قارئین کرام ! عید کادن مسلمانوں کیلئے خوشی و مسرت کا دن ہے مگر اس خوشی کے موقعہ پر بھی اسلام نے مسلمانوں کو کچھ آداب و احکام بتائیں ہیں جن کا مختصرذکر فرامین نبوی صلی اللہ علیہ و سلم اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہم کی روشنی میں ذیلی سطور میں کیا جارہا ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عیدالفطر کے دن نہ نکلتے جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم چند کھجوریں نہ کھا لیتے ۔
جناب نافع سے روایت ہے
بیشک عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عید الفطر کے دن عیدگاہ جانے سے پہلے غسل کیا کرتے تھے ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عید کے دن سرخ دھاریوں والی چادر پہنا کرتے تھے ۔
جناب نافع سے روایت ہے کہ :
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما عید کے دن بلند آواز سے تکبیریں کہتے ہوئے روانہ ہوتے اور یہ سلسلہ امام کے آنے تک جاری رکھتے ۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن ( مدینہ کے باہر ) عیدگاہ تشریف لے جاتے۔
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عید الفطرواضحیٰ میں دوشیزہ، حائضہ اور پردہ نشیں عورتوں کو باہر نکالیں، لیکن حائضہ نماز سے دور رہیں۔ وہ خیروبرکت اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ! ہم میں سے کسی عورت کے پاس چادر نہیں ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اس کی (کوئی مسلمان) بہن اس کو اپنی چادر کا ایک حصہ پہنا دے۔
جناب یزید بن خمیر رحبی کہتے ہیں :
سیدنا عبداللہ بن بسر t لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن نکلے، تو انہوں نے امام کے دیر کرنے کو ناپسند کیا اور کہا : ہم تو اس وقت عید کی نماز سے فارغ ہو جایا کرتے تھے اور یہ اشراق پڑھنے کا وقت تھا۔
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک دو مرتبہ نہیں کئی مرتبہ عیدین کی نماز اذان اور اقامت کے بغیر پڑھی ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ :
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ، ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ عیدالفطر کی نماز میں حاضر ہوا ۔ یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے(اور بعد میں خطبہ دیتے تھے)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص wسے روایت ہے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا عید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں ہیں ۔
سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عید الاضحی اور عید الفطر میں “ق والقرآن المجيد اور اقتربت الساعة ” کی تلاوت فرماتے ۔
ایک اور روایت کی مطابق “سورة الاعلی اور الغاشیة” تلاوت فرماتے ۔(صحیح مسلم : 878)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
سفر کی نماز دو رکعت ہے، جمعہ کی نماز دو رکعت ہے، عید الفطر اور عید الاضحی کی نماز دو دو رکعت ہے ۔
#عید گاہ میں سترے کا اہتمام کرنا
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ :
رسول اللہeجب عید کے دن باہر تشریف لے جاتے تو اپنے سامنے خنجر گاڑنے کا حکم دیتے وہ جب آپ e کے آگے گاڑ دیا جاتا تو آپ eاس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے اور لوگ آپ eکے پیچھے کھڑے ہوتے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ :
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے عید الفطر کے دن دورکعت نماز ادا کی، اس سے پہلے یا بعد میں کوئی (نفلی نماز) نہیں پڑھی ۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو ، صدقہ فطر ( ہر ) غلام ، آزاد ، مرد ، عورت ، چھوٹے اور بڑے تمام مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے ۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ :
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے صدقہ فطر نماز ( عید ) کے لیے جانے سے پہلے پہلے نکالنے کا حکم دیا تھا۔
سیدنا ابن عباس wسے مروی روایت میں یہ لفظ ہیں :
جو اسے (صدقہ فطرکو)نمازِ عید سے قبل ادا کرے گا تو یہ مقبول صدقہ ہوگا اور جو اسے نماز کے بعد ادا کرے گا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہو گا۔
یعنی صدقہ فطر نماز عید سے پہلے پہلے ادا کردینا چاہیے ۔
رسول اللہ eکے صحابہ جب عید کے دن آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو ” تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْك ” کہتے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم عید کے دن ایک راستہ سے جاتے پھر راستہ بدل کر واپس ہوتے ۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ :
عید کے دن سوڈان کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم ڈھال اور برچھیوں سے کھیل رہے تھے ۔(صحیح بخاری : 2907)
اس سے معلوم ہوا کہ عید کے دن مناسب کھیل کود جائز ہے ، بشرطیکہ اس میں کسی شرعی امر کی مخالفت نہ ہو ۔
سیدہ عائشہ r سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں وہ اشعار گا رہی تھیں جو انصار نے بعاث کی جنگ کے موقع پر کہے تھے۔ سیدہ عائشہ r نے کہا کہ یہ گانے والیاں نہیں تھیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر میں یہ شیطانی باجے ؟ اور یہ عید کا دن تھا ۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے ابوبکر ! ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور آج یہ ہماری عید ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ عید کے دن چھوٹی بچیاں گیت گا سکتی ہیں بشرطیکہ ان میں کسی قسم کے غیر شرعی الفاظ نہ ہو ۔
سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے عید الفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں دو عیدیں ( عید اور جمعہ ) اکٹھا ہو گئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں کو عید کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا :
جو جمعہ کے لیے آنا چاہے آئے، اور جو نہ چاہے نہ آئے ۔
واضح ہو کہ جمعہ کی رخصت پر عمل کرنے والا شخص ظہر کی نماز ادا کرے گا ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو مذکورہ بالا احکام شریعت کے مطابق عید گزارنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…