ابتداء بڑی دھوم دھام سے کرتے ہیں ۔ مثلاً عیسائی لوگ ولادت حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ۲۵ دسمبر کرسمس ڈے مناتے ہیں ۔ تعجب ہے مسلمان مردوزن پر کہ ان میں شریک ہوتی ہیں جبکہ مذہب اسلام اس کا تقاضا نہیں کرتا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اظہار مسرت کرسکتے ہو لیکن دائرہ اسلام میں رہ کر ورنہ حد سے تجاوز کرنا مناسب نہیں ہے اور رونا ماتم کرنا تو بالکل غیر مناسب ہے۔
ہجری کیلنڈر کا آغاز صرف حساب وکتاب کا ذریعہ نہیں بلکہ بغور سوچنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ زندگی میں باعمل ہوجانے کا ایسا اشارہ ہے جس کے پس منظر میں پوری تاریخ نظر آتی ہے دیکھئے زمانہ ہر لمحہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ اور اس تبدیلی کا مقصد حرکت ہے اور حرکت باعمل ہونے کا اشارہ ہے اور اسی سے انسانیت کی تکمیل ہوتی ہے۔ انسان کا باعمل ہونا ہی اس کیلئے راہ نجات بن سکتاہے اور اسی چیز کو شریعت نے بھی ملحوظ رکھاہے۔
اسلامی سن ہجری شروع کرنے کا سب سے بڑا مقصد احکام الٰہی کو پابندی سے ادا کرنا ہے کیونکہ ارکان اسلام اس کا تقاضا کرتے تھے ، قرآن اور حدیث کو دیکھیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
کہ اسلام کے ستون ایک مقررہ وقت کا تقاضا کرتے ہیں اور اگر روزہ کی طرف التفات کرو جس کے بارے میں ارشاد نبوی ﷺ ہے ’’ الصوم جنۃ من النار‘‘ تو قرآن کہتاہے :
کہ روزے ایک ماہ میں رکھنے فرض ہیں جسے ماہ رمضان کے نام سے یاد کیا جاتاہے اور اسلام کے تیسرے رکن کو دیکھتے ہیںتوقرآن کہتاہے : {وَاٰتُوْا حَقَّہُ یَوْمَ حَصَادِہِ}اور ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ’’لیس فی مال زکاۃ حتی یحول علیہ الحول ‘‘کہ زکوۃ ایک سال کی مدت کے اندر نہیں آتی ایک سال سے زیادہ مدت کا تقاضا کرتی ہے اورکلمہ شہادت کے بعد پانچویں رکن پر نظر ڈالتے ہیںجو قرآن کہتا ہے:
کہ حج بھی چندمہینوں کا تقاضا کرتاہے ۔ تو معلوم ہوا کہ سن ہجری کو اس لئے شروع کیا گیا تھا کہ ارکان اسلام کو بروقت ادا کیا جاسکے اور حساب کتاب میں کمی بیشی واقع نہ ہو اور انسان ان چیزوں پر بروقت عمل کرتے ہوئے دنیا عقبیٰ کی کامیابی وکامرانی حاصل کرسکے۔ اللہ عزوجل ہمیں اپنے تمام ترمعاملات میں اسلامی سن کو بطور شعار اپنانے کی توفیق عنایت فرمائے۔ (آمین )
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…