Categories: دسمبر 2019

حقیقی مفلس حدیث نمبر:83

حدیث نمبر:83

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ

تخریج : صحیح مسلم ، حدیث نمبر : 6579

راوی کا تعارف : حدیث نمبر 15کی تشریح میں ملاحظہ فرمائیں ۔

معانی الکلمات:

أَتَدْرُونَ

کیا آپ جانتے ہیں؟

Do you khow?

الْمُفْلِسُ؟

فقیر

Pour

مَتَاعَ

سرمایہ

Wealth

شَتَمَ

گالی دی

Abused

قَذَفَ

تہمت لگائی

Blamed

أَكَلَ

کھایا

Ate

سَفَكَ دَمَ

خون بہایا

Killed

ضَرَبَ

مارا

Bate

فَيُعْطَى

دے دی جائیں گی

Will be given

حَسَنَاتِهِ

اس کی نیکیاں

His good deeds

فَنِيَتْ

ختم ہوگئیں

Finished

يُقْضَى مَا عَلَيْهِ

کفارہ ادا کیا جائے

Compensated

أُخِذَ

لی گئی

خَطَايَاهُمْ

ان کے گناہ

Their sins

فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ

اس پر ڈال دیئے گئے

Put on him

طُرِحَ فِي النَّارِ

آگ میں ڈال دیاگیا

Thrown in hell

ترجمہ : 

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے پوچھا : فقیر/مسکین کون ہوتاہے؟ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا جس کے پاس درہم اور دنیوی سامان نہ ہو آپ ﷺ نے فرمایا : (نہیں) میری امت میں(اصل) مسکین وہ ہے جو قیامت کے دن بہت سی نمازیں،روزے اور زکوٰۃ لے کر آئے گا لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی تو کسی پر تہمت لگائی ہوگی ، کسی کا مال کھایا ہوگا تو کسی کو ناحق قتل کیا ہوگا اور کسی کو مارا پیٹا ہوگا چنانچہ ان لوگوں کو اس کی نیکیاں دے کر حساب چکایا جائے گا لیکن اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی ( اور ابھی بقایا جات اس کے ذمے ہوں گے) تو اس کے پلڑے میں ان لوگوں کے گناہ ڈال دیئے جائیں گے(نتیجتاً) اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔

تشریح :

حقوق العباد میں کوتائی اور لوگوں کے ساتھ بدسلوکی کا بھیانک انجام اس حدیث میں بیان کیاگیا کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کا حق دلوائے گا۔ قیامت کے دن چونکہ درہم ودینار تو کسی کے پاس نہیں ہوں گے لہذا نیکیوں اور گناہوں کے ذریعے ہی لین دین ہوگا ہر مظلوم کو اس کا حق دیوایا جائے گا چنانچہ یہ شخص جو بظاہر نیکیوں کے انبار لے کر آیا ہے جن لوگوں پر اس نے ظلم کیا ، حق غصب کیا ان کو معاوضہ دیوایا جائے گا اس کی نیکیاں ان مظلوموں کو دی جائیں گی حتی کہ اس کی تمام نیکیاں ختم ہوجائیں گی جبکہ ابھی کچھ لوگوں کے حقوق اس کے ذمے باقی ہوں گے ان مظلوموں کے گناہ لے کر اس شخص پر ڈال دیئے جائیں گے اور اس طرح ان کو معاوضہ ملے گا کہ ان کے گناہ کم ہوجائیں جبکہ یہ شخص نیکیوں سے خالی اور گناہوں کی گٹھڑیوں کے ساتھ لدا ہوا کھڑا رہ جائے گا بالآخر جہنم رسید کر دیاجائےگا۔ العیاذ باللہ

ڈاکٹر عبدالحی المدنی

Share
Published by
ڈاکٹر عبدالحی المدنی
Tags: ghreebmuflis

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

6 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago