کلمۂ توحید فضیلت ،تقاضے اور کامیابی کی ضمانتیں

﴿اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِي السَّمَآءِۙ۰۰۲۴تُؤْتِيْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِيْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۰۰۲۵﴾ (ابراھیم: ۲۴، ۲۵)

’’کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک پاکیزہ کلمہ کی مثال بیان فرمائی ہے ،جو ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑ مضبوط ہے اور جس کی شاخیں آسمان میں ہے و ہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے،تا کہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘

قارئین کرام!ہر نبی نے اپنی دعوت کا آغاز کلمہ طیبہ سے کیا اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے کلمے کا پہلا حصہ ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ رہا ہے۔ لہٰذا اس موضوع میں کلمے کے صرف پہلے حصہ کی مختصر تفسیر کی جائے گی۔ جسے اللہ تعالیٰ نے شجر ِ طیبہ قرار دیا ہے اور نبیﷺ نے اسے جنت کی ضمانت اور چابی قرار دیا ہے۔ (رواہ البخاری فی ترجمۃ الباب)

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ (رواه أبی داؤد: كتاب الجنائز، باب فی التلقین[صحیح])

’’سیدنا معاذ بن جبل رضي الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺنے فرمایا: جس شخص کا آخری کلام لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ ہو ا وہ جنت میںداخل ہو گا۔ ‘‘

اس کے بارے میں سب سے پہلے رسول مکرمﷺ کو حکم ہوا کہ اسے سمجھ کر پڑھیں اور لوگوں کو سمجھائیں۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں یہ بات ودیعت فرما دی ہے کہ کوئی بات اسے مثال دے کر سمجھائی جائے تو نہ صرف وہ بات اسے سمجھ آ جاتی ہے بلکہ وہ بات اسے مدت مدید تک یاد بھی رہتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اہم ترین مسائل کو امثال کے ذریعے بیان فرمایا اور سمجھایا ہے۔

یہاں عقیدۂ توحید کو ایک پاکیزہ درخت کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے لوگو! کیا تم غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ کلمہ طیبہ کو ایک پاکیزہ درخت کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے سمجھاتا ہے کہ یہ ایسا درخت ہے کہ جس کی جڑیں زمین میں گہری اور جمی ہوئی ہیں اور اس کی شاخیں آسمان کی بلند یوں میں لہرا رہی ہیں۔یہ درخت اپنے رب کے حکم سے ہر موسم میں پھل دیتا ہے۔ یہ مثال اس لیے دی جا رہی ہے تاکہ لوگ اس سے سبق حاصل کریں ۔

حقیقت ہے کہ ہر درخت کا ایک اصل ہوتا ہے بے شک وہ بیج کی شکل میں ہویا جڑ کی صورت میں ہو۔ درخت اسی کی بنیاد پر زمین میں جڑ پکڑتا، فضا میں پھیلتا اور پھل دیتا ہے۔ جس طرح کابیج ہو گا اسی طرح کا درخت اور اس کا پھل ہو گا۔ یہی انسان کے عقیدہ اور اس کے کردار کی مثال ہے۔ اگر عقیدہ باطل یا کمزور ہے تو اس کا کردار بھی گھنائونا اور کمزور ہو گا۔ اگر عقیدہ توحید پر مبنی اور مضبوط ہے تو اس کے کردار اور گفتار میں نکھار اور پختگی ہوگی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ کو ایک ایسے درخت کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ جس کی جڑیں زمین میں پھیلی ہوئی اور مضبوط ہیں اگر اسے پانی نہ بھی مل پائے تو اس کی جڑیں زمین سے پانی جذب کر کے درخت کی ہر یالی کو سدا بہار رکھتے ہوئے اسے ہر موسم میں بار آور بناتی ہیں۔ یہی مثال دین اور عقیدۂ توحید کی ہے۔ جس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر ہے۔

معزز قارئین! قرآن مجید اور حدیث مبارکہ کی روشنی سے معلوم ہوتا ہے کہ تما م انبیاء کرام کی دعوت کا پہلا جز ’’ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ‘‘رہا ہے اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام اپنے اپنے دور میں اسی کلمہ کو سمجھانے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی تلقین کرتے رہے ۔ قرآن مجید اسی حقیقت سے آگاہ کرتا ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر سیدنا نوح علیہ السلام کی تشریف آوری تک تمام لوگ اسی کلمہ پر متفق رہے۔ اس کے بعد ان میں شرک کی وجہ سے اختلاف پیدا ہوا۔

﴿كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيّٖنَ مُبَشِّرِيْنَ وَ مُنْذِرِيْنَ﴾ (البقرة: ۲۱۳)

’’شروع میں لوگ ایک ہی امت تھے (پھر ان میں اختلافات ظاہر ہوئے۔) تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کو خوش خبری دینے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔‘‘

تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت

سب سے پہلے سیدنا نوح علیہ السلام کی قوم نے شرک کیا تو ان لوگوں کو سمجھانے کے لیے جنابِ نوح علیہ السلام مبعوث کیے گئے اور انہوں نے اپنی دعوت کا آغاز ’’اللہ‘‘ کی توحید سے فرمایا:

﴿لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ١ؕ اِنِّيْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ۰۰۵۹﴾

’’بلاشبہ ہم نے نوح علیہ السلام کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اس نے فرمایا: اے میری قوم! ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے سِوا تمہارا کوئی معبود نہیں، یقیناً میں تمہیں بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈراتا ہوں۔‘‘ (الأعراف: ۵۹)

سیدنا نوح علیہ السلام کے بعد کئی پیغمبر آئے مگر ان میں جو بڑے پیغمبر تشریف لائے وہ ہود علیہ السلام ہیں ان کا پہلا خطاب یہی تھا:

﴿وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۰۰۶۵﴾ (الأعراف: ۶۵)

’’اورقومِ عاد کی طرف ان کے بھائی ہود علیہ السلام کو بھیجا، اس نے فرمایا: اے میری قوم! ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تم ڈرتے کیوں نہیں ہو، یعنی شرک سے کیوں نہیں بچتے۔‘‘

سیدنا ہود علیہ السلام کے بعد نبوت کا سلسلہ جاری رہا، ان کے بعد جو بڑے نبی مبعوث کیے گئے وہ سیدنا صالح علیہ السلام تھے، انہوں نے بھی اپنی دعوت کی ابتدا کلمہ توحید سے فرمائی۔

﴿وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰيَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِيْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۰۰۷۳﴾ (الاعراف: ۷۳)

’’اور قومِ ثمود کی طر ف ان کے بھائی صالح کوبھیجا، اس نے فرمایا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آچکی ہے اور تمہارے لیے یہ اللہ کی اونٹنی ایک نشانی کے طور پر ہے پس اسے چھوڑدو تا کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اسے برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا ،ورنہ تمہیں دردناک عذاب پکڑ لے گا۔‘‘

قوم نے سیدنا صالح علیہ السلام سے معجزہ طلب کیا تو ان کی مرضی کے مطابق انہیں اونٹنی کی صورت میں معجزہ دیا گیا لیکن اس کے باوجود قوم نے عقیدۂ توحید قبول کرنے اور نہ صرف سیدنا صالح علیہ السلام پر ایمان لانے سے انکار کیا بلکہ انہوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ تو اس معجزے کو ٹھکرانے کی وجہ سے انہیں زلزلے سے تباہ کر دیا گیا۔

سیدنا صالح علیہ السلام کے بعد نبیوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا، ان کے بعد جو بڑے نبی مبعوث کیے گئے وہ سیدنا شعیب علیہ السلام تھے، ان کی بھی یہی دعوت تھی کہ لوگو! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔

﴿وَ اِلٰى مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا١ؕ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ… …﴾

’’اورمدین کی طرف ان کے بھائی شعیب علیہ السلام کو بھیجا، اس نے فرمایا: اے میری قوم !اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل آچکی ۔‘‘(الأعراف: ۸۵)

﴿وَ اِبْرٰهِيْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۰۰۱۶اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۰۰۱۷﴾(العنكبوت: ۱۶، ۱۷)

’’اور جب ابراہیم نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اگر تم حقیقت سمجھتے ہو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وہ تو محض بت ہیں اور تم جھوٹ گھڑ رہے ہو،حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا تم جن کی عبادت کرتے ہو وہ تمہیں رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ اللہ سے رزق مانگو اور اسی کی بندگی کرو اور اسی کا شکر ادا کرو، اسی کی طرف تم پلٹ کرجانے والے ہو۔‘‘

﴿اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ يٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَ لَا يُبْصِرُ وَ لَا يُغْنِيْ عَنْكَ شَيْـًٔا۰۰۴۲يٰۤاَبَتِ اِنِّيْ قَدْ جَآءَنِيْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِيْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا۰۰۴۳﴾ (مریم: ۴۲، ۴۳)

’’جب اس نے اپنے باپ سے کہا کہ اے ابا جان آپ ان چیزو ں کی کیوں عبادت کرتے ہیں ؟جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کے کوئی کام آسکتی ہیں۔ اے ابا جان میرے پاس ایک ایسا علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں۔ آپ میرے پیچھے چلیں میںآپ کو سیدھا راستہ بتائوں گا۔ ‘ ‘

﴿قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا يٰمُوْسٰى۰۰۴۹قَالَ رَبُّنَا الَّذِيْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى ۰۰۵۰﴾ (طٰهٰ: ۴۹، ۵۰)

’’فرعون نے کہا اے موسیٰ تمہارا رب کون ہے ؟موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت دی پھر اس کی راہنمائی فرمائی۔ ‘‘

﴿وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ۰۰۳۶ فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَيْنِهِمْ١ۚ فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيْمٍ۰۰۳۷﴾ (مریم: ۳۶، ۳۷)

’’اور عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھایقیناً اللہ ہی میرا اور تمہارا رب ہے۔ بس تم اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے، مگروہ آپس میں اختلاف کرنے لگے پس جن لوگوں نے کفر کیا ان کیلئے بربادی ہے اور وہ بڑے دن کا سامنا کرینگے۔ ‘‘

نبی آخر الزمانﷺ کی دعوت

تمام انبیاء علیہم السلام کے آخر میں احمد مجتبیٰ، محمد مصطفیٰﷺ مبعوث کیے گئے، آپﷺ نے بھی پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح اپنی دعوت کی ابتدا اور جدوجہد کا آغاز کلمہ مبارکہ سے فرمایا اور اس کی عظمت بیان فرمائی:

عَنْ أَبِی هُرَیْرَةَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِﷺاَلْإِیْمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُوْنَ شُعْبَةً فَأَفْضَلُھَا قَوْلُ لَاإِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَدْنَاھَا إِمَاطَةُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ وَالْحَیَاءُ شُعْبَةٌ مِّنَ الْإِیْمَانِ)) (رواه مسلم: كتاب الإیمان)

’’سیدنا ابوہریرہ رضي الله عنه بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: ایمان کے ستر سے کچھ اوپر اجزاء ہیں ۔ان میں افضل ترین ’’لَاإِلٰهَ إِلَّا اللهُ‘‘ کا اقرار کرنا ہے اور سب سے ادنیٰ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے مزید فرمایا کہ حیا بھی ایمان میں شامل ہے۔‘‘

﴿وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ۰۰۲۵﴾ (الانبیاء: ۲۵)

’’ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجے ان کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں لہٰذا میری ہی بندگی کرو۔‘‘

﴿قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا ا۟لَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۰۰۱۵۸﴾ (الأعراف: ۱۵۸)

’’نبیﷺآپ فرما دیں اے لوگو! بے شک میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی آسمانوں اور زمین پر بادشاہی ہے اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں وہی زندہ کرتا اورمارتا ہے پس اللہ اور اس کے نبی امی پر ایمان لائو جو اللہ اور اس کے ارشادات پرایمان رکھتا ہے اور اس کی پیروی کروتاکہ تم ہدایت پائو۔‘‘

کلمہ طیبہ کی عظمت

عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رضي الله عنه عَنْ رَسُولِ اللهِﷺ ’’سیدنا ابوسعید خدری رضي الله عنه اللہ کے رسول ﷺسے بیان کرتے ہیں کہ‘‘ قَالَ: آپ ﷺ نے فرمایا: قَالَ مُوسَی’’موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: یَا رَبِّ ’’اے میرے رب‘‘ عَلِّمْنِی شَیْئًا أَذْكُرُكَ بِهِ ’’مجھے ایسا وظیفہ بتائیں‘‘ وَأَدْعُوكَ بِهِ ’’جس سے میں آپ کو یادکیا کروں اور مانگو‘‘ قَالَ ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یَا مُوسَی ’’اے موسیٰ! لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ’لَاإِلٰهَ إِلَّا اللهُ‘ پڑھا کرو‘‘ قَالَ مُوسَی’’موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: یَا رَبِّ كُلُّ عِبَادِكَ یَقُولُ هَذَا ’’یا اللہ! یہ تو تیرے سارے نیک بندے پڑھتے ہیں۔‘‘قَالَ ’’اللہ تعالیٰ نے پھر فرمایا: قُل لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ موسیٰ! ’لَاإِلٰهَ إِلَّا اللهُ‘ پڑھا کرو۔ قَالَ ’’اور عرض کی کہ‘‘ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ إِنَّمَا أُرِیدُ شَیْئًا تَخُصَّنِی بِهِ ’’تیرے سِوا کوئی معبود نہیں میں تو خاص وظیفہ چاہتا ہوں‘‘ قَالَ یَا مُوسَی’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اےموسیٰ!‘‘ لَوْ أَنَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعَ وَعَامِرَهُنَّ غَیْرِی وَالْأَرَضِینَ السَّبْعَ ’’اگر زمین و آسمانوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کو‘‘ فِی كَفَّةٍ ’’ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے ’لَاإِلٰهَ إِلَّا اللهُ‘ کو ‘‘ فِی كَفَّةٍ ’’دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے‘‘ مَالَتْ بِهِنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ’’تو ’لَاإِلٰهَ إِلَّا اللهُ‘کا پلڑا بھاری ہو گا‘‘)) (المستدرک الحاکم علی الصحیحین: کتاب الذکر والدعاء[صحیح])

کلمہ طیبہ اس کی فضیلت کا عالم یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریمﷺ اپنے اصحاب میں جلوہ نما تھے کہ ایک دیہاتی آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور وہ مجلس میں موجود صحابہy کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگا۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارا ساتھی کیوں توحید کی دعوت دیتا ہے؟

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَتَی النَّبِیَّﷺ أَعْرَابِیٌّ، عَلَیْهِ جُبَّةٌ مِنْ طَیَالِسَةٍ، مَكْفُوفَةٌ بِدِیبَاجٍ أَوْ مَزْرُورَةٌ بِدِیبَاجٍ فَقَالَ إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا یُرِیدُ أَنْ یَرْفَعَ كُلَّ رَاعٍ ابْنِ رَاعٍ وَیَضَعَ كُلَّ فَارِسٍ ابْنِ فَارِسٍ فَقَامَ النَّبِیُّﷺ مُغْضَبًا، فَأَخَذَ بِمَجَامِعِ جُبَّتِهِ فَاجْتَذَبَهُ، وَقَالَ لَا أَرَی عَلَیْكَ ثِیَابَ مَنْ لَا یَعْقِلُ ، ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللهِﷺ فَجَلَسَ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضي الله عنه بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے پاس ایک دیہاتی آیا جس نے نقش و نگار سے بنا ہوا سبز رنگ کا ریشم کا جبہ پہنا ہوا تھا۔ وہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہنے لگا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارا ساتھی کیا چاہتا ہے پھر خود ہی کہنے لگا کہ یہ چاہتا ہے کہ میں عرب کا بڑا سردار بن جائوں، یہاں تک کہ فارس (ایران) کا بادشاہ بن جائوں۔ نبی کریمﷺ اُٹھے اور اس کے جبہ کی آستین کو ہلکا سا جھٹکا دے کر فرمایا: جو لباس تو نے پہنا ہوا ہے یہ دانا لوگوں کا لباس نہیں پھر آپﷺ نے اپنی جگہ بیٹھ کر فرمایاکہ ‘‘ فَقَالَ إِنَّ نُوحًا لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، ’’جب سیدنا نوح علیہ السلام کا آخری وقت آیا تو‘‘ دَعَا ابْنَیْهِ’’انہوں نے اپنے بیٹوں کو بلایا‘‘ فَقَالَ إِنِّی قَاصِرٌ عَلَیْكُمَا الْوَصِیَّةَ’’اور فرمایا کہ میں تمہیں وصیت کرتے ہوئے‘‘ آمُرُكُمَا بِاثْنَتَیْنِ، دو باتوں کا حکم دیتا ہوں‘وَأَنْهَاكُمَا عَنِ اثْنَتَیْنِ ’’اور دو کاموں سے منع کرتا ہوں‘‘ أَنْهَاكُمَا عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ، ’’تمہیں شرک اور تکبر کرنے سے منع کرتا ہوں ‘‘ وَآمُرُكُمَا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، ’’اور لَاإِلٰهَ إِلَّا اللهُ پر ڈٹے رہنے کا حکم دیتا ہوں’’ فَإِنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ’’بے شک اگر زمین و آسمانوں ‘‘ وَمَا فِیهِمَا لَوْ وُضِعَتْ فِی كِفَّةِ الْمِیزَانِ، وَوُضِعَتْ ’’اور جو کچھ ان میں موجود ہے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے‘‘ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فِی الْكِفَّةِ الْأُخْرَی، ’’اور دوسرے پلڑے میں ’لَاإِلٰهَ إِلَّا اللهُ‘ رکھا جائے’’ كَانَتْ أَرْجَحَ، ’’تو کلمہ طیبہ کا پلڑا بھاری ہو گا۔‘‘ وَلَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ’’اگر زمین و آسمان‘‘ كَانَتَا حَلْقَةً، ’’ایک چٹان بنا دیے جائیں‘‘ فَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ عَلَیْهمَا، ’’اور ان پر ’لَاإِلٰهَ إِلَّا اللهُ‘کی ضرب لگائی جائے لَفَصَمَتْهَا، أَوْ لَقَصَمَتْهَا، ’’تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔‘‘ وَآمُرُكُمَا بِسُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، ’’سیدنا نوح علیہ السلام نے مزید فرمایا کہ میں تمہیں یہ بھی وصیت کرتا ہوں کہ ’سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ‘ پڑھا کرو‘‘ فَإِنَّهَا صَلَاةُ كُلِّ شَیْئٍ ’’اس لیے کہ یہ ہر جاندار کی تسبیح ہے‘‘ وَبِهَا یُرْزَقُ كُلُّ شَیْئٍ ’’اور ہر کسی کو اسی کی برکت سے رزق دیا جاتا ہے۔ (رواہ احمد: مسندعبداللہ بن عمرو رضي الله عنه [صحیح])

عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدُ اللهِ الْمُحَارَبِیِّ قَالَ ’’سیدنا طارق بن عبداللہ المحاربی رضي الله عنه بیان کرتے ہیں کہ‘‘ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللهِﷺ ’’میں نے اللہ کے رسول ﷺکو دیکھا‘‘ مَرَّ بِسُّوْقِ ذِی الْمَجَازِ ’’ذی المجاز کے بازار سے گزرتے ہوئے‘‘ وَاَنَا فِیْ بِیَاعَةٍ لِیْ ’’میں اس وقت خریدو فروخت کر رہا تھا‘‘ فَمَرَّ وَعَلِیْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ ’’جس وقت آپﷺ میرے سامنے سے گزرے تو آپ سرخ دھاری دار رنگ کا جبہ پہنے ہوئے تھے‘‘ فَسَمِعْتُهٗ یَقُوْلُ ’’میں نے آپﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا‘‘ یٰأَیُّهَا النَّاسُ قُوْلُوْا لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ تُفْلِحُوْا ’’اے لوگو! ’’لا الہ الا اللہ‘‘پڑھو کامیاب ہو جائو گے۔‘‘ وَرَجَلٌ یَتْبَعُهٗ یَرْمِیْهِ بِالْحِجَارَةِ قَدْ اَدَمِیْ كَعْبَیْهِ ’’اس دوران ایک آدمی آپ کو پیچھے سے پتھر مار رہا تھا۔ جس سے آپ کے قدم خون آلود ہو گئے۔‘‘ یَعْنِیْ اَبَا لَهَبٍ ’’پتھر مارنے والا ابو لہب تھا‘‘(السنن الكبری للبیھقی)

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ:’’سیدنا ابو ذر رضي الله عنه بیان کرتے ہیں کہ ‘‘ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِﷺ ’’میں نے اللہ کے رسولﷺ سے پوچھا کہ‘‘ عَلِّمْنِي عَمَلًا مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں ‘‘ يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ، جو مجھے جنت کے قریب ‘‘ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، ’’اور جہنم سے دور تر کر دے‘‘ فَقَالَ: ’’آپﷺ نے فرمایا: ‘‘ إِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً جب تجھ سے کوئی گناہ ہو جائے تو ‘‘ فَاعْمَلْ حَسَنَةً فَإِنَّهَا عَشْرُ أَمْثَالِهَا ’’اس کے بعد کوئی نیکی کر لیا کرو۔ کیونکہ ایک نیکی کے بدلے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں‘‘ قُلْتُ: ’’میں (ابو ذر رضي الله عنه )نے عرض کی کہ يَا رَسُولَ اللهِﷺ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ؟ ’’کیا: لَاإِلٰهَ إِلَّا اللهُ پڑھنا بھی نیکی ہے۔ قَالَ: ’’آپﷺ نے فرمایا: هِيَ أَحْسَنُ الْحَسَنَاتِ ’’یہ سب سے بڑی نیکی ہے۔‘‘ (الدعا للطبرانی: بَابُ تَأْوِيلِ قَوْلِ الله عَزَّ وَجَلَّ {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ} [حسن])

عن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ ’’سیدنا عمرو بن عاص رضي الله عنه بیان کرتے ہیں کہ‘‘ أَتَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ فَقُلْتُ:’’ میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کرعرض کی!‘‘ ابْسُطْ یَمِینَكَ ’’اللہ کے رسولﷺاپنا دایاں ہاتھ آگے کیجئے‘‘ فَلْأُبَایِعْكَ ’’تاکہ میں آپ کی بیعت کروں‘‘ فَبَسَطَ یَمِینَهٗ ’’آپ نے اپنا دایاں ہاتھ آگے کیا‘‘ قَالَ فَقَبَضْتُ یَدِی’’تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔‘‘ قَالَ مَا لَكَ یَا عَمْرُو!’’آپﷺ پوچھتے ہیں عمرو! کیا ہوا؟‘‘ قَالَ ’’انہوں نے عرض کی کہ‘‘ قُلْتُ أَرَدْتُّ أَنْ أَشْتَرِطَ ’’ایک شرط کے ساتھ بیعت کرتا ہوں‘‘ قَالَ ’’ارشاد ہوا کہ‘‘ تَشْتَرِطُ بِمَاذَا ’’وہ کونسی شرط ہے؟‘‘ قُلْتُ ’’میں نے عرض کیا کہ ‘‘ أَنْ یُغْفَرَ لِی ’’میرے گناہ معاف کر دیے جائیں۔‘‘ قَالَ ’’اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:‘‘ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ ’’عمرو تو نہیں جانتا کہ‘‘ یَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ یقیناً اسلام پہلے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے؟‘‘ وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا ’’اسی طرح ہجرت پہلے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے ‘‘ وَأَنَّ الْحَجَّ یَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ ’’اور یقینا حج سے بھی سابقہ غلطیاں معاف ہو جاتی ہیں۔‘‘(رواہ مسلم:کتاب التفسیر)

’’سیدنا جابر بن عبداللہ رضي الله عنهما بیان کرتے ہیں کہ میں ان لوگوں کے ساتھ تھا جو معاذ رضي الله عنه کی وفات کے وقت ان کے پاس موجود تھے، سیدنا معاذ رضي الله عنه نے فرمایا: کمرے کا پردہ ہٹائو تا کہ میں تمہیں اللہ کے رسولﷺ کا ایک فرمان سنائو، میرے اس سے پہلے اسے بیان نہ کرنے میں یہ رکاوٹ تھی کہ کہیں تم اسے کافی نہ سمجھ لو،چنانچہ انہوں نے کہا کہ میں نے اللہ کے رسولﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی دل کے اخلاص یا آپ نے فرمایا کہ یقین کے ساتھ یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا، آپﷺ نے پھر آپ نے فرمایا کہ وہ جنت میں داخل ہو گا اور اس کو آگ نہیں چھوئے گی۔‘‘(رواہ احمد: باب مسند معاذ بن جبل رضي الله عنه [حسن])

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِﷺ تُوضَعُ الْمَوَازِینُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ فَیُؤْتَی بِالرَّجُلِ فَیُوضَعُ فِی كَفَّةٍ فَیُوضَعُ مَا أَحْصِیَ عَلَیْهِ فَتَمَایَلَ بِهِ الْمِیزَانُ قَالَ فَیُبْعَثُ بِهِ إِلَی النَّارِقَالَ فَإِذَا أَدْبَرَ بِهِ إِذَا صَائِحٌ یَصِیحُ مِنْ عِنْدِ الرَّحْمَنِ یَقُولُ لاَ تَعْجَلُوا لاَ تَعْجَلُوا فَإِنَّهُ قَدْ بَقِیَ لَهُ فَیُؤْتَی بِبِطَاقَةٍ فِیهَا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللهُ فَتُوضَعُ مَعَ الرَّجُلِ فِی كَفَّةٍ حَتَّی یَمِیلَ بِهِ الْمِیزَانُ (رواه احمد: باب مسند عبدالله بن عمرو [حسن])

’’سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضي الله عنه بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن ترازو قائم کیا جائے گا ایک آدمی کو ایک پلڑے میں اور اس کے اعمال کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے گا تو اس کے گناہوں والا پلڑا جھک جائے گا۔ آپﷺ نے فرمایا: اسے جہنم کی طرف جانے کا حکم ہو گا۔ فرمایا: وہ پیچھے مڑکر دیکھے گا تو ایک چیخنے والے کو دیکھے گا جو رحمان کے ہاں اونچی آواز سے کہہ رہا ہوگا۔ اس کے ساتھ جلدی نہ کرو کیونکہ اس کی ایک نیکی باقی ہے تو ایک کاغذ لایا جائے گا، جس میں ’’لاالٰہ الا اللہ‘‘ لکھا ہوگا اس کو اس آدمی کے مقابلے میں پلڑے میں رکھ دیا جائے گا ، تو اس کا نیکیوں والا پلڑا بھاری ہوجائے گا ۔‘‘

عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رضي الله عنه وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ – قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺفِي سَرِيَّةٍ، فَصَبَّحْنَا الْحُرَقَاتِ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَأَدْرَكْتُ رَجُلًا فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَطَعَنْتُهُ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ، فَذَكَرْتُهُ لِلنَّبِيِّﷺفَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ أَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَقَتَلْتَهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِﷺ، إِنَّمَا قَالَهَا خَوْفًا مِنَ السِّلَاحِ، قَالَ: أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لَا؟ فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ (رواه مسلم: باب تحریم قتل الكافر بعد أن قال لاإله إلا الله )

’’سیدنا اُسامہ بن زید رضي الله عنه بیان کرتے ہیں کہ ہمیں اللہ کے رسولﷺ نے قبیلہ جہینہ کی سرکوبی کے لیے بھیجا ہم نے ان پر صبح کے وقت حملہ کیا تو وہ شکست سے دوچار ہوئے میںنے ایک انصاری کے ساتھ مل کر ایک شخص پر قابو پایا تو اس نے ’’لا الہ الااللّٰہ‘‘ پڑھ دیا۔ میرے ساتھی نے اُسے چھوڑ دیا، لیکن میں نے اُسے نیزہ مارا جس سے وہ مر گیا۔جب ہم رسولِ محترمﷺکے پاس گئے تو آپ کو اس واقعہ کی پہلے ہی اطلاع پہنچ چکی تھی۔ آپ نے مجھے فرمایا :کیا تو نے اس کے کلمہ پڑھنے کے باوجود اُسے قتل کر دیا؟ میں نے کہا کہ اُس نے اسلحہ سے ڈر کر کلمہ پڑھا تھا۔ اللہ کے رسولﷺنے فرمایا: تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا تاکہ تجھے معلوم ہوجاتا کہ اس نے دل سے کلمہ پڑھا ہے یا اسلحہ کے خوف سے۔ آپ نے یہ کئی مرتبہ فرمائے، یہاں تک کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کاش کہ میں آج ہی اسلام قبول کرتا۔‘‘

’’سیدنا عبداللہ بن عمر رضي الله عنهما فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے خالد بن ولید رضي الله عنه کو بنی جزیمہ کی طرف بھیجا تو انہوں نے انہیں اسلام کی دعوت دی لیکن انہیں ( أَسْلَمْنَا) ’’ہم مسلمان ہوئے‘‘ کہنا نہ آیا وہ کہنے لگے‘‘ (صَبَأْنَا صَبَأْنَا) ’’ہم بے دین ہوگئے، ہم بے دین ہوگئے‘‘ خالد بن ولید رضي الله عنه نے کچھ کو قتل کردیا اور کچھ کو قیدی بنالیااور قیدیوں میں سے ہر ایک کو قیدی دیا ۔ایک دن آیا کہ خالد رضي الله عنه نے یہ حکم دیا کہ ہر کوئی اپنے قیدی کو قتل کردے تو میں نے کہا : اللہ کی قسم!نہ میں اپنے قیدی کو قتل کروں گا اور نہ ہی دوسرا اپنے قیدی کو قتل کرے گا۔ ہم نے نبی کریمﷺ کے پاس جا کر معاملہ عرض کیا تو آپ نے اپنے ہاتھ اٹھاتے ہوئے دو مرتبہ کہا: اے اللہ! تیری بارگاہ میں خالد بن ولید کے کیے پر برأت کا اظہار کرتاہوں۔‘‘(رواہ البخاری: کتاب المغازی )

1۔ پہلے کلمہ پھر جہاد

عَنْ الْبَرَاءِ یَقُوْلُ أَتَی النَّبِیّﷺ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ بِالْحَدِیْدِ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللهِ أُقَاتِلُ وَأُسْلِمُ قَالَ أَسْلِمْ ثُمَّ قَاتِلْ فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَاتَلَ ، فَقُتِلَ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَمِلَ قَلِیلاً وَأُجِرَ كَثِیرًا(رواه البخاری: كتاب الجھاد)

’’سیدنا براء رضي الله عنه بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺکے پاس ایک زرہ پوش آدمی آیا اس نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ! میں جہاد میں شریک ہوں یا اسلام قبول کروں۔ آپﷺ نے فرمایا: پہلے اسلام لائو، پھر جہاد کرو ، وہ کلمہ پڑھ کر جہاد میں شریک ہوا اور شہید ہو گیا۔ آپﷺ نے فرمایا: اس نے عمل تھوڑا کیا لیکن اجر زیادہ پا لیا ہے۔ ‘‘

2۔ کلمہ سمجھ کر پڑھنا چاہیے

کلمہ طیبہ کا دوسرا تقاضا یہ ہے کہ اس پر غور کیا جائے اور اسے سمجھ کر اور اخلاص کے ساتھ پڑھا جائے۔

﴿فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْؒ۰۰۱۹﴾ (محمد: ۱۹)

’’اے نبیﷺ اچھی طرح جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اپنی خطاؤں کی معافی مانگو ، مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی معافی طلب کرو۔ اللہ تمہارے چلنے ،پھرنے کو جانتا ہے اور وہ تمہارے ٹھکانے کو بھی جانتا ہے۔‘‘

لیکن جو شخص سمجھ کر کلمہ نہیں پڑھتا اور اس کے تقاضے پورے نہیں کرتا، یا جس شخص نے رسماً اور نسلاً کلمہ پڑھا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتا رہا تو اسے کلمہ پڑھنے کا دنیا میں فائدہ ہو گا لیکن مرنے کے بعد اسے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

3۔ اس پر استقامت اختیار کرنے کا حکم

وَعَنْ سُفْیَانَ ابْنِ عَبْدِاللهِ الثَّقَفِیِّ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللهِﷺ قُلْ لِّیْ فِی الْاِسْلَامِ قَوْلًا لَّا اَسْاَلُ عَنْهُ اَحَدًا بَعْدَكَ وَفِیْ رِوَایَة ٍغَیْرَكَ قَالَ قُلْ اٰمَنْتُ بِاللهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ (رواه مسلم: باب جامع اوصاف الاسلام)

’’سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضي الله عنه کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات ارشاد فرمائیں کہ آپ ﷺ کے بعد مجھے کسی سے سوال کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے، دوسری روایت میں ہے کہ آپ کے بغیر، آپ نے فرمایا کہ اللہ پر ایمان لانے کے بعد اس پر ڈٹ جاؤ۔‘‘

﴿اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۰۰۳۰نَحْنُ اَوْلِيٰٓؤُكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ۰۰۳۱نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍؒ۰۰۳۲﴾ (فصلت: ۳۰تا۳۲)

’’جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور وہ اس پر ثابت قدم رہے یقینا اُن پر ملائکہ نازل ہوتے ہیں اور وہ ان سے کہتے ہیں کہ نہ ڈرو، اور نہ غم کھائو، اُس جنت کے بارے میں خوش ہو جاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی، وہاں جو چاہو گے تمہیں ملے گا اور جس چیز کی تمنا کرو گے اُسے پاؤ گے یہ ہے مہمان نوازی اُس ’’ رب ‘‘ کی طرف سے جو بڑا غفور ورحیم ہے۔ ‘‘

4۔ کلمہ طیبہ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینا

کلمے کا چوتھا تقاضا یہ ہے کہ کلمہ پڑھنے والا اس کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار رہے، یہاں تک کہ اگر اسے موت قبول کرنی پڑے تو اسے بھی خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کر لے، مگر کلمہ طیبہ سے انحراف نہ کرے۔ کیونکہ نبی ﷺ نے ابو درداء اور معاذ رضي الله عنهما کو یہی فرمایا تھا :

عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: أَوْصَانِي رَسُولُ اللهِﷺ بِعَشْرِ كَلِمَاتٍ قَالَ: لَا تُشْرِكْ بِاللهِ شَيْئًا وَإِنْ قُتِلْتَ وَحُرِّقْتَ ……(رواه حمد: باب مسند معاذ)

’’سیدنا معاذ رضي الله عنه بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺنے مجھے دس باتوں کی وصیت فرمائی، آپﷺنے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، اگرچہ تجھے قتل کیا جائے یا تجھے جلا دیا جائے۔ ‘‘

عَنْ أَبِی الدَّرْدَاءِ قَالَ ’’سیدنا ابودرداء رضي الله عنه بیان کرتے ہیں کہ‘‘ أَوْصَانِی خَلِیلِیﷺ ’’میرے خلیلﷺ نے مجھے وصیت فرمائی کہ‘‘ أَنْ لاَ تُشْرِكْ بِاللهِ شَیْئًا ’’اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا ‘‘ وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ ’’بےشک تیرے ٹکڑے کر دیے جائیں یا تجھے جلا دیا جائے‘‘ وَلاَ تَتْرُكْ صَلاَةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا ’’اور جان بوجھ کر فرض نماز نہ چھوڑنا‘‘ فَمَنْ تَرَكَهَا مُتَعَمِّدًا ’’جس نے جان بوجھ کر فرض نماز چھوڑ دی‘‘ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ ’’اس سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ ختم ہو گیا‘‘ وَلاَ تَشْرَبِ الْخَمْرَ ’’اور شراب نہ پینا‘‘ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ ’’اس لیے کہ یہ ہر برائی کی چابی ہے ۔‘‘(رواہ ابن ماجہ، باب الصَّبْرِ عَلَی الْبَلاَئِ[حسن])

5۔ اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنا

حقیقت یہ ہے کہ اگر کلمہ طیبہ کو سمجھ کر اور اخلاص کے ساتھ پڑھا جائے تو اس کے پڑھنے کے بعد فرد اور معاشرے میں عظیم انقلاب برپا ہوتا ہے۔ اس کا مختصر مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں اور وہی حاکم مطلق ہے۔ ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ میں اللہ کے حکم پر اسی طرح عمل کروں گا جس طرح نبی علیہ السلام نے سمجھایا اور کر کے دکھلایا ہے ۔

﴿اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَؕ۰۰۲ اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ١ؕ ……﴾ (الزمر: ۲، ۳)

’’اے نبیﷺ! ہم نے یہ کتاب آپ کی طرف برحق نازل کی ہے۔ لہٰذا اللہ کی بندگی خالص اسی کے حکم کے مطابق کیا کرو۔ خبردار! اطاعت  خالص اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔…‘‘

6۔ اللہ تعالیٰ کے سِوا دوسرے معبودوں کی نفی کرنا

حضراتِ محترم! کلمہ مبارکہ کے دو حصے ہیں، پہلا حصہ دو اجزا پر مشتمل ہے۔ اس کا پہلا جز ہے ’’لَا اِلٰهَ‘ جس کا معنی ہے کہ زمین و آسمانوں میں کوئی الٰہ نہیں جس شخص کا یہ عقیدہ ہے کہ کائنات کا کوئی الٰہ نہیں وہ پکا کافر ہے، جسے مذہب کی زبان میں دہریہ یعنی کمیونسٹ کہا جاتا ہے۔ کلمہ کے پہلے حصے کا دوسرا جز ہے ’’اِلَّا اللّٰہُ‘‘ سوائے اللہ کے ، گویا کہ پہلے تمام معبودوں کی نفی کرنے کے بعد ایک ’’اللہ‘‘ کا اقرار کرنا ہے۔ یہاں سوچنے والی بات یہ ہے کہ عام طور پر یہ ہوتا ہے اور ہونا چاہیے کہ ابتدا میں اپنے مخاطب سے اختلافی بات کرنے کی بجائے وہ بات اور انداز اختیار کیا جائے کہ جس سے سننے والا بدکنے کی بجائے اپنائیت محسوس کرے اور وہ دعوت دینے والے کی دعوت کی طرف مائل ہو ۔ لیکن کلمہ طیبہ میں یہ انداز نہیں ہے۔ اس کی کئی حکمتیں ہیں۔ جن میں سے یہاں چار کا ذکر کیا جاتا ہے۔

1۔ اللہ تعالیٰ نے اس کلمہ مبارکہ کو پاکیزہ کلمہ قرار دیا ہے۔ (ابراہیم: ۲۴) ظاہر ہے کہ پاک اور طیب چیز پاک جگہ پر ہی رکھی جا سکتی ہے اور اسے رکھنا چاہیے۔ کلمہ طیبہ ایمان کا ترجمان ہے بلکہ یہ ایمان کا اصل اور اس کی بنیاد ہے اور اس کا اصل مقام دل ہے۔ اس لیے ’’ لَا اِلٰہَ‘‘ پڑھ کر پہلے تمام معبودوں کی نفی کی جاتی ہے تاکہ دل کفر و شرک کی غلاظت سے پاک ہو جائے۔

2۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ غلط بات کی نفی کرنے میں ہمت اور جرأت کی ضرورت ہوتی ہے جس وجہ سے ’’لَا‘‘ پہلے لایا گیا ہے کیونکہ جو مسلمان شرک کی نفی نہیں کر سکتا وہ توحیدِ خالص کو بھی اختیار نہیں کر سکتا۔ جبکہ توحید کا عقیدہ اخلاص کا تقاضا کرتا ہے۔

3۔ کلمہ طیبہ میں لفظ ’’لَا‘‘ پہلے لا کر ہر قسم کے شرک کی نفی کی گئی ہے۔ اس لیے کہ بیک وقت دل میں ایمان اور کفر و شرک بلکہ تابعداری اور اللہ کی نافرمانی اکٹھے نہیں رہ سکتے۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِﷺ: لاَ يَزْنِي العَبْدُ حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَشْرَبُ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ قَالَ عِكْرِمَةُ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: كَيْفَ يُنْزَعُ الإِيمَانُ مِنْهُ؟ قَالَ: هَكَذَا، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ أَخْرَجَهَا، فَإِنْ تَابَ عَادَ إِلَيْهِ هَكَذَا، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ(رواه البخاری: بَابُ إِثْمِ الزُّنَاةِ)

’’سیدنا عبداللہ بن عباس رضي الله عنهما بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: جب بندہ بد کاری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا، جب وہ چوری کرتا ہے تو وہ ایماندار نہیں رہتا، جب وہ شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا، اور جب وہ کسی کو ناحق قتل کرتا ہے تو وہ صاحبِ ایمان نہیں ہوتا۔ سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : میں نے ابن عباس رضي الله عنهما سے پوچھا اس سے ایمان کس طرح نکال لیا جاتا ہے؟ ابن عباس رضي الله عنهما نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو اپنے دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا اور پھر انہیں الگ کر کے فرمایا کہ اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو اس کا ایمان اس طرح لوٹ آتا ہے، پھر انہوں نے اپنی انگلیوں کو پہلے کی طرح دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل فرمایا۔‘‘

7۔ کلمہ طیبہ اور اس کے پیغام کو ہر فرد تک پہنچایا جائے

کلمہ طیبہ کا ساتواں تقاضا یہ ہے کہ ہر مقام پر اس کا ابلاغ کیا جائے جب تک اس کا ہر مقام اور فرد تک ابلاغ نہیں کیا جاتا اس وقت تک اس کی شہادت کا حق ادا نہیں ہو پائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام بالخصوص نبی آخر الزمانﷺ اور آپ کی اُمت پر یہ فرض عائد کیا ہے کہ وہ اس کی شہادت لوگوں پر قائم کرے۔

﴿رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَ مُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا۰۰۱۶۵﴾ (النساء: ۱۶۵)

’’تمام رسول خو ش خبری دینے اورڈرانے والے تھے تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ پر کوئی حجت باقی نہ رہے اور اللہ نہایت غالب اور کمال حکمت والا ہے۔‘‘

﴿يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًاۙ۰۰۴۵وَّ دَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِيْرًا۰۰۴۶﴾ (الاحزاب: ۴۵ تا۴۷)

’’اے نبیﷺ! ہم نے آپ کو گواہی دینے،خوشخبری سنانے اور ڈرانے والابنا کر بھیجا ہے اور اللہ کی طرف سے اس کے حکم کے مطابق دعوت دینے والا اور آپ کو روشن چراغ بنایا ہے۔ جو لوگ آپ پر ایمان لائیں اُن لوگوں کو بشارت دیںکہ اُن کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑا اجر ہے۔‘‘

﴿وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا١ؕ …﴾ (البقرۃ: ۱۴۳)

’’اسی طرح ہم نے تمہیں امت ِوسط بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بن جائو اور رسولﷺ تم پر گواہ ہو جائے۔‘‘

میاں محمد جمیل

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago