Categories: جنوری2022

گلشن اقبال اور گلشنِ ظفر

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا اور دنیا کا چھٹا بڑا شہر ہے جس کا رقبہ تقریباً 1360 مربع میل اور آبادی دو کروڑ سے زیادہ ہے، ساحل سمندر پر واقع یہ خوبصورت شہر ہے جسے روشنیوں کا شہر بھی کہاجاتاہے، صنعتی،تجارتی اور علمی شہر ہے۔ 1960ء تک پاکستان کا دارالحکومت رہا ہے اور اب صوبہ سندھ کا دار الحکومت ہے پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ اور سب سے بڑا ائیرپورٹ بھی اسی شہر میں ہے لہذا یہ ایک بین الاقوامی شہر ہے۔

گلشن اقبال:

اس شہر کا ایک معروف اور خوبصورت علاقہ گلشن اقبال (گلشن ٹاؤن) ہے جو شہر کے شمال مشرق میں واقع ہے اور سوک سینٹر(حسن اسکوائر) سے کراچی یونیورسٹی تک اور الہ دین پارک سے سہراب گوٹھ تک پھیلا ہوا ہے۔ گلشن اقبال کی آبادی ایک ملین سے زائد ہے، انیس بلاکوں اور گیارہ یونین کونسلز پر مشتمل رہائشی اور تجارتی علاقہ ہے، دو معروف شاہراہیں یونیورسٹی روڈ اور راشد منہاس روڈ اس کے درمیان سے گزرتی ہیں۔کراچی یونیورسٹی اور NED انجینئرنگ یونیورسٹی بھی گلشن اقبال میں ہی واقع ہیں۔ عزیز بھٹی پارک اور سفاری پارک گلشن اقبال کے معروف تفریحی مقامات ہیں۔ نیپا چورنگی اور گلشن چورنگی اس کے مشہور بس اسٹاپ ہیں۔ جامعہ ستاریہ اور جامعہ الدراسات الاسلامیہ بھی گلشن اقبال کے معروف دینی ادارے ہیں۔ فضیلۃ الشیخ خلیل الرحمن لکھوی حفظہ اللہ کا خوبصورت مرکز المعہد القرآن اور عزت مآب جناب عبد اللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کا المعہد السلفی بھی گلشن اقبال کے ساتھ ہی گلستان جوہر میں واقع ہیں۔

گلشن ظفر رحمہ اللہ:

گلشن اقبال بلاک نمبر5 میں ایک اور گلشن آباد ہے جس کے گل وگلاب کی خوشبو سے پاکستان ہی نہیں دنیا کے بیشتر ممالک معطر ہورہے ہیں۔ جی یہ گلشن ظفر ہے، جس کے بانی اور باغبان ذی وقار جناب پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ ہیں۔ اس گلشن کا نام خلیفۂ راشد سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نسبت سے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ ہے جس کا سنگ بنیاد فضیلۃ الشیخ امام کعبہ جناب عبد اللہ بن السبیل رحمہ اللہ نے اپنے دستِ مبارک سے رکھا۔

تین بلاکوں پر مشتمل یہ خوبصورت اور پر شکوہ عمارت ہے۔ ہربلاک کی تین منزلیں ہیں۔ درمیان میں ’’المبنی التعلیمی‘‘ ہے جس میں کلیۃ الحدیث الشریف، المعہد العلمی الاسلامی، مرکز اللغۃ العربیۃ اور تحفیظ القرآن کے شعبہ جات کے علاوہ المدیر العام، مدیر التعلیم کے دفاتر ، دار الافتاء اور ماہنامہ اسوئہ حسنہ کا دفترہے اور دائیں بائیں دونوں بلاک طلبہ کا ہوسٹل ہیں۔

فضیلۃ الشیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ کے سانحہ شہادت کے بعد ان کے ہونہار نور نظر اور ہمارے مایہ ناز شاگرد رشید اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ جناب ضیاء الرحمن المدنی حفظہ اللہ مدیر الجامعہ کی حیثیت سے اس گلشن کی تعمیر وترقی کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں اور عظیم باپ کا عظیم جانشین ثابت ہورہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کا حامی وناصر ہو۔ اخلاص وتقویٰ سے مالا مال کرے اور ہر لمحہ ان کی دستگیری فرمائے۔ آمین

انہوں نے تعلیمی بلاک کے پیچھے چوتھا بلاک تعمیر کروایا ہے اس کے گراؤنڈ فلورپر عظیم الشان لائبریری ہے جس میں پچاس ہزار سے زائد قیمتی اور نایاب کتب موجود ہیں۔ فرسٹ فلور پر جامع مسجد عمر بن الخطاب ہے اور سیکنڈ فلور پر پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ آڈیٹوریم ہے۔ جامعہ کے مغربی گیٹ کے سامنے اساتذہ کرام کے لیے رہائش گاہیں اور مہمان خانہ زیر تعمیر ہے جبکہ اس گیٹ کے ساتھ چھ اساتذہ کی فیملی رہائش کے لیے پلازہ پہلے سے تعمیر کیاجاچکاہے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے برادر گرامی جناب فضیلۃ الشیخ ضیاء الرحمن المدنی حفظہ اللہ کے لیے آسانیاں فرمائے اور جس جذبے،محنت اور لگن سے اس گلشن کی آبیاری کے لیے شب وروز ایک کیے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس میں برکتیں عطا فرمائے۔ اور گلشن ظفر کو ظاہری اور باطنی دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ آمین

یہ جامعہ مبارکہ مسلک کتاب وسنت اہل حدیث،جماعت مجاہدین اور امہ مسلمہ کا عظیم سرمایہ ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے اور ہمیں اس کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

فضیلۃ الشیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ نے جس اخلاص،لگن اور جذبہ سے اس گلشن (جامعہ) کی بنیاد رکھی اور اپنے خون پسینے سے اس کی آبیاری فرمائی، اس کی خوبصورت اور دلکش عمارت اور دنیا کے متعدد ممالک میں مصروف عمل ابنائے جامعہ اور ملک بھر میں کتاب وسنت کی ترویج واشاعت میں مشغول اس ادارے کے فیض یافتگان کو دیکھ کر اور سن کر یوں لگتاہے جیسے شیخ محترم رحمہ اللہ نے بوقت شہادت فرمایا ہوکہ

کلیوں کو میں سینے کا لہودے کے چلا ہوں

صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی

یا یوں محسوس ہوتاہے جیسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل سے نکلی ہوئی دعا کو شرف قبولیت عطا کیا ہوکہ

پھلا پھولا رہے یا رب یہ چمن میری امیدوں کا

جگر کا خون دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں

ہمارے شیخ محترم پر اللہ تعالیٰ کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور جنت میں ان کے درجات بلند فرمائے، راقم الحروف جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں زیر تعلیم تھا غالباً 1986ء کی بات ہے نماز ظہر کے بعد موسلا دھار بارش برستی ہے شیخ محترم ماڈل کالونی سے کیری ڈبہ میں تشریف لاتے ہیں، چیکو کے درختوں کے پاس پارک کرتےہیں، جلدی سے سیڑھیاں چڑھ کر پہلی منزل کی کھڑکی سے شیڈ پر اترتے ہیں، اپنے سفید وصاف شفاف لباس کی پرواہ کیے بغیر نکاسیء آب کا راستہ صاف کرتے ہیں نہ سرد موسم کی سردی کا احساس ہے اور نہ جوتے اور جرابیں تبدیل کرنے کا خیال نہ کسی طالب علم کو ساتھ لیا اور نہ ہی کسی ملازم کے ذمے یہ کام لگایا، بس یوں محسوس ہورہا تھا جیسے آپ فرما رہے ہوں کہ

خونِ جگر دے کے نکھاریں گے رخ برگ گلاب

ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

اے جامعہ تو سلامت رہے۔

پاکستان کے ہر شہر میں جامعات اور ادارے ہیں۔ بلاشبہ ہر ادارہ اپنی اپنی بساط کے مطابق کتاب وسنت کی اشاعت میں لگاہوا ہے اور قحط الرجال کے اس دور میں وارثان علم نبوت کی تیاری میں مصروف ہے۔ ہر ادارے کا اپنا انداز،کردار اورطرزِ عمل ہے مگر جو عزت اور مقام اللہ تعالیٰ نے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کو عطا کیا ہے شاید کسی اور ادارے اور جامعہ کے حصہ میں نہیں آیا۔

ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء

گلستان میں جاکر ہرایک کو دیکھا

نہ تیری سی رنگت نہ تیری سی بُو ہے

جامعہ، ابنائے جامعہ، شیوخ جامعہ، طلباء جامعہ،محسنین جامعہ، معاونین جامعہ اور رفقائے جامعہ کے لیے دلی دعا ہے کہ

تو ہر کسی کو شاد رکھ

یہ گلستان آباد رکھ

پھلیں پھولیں یہ نوجواں

اے خالقِ کون ومکاں

آمین

یادگار نشستِ دوستاں:

گزشتہ سال جناب عبد الستار عاصم صاحب آف لندن اور ذی وقار جناب شفیق الرحمن فرخ حفظہما اللہ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ چھانگا مانگا کے پر فضا جنگلات کے خوبصورت پارک میں ایک نہایت ہی خوبصورت مجلس سجائی تھی جس میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں 1980ء سے 1996ء تک زیر تعلیم رہنے والے مختلف شعبہ جات کے ساٹھ سے زائد طلبہ شریک ہوئے یہ ایک خوبصورت مجلس اور شاندار نشست تھی جس میں سالہا سال سے بچھڑے ہوئے بھائی باہم گلے مل کر خوش ہورہے تھے اور تیس سال پرانی یادیں تازہ کر رہے تھے۔

کراچی سے ہمارے بھائی فضیلۃ الشیخ ضیاء الرحمن المدنی حفظہ اللہ مدیر جامعہ ابی بکر اس پر وقا رمجلس میں تشریف لائے تو انہوں نے آئندہ سال جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں اس پروگرام کے انعقاد کی تجویز اور دعوت دی۔

تو اساتذہ جامعہ ابی بکر کی مشاورت سے 31 اکتوبر 2021ء بروز اتوار جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں ’’ملتقی ابنائے جامعہ‘‘ کے عنوان سے پروگرام طے پایا۔ سابقہ ابنائے جامعہ کو سوشل میڈیا پر خوبصورت دعوت نامہ پیش کیاگیا، شرکت کو یقینی بنانے اور انتظامات بطریق احسن سرانجام دینے کے لیے باقاعدہ رجسٹریشن اور آخری تاریخ مقرر کی گئی۔

میرے بڑے بیٹے حذیفہ نے MBBSکی تعلیم کے لیے بیرون ملک سفر کرنا تھا لہذا اس کے ہمراہ مجھے 28 اکتوبر کی صبح کو سب سے پہلے اس پروگرام میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی۔ مادر علمی جامعہ ابی بکر کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں اور اساتذہ کرام سے ملاقات کرکے دلی مسرت ہوئی۔ استاد محترم فضیلۃ الشیخ ابو عبد المجید محمد حسین بلتستانی حفظہ اللہ کو سلام کیا انہوں نے شفقت سے گلے لگایا اور فرمایا : «أنت من السابقین الأولین» والحمد لله على ذلك

مدیر جامعہ سماحۃ الشیخ ضیاء الرحمن المدنی حفظہ اللہ اور ڈاکٹر مقبول احمد المکی حفظہ اللہ بڑے پُر جوش دکھائی دے رہے تھے اور پروگرام کے انتظامات کے سلسلے میں شب وروز ایک کیے ہوئے تھے اس کے ساتھ ساتھ ابنائے جامعہ کو جامعہ میں خوش آمدید کہہ رہے تھے چونکہ یہ ملاقات اور نشست صرف الحب للہ اور رضائے الٰہی کی خاطر تھی اس لیے اس کی فرحت ومسرت کا نہ تو اندازہ کیا جاسکتاہے اور نہ ہی الفاظ میں بیان کرنا ممکن ہے۔

نمایاں خصوصیات اور جھلکیاں

اس پروگرام کی چند خصوصیات اور جھلکیاں حسب ذیل ہیں :

جامعہ کی خوبصورت عمارت کو رنگ وروغن سے چار چاند لگائے گئے اور دلکش بینرز سے سجایا گیا۔

دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق مکمل پروگرام ریکارڈ کیاگیا۔

جامعہ ابی بکر نے اپنے ابناء کو بے حد پروٹوکول دیا اور عزت واحتشام کے ساتھ خوبصورت کراسی پر بٹھایا۔

استاذ ذی وقار جناب عطاء اللہ ساجد حفظہ اللہ نے الفیہ ابن مالک کے پہلے شعر

كلامنا لفظ مفيد كاستقم

واسم وفعل ثمّ حرف الكلم

پر شرح ابن عقیل کی روشنی میں لیکچر دیا۔

ہمارے سروں کے تاج اساتذہ کرام فضیلۃ الشیخ حافظ مسعودعالم حفظہ اللہ،فضیلۃ الشیخ عطاء اللہ ساجد حفظہ اللہ، فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمرفاروق السعیدی حفظہ اللہ ، فضیلۃ الشیخ جناب خلیل الرحمن لکھوی حفظہ اللہ اور فضیلۃ الشیخ ابو عبد المجید محمد حسین بلتستانی حفظہ اللہ مہمانانِ خاص تھے، ابنائے جامعہ کو ان سے ملاقات کا اعزاز اور دعاؤں کی سعادت حاصل ہوئی۔

اساتذہ کرام کی مختصر اور جامع نصیحتوں نے ایمان تازہ کر دیا۔

تمام ابنائے جامعہ کو فضیلۃ الشیخ حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ کے دست مبارک سے سندھی ٹوپی اجرک پہننے کا اعزاز حاصل ہوا۔

تیس سال قبل طالب علمی کے دور کی یادتازہ کرنے کے لیے مطعم میں ناشتہ قطار میں کھڑے ہوکر خود لیا گیا۔

نمازِ ظہر کے بعد انتہائی لذیز اور عمدہ عربوں کا مشہور اور پسندیدہ کھانا (لحم مندی) پیش کیاگیا اور پانچ پانچ ابناء نے گروپ کی شکل میں ایک برتن میں تناول کیا۔

الحرمین کمپلیکس سپر ہائی وے دنبہ گوٹھ میں نماز عصر، پر تکلف عصرانہ اور نماز مغرب کے بعد فضیلۃ الشیخ حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ نےپُر اثر خطاب اور انتہائی رقت آمیز اور لمبی دعا کروائی۔

رول ماڈل انسٹی ٹیوٹ میں تفریح، کھیل، پر تکلف کھانا، کوئلہ مچھلی، شیر سندھ جناب ابراہیم طارق حفظہ اللہ کا پشتو اور سری لنکن زبان میں دلچسپ خطاب۔

رول ماڈل انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے ابنائے جامعہ اور شرکائے اجتماع کو شہد،مسواک اور خوشبو کا بہترین تحفہ پیش کیاگیا۔

رات گیارہ بجے کے بعد یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا اسی رات ساڑھے بارہ بجے فیصل موورز پر صادق آباد واپسی کے لیے میری سیٹ کنفرم تھی اور میں نمدیدہ آنکھوں کے ساتھ گلشن ظفر کو اللہ حافظ کہہ کر ان جذبات کے ساتھ عازم سفر ہوا۔

عليكُمْ سلاَمُ اللهِ إنِّي مُوَّدعُ

آپ لوگوں پر اللہ کی سلامتی ہو میں الوداع ہورہا ہوں

وعيْنَايَ منْ أَلَمِ التَّفَرُّقِ تَدْمَعُ

اورمیری آنکھیں جدائی کے درد سے آنسوبہارہی ہیں۔

فإنْ نحنُ عِشْنَا يجمَعُ اللهُ بيننَا

اگرہم زندہ رہے تو اللہ ہمیں اکٹھا کرے گا

وَإنْ نحنُ مُتْنَا، فالِقيامَةُ تَجمَعُ

اوراگر ہم مرگئے تو قیامت ہمیں اکٹھا کردے گی

ابنائے جامعہ کے نام اہم پیغام

تمام ابنائے جامعہ سے التماس ہے کہ

رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيَّ وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ۠ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُؒ۰۰۴۱

’’اے ہمارے پروردگار! میری،میرے والدین اور دیگر اہل ایمان کی بھی بخشش فرما جس دن حساب کتاب ہونے لگے۔ (ابراہیم:41)

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌؒ۰۰۱۰

اے ہمارے پروردگار! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں اور ایمان والوں کے لیے ہمارے دل میں کینہ(اوردشمنی) نہ ڈال، اے ہمارے رب! بے شک تو شفقت کرنے والا اورمہربان ہے۔ (الحشر: 10)

مذکورہ بالا دونوں دعائیں بکثرت کرتے رہیے اور

وَ لِوَالِدَيَّ : میں محترم المقام فضیلۃ الشیخ محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ اور جو اساتذہ کرام وفات پاچکے ہیں ان کو ذہن میں ضرور رکھیں۔

وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ۠ : اور ’’وَ لِاِخْوَانِنَا ‘ میں ابنائے جامعہ کو بھی شامل دعا کیا کریں۔

تمام ابنائے جامعہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے ساتھ مسلسل رابطہ میں رہا کریں یہ ہمارا دینی اور اخلاقی فرض ہے۔

ہمارے باہمی رابطے کی بنیاد صرف رشتہ ٔ اخوت ہو، ہمارا سلام،کلام، عیادت، دعائے عافیت، میل جول، حال احوال اور غمی وخوشی میں شرکت الحب فی اللہ کے تحت ہو ناچاہیے تاکہ ہماری یہ محبت روزِ قیامت ہماری نجات وسرخروئی کا باعث بنے اور ہم سب

وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِي اللهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ(صحيح البخاري:660، صحيح مسلم:1031)

میں شامل ہوجائیں۔

جامعہ ابی بکر کو کبھی بھی اپنی دعاؤں میں فراموش نہ کریں، اس کی تعمیر وترقی اورشادابی کے لیے ہمیشہ دعاگورہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے جامعہ کو نظربد، ہرقسم کے شر، حسد اور ہرقسم کے مکر وفریب سے بچائے اور ہمیشہ اپنی حفظ وامان میں رکھے، قیامت تک اسے کتاب وسنت کا مینارنور بنائے رکھےنیز لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے، اور بانی جامعہ ، ان کے رفقاء اور محسنین وخدام کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔

تمام ابنائے جامعہ حسب المقدور تعاون جاری رکھیں تاکہ گلشن ظفر کے شجر سایہ دار پر ہمیشہ بہار رہے۔ یہ گلشن سرسبز وشاداب رہے، پھلتا پھولتا رہے اور اس پر کبھی خزاں نہ آئے۔ یہ دنیا میں اپنی روشنی بکھیرتا رہے اور کتاب وسنت کی خوشبو سے اقوام عالم کو معطر کرتارہے۔

تمام ابنائے جامعہ جہاں بھی ہوں اور جہاں بھی جائیں جامعہ ابی بکر کا روشن ستارہ بن کر چمکیں اپنے اساتذہ کے لیے نیک نامی کا باعث بنیں اور ان کے لیے سرمایہ افتخار ثابت ہوں۔

جامعہ ابی بکر کا ہر فرزند بانی جامعہ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ کی طرح اپنی ذات میں ایک ادارہ اور ایک جماعت ثابت ہو کسی شاعر نے کیا خوب بات کی ہے۔

وَالنَّاسُ أَلْفٌ مِنْهُمُ كَوَاحِدٍ

وَوَاحِدٌ كَالْأَلْفِ إِنْ أَمْرٌ عَنَی
وَإِنَّمَا الْمَرْءُ حَدِيثٌ بَعْدَهُ
فَكُنْ حَدِيثًا حَسَنًا لِمَنْ وَعَى

اور لوگوں میں ہزار آدمی ایک شخص کی طرح ہوتے ہیں

اور اگر کام مشکل ہوجائے تو ایک آدمی ہزار کی طرح ہوتاہے

آدمی تو ایک بات(یاد)ہے جو اس کے بعد کی جاتی ہے

پس جو یادرکھیں تو ان کے لیے ایک اچھی یاد بن جا

فضیلۃ الشیخ محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ ایک عظیم شخصیت تھے، محنت،سادگی،لگن اور اخلاص ان کی خاص خوبیاں تھیں۔ انتہائی خوددار، ملنسار اور عظیم ارادوں کے مالک تھے، رضائے الٰہی اور خدمت انسانیت ان کا مقصد حیات تھا۔

نگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز

یہی ہے رختِ سفر میرکارواں کے لیے

کے مصداق تھے۔اور بقول شاعر :

تَرى الرَجُلَ النَحيفَ فَتَزدَريهِ
وَفي أَثوابِهِ أَسَدٌ مُزيرُ
فَما عِظَمُ الرِجالِ لَهُم بِفَخرٍ
وَلَكِن فَخرُهُم كَرَمٌ وَخِيرُ

تو کمزور بدن والے شخص کو دیکھتاہے تو کم قدر خیال کرتاہے

حالانکہ اس کے لباس میں ایک غضبناک شیر ہے

سومردوں کا عظیم الجسد ہونا ان کے لیے بڑائی کی بات نہیں

لیکن سخاوت وشرافت اور بھلائی کے کام ان کے لیے باعث افتخار ہیں

ہمارے مدیر محترم،استاذ مکرم،مربی معظم پر اللہ کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے ان کی حیات مبارکہ کے درخشاں پہلو ہم سب کے لیے مشعل راہ ہونے چاہئیں۔

 اپنے اپنے علاقہ جات سے ذہین وفطین طلبہ کوجامعہ میں داخلہ دلوائیں نیز ان کی راہنمائی اور سرپرستی کرتے رہیں، صاحبِ حیثیت ابنائے جامعہ مستحق طلبہ کی کفالت کریں تاکہ علم وعمل،اصلاح معاشرہ اور دعوتِ کتاب وسنت کے میدان میں یہ طلبہ اپنا مثبت کردار ادا کرکے آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن سکیں۔

مجلہ ’’اسوئہ حسنہ‘‘ ایک شاندار اور جاندار علمی مجلہ ہے، جامعہ کے تعارف دعوتِ اصلاح اور تبلیغ اسلام کا مؤثر ذریعہ ہے اس کے مستقل خریدار بنیں اور خریدار بنائیں تاکہ مجلہ کی باقاعدہ اشاعت کا تسلسل قائم ودائم رہے اور جامعہ ابی بکر کا پیام وپیغام اکناف عالم تک پہنچتا رہے۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ وَصَلَّى اللهُ عَلَى النَّبِيِّ.
admin

Share
Published by
admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago