ڈاکٹر مقبول احمد مکی
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’اور ہم نے ہر قوم کی عبادت(قربانی) کے طریقے مقرر کئے ہیں تاکہ وہ اﷲ کے دئیے ہوئے چوپائے جانوروں پر اﷲ کا نام لیں۔‘‘(الحج 22: آیت 34)
’’اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔‘‘
’’(اے محمد e)کہہ دیجئے کہ میری نماز اور میری عبادت (قربانی) میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا سب کچھ اﷲ کے لئے ہے۔‘‘
’’قربانی کے اونٹ ہم نے تمہارے لئے اﷲ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے مقرر کئے ہیں ان میں تمہارے لئے فائدے ہیں پس کھڑا کر کے ان پر اﷲ تعالیٰ کا نام لے کر نحر (ذبح) کرو پھر جب پہلو کے بل گر پڑیں تو ان میں سے خود بھی کھاؤ اور مسکین سوال کرنے اور سوال نہ کرنے والوں کو بھی کھلاؤ۔ اﷲ تعالیٰ کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے اور نہ ہی ان کے خون بلکہ اُسے تو تمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے ۔‘‘
’’اورمقررہ ایام میں (ذبح کے وقت) چوپاؤں پر اﷲ کا نام لو جو اﷲ( تعالیٰ) نے تمہیں دئیے ہیں پھر ان میں سے خود بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ۔‘‘
قربانی کرنا سنت ہے:
سیدنا براء ابن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک اس دن ہم پہلا کام یہ کرتے ، کہ نماز [عید] ادا کرتےہیں، پھر واپس آتے ہیں اور قربانی کرتے ہیں جس شخص نے ایسا کیا اس نے ہماری سنت کو پالیا‘‘ ۔
سیدنا انس فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ دو مینڈھے ذبح کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھے ذبح کرتا ہوں‘‘ ۔
کن جانورں کی قربانی درست نہیں:
’’چار قسم کے جانورقربانی میں جائز نہیں، کانا،جس کا کاناہونا واضح معلوم ہو ، بیمار جس کی بیماری واضح ہو، لنگڑا جس کا لنگڑا پن نمایاں ہو اور ایسا بوڑھا کہ اس کی ہڈیوں میں گودھا نہ ہوا ۔‘‘
امام احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ن ابن حبان اور حاکم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ، کہ ہم (قربانی والے جانور کی) آنکھوں اور کانوں کی اچھی طرح پڑتال کر لیا کریں اور وہ جانور ذبح نہ کریں ، جو یک چشم ہو ، یا جس کے کان آگے سے یا پیچھے سے کٹ کر لٹک گئے ہوں یا جس کے کان لمبائی میں کٹے ہوں یا عرض میں (یا جس کےکانوں میں سوراخ ہو)۔
طاقت کے باوجود قربانی نہ کرنے والوں کے لیے وعید
نبی کریمﷺ نے فرمایا:
’’جو شخص قربانی کرنے کی طاقت رکھتا ہے اس کے باوجود وہ قربانی نہیں کرتا تو وہ ہر گز ہماری عید گاہ میں نہ آئے۔‘‘
قرباني کرنے والا ذوالحجہ کے چاند کے بعد بالوں اور ناخنوں کو نہ چھیڑے
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے :
’’ جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو اور تمہارا قربان کرنے کا ارادہ ہو تو اپنے بالوں اور ناخنوں (کو کاٹنے اور تراشنے) سے بچو۔‘‘
پورے گھرانے کی طرف سے قربانی کا حکم
نبي کريم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :
’’ اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ ، اے اللہ! محمد ، آل محمد اور امت محمد ﷺ کی طرف سے قبول فرمائیے۔‘‘
سیدنا عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
’’رسول اللہ ﷺ اپنے سارے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرتے تھے ۔‘‘
سیدناعطابن یسارh نے سیدناابو ایوب انصاریt سے سوال کیا کہ رسول کریم e کے زمانے میں قربانی کی کیا کیفیت تھی۔؟ تو انہوں نے فرمایا :
’’ آدمی اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک قربانی دیا کرتا تھا اور اس سے وہ کھاتے بھی تھے اور کھلاتے بھی تھے پھر لوگ فخر کرنے لگے اور نوبت جہاں تک پہنچ گئی ہے وہ تم دیکھ رہے ہو۔‘‘
قربانی کے جانور کی عمر کیا ہو؟
نبیٔ کریم ﷺ نے فرمایا:
’’ دو دانت والے کے علاوہ کسی اور جانور کی قربانی نہ کرو ہاں اگر دشواری پیش آجائے تو دو دانت سے کم عمر کا دنبہ بھی ذبح کرلو۔‘‘
صحابہ فرماتے ہیں:
’’ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دو دانتوں سے کم عمر والے دنبہ کی قربانی دی۔‘‘
مشین لگے جانور کی قربانی
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :
’’یقیناً رسول اللہ ﷺ کے پاس دو سینگوں والے ، چت کبرے ، بڑے بڑے خصی مینڈھے لائے گئے ، آپ نے ان دونوں میں سے ایک کو پچھاڑا اور کہا ’’ اللہ کے نام سے اور اللہ تعالیٰ سب سے بڑے ہیں ، محمد ﷺ اور ان کی امت کی طرف سے ، جنہوں نے آپ کی توحید کی گواہی دی اور میرے پیغام الٰہی کو پہنچانے کی شہادت دی۔‘‘
قربانی کے دن
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :
’’تشریق کے سب دنوں میں (قربانی کا جانور) ذبح (کرنا درست) ہے۔‘‘
قربانی کب کي جائے ؟
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے :
’’ جس نے ہماری نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کی طرف رخ کیاوہ (نماز عید سے) واپس آنے سے پہلے قربانی نہ کرے۔‘‘
نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :
’’ بے شک اس دن ہم پہلا کام یہ کرتے ہیں کہ نماز (عید) ادا کرتے ہیں پھر واپس آتے ہیں اور قربانی کرتے ہیں جس شخص نے ایسے ہی کیا اس نے ہماری سنت کو پالیا اور جس نے اس سے پہلے ذبح کیا تو وہ گوشت ہے ، جو اس نے اپنے گھر والوں کو دیا اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں ۔
قربانی کاجانورکون ذبح کرے ؟
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مر وی ہے کہ انہوں نے فرمایا :
’’ نبی کریم ﷺ نے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی دی، میں نے آپ کو اپنا قدم ان کے پہلوؤں پر رکھے (بِسْمِ اللّهِ وَاللّهُ أَکْبَرُ)پڑھتے دیکھا اور آپ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح فرمایا ۔‘‘
امام احمد نے ایک انصاری شخص سے روایت کی ہے :
رسول اللہﷺ نے اپنے قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کے لیے پچھاڑا اور آپ ﷺ نے آدمی سے فرمایا کہ قربانی(کے ذبح کرنے) میں میری اعانت کرو۔‘‘
قربانی کا جانور دوسروں سے ذبح کروانا:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے بیان کیا :
’’ اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔‘‘
خاتون کا اپنی قربانی کے جانور کو ذبح کرنا جائز ہے
امام بخاری رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے :
ابو موسی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹیوں کو حکم دیا کہ وہ اپنی قربانیاں خود ذبح کریں ۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
بے شک ایک عورت نے پتھر سے ایک بکری کو ذبح کیا نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیاگیا تو آپ ﷺ نے اس کے کھانے کاحکم دیا۔
اگر کوئی نمازِ عید سے پہلے قربانی کرےتو کیساہے؟
سیدنا جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ قربانی کے دن میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کرلی ہووہ اس کی جگہ دوبارہ کرے اور جس نے قربانی ابھی نہ کی ہو وہ کرے۔
ذبح کرنے کا طریقہ:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم ﷺ سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور رسول اکرم ﷺ اپنا پائوں ان کی گردنوں کے اوپررکھتے اور انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے۔
قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائےاورکتناجمع کرکے رکھا جائے
سیدنا سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے تم میں سے قربانی کی تو تیسرے دن وہ اس حالت میں صبح کرے کہ اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میںسے کچھ بھی باقی نہ ہو۔ دوسرے سال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم اس سال بھی وہی کریں جو پچھلے سال کیا تھا۔ (کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت بھی نہ رکھیں) رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اب کھائو ، کھلائو اور جمع کرو۔ پچھلے سال تو چونکہ لوگ تنگی میں مبتلا تھے، اس لیے میں نے چاہا کہ تم لوگوں کی مشکلات میں ان کی مدد کرو۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…