Categories: جنوری2022

مادر علمی اور طلبہ کے فرائض

علم کو انسان کی تیسری آنکھ کہاجاتاہے۔ کیونکہ تعلیم نام ہے ایک نسل کے دوسری نسل کو اپنے تجربات، احساسات نظریات اور نتائج منتقل کرنے کا۔ایک نسل دوسری نسل کو جو آداب زندگی اور ذہنی وراثت منتقل کرتی ہے۔ اسے عرفِ عام میں تعلیم کے نام سے یادکیاجاتاہے۔تعلیم دراصل کسی قوم کی مادری وروحانی زندگی کی روح رواں ہوتی ہے جتنا کسی قوم کا نظام تعلیم مضبوط ،مستحکم اور دینی اصولوں سے ہم آہنگ،جاندار وقوی ہوگا وہ قوم اتنی ہی مضبوط اور طاقتور ہو گی اور ترقی کامیابی وکامرانی کے اعلی مدارج پر فائز ہوگی۔

انسان کو اپنے مقصد حیات، مقصد تخلیق، سچائی کی پہچان، حقائق کا ادراک اورمعاشرے میں مہذب زندگی گزارنے کا سلیقہ علم ہی کے ذریعے حاصل ہوتاہے۔انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا راز بھی یہی علم اور تعلیم وتربیت ہے۔اس علم کو حاصل کرنے ،تعلیم وتربیت سیکھنے،عملی وفکری(مدارس واسکول) کا کردار سب سے اہم ہے جسے کبھی بھی فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ انسان کی عملی وفکری افزائش میں مادر علمی کو فوقیت حاصل ہے۔

اب ہم ایک مادر علمی میں اس اور اس میں زیر تعلیم وزیر پرورش طالب علموں کے فرائض اور ذمہ داریوں پر بات کریں ہیں تو تعلیمی ادارہ کی سب سے پہلی اور اولین ذمہ داری طلباء کی علمی، ذہنی اور فکری استعداد کو بڑھانا اور خوب پروان چڑھاناہے۔

ایک طالب علم اپنی زندگی کا ایک خاص حصہ، ایک معین مدت تعلیمی ادارے میں گزارتا ہے یہ تعلیمی ادارے کی ذمہ داری اور فرائض میں شامل ہے کہ طالب علم پر خاص توجہ دے، وہ جس مقصد کے لیے اپنا گھر بار، خاندان، عزیز واقارب چھوڑ کر تعلیمی ادارے کے دامن میں چھپا ہے، زیر سایہ پناہ لی اسے وہ مقصد دینے میں تعلیمی ادارے سرتوڑ بازی لگائیں۔

سخت محنت اور دیانتداری سے تعلیم وتربیت طالب علم کو منتقل کرے، قوم وملت کے لیے ایسے صاحب علم،باشعور،باکمال لوگ تیار کرے جو قوم وملت کو عروج وکمالات کی طرف لے جائیں اور قوموں کی صفوں میں ایک ممتاز مقام عطاکریں۔ وہ طالب علم کو دنیا میں عزت ووقار سے سر اٹھا کر جینے کے ڈھنگ سکھائے، وہ قوم کے لیے ایسے مجاہد تیار کریں جو جھکنے والے ہوں نہ بکنے والے۔ اس کے لیے طلباء کے لیے کی ضروری بھرپور ذہنی نشوونما کی جائے۔ ان کی علمی استعداد کو زیادہ سے زیادہ وسیع کیا جائے۔ طلباء میں موجود تخلیقی وتکنیکی صلاحیتوں کو پرکھا جائے، ان میں موجود عملی وفنی مہارت کا مشاہدہ کیا جائے اور طلباء کو ایسے مواقع فراہم کیے جائیں جس سے طلباء کی تخلیقی وتکنیکی صلاحیتیں اورمہارتیں نکھر کر سامنے آئیں کیونکہ ہر انسان میں اللہ کریم نے کوئی نہ کوئی تخلیقی وارتقائی صلاحیت، کوئی نئی ومنفرد سوچ اور فکر رکھی ہے جس کو اُجاگر کرنے کے لیے انہیں بھرپور مواقع میسر آنے چاہئیں تاکہ طلباء میں تخلیقی وتکنیکی اور ارتقائی استعدادیں اُبھریں اور فکری واختراعی انداز فکر پیدا ہو۔

علم کے تمام سرچسمے قرآن کریم سے پھوٹتے ہیں، تمام علوم وحکمت،اخلاق وتمدن، فنون وسائنس کی اصل قرآن حکیم ہی ہے۔ دنیا میں علم کی جستجو،کائنات کی تخلیقی میں غوروخوض،تخلیق کے راز کو جاننے، کائنات میں گھوم پھر کر چیزوں کا قریب سے مشاہدہ کرنے اور اس کی حقیقت کو جاننے کی دعوت اور حکمت قرآن نے ودیعت کی۔ قرآن ہی انسانیت کو پکارا کہ آؤ غور ،فکر،جستجو  اور مشاہدہ کروآسمان کی بلندیوں اور زمین کی تہوں سے رب کائنات کے پوشیدہ رازوں اورخزانوں کو ڈھونڈ نکالو اور ان پر تحقیق کرو۔ اسلام اپنے ماننے والوں کے دل ودماغ کند نہیں کرتا بلکہ سائنسی تحقیق کو فرض قرار دیتاہے۔

کائنات میں غوروفکر کرنا،اس کی پوشیدہ حقیقتوں کو عیاں کرنا، مختلف مخلوقات پر ریسرچ کرنا یہ اسلام کی دعوت وفطرت ہے۔ اسلام یہ کہتاہے کہ ساری دنیا انسان کے لیے ہی پیدا کی گئی ہے کہ وہ اسے مسخر کرے اس سے فائدہ اٹھائے، جو کام ہمارے کرنے کے تھے جس کا ہمیں حکم اور دعوت فکر دی گئی تھی وہ اہل مغرب میں بخوبی انجام دیا اور دے رہے ہیں۔

یہ علمی ورثہ ہمارا تھا جو ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے آگے غیروں کو منتقل کردیا انہوں نے قرآن سے علم بھی سیکھا، راہنمائی بھی لی، ایجادات وتخلیقات بھی کیں اور اجتماعی رہن سہن، حسن معاشرت، اخلاقیات کے آداب سیکھے بھی اوراپنائے بھی جبکہ ہم نے قرآن سے راہنمائی لینے کی بجائے اس علوم وعرفان کے سمندر کو پس پشت پھینک کرمغرب کی طرف دیکھنا شروع کر دیا اور قرآن کو صرف کتاب ثواب وبرکت سمجھ کے محض ثواب وبرکت کی غرض سے پڑھنے کے لیے غلافوں میں لپیٹ کر گھروں میں رکھوا دیا اور معاشرہ کو پروان چڑھانے اور ترقی کے لیے مغرب کی نقل پر اُتر آئے۔ تقلید اور نقل معاشرے کی ذہنی صلاحیتوں کو ابھارنے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ خواہ وہ تقلید مغرب کی ہو یا کسی اور کی جو تقلید کرتے ہیں وہ تہذیبی وفکری جنگ ہار جاتے اور اپنی انفردایت کھو بیٹھتے ہیں اس لیے ہمیں تقلید کے بجائے محنت،لگن تحقیق وجستجو کا جذبہ پیدا کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

اور دینی واخلاقی تعلیم وتربیت کا نہ ہونا بھی قوم کو زوال وپستی کی طرف لے جاتاہے اور ہمار ےرائج الوقت نظام تعلیم میں دینی واخلاقی تعلیم وتربیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اخلاقی وسماجی تعلیم وتربیت کے بغیر معاشرہ صرف قانون کے سہارے نہیں چلایا جاسکتا۔ قانون تو چند مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں کو قابو میں رکھنے کے لیے ہوتاہے جو دین سے بیزار ہوکر وحشی درندے بن چکے ہوں جبکہ عام لوگ اجتماعی مفاد، دینی اصول اور اخلاقیات کی پاسداری کی خاطر ایک روایت کے طور پر قانون واقدار کی پابندی کرتے ہیں مگر ہمارے ہاں کسی اعلیٰ اجتماعی،اخلاقی نصب العین اور دینی ضابطہ کے نہ ہونے کی بناء پر لوگ اپنی ذات اورمفاد سے آگے دیکھنے کے لیے تیارنہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارا ہر شخص،گھر،سڑک ،گلی ،محلہ،دفتر اور فیکٹری اجتماعی اخلاقیات کے اصولوں کی بھرپور خلاف ورزی کا نمونہ بن چکی ہے۔ جب ہم اسلامی تعلیمات واخلاقیات پر عمل پیرا ہوں گے اور مضبوطی سے اس پر ثابت قدم رہیں گے اور اپنے ذہنوں میں یہ تصور بٹھائیں گے کہ دنیا کی زندگی ایک عارضی زندگی ہے۔ اس کی چمک دمک محض ایک دھوکہ ہے اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے تو پھر ہمارا ضمیر ہمیشہ بیدار رہے گا اور ہم عارضی دنیا کو ترجیح دینے کے بجائے آخرت کی دائمی زندگی، اس کی راحت وسکون کو فوقیت دیں گے اور اس طرح معاشرہ ترقی کرے گا اورزوال پذیری کے اثرات زائل ہوں گے۔

طالب علم کا پہلا فرض:

طالب علم کا سب سے پہلا اور بڑا فرض یہ ہے کہ ایسی تعلیم حاصل کرے جو اس کی طبعی قوتوں کے موافق ہو اور عملی زندگی میں اس کے آڑے آئے، محنت اور ہاتھ سے کام سے اسے ہرگز عار نہ ہونی چاہیے۔سادہ زندگی اور بلند خیالی اس کا اصول ہونا چاہیے۔ایمانداری،ہمدردی،تعاون،ایثار،خدمت خلق اور دوسرے ایسے اوصاف اور جذبات حاصل کرنا ہر طالب علم کا فرض ہے کیونکہ ایسے نیک اوصاف اور جذبات رکھنے والے انسان ہی ملک کی ترقی ،قوت اور خوشحالی کے ضامن ہوتے ہیں۔

طالب علم کا دوسرا فرض :

طالب علم کا دوسرا فرض سماج کے تئیں ہے۔ اسے چاہیے کہ اپنے پڑوس میں رہنے والے حاجت مندوں کی مددکرے، بھولے بھٹکوں کو راستہ دکھائے، محلے کے ایسے بچوں کو لکھنے، پڑھنے میں مدد دے جو تعلیم میں پیچھے ہوں اگر کہیں آگ لگ جائے یا کوئی حادثہ رونما ہو تو جائے واردات پر جاکر مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرے اگر کوئی آدمی سرکاری جائیداد کو نقصان پہچاتا یا سرکاری مال چوری کرتا دکھائی دے تو فوراً پولیس تھانے میں اس کی اطلاع پہنچائے، سماج سیوا کا خیال بچپن ہی میں پیداکرنا ضروری ہے یہ تو بچے کی تعلیم کا ہی حصہ ہے۔

طالب علم کا تیسرا فرض :

طالب علم کا تیسرا بڑا فرض ہے ماں باپ،استاد اور دوسرے بزرگوں کا ادب کرنا اور ان کے احکام بجالانا، جو بچہ ماں باپ کی عزت کرتاہے اور ان کی خدمت کرنے کو آمادہ رہتاہے اسے نہ صرف اس دنیا میں راحت اور سکون حاصل ہوتاہے بلکہ سعادت ابدی بھی نصیب ہوتی ہے۔ ماں باپ اپنے بچوں کی پرورش تعلیم وتربیت اور ترقی کے لیے خون پسینہ ایک کر دیتے ہیں۔ وہ اپنا پیٹ کاٹ کر بھی ان کا پیٹ پالتے ہیں۔ داناؤں کا قول ہے کہ انسان کے لیے ماں کا درجہ سب سے بلند ترین درجہ ہے وہ اپنے بچے کی خاطر ہر قسم کی قربانی کرتی ہے۔راتوں کو جاگ جاگ کر اس کی تیمارداری کرتی ہے ، اس کے علاج کے لیے مارے مارےدربدر پھرتی ہے ، اپنے کھانے کو کچھ میسر نہ ہو اس کی دوائی کے لیے ضرور ہونا چاہیے۔ خود بھوکی رہے گی مگر بچے کو بھوکا بلبلاتا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔ وہ ہر حیلے بہانے سے اس کا پیٹ بھرے گی۔ اس لیے وہ بچہ جو بڑا ہوکر ماں باپ کی خدمت اور مدد سےمنہ موڑ لیتاہے  نہایت بدبخت ہوتاہے، ایسی صورت میں اس کی اعلیٰ تعلیمات اکارت رہ جاتی ہیں۔ اس کی دولت اس کے لیے باعث لعنت ہوتی ہے۔

طالب علم کا چوتھا فرض :

طالب علم کا چوتھا فرض استاد کا ادب ہے ، استاد کا ادب کتنا ضروری ہے اس کی اہمیت جاننے اور سمجھنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ استاد وہ محسن ہے جو طالب علم کو جینے کا سلیقہ سکھاتاہے، رہنے کا ڈھنگ بتاتاہے اور اخلاقی برائیوں کو دور کرکے اسے معاشرے کا ایک مثالی فرد بنانے میں اہم کردار ادا کرتاہے۔ دین اسلام میں استاد کے ادب کو بہت اہمیت دی گئی ہے حتی کہ استاد کو روحانی باپ کا درجہ دیا گیا ہے لہذا طالب علم کو چاہیے کہ اسے اپنے حق میں حقیقی باپ سے بڑھ کر مخلص جانے، تفسیر کبیر میں ہے : استاد اپنے شاگرد کے حق میں ماں باپ سے بڑھ کر شفیق ہوتا ہے کیونکہ والدین اسے دنیا کی آگ اور مصائب سے بچاتے ہیں جبکہ اساتذہ اسے نارِ دوزخ اورمصائب آخرت سے بچاتے ہیں۔

طالب علم کا پانچواں فرض :

طالب علم کا پانچواں فرض تقوی کا حصول ہے، مادر علمی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ایسے افراد تیار کرکے معاشرہ کو دے جو تقویٰ، پرہیزگاری سے سرشار ہوں اورمعاشرتی طہارت وپاکیزگی پر یقین رکھتے ہوں۔ ان سے فارغ التحصیل طالب علم کوئی ایسا کردار ادا نہ کریں جو اسلامی معاشرہ کی پاکیزگی وپاکدامنی پر دھبہ ثابت ہوں اور وہ اپنے ادارے اور خاندان کی بدنامی کا باعث بنیں۔ ایک حقیقی طالب علم وہ ہوتاہے جو اپنی دنیا کو اپنی آخرت کے لیے مقدم سمجھتاہے اور اس بنا پر اس کی تعلیم سمیت اس کی تمام فعالیت اس کی آخرت اور قربِ الٰہی کا وسیلہ قرار پاتی ہے۔اس قوانین کی حقیقی پیروی اور حلال وحرام کی جانب توجہ مبذول کرتے ہوئے اپنے رب کو اپنی زندگی سے راضی کرنے کی تگ ودو میں مصروف عمل رہتاہے۔ زمانہ طالب علمی میں تقویٰ کے حصول کی کوششیں عملی زندگی میں اس کی معاون ثابت ہوں گی۔ ایک مسلمان طالب علم ہونے کے ناطے ہم طالب علموں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ زمانہ طالب علمی میں خود کو ان بہترین صفات سے آراستہ کرنے کی کوشش کریں جو نہ صرف ہمارے لیے بلکہ ہمارےخاندان اورملک وقوم کے لیے بہتر ثابت ہوں۔ وما علینا إلا البلاغ

admin

Share
Published by
admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago