قارئین کرام ! حج کے احکامات یا مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے حوالے سے ایک حاجی کو کون کونسے کام کرنا منع ہیں ؟
آئیں ملاحظہ فرما کر اثناء ادائیگی حج ان سے اجتناب کریں۔
اللہ ہم سب کے حج و زیارات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے ۔آمین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فتح مکہ کے دن فرمایا :
بلا شبہ یہ شہر ( ایسا ) ہے جسے اللہ نے ( اس وقت سے ) حرمت عطا کی ہے جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ یہ اللہ کی ( عطا کردہ ) حرمت ( کی وجہ ) سے قیامت تک کے لیے محترم ہے اور مجھ سے پہلے کسی ایک کے لیے اس میں لڑائی کو حلال قرار نہیں دیا کیا اور میرے لیے بھی دن میں سے ایک گھڑی کے لیے ہی اسے حلال کیا گیا ہے ( اب ) یہ اللہ کی ( عطا کردہ ) حرمت کی وجہ سے قیامت کے دن تک حرام ہے اس کے کاٹنے نہ کاٹے جائیں ، اس کے شکار کو ڈرا کر نہ بھگایا جائے ، کوئی شخص اس میں گری ہوئی چیز کو نہ اٹھائے سوائے اس کے جو اس کا اعلان کرے ، نیز اس کی گھاس بھی نہ کاٹی جائے ۔ اس پرسیدنا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ﷺ!سوائے اذخر (خوشبو دار گھاس ) کے وہ ان کے لوہاروں اور گھروں کے لیے ( ضروری ) ہے تو آپ نے فر مایا : سوائے اذخر کے۔ (صحیح بخاری : 3302)
وضاحت : البتہ چند موذی جانوروں کو قتل کرنے کی اجازت ہے ۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
تم میں سے کسی کے لیے مکہ میں اسلحہ اٹھانا حلال نہیں ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا : ’’لبيک عن شبرمة‘‘ حاضر ہوں شبرمہ کی طرف سے ۔ آپ ﷺنے دریافت کیا ،شبرمہ کون ہے؟ اس نے کہا : میرا بھائی یا میرا رشتے دار ہے ۔ آپ ﷺنے پوچھا : تم نے اپنا حج کر لیا ہے؟ اس نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پہلے اپنا حج کرو پھر ( آئندہ ) شبرمہ کی طرف سے کرنا ۔ (سنن ابی داؤد : 1811)
وضاحت : یعنی جس شخص نے اپنی طرف سے حج ادا نہیں کیا وہ کسی دوسرے کی طرف سے حج بدل نہیں کر سکتا ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺسے سنا آپ خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے
کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ ہرگز تنہا نہ ہو مگر یہ کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو ۔ اور کوئی عورت سفر نہ کرے مگر یہ کہ اس کے ساتھ محرم ہو ۔ ایک آدمی اٹھا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میری بیوی حج کے لیے نکلی ہے اور میرا نام فلاں فلاں غزوے میں لکھا جا چکا ہے آپ نے فرما یا : جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو ۔
جناب یحییٰ بن عباد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ : رای (ایران کے ایک شہر ) کی ایک خاتون نے امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کو لکھا کہ میں مالدار ہوں ، لیکن محرم نہ ہونے کی وجہ سے میں نے فریضہ حج ادا نہیں کیا ہے ۔ ( لہٰذا میرے لیے کیا حکم ہے ؟ ) امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے انہیں لکھا :
آپ ان لوگوں میں سے ہیں جن پر اللہ نے حج فرض نہیں کیا ۔
اس سے معلوم ہوا کہ کسی خاتون کا بغیر محرم کے سفرِ حج کرنا درست نہیں ۔
سيدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ سے اس خاتون کے متعلق روایت کیا جس کا خاوند ہے اور خاتون خود مالدار ہے جب کہ وہ اسے حج ادا کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ایسی خاتون کے متعلق آپ ﷺنے فرمایا:ایسی جاتون کو خاوند کی اجازت کے بغیر (نفلی ) حج کے لیے نہیں جانا چاہیے ۔
علامہ سید سابق مصری رحمہ اللہ مذکورہ بالا مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ خاوند اگر فرض حج ادا کرنے کی اجازت نہ دے تو بیوی بغیر اجازت کے بھی جا سکتی ہے خاوند کو فرض حج سے اسے منع کرنے کا اختیار نہیں کیونکہ یہ اس پر واجب عبادت ہے ، کیونکہ خالق کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت نہیں ۔ البتہ نفلی حج پر خاوند کو حق ہے کہ اگر چاہے تو روک دے جیسا کہ مذکورہ حدیث میں ہے ۔(ملاحظہ ہو : فقه السنة 1/594)
سيدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے
رسول اللہ ﷺنے محرم کو ورس ( خوشبودار گھاس ) اور زعفران سے رنگا کپڑا پہننے سے منع فرمایا۔ (سنن ابن ماجہ : 2930)
سيدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آپ ﷺسے پوچھا : احرام باندھنے والے کو کیا پہننا چاہیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا :
نہ قمیص پہنے نہ پگڑی باندھے اور نہ پاجامہ اور نہ کوئی سرپوش اوڑھے اور نہ کوئی زعفران اور ورس سے رنگا ہوا کپڑا پہنے اور اگر جوتے نہ ملیں تو موزے پہن لے اور انہیں ( اس طرح ) کاٹ دے کہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔ (صحیح بخاری : 134)
سيدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :
محرم عورت نہ نقاب لگائے اور نہ دستانے پہنے۔(سنن ترمذی : 833)
وضاحت : البتہ جب کسی غیر محرم مرد کا سامنا ہو تو مکمل طور منہ ڈھانپنا چاہیے۔
علامہ ابن منذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
اس پر اجماع ہے کہ محرم کے لیے ناخن تراشنا ممنوع ہے۔ (الاجماع : 148)
سيدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :
عورتوں پر حلق (سر کے بال منڈوانا)نہیں صرف تقصير (بال کٹانا ) ہے ۔ (سنن ابی داؤد : 1984)
سيدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے
میں مکہ آئی تو اس وقت میں حائضہ تھی۔ اس لیے بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی اور نہ صفا مروہ کی سعی۔ فرماتی ہیں کہ میں نے اس کی شکایت رسول اللہ ﷺسے کی تو آپ نے فرمایا : جس طرح دوسرے حاجی کرتے ہیں تم بھی اسی طرح ( ارکان حج ) ادا کر لو ہاں بیت اللہ کا طواف پاک ہونے کے بعد کرنا۔(صحیح بخاری : 1650)
سيدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
رسول اللہ ﷺنے فرمایا :
جو شخص حالت احرام میں ہو ، وہ نہ نکاح کرے نہ نکاح کرائے اور نہ نکاح کا پیغام بھیجے ۔(صحیح مسلم : 3448)
سيدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا :
جس نے حج کیا نہ کوئی فحش بات کی اور نہ کسی گناہ کا مرتکب ہوا تو وہ اس دن کی طرح واپس لوٹے گا جیسے اس کی ماں نے اسے جنا ہے۔
اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :
اے ایمان والو ! تم احرام کی حالت میں شکار نہ کرو ۔
(المائدة : 95)
یاد رہے کہ احرام کی حالت میں سمندری شکار جائز ہے ۔
نبی کریم ﷺ ایک بوڑھے کے قریب سے گزرے جو اپنے دو بیٹوں کے سہارے ( حج کے لیے ) چل رہا تھا، آپ نے پوچھا : ان کا کیا معاملہ ہے ؟ لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ﷺ! انہوں نے ( پیدل ) چلنے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا : اللہ عزوجل اس کے اپنی جان کو عذاب دینے سے بے نیاز ہے ، پھر آپ نے اس کو سوار ہونے کا حکم دیا۔(سنن ترمذی : 1537)
جناب سعيد بن مسيب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ :
سيدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان خواتین کو جو خاوند کے فوت ہونے کی وجہ سے عدت میں ہوتیں مقام بیداء سے ہی واپس کر دیتے ، انہیں حج کرنے کی اجازت نہیں دیتے ۔(مؤطا مالک : 1730)
ایک شخص احرام کی حالت میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ آیا ، وہ اپنے اونٹ سے گر گیا ( اس سے ) اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا : اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو۔ اس کے اپنے ( احرام کے ) دو کپڑے پہناؤ اس کا سر نہ ڈھانپو بلا شبہ وہ قیامت کے روز آئے گا ۔ تلبیہ پکار رہا ہوگا ۔
سيدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :
اے عمر ! تو طاقتور آدمی ہے ، کمزوروں کو تکلیف نہ پہنچانا، جب حجر اسود تمہیں خالی مل جائے تو استلام (چھولو ) کرلو اگر (بھیڑ ہو تو) اس کی طرف منہ کر کے اللہ اکبر کہو (اور اشارہ کرتے ہوئے گزر جاؤ)۔
سيدنا جبير بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :
پورا عرفات وقوف کی جگہ ہے وادی عرنہ سے اوپر رہو يعنی وہاں وقوف نہ کرو ۔(المعجم الکبير : 1583)
عرنہ میدان عرفات کے ساتھ ایک وادی ہے جو عرفہ میں داخل نہیں ہے اس لیے وہاں وقوف کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔
سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
عرفہ کے دن لوگوں کو رسول اللہ ﷺکے روزے کے متعلق شک ہوا ، اس لیے میں نے آپ کو پینے کے لیے کچھ بھیجا جسے آپ نے پی لیا۔ (صحیح بخاری : 1658)
ایک حاجی کے لیے عرفات کے دن روزہ رکھنا مسنون نہیں جبکہ غیر حاجی کے لیے عرفہ کا روزہ رکھنا مستحب ہے اور بہت بڑے اجر وثواب کا باعث ہے ۔(ملاحظہ ہو: صحیح مسلم : 1162)
سيدنا عبدالرحمان بن عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
رسول اللہ ﷺنے حاجیوں کی گری ہوئی چیز اٹھانے سے منع فرمایا ہے ۔
حاجی کی گری ہوئی چیز اٹھانا منع ہے ، ہاں اگر اعلان کرنے کا ارادہ ہو تو درست ہے ۔ جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت بخاری میں موجود ہے ۔
سيدنا جبير بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :
پورا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے وادئ محسر سے اوپر رہو يعنی وہاں نہ ٹھہرو ۔(المعجم الکبير : 1583)
محسر منی و مزدلفہ کے درمیان ایک وادی ہے جو مزدلفہ میں داخل نہیں ہے ، اسی ہی مقام پر اصحاب فیل پر پتھر برسائے گئے تھے ، اس لیے وہاں ٹھہرنے سے منع کیا گیا ہے ۔
سيدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے
رسول اللہ ﷺ نے طواف افاضہ کے سات چکروں میں رمل نہیں کیا ۔(صحیح ابن خزیمة : 2943)
سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
میری قبر کو عیدگاہ نہ بناؤ اور میرے اوپر درود بھیجا کرو کیونکہ تم جہاں بھی رہو گے تمہارا درود مجھے پہنچایا جائے گا۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…