سیدناخلیل اللہ ابراہیم ﷺ کی داڑھی مبارک:
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
پھر ہم نے آپ کی جانب وحی کی کہ آپ یکسو ہوکر ملت ابراہیم کی اتباع کریں اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔
ملت ابراہیم سے وہی ہٹتا ہے جو خود کو بےوقوف بنارہا ہو، انہیں ہم نے دنیا میں چنا تھا اور آخرت میں وہ صالحین میں سے ہوں گے۔
آپ کہہ دیں کہ اللہ نے سچ فرمایا ،پس تم ملت ابراہیم کی اتباع کرو جو یکسو تھے اور مشرکین میں سے نہ تھے۔
اس سے بڑھ کر اچھا دیندار کون ہوگا جس نے خود کو اللہ کا مطیع بنالیا اور اس نے ملت ابراہیم کی اتباع کی جو یکسو تھے اور اللہ نے ابراہیم کو خلیل بنایا۔(النساء:125)
تمہیارے لئے ابراہیم اور اسکے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے۔(الممتحنۃ:4)
نیز اسی قسم کے الفاظ محمد رسول اللہ ﷺ کے لئے بھی اختیار کئے جو اِن دونوںکے اسوہ حسنہ کی یگانگت کی عکاسی کرتے ہیں،چنانچہ ارشاد فرمایا:
تمہارے لئے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے ان کے لئے جو اللہ اور روز آخرت کی امید رکھتے ہوں اور اللہ کا بکثرت ذکر کرتے ہوں۔(الاحزاب:21)
سیدنا ابراہیم ﷺ سے متعلق یہ تمام آیات واضح دلیل ہیں کہ اُن کے اسوہ حسنہ کی اتباع فرض ہے،اور یہ اتباع صرف عقیدے سے متعلق امور تک محدود نہیں ،بلکہ انکی سیرت و ملت اور اسوہ سے متعلق جو بات بھی کتاب و سنت سے ثابت ہو اسے اختیار کرنا مقصود ِ الہٰی ہے، چنانچہ ذیل میں انکی داڑھی سے متعلق ایک روایت ملاحظہ ہو:
سند:
متن:
داڑھی کو پورا کرو،اور مونچھوں کو پست کرو،اور ابراہیم علیہ السلام خلیل الرحمٰن اپنی داڑھی کو پورا اور مونچھیں پست رکھتے تھے۔(طبرانی کبیر:11724)
تحقیق:
ان الفاظ کے ساتھ یعنی مرفوعاً یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے،کیونکہ اسکی سند میں اسماعیل بن عمرو البجلی ضعیف ہے،نیز سماک کی عکرمہ سے روایت میں بھی محدثین نے کلام کیا ہے،لیکن معنی کے اعتبار سے دیکھا جائے اور قرائن کا اعتبار کیا جائےتویہ روایت نصوص صحیحہ کے عین مطابق ہے:
پہلا قرینہ:
گذشتہ آیات دلالت کرتی ہیں کہ نبی کریمﷺ ملت ابراہیمی کی اتباع کرتے تھے،اوراب تک کےمضمون میں ہم تواتر کے ساتھ ثابت کر آئے ہیں کی رسول اللہ ﷺ کی داڑھی مکمل تھی ،آپ نے کبھی داڑھی کو کاٹا یا تراشا نہیں،یقیناً ؒ یہ بھی ملت ابراہیمی کی اتباع کے ضمن میں ہی ہے۔
دوسرا قرینہ:
رسول اللہ ﷺ کی داڑھی کا حال آپ ملاحظہ کرچکے ہیںاوراحادیث صحیحہ کے مطابق بنی آدم میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ شکل و صورت میں سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے محمد رسول اللہ ﷺ تھے،جیسا کہ درج ذیل روایات سے معلوم ہوتا ہے،چنانچہ فقیہ امت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس رات مجھے معراج کروائی گئی میں نے سیدناموسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ چھریرے بدن والے قد آور اور گھنگریالے بالوں والے تھے،گویا شنوءۃ قبیلے سے تعلق رکھتے ہوں،اور میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ میانے قد کے گورے انسان تھے گویا دیماس(حمام) سے نکلے ہوں(یعنی ہشاش بشاش)،اور ابراہیم ﷺ کی نسل میں انکے ساتھ سب سے زیادہ مشابہہ میں ہی ہوں ۔(صحیح بخاری:3394)
نیز سیدنا رئیس المفسرین عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام(کو دیکھنا ہو )تو اپنے صاحب (یعنی خود نبی کریمﷺ)کو دیکھ لو۔(صحیح بخاری:3355،5913)
متن:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہاکہ نبی کریم ﷺ کو بیت المقدس تک سیر کروائی گئی پھر اسی رات آپ تشریف لائے اور لوگوں کو اپنی سیراور بیت المقدس کی علامات اور انکے تجارتی قافلےکا بتایا تو لوگوں نے کہا:ہم محمد ﷺ کی بات کی تصدیق کریں؟ لہذا مشرکین مکہ کفر پر قائم رہے،تو اللہ نے ابوجہل کے ساتھ انکی گردنیں بھی ماردیں(یعنی انہیں مختلف مواقع پر ہلاک کردیا)اور ابوجہل نے کہا: محمد ﷺ ہمیں شجرہ زقوم سے ڈراتے ہیں،کھجور اور مکھن لاؤ،پھر انہوں نے دونوں کو ملاکر کھالیا (یعنی لغت کے حساب سے بھی زقوم ہی ہے جسے اس نے کھاکر یہ ظاہر کیا کہ وہ شجرہ زقوم سے خوفزدہ نہیں)،اور آپ نے اپنی آنکھوں سے نہ کہ خواب میں دجال کو اسکی اصل شکل میں دیکھا،اور سیدناعیسیٰ ،موسیٰ اور ابراہیم صلوات اللہ علیہم کو بھی دیکھا،پس رسول اللہ ﷺ سےدجال کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:نہایت گورا (سرخ)،راوی حسن نے کہا:میرے خیال میں اس طرح کہا کہ:نہایت گورا اور بڑے جثے والا،اسکی دو میں سے ایک آنکھ ٹیرھی ہوئی ہے گویا چمکتا ہوا تارہ ہو،اسکے سر کے بال گویا کسی درخت کی ٹہنیاں ہوں،اور میں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا ،جوان ، گورے، گھنگریالے بال اور تیز نگاہ والے،دبلے پتلے،اور میں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا پختہ گندمی رنگت والے،بہت بال والے،حسن راوی نے کہا:بہت بالوں والے،مضبوط جسامت والے،اور میں نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا پس میں نے انکے جس بھی عضو کو دیکھا گویا انہیں دیکھ کر میں نے خود کو دیکھا ،گویا وہ تمہارے صاحب(یعنی خود آپ ﷺ)ہی ہیں،تو جناب جبریل علیہ السلام نے کہا،مالک (داروغہ جہنم)کو سلام کریں ،تومیں نے انہیں سلام کیا۔(مسند احمد:3546،مسند ابی یعلیٰ:2720،تہذیب الآثار لمحمد بن جریر الطبری:1/408– 1/461،رقم:747،اخبار الدجال لعبدالغنی المقدسی (المتوفیٰ:600ھ) :64،السنن الکبری للنسائی مختصراً:11219،اسے شیخ شعیب الارناؤط نے مسند احمد کی تخریج میںصحیح اور علامہ البانی نے الاسراء والمعراج (ص:77)میں حسن کہا ہے)
فائدہ:
اس روایت میں سیدنا موسیٰ ﷺ کے متعلق یہ الفاظ کے ”كَثِيرَ الشَّعْرِ“ یعنی بہت بال والے،دلالت کرتے ہیں کہ انکی داڑھی بھی گھنی رہی ہوگی۔
دوسرا فائدہ:
اس روایت میں نبی کریم ﷺ سیدنا ابراہیم ﷺ کاحلیہ مبارک جس انداز میں بیان کیا ہے یہ انداز و الفاظ پوری صراحت کرتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی داڑھی بھی مکمل طور پرنبی کریم ﷺ کی داڑھی کی مانند تھی۔
تیسرا قرینہ:
حسن درجے کی ایک موقوف روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے مونچھیں پست کرنے کے سلسلے میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اتباع کی،روایت درج ذیل ہے:
امام محمد بن عیسیٰ بن سورہ الترمذی نے کہا:
سند:
متن:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا:
نبی کریم ﷺ اپنی مونچھیں پست کیا کرتے تھے اور خلیل الرحمن ابراہیم ﷺ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
تخریج وتحقیق:
شواہد کی بناء پر یہ روایت حسن ہے،اسے ابن عباس سے روایت کرنے والے عکرمہ مولیٰ ابن عباس ہیں عکرمہ سے روایت کرنے والے سماک بن حرب ابوالمغیرہ الکوفی ہیں،اور سماک سے روایت کرنے والے تین ہیں:
1زائدہ بن قدامہ الکوفی
امام ترمذی نے اس روایت کے متعلق کہا:
یہ روایت حسن غریب ہے۔(سنن ترمذی:2760)
حافظ ابن حجر نے امام ترمذی کی موافقت کی ہے۔(فتح الباری:10/347)
امام ابو حاتم نے کہا:
ہمیں یہ روایت احمد بن یونس نے زائدہ کے طریق سے اسی سند سےموقوفاً بیان کی،اور یہ مرفوعاً روایت کرنے والوں سے زیادہ صحیح ہے۔(علل الحدیث لابن ابی حاتم:6/56، رقم:2314)
لیکن بہت سے شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے۔( بذل الاحسان بتقريب سنن النسائی لابی عبد الرحمن:1/150)
چوتھا قرینہ
اس روایت سے ہمارا استدلال عقیدے کے باب میں نہیں،نہ ہی اس سے کسی عبادت یا عمل کا اثبات کرنا مقصود ہے،نہ ہی اسکے ذریعے حلا ل یا حرام ، جائز یا ناجائز کا تعین مقصود ہے،بلکہ صرف حلیہ مبارکہ سے متعلق ایک جزئی ثابت کرنا مطلوب ہے،جبکہ یہ جزئی بطریق اقتضاء النص صحیح حدیث سے ثابت ہورہی ہے،یعنی رسول اللہ ﷺ کی ابراہیم ﷺ سے مشابہت والی حدیث سے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سورۃ الانعام آیت نمبر 83 سے آیت نمبر 86 تک میں اٹھارہ انبیاء و رسل علیہم الصلاۃ والسلام کے نام ذکر کئے ،پھر آیت نمبر 87 میں انکے آباء و اجداد،انکی ذریت اور انکے بھائیوں کا ذکر کیا،اور اس بات کا کہ وہ سب اللہ کے چنے ہوئے اور صراط مستقیم پر چلنے والے بندے تھےپھر آیت نمبر 88 اور 89 میں اس بات کا ذکر کیا کہ وہ نہ تو مشرک تھے نہ ہی انہوں نے کبھی کفریہ عمل کیا،اور پھر آیت نمبر 90 میں ارشاد فرمایا:
أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ.
’’ان لوگوں کو اللہ نے ہدایت دی پس آپ انکی ہدایت کو اختیار کریں۔‘‘
متذکرہ بالا آیت میں ذکر کردہ انبیاء و رسل کے نام یہ ہیں: (1) ابراہیم (2) اسحاق (3) یعقوب (4) نوح (5) داؤد (6) سلیمان (7) ایوب (8) یوسف (9) موسیٰ (10) ہارون (11) زکریا (12) یحیی (13) عیسیٰ (14) الیاس (15) اسماعیل (16) الیسع (17) یونس (18) لوط صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہم وسلّم تسلیماً کثیراً
اگرچہ ان میں سے بعض رسل کی شریعتیں امت محمدیہ کی شریعت سے مختلف تھیں،اور امت محمدیہ انکی شرائع کی مکلف نہیں،علاوہ ازیں شریعت محمدیہ آجانے کے بعدوہ منسوخ بھی ہوچکی ہیں،لیکن جن امور کا تعلق فطرت سے ہے وہ سبھی شرائع میں متحد ہیں،اور داڑھی بھی امور فطرت میں سے ہے جیسا کہ چند سطوربعدصحیح مسلم( کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ )کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں صراحت آجائیگی،بناء بریں ہارون ﷺ کی داڑھی کے سلسلے میں اقتداء شرعاً مطلوب ہے،اور انکی داڑھی کا تذکرہ قرآن مجید میں بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جب سیدنا موسیٰ ﷺ کو کوہ طور پر طلب کیا تو انہوں نے ہارون ﷺ کو بنی اسرئیل کی نگرانی کے لئے چھوڑدیا اور ساتھ لیکر نہ گئے،پھر جب 40 راتوں بعد واپس آئے تو قوم کو بعل پرستی میں مبتلا دیکھا تو ہارون ﷺ پر شدید ناراض ہوئے اور غصے میں انکی داڑھی اور سر کے بالوں کو پکڑ کر انہیں کھینچنے لگے ،اس واقعہ سے متعلق قرآن مجید کے دو مقامات ملاحظہ کریں:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
موسی نے کہا اے ہارون،جب تو نے انہیں گمراہ ہوتا دیکھا تو میری اتباع کرنے سے تجھے کس نے روکا،کیا تو نے میری نافرمانی کی؟ہارون نے کہا:اے میرے خالہ زاد ،میری داڑھی اور میرا سر نہ پکڑ ،مجھے ڈر ہوا کہ تو کہے گا کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کی پاسداری نہ کی۔(طہ:92–94)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
جب موسیٰ اپنی قوم کی جانب غصہ ہوکر افسردہ لوٹا تو کہا:تم نے میرے پیچھے بڑا برا کام کیا،کیا تم نے اپنے رب کے حکم کا انتظار نہ کیا،اور اس نے لوحیں پھینک دیں اور اپنے بھائی کا سرپکڑ کر کھینچنے لگا،اس نے کہا:اے میرے خالہ زاد قوم کے لوگوں نے مجھے بے بس کردیا اور مجھے قتل کرنے کے درپے ہوگئے،پس تو میرے سبب دشمنوں کو ہنسنے کو موقع نہ دے،اور نہ ہی مجھے ظالموں میں شامل کر۔
ہمارا استدلال یہ ہے کہ ہارون ﷺ کی داڑھی کافی دراز تھی کہ موسی ﷺ نے اسے باآسانی پکڑلیا،تقریباً سبھی قدیم و جدیدمفسرین اس معنیٰ پر متفق ہیں کہ انکی داڑھی کافی طویل و ضخیم تھی ،بلکہ بعض شدید ضعیف روایات میں صراحت ہے کہ انکی داڑھی انکی ناف تک دراز تھی۔(دلائل النبوۃ للبیہقی:2393،الشریعۃ للآجری:1070، تاریخ دمشق:3/513،سلسلہ ضعیفہ:6203)۔ واللہ اعلم
ابو طالب المکی (المتوفیٰ:386ھ)کی قوت القلوب (2/240)اور ابو حامد الغزالی(المتوفیٰ:505ھ)کی احیاء العلوم(1/144)کے مطابق اہل جنت کی داڑھی نہ ہوگی سوائے ہارون علیہ السلام کے ،لیکن انہوں نے اسکی کوئی سند ذکر نہیں کی۔
نیزبعض روایات کے مطابق اہل جنت کی داڑھی نہ ہوگی نہ ہی انکے جسم پر کوئی بال ہوگا سوائے موسیٰ علیہ السلام کے انکی داڑھی ناف تک ہوگی۔
یہ روایت موضوع و من گھڑت ہے،تحقیق کے لئے ملاحظہ ہو:(فوائد تمام:669،الضعفاء الکبیر للعقیلی:2/197، تاریخ بغداد:7325،تاریخ دمشق:7/389،(الکامل فی ضعفاء الرجال،رقم الراوی: 907، العظمۃ لابی الشیخ:5/1580،مشیخۃ قاضی المارستان:371،صفۃ الجنۃ لابی نعیم الاصبہانی:2/108،المجروحین لابن حبان:483،مسند الفردوس: 1649،مَسَائل أجَابَ عَنہا الحَافظُ ابن حَجر العَسقَلانی:27،الموضوعات لابن الجوزی:3258، معرفۃ التذکرۃ فی الاحاديث الموضوعۃ لابن القیسرانی:616،سلسلہ ضعیفہ: 704–1815– 1816–1817)
البتہ اس روایت کا پہلا فقرہ کہ” اہل جنت کی داڑھی اورانکے جسم پر بال نہ ہوں گے“ یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے ۔(سنن ترمذی:2539،صحیح الجامع:2525)
ایسے ہی بعض روایات (تاریخ دمشق:7/389)میں آدم علیہ السلام کے متعلق بھی اسی طرح آیا ہے کہ جنت میں انکی داڑھی ناف تک ہوگی ۔
اول تو یہ کعب احبار کا قول ہے دوم اسکی سند میں بقیہ بن ولید کثیر التدلیس ہے اور عن سے روایت کررہا ہے،نیز موسیٰ بن ابراہیم المروزی شدید ضعیف ہے،اسکے علاوہ اس میں کچھ اور علتیں بھی ہیں،لہذا اس کا من گھڑت ہونا واضح ہے۔
اہم تنبیہ:
شاملہ فارمیٹ میں موجود کتاب ”العظمۃ لابی الشیخ“ (5/1579–1580)میں تابعی بکر بن عبداللہ المزنی رحمہ اللہ کا قول نقل کیا گیا ہے جسکے رواۃ ثقات ہیںاورسند متصل ہے اورالفاظ یہ درج ہیں:
جنت میں کسی کی داڑھی نہ ہوگی سوائے آدم علیہ السلام کے انکی کنیت ابو محمد ہوگی ، اللہ عزَّ و جلَّ انہیں محمدﷺ کی نسبت دے کر اعزاز عطاء فرمائے گا۔
ہمارے ناقص خیال کے مطابق یہ تصحیف ہے ،یہاں لفظ ”لحیۃ“(داڑھی)نہیں بلکہ لفظ ”کنیۃ“(کنیت) ہے۔ واللہ اعلم
سیدنا موسی کی داڑھی مبارک:
چند سطور قبل ہم مسند احمد(3546)کے حوالے سے ایک صحیح روایت ذکر کر آئے ہیں جسکے مطابق موسیٰ علیہ السلام بہت زیادہ بالوں والے تھے،جو انکی داڑھی کی ضخامت و کثاثت اور داڑھی کے بالوں کی کثرت و طوالت کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
نیز بعض ضعیف روایات کے مطابق انکی داڑھی بھی ہارون علیہ السلام کی مانند کافی دراز تھی،جیسا کہ اہل جنت کی داڑھی کے ضمن میں گذرا۔
جبکہ بعض دیگر روایات کے مطابق ہارون علیہ السلام اور موسی علیہ السلام ایک دوسرے کے مشابہہ تھے،اورموسیٰ علیہ السلام ”کث اللحیۃ“یعنی گھنی داڑھی والے تھے، درج ذیل سطور ملاحظہ ہوں:
کتب احادیث میں ایسی متعدد صحیح روایات ملتی ہیں جنکے مطابق یہود و نصاریٰ اور مشرکین نے انبیاء و رسل علیہم الصلاۃ والسلام اور صالحین کی تصاویر بناکر اپنی عبادت گاہوں میں آویزاں کردی تھیں،انکی مختصر تفصیل آگے آجائے گی۔
سردست ہم تین روایات پیش کریں گےپہلی دو روایات میں انبیاء کی تصاویرکا اجمالی تذکرہ ہے،جبکہ تیسری روایت میں کچھ تفصیل ہے،پہلے مجمل روایات ملاحظہ ہوں:
امام محمد بن اسماعیل البخاری نے کہا:
حدثنى محمد بن عمر قال حدثتنا ام عثمان بنت سَعِيد عَنْ أَبِيها سَعِيد عَنْ أَبِيه مُحَمَّد بْن جُبَيْر عَنْ جُبَيْر بْن مطعم قَالَ :
میں ملک شام تجارت کی غرض سے گیاتو میری ملاقات ایک اہل کتاب سے ہوئی،اس نے پوچھا:کیا تمہاری طرف کوئی نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے؟میں نے کہا:ہاں،تو ایک اور اہل کتاب آیااس نے کہا:تم کس حال میں ہو؟پھر اس نے مجھے ایک گھر میں داخل کیا جس میں تصاویر تھیں،تو میں نے نبی ﷺ کو دیکھا، تو اس نے پوچھا:کیا یہ وہی ہیں؟میں کہا:ہاں،اس نے کہا:ہر نبی کے بعد نبی آیاسوائے اس نبی کے۔
تحقیق:
بقول علامہ طرہونی اسکی سند میں کوئی بھی راوی متکلم فیہ نہیں ہے،محمد بن عمر کو امام بخاری (التاریخ الکبیر: 1/179،رقم:545)اور امام ابوحاتم(الجرح والتعدیل: 8/19،رقم:87) نے ذکر کیا ہے ، اس سے روایت بھی کی ہے لیکن اس پر کوئی جرح نہیں کی،نیز امام ابن حبان نے اسے الثقات (15218)میں ذکر کیا ہے،ام عثمان بنت سعید(جدۃ محمد بن عمر) جیسی مجہول الحال خواتین کے متعلق امام ذہبی نے المیزان (4/604،فصل فی النسوۃ المجھولات) میںکہا کہ:میں کسی بھی ایسی خاتون کو نہیں جانتا جو متہمہ ہو یا متروکہ ہو،سعید بن محمد کو حافظ ابن حجر (تقریب التہذیب: 2385) نے مقبول کہا،اور محمد بن جبیر (تقریب التہذیب: 5780) ثقہ ہیں،بنا بریں علامہ محمد بن رزق بن طرہونی حفظہ اللہ نے ”صحیح السیرۃ النبویۃ المسماۃ السیرۃ الذہبیۃ“(طبع دار ابن تیمیہ القاہرہ ،ص: 341)میں اسے حسن قرار دیا ہے۔
دوسری روایت:
اس معنی کی ایک اور روایت سیدنا دحیہ بن خلیفہ الکلبی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ،لیکن وہ شدید ضعیف ہے،ملاحظہ ہو:الدیباج للختلی (المتوفیٰ: 283ھ) :35 ، امالی ابن سمعون (المتوفیٰ:387) :1/275،رقم: 304،التدوین فی اخبار قزوین:4/24،تاریخ دمشق: 17/209،سلسلہ ضعیفہ از البانی:3304،البتہ عصر حاضر کے عظیم محقق علامہ محمد بن رزق بن طرہونی حفظہ اللہ کےمطابق اسے امام ابن عساکر نےاپنی سند سے تاریخ دمشق میںاسحاق بن ابراہيم الختلی نا عمر بن ابراہيم بن خالد نا نجيح ابو معشر عن محمد بن کعب عن دحيۃ بن خليفۃ رضی اللہ عنہ…کے طریق سے روایت کیا ہے جسے بعض ائمہ نے قبول کیا ہے،اس اعتبار سے اس روایت کو بطور شاہد کے پیش کیا جاسکتا ہے،نیز صحیح بخاری(07)وغیرہ کی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہرقل کے پاس اپنا نامہ مبارک سیدنا دحیہ الکلبی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں روانہ کیا تھا۔واللہ اعلم(صحیح السیرۃ النبویۃ المسماۃ السیرۃ الذہبیۃطبع دار ابن تیمیہ القاہرہ ،ص:342)
سیدنا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت سے متعلق ایک طویل روایت جو دو صحابہ (ہشام بن العاص اور عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہما)سے مروی ہے،جس میں بہت سے انبیاء ورسل علیہم الصلاۃ والسلام کی تصاویر اور انکے حلیوںکا ذکر ہے، اس میں انکی داڑھیوں کے ضمن میں درج ہے کہ وہ مکمل داڑھی والے تھے،یہ روایت بالاختصار درج ذیل ہے،چنانچہ امام بیہقی نے کہا:
سیدنا ہشام بن العاص الاموی رضی اللہ عنہ نے کہا:
…ہم ہرقل کے پاس تین دن رہے،پھر ایک رات اس نے اپنا نمائندہ بھیج کر ہمیں بلوایا ،ہم اس کے پاس گئے ،اس نے ہم سے ہماری باتیں دوبارہ کہلوائیں ،ہم نے اس پر اپنی باتیں دہرائیں،پھر اس نے ایک سنہرے رنگ کا بڑا سا چوکورگھر منگوایاجس میں چھوٹے چھوٹے خانے تھے جن پر دروازے لگے تھے۔
۔۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…