Categories: جنوری2022

موسم سرما،اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

موسمِ سرما سال کے چار موسموں ميں سے ایک ہے۔ پاکستان میں موسم سرما کا آغا ماہ دسمبر سے ہوتا ہے ۔ لیکن پہاڑی علاقوں میں نومبر کے مہینے سے ہی سردی شروع ہوجاتی ہے ، اس موسم ميں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوجاتی ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں برف باری ہوتی ہے۔ جس طرح الله تعالی نے انسان كی طبیعت مزاج، رنگ ونسل ، شكل وصورت اورخاندان وقبیلے میں اختلاف ركھا ہے ، اسی طرح سال کے موسموں میں بھی تبدیلی پائی جاتی ہے ۔ ان موسموں کا بدلنا ، درختوں کے پتوں کا رنگ بدلنا یا گر جانا ، یہ سب تبدیلی کی نشانی ہے۔ تغیر ہی اس کائنات کا راز ہے۔ موسموں کی تبدیلی ہمیں ایک سبق دے کر جاتي ہے کہ کائنات کی ہر شے کو بدلنا ہے جو آیا ہے اس نے جانا ہے۔ جس پر آج عروج ہے کل زوال ہوگا،قرآن مجید میں بھی اللہ رب العزت كا ارشاد ہے۔

اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِۚۙ۰۰۱۹۰ (آل عمران:190)

بلاشبہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں،رات اور دن کے بدلنے میں بے شمار نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو عقل سےکام لیتے ہیں ۔

سردی كا سبب :

نبی کریم ﷺ کی احادیثِ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سردی کا سبب یہ ہے کہ یہ جہنّم کے سانس لینے کی وجہ سے ہوتی ہے ، چنانچہ رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

قَالَتِ النَّارُ:رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَأْذَنْ لِي أَتَنَفَّسْ، فَاَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ، نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، فَمَا وَجَدْتُمْ مِنْ بَرْدٍ، أَوْ زَمْهَرِيرٍ فَمِنْ نَفَسِ جَهَنَّمَ، وَمَا وَجَدْتُمْ مِنْ حَرٍّ أَوْ حَرُورٍ فَمِنْ نَفَسِ جَهَنَّمَ (صحیح بخاری : 3260)

جہنم نے اللہ تعالیٰ کے حضور شکایت کرتے ہوئےکہا کہ اے میرے رب!میرا بعض حصہ بعض کو کھارہا ہے،لہذا مجھے سانس لینے کی اِجازت مَرحمت فرمائیے ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اُسے دو سانس لینے کی اِجازت دیدی،ایک سانس سردی میں اور دوسراگرمی میں،پس تم لوگ جو سردی کی ٹھنڈک محسوس کرتے ہو تو وہ جہنم کے سانس لینے کی وجہ سے ہے اور جو گرمی کی تپش محسوس کرتے ہو وہ بھی جہنم کے سانس لینے کی وجہ سے ہے۔

لہذا موسم کی تبدیلی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں چاہیئے کہ ہم لوگ جس طرح موسمِ سرما میں سردی سے اور گرما میں گرمی سے بچنے کے لئے مختلف اسباب اور وسائل اختیار کرتے ہیں اسی طرح آخرت میں شدت کی سردی اور گرمی سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے جہنم سے بچنے کے اسباب اختیار کریں ۔

موسم سرما اور تعلیمات نبویﷺ

۱۔ موسم کو برا مت کہو

چونکہ سردی وگرمی اللہ تعالی کی مخلوق ہیں ، ان میں سختی وگرمی اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے لہذا انھیں گالی دینا یا برا بھلا کہنا جائز نہیں ہے ، چنانچہ حدیث قدسی میں نبی اکرم ﷺکا ارشاد ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے :

يُؤْذِينِي ابنُ آدَمَ، يَسُبُّ الدَّهْرَ، وأنا الدَّهْرُ، بِيَدِي الأَمْرُ، أُقَلِّبُ الليْلَ وَالنَّهَارَ (صحیح البخاری : 4826)

آدم کابیٹا مجھے دکھ دیتا ہے ، وہ اسطرح کہ زمانے کو گالی دیتا ہے ، حالانکہ میں خود(صاحب) زمانہ ہوں ، سب کچھ میرے ہاتھ میں ہے رات ودن کو میں ہی پھیرتا اور تبدیل کرتا ہوں ۔

مذکورہ حدیث میں «دھر» سے مراد زمانہ اور وقت دونوں ہی ہیں، کیوں کہ زمانہ اور وقت قریباً ایک ہی ہیں، وقت لمحے بھر کو بھی کہا جاتا ہے، جب کہ زمانہ کچھ مدت وقت کے لیے استعمال ہوتاہے، گویا وقت زمانے کا ہی حصہ ہے۔

اس آیت کی تفسیر سے معلوم ہوا کہ زمانہ کو بُرا بھلا کہنا اور اپنی مشکلات اور دکھوں کو زمانے کی طرف منسوب کرکے اسے برا بھلا کہنا مشرکین عرب اور دھریوں کاکام ہے۔ زمانے کو برا بھلا کہنا در حقیقت اللہ تعالیٰ کو بُرا بھلا کہناہے۔

۲۔ ہواکو بُرا مت کہو

جس طرح سردی وگرمی اللہ تعالی کی مخلوق ہیں ، اسی طرح ہوا بھی اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ مخلوق ہے ،لہذا انہیں گالی دینا ، لعنت کرنا اور برا بھلا کہنا جائز نہیں ہے، حدیث میں آتا ہے۔

إِنَّ رَجُلًا نَازَعَتْهُ الرِّيحُ رِدَاءَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَعَنَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَلْعَنْهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ وَإِنَّهُ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللعْنَةُ عَلَيْهِ (صحيح أبي داود: 4908)

نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ہوا نے ایک شخص کی چادر اڑا دی، تو اس نے اس پر لعنت کی، نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اس ہوا پر لعنت نہ کرو، اس لیے کہ وہ (تو اللہ کے حکم کی )تابعدار ہے، اور جو آدمی کسی ایسی چیز پر لعنت کرے جس کی وہ حقدار نہ ہو تو وہ لعنت اسی کی طرف لوٹ آتی ہے ۔

۳۔ بھلائی کی دعا ،شر سے پناہ

‏‏‏‏‏‏تیز ہواؤں اور آندھیوں کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:‏‏‏‏

الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللہِ فَرَوْحُ اللہِ تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَا تَسُبُّوهَا وَسَلُوا اللہَ خَيْرَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَاسْتَعِيذُوا بِاللہِ مِنْ شَرِّهَا (صحيح أبي داود: 5097 والنسائي في الكبرى (10699 )، وأحمد (9288 ))

ہوا اللہ کی رحمت میں سے ہے تو کبھی وہ رحمت لے کر آتی ہے، اور کبھی عذاب لے کر آتی ہے، جب تم اسے دیکھو تو اسے برا مت کہو بلکہ اللہ سے اس کی بھلائی مانگو، اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔

۴۔ تیز ہواؤں کے وقت دعا :

سردیوں میں جب تیز ہوائیں چلتی ہیں تو ہم جلدی سے گھر کے دروازے اور کھڑکیاں تو بند کر لتے ہیں لیکن ایسے موقعوں پر تعلیمات نبوی بھول جاتے ہیں ، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب تیز ہوائیں چلتیں تو نبی کریم ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے ۔

اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا، وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ (صحیح مسلم (899))

۵۔ بخار کو برا بھلا نہ کہو

موسم سرما میں سردی کی شدت کی وجہ سے لوگ مختلف بیماریوں مثلا نزلہ، زکام اور بخار کا کثرت سے شکار ہوجاتے ہیں ، تو اکثر لوگ ان بیماریوں کو کوسنا شروع ہوجاتے ہیں اوربرا بھلا کہنے لگ جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ نے ان تکالیف میں کیا اجر وثواب رکھا ہے،کسی بھی تکلیف یا بیماری کو برا بھلا یا گالی نہیں دینی چاہیے کیونکہ حدیث میں آتا ہے ۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

أن رسول الله -ﷺ- دخل على أم السائب أو أم المسيب فقال: مَا لَكِ يَا أُمَّ السَّائِبِ أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيِّبِ تُزَفْزِفِينَ؟ قالت: الحمى، لا بارك الله فيها، فقال: لَا تَسُبِّي الْحُمَّى، فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ (صحيح مسلم: 2575)

رسول اللہ ﷺ ایک انصاری خاتون سیدہ ام سائب یا سیدہ ام مسیب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے ، آپ نے فرمایا : ام سائب یا ام مسیب ! تمہیں کیا ہوا؟ کیا تم شدت سے کانپ رہی ہو؟ انہوں نے کہا : بخار ہے ، اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہ دے ! آپ ﷺنے فرمایا : بخار کو برا نہ کہو ، کیونکہ یہ آدم کی اولاد کے گناہوں کو اس طرح دور کرتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کرتی ہے ۔

موسم سرما اور اعمال ِصالحه

اللہ تعالیٰ نے ہمیں درجات كی بلندی اور گناہوں کی بخشش کیلئے وسائل اور اسباب سے نوازاہے، ان وسائل میں سے ایک انتہائی اہم وسیلہ نیک اعمال ہیں ، یعنی یه اعمال صالحه همارے گناه مٹا دیتے هیں اور دنیا وآخرت میں اجر عظیم كے مستحق بناتے هیں ۔ چنانچه الله كا ارشاد هے

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِيْنَۚ۰۰۱۱۴ (هود:۱۱۴)

دن کے دونوں سروں میں نماز برپا رکھ اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی، یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے ۔

۱۔ نفلی روزے

سردی کے موسم میں دن چھوٹے اورراتیں لمبی ہوتی ہیں لهذا روزے رکھنا بہت آسان ہے ، اس لیے ان چھوٹے دنوں میں ایک مسلمان کے لیےنیکیاں اور ثواب کمانے کا ایک بہترین موقع ہے جس میں ذرا سی مشقت کو جھیل کر نہایت آسانی سے اپنی آخرت کے لیے بڑے بڑے ذخیرے جمع کیے جاسکتے ہیں ۔ چنانچہ حدیث میں آتاہےکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

الشِّتَاءُ رَبِيعُ الْمُؤْمِنِ قَصُرَ نَهَارُهُ فَصَامَ وَطَالَ لَيْلُهُ فَقَامَ (مسند أحمد: ۱۱۷۱۶حسن)

سردی مؤمن کیلئے بہار کا موسم ہے،(چنانچہ)اس کے دن چھوٹے ہوتے ہیں تو وہ روزہ رکھتا ہے اور راتیں طویل ہوتی ہیں جس میں وہ قیام کرتا ہے۔

سیدنا عامر بن مسعود جمحی رضی اللہ عنہ بیان كرتے هیں :

قال رسول الله ﷺ : الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ (صحيح الجامع. 3868.وصحيح الترمذي.: 797. والسلسلة الصحيحة (1922) ، مسند أحمد (18979 )

کہ نبی کریمﷺنے اِرشاد فرمایا: سردی میں روزہ رکھنا ٹھنڈی غنیمت ہے ( یعنی ایسی نیکی جو بغیرکسی جدو جہد اور مشقّت کے مفت میں حاصل ہوجاتی ہے کیونکہ سردی میں دن چھوٹے اور اس کی راتیں لمبی ہوتی ہیں)

سیدنا عمر بن خطاب رضی الله عنه فرماتے ہیں :

الشِّتَاءُ غَنِيمَةُ الْعَابِدِيْنَ (رواه ابن أبي شيبة 34468 وأبو نعيم في الحلية 1/51 صحيح )

سردی کا موسم عبادت کرنے والوں کیلئے غنیمت کا موسم ہے۔

مشہور تابعی عبید بن عمیر لیثی رحمہ اللہ فرماتے هیں :

كَانَ يَقُولُ إِذَا جَاءَ الشِّتَاءُ : « يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ قَدْ طَالَ الليْلُ لِصَلَاتِكُمْ وَقَصُرَ النَّهَارُ لِصَوْمِكُمْ فَاغتَنِمُوا (الزهد للإمام أحمد 307 ، والمصنف لابن أبي شيبة: 9826، بسند صحیح)

یعنی جب سردی کا موسم آتا تو فرماتے : اے اہل قرآن تمہاری نمازوں کے لئے راتیں لمبی ہوگئی ہیں اور تمہارے روزے رکھنے کیلئے دن چھوٹے ہوگئے ہیں تو تم اسے غنیمت جانو ۔

روزہ رکھنے کا عمل اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ اس لیے اس کا اجر بھی بہت زیادہ ہے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے:

مَنْ صَامَ یَوْمًا فی سبیل اللهِ بَاعَدَ اللهُ وَجْهَه عَنِ النَّارِ سَبْعِیْنَ خَرِیْفًا (صحیح البخاری/الجہاد 36 (2840)، صحیح مسلم/الصوم 31 (1153))

 جو ایک دن اللہ کے راستے میں روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اسے ستر سال کی مسافت کے برابر جہنم کی آگ سے دور کر دے گا۔

 روزہ جنت کا راستہ ہے ۔ سیدناابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے هیں كه

يا رسولَ اللهِ ! فمُرْني بعملٍ أدخلُ به الجنَّةَ ؟ فقال: عليك بالصومِ ؛ فإنه لا مِثلَ له (أخرجه أحمد (22249) ، وابن حبان (3425) واللفظ له ، صحيح الموارد: 769)

کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! مجھے کسی ایسی چیز کا حکم دیجئے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ مجھے بہت فائدہ عطا فرمائے ۔ آپ نے فرمایا :’’ روزے کو معمول بنا کیونکہ اس جیسی کوئی چیز نہیں ۔‘‘

رمضان کے فرضی روزوں کے علاوہ پورے سال کے مختلف اوقات میں نفلی روزے ركھنانبی کریم ﷺ سے ثابت هے ۔ نفلی روزوں میں ایام بیض کے روزے ، پیر اور جمعرات کا روزہ ، محرم کے روزے، ذی الحجه كے دس روزے ، یوم عرفه كا روزه ، شعبان كے روزے ،شوال كے چھے روزے آپ ﷺسے ثابت ہیں۔

پیر اور جمعرات کا روزہ:

پیر اور جمعرات کے روزے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

تُعرَضُ الأعمالُ يومَ الاثنينِ والخميسِ فأحبُّ أن يُعرَضَ عملي وأنا صائمٌ (صحيح الترمذي: 747 )

کہ ان دنوں میں بندے کے اعمال اللہ تعالی کے پاس پیش کیئے جاتے ہیں تو میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل اللہ تعالی کے سامنے پیش ہو تو میں روزے سے ہوں ۔

ایام بیض کے روزے

ایام بیض یعنی ہر اسلامی مہینے کی 13. 14 . 15 تاریخ کے روزوں کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

صومُ ثلاثةِ أيامٍ صومُ الدهرِ كلِّه (صحيح البخاري : 1979، صحيح الجامع: 7507)

ایام بیض کے تین روزے پوری زندگی کے روزوں کے برابر ہیں۔

صوم داؤد

أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللهِ صِيَامُ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللهِ صَلَاةُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ الليْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ (صحيح النسائي: 23 صحیح البخاري (1131)، وصحیح مسلم (1159))

 اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزے کا سب سے پسندیدہ طریقہ داؤد علیہ السلام کا طریقہ تھا۔ آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن بغیر روزے کے رہتے تھے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے نزدیک نماز کا سب سے زیادہ پسندیدہ طریقہ داؤد علیہ السلام کی نماز کا طریقہ تھا ‘ آپ آدھی رات تک سوتے اور ایک تہائی حصے میں عبادت کیا کرتے تھے ‘ پھر بقیہ چھٹے حصے میں بھی سوتے تھے۔“

۲۔ سردی میں وضو کی فضیلت

نبی کریمﷺنے اِرشاد فرمایا:

أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللهُ بِهِ الْخَطَايَا،وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟“”إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ (صحیح مسلم:251)

 کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتلاؤں جس کے ذریعے سے اللہ تعالی گناہ معاف کردے اور درجات بلند کردے؟صحابہ کرام نے عرض کیا : یارسول اللہ! ضروربتلائیے!آپﷺنے اِرشاد فرمایا: (سردی وغیرہ کی)مشقت اور ناگواری کے باوجود کامل وضو کرنا ، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور مساجد کی طرف کثرت سے قدم بڑھا نا ، پس یہی رباط(یعنی اپنے نفس کو اللہ کی اِطاعت میں روکنا)ہے

۳۔ وضو میں اعضاء مکمل دھونا

سردیوں کے موسم میں جب سردی کی شدت میں نہایت اضافہ ہوتا ہے تو بعض لوگ وضو میں سستی کرتے ہوئے پورے اعضاء کو ٹھیک سے نہیں دھوتے ، یہ طریقہ نہایت خطرناک ہے کیونکہ اس بارے میں نبی کریم ﷺ کی سخت وعید آئی ہے ، چنانچہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :

تَخَلَّفَ عَنَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ سَافَرْنَاهُ فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا فَنَادَى: «وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ (صحیح مسلم :۵۷۲)

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں ہم سے پیچھے رہ گئے ، کچھ دیر کے بعد آپ ﷺ نے ہمیں پالیا ، جب آپ ہمارے پاس پہنچے تو عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا ، ہم لوگ وضو کرتے ہوئے پاؤں کو ٹھیک سے دھونے کے بجائے پاؤں پر جلدی میں ہاتھ پھیرنے لگے تو آپ نے بلند آواز سے فرمایا :’’ (سوکھی رہ جانے والی) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے ۔‘‘

۴۔ نمازیں مسجد میں ادا کرنا

سردی کی شدت کے باعث اکثر لوگ نماز باجماعت کی ادائیگی کے لیے مسجد جانے میں سستی کر جاتے ہیں، خاص کر نماز عشاء اور فجر میں زیادہ کوتاہی کرتے ہیں، جس کے باعث لوگ مسجد جانے ، باجماعت نماز ، نماز عشاء اور فجر اور اندھرے میں مسجد جانے کی فضیلتوں اور اجر وثواب کی عظیم نعمتوں سے محروم رہ جاتے ہیں ۔

مسجدجانے کی چند فضیلتیں

ا۔ نورِ کامل کی بشارت

 رسول کریم ﷺ نے اندھیرے میں نماز کے لیے مسجد جانے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا :

بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (صحيح أبي داود : 561 والترمذي (223))

 رات کی تاریکیوں میں مساجد کی طرف کثرت سے جانے والوں کو قیامت کے دن کامل نور کی خوشخبری دے دو۔

ب۔ ہر قدم پر گناہوں کی بخشش اور درجات کی بلندی

« مَنْ تَطَهَّرَ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ مَشَى إِلَى بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللهِ لِيَقْضِيَ فَرِيضَةً مِنْ فَرَائِضِ اللهِ، كَانَتْ خَطْوَتَاهُ إِحْدَاهُمَا تَحُطُّ خَطِيئَةً، وَالأُخْرَى تَرْفَعُ دَرَجَةً (صحیح مسلم الصفحة أو الرقم1521)

”جو اپنے گھر میں طہارت کرے پھر اللہ کے کسی گھر میں جائے تاکہ اللہ کے فرضوں میں سے کسی فرض کو ادا کرے تو اس کے قدم ایسے ہوں گے کہ ایک سے تو برائیاں اتریں گی اور دوسرے سے درجے بڑھیں گے۔“

ج۔ مسجد سے واپسی بھی کارِ ثواب

مَن رَاحَ إلى مَسجدِ الجماعةِ فَخُطوةٌ تَمحو سَيِّئةً ، وخُطوَةٌ تَكتُبُ لهُ حَسنةً ، ذاهِبًا و رَاجِعًا (صحيح الترغيب. الرقم: 299. وأحمد (6599) واللفظ له، وابن حبان (2039))

رسول کریم ﷺنے ارشاد فرمایا: جو شخص نماز باجماعت کیلئے مسجد جاتا ہے تومسجد جاتے ہوئے اور مسجد سے واپس آتے ہوئے بھی اس کا ایک قدم اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے اور ایک قدم اس کیلئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔

د۔ جنت میں اللہ کی مہمان نوازی کا شرف

مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَاحَ أَعَدَّ اللهُ لَهُ نُزُلَهُ مِنَ الْجَنَّةِ كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ (صحيح البخاري الرقم: 662)

کہ جو شخص مسجد میں صبح شام بار بار حاضری دیتا ہے۔ وہ جب بھی صبح شام مسجد میں جائے ،اللہ تعالیٰ جنت میں اس کی مہمانی کا انتظام فرمائے گا۔

ھ۔ گناہوں کی بخشش

مَن تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ فأسْبَغَ الوُضُوءَ، ثُمَّ مَشَى إلى الصَّلَاةِ المَكْتُوبَةِ، فَصَلَّاهَا مع النَّاسِ، أَوْ مع الجَمَاعَةِ، أَوْ في المَسْجِدِ غَفَرَ اللهُ له ذُنُوبَهُ (صحيح مسلم الصفحة أو الرقم: 232)

جو شخص نماز کے لیے پورا وضو کرے پھر فرض نماز کے لیے (مسجد کو) چلے اور لوگوں کے ساتھ یا جماعت سے یا مسجد میں نماز پڑھے تو اللہ اس کے گناہ بخش دے گا۔

۵۔ نماز تہجد

موسم سرما کی طویل راتوں میں قیام اللیل اور بھرپور نیند بھی دونوں کام بآسانی انجام دے سکتا ہے، لہذا ان قیمتی اوقات کو، توبہ واستغفار، دعا ومناجات ،نماز تہجد اور ذکر واذکار میں صرف کرنا چاہئے ۔نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے ۔

أقربُ ما يكون العبدُ من الرَّبِّ في جوفِ الليلِ ، فإن استطعتَ أن تكون ممن يذكر اللهَ في تلك الساعةِ فكُنْ (صحيح الترغيب: 1647 )

آدمی اپنے رب کے زیادہ قریب رات کے آخری حصے میں ہوتا ہے تو تم اگر طاقت رکھو کہ اس وقت اللہ کا ذکر کرنے والوں میں شامل ہوسکو تو ضرور ایسا کرو ۔

تہجد نیکو کاروں، متقی اور پرہیزگار لوگوں کا شعار ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عليكُم بقيامِ الليلِ ، فإنَّهُ دَأْبُ الصَّالِحينَ قبلَكُم ، و قُربةٌ إلى اللهِ تعالى ومَنهاةٌ عن الإثمِ و تَكفيرٌ للسِّيِّئاتِ ، ومَطردةٌ للدَّاءِ عن الجسَدِ (صحيح الجامع: 4079 ،والترمذي : 3549)

تم لوگ قیام اللیل یعنی تہجد کا اہتمام کرو اسلئے کہ یہ تم سے پہلے نیک لوگوں کا طریقہ رہا ہے اور یہ تمہارے رب کی قربت کے حصول کا ذریعہ ہے ، قیام اللیل گناہوں کی معافی اور گناہوں سے بچنے کا سبب ہے۔

۸۔ خیر وعافیت کی دعا:

موسمِ سرما کی ٹھنڈی ہواؤں اور ٹھٹھرتی راتوں میں یقیناً تکلیف تو ہوتی ہے ، پھر اِن سرد اور ٹھنڈی ہواؤں میں بسا اوقات نزلہ زُکام،کھانسی اور بخار وغیرہ بھی ہوسکتا ہے جس سے کئی قسم کی پریشانیوں کا سامنا ہوتاہے، ایسے میں اِنسان کو چاہیئے کہ دل و جان سے اللہ کے فیصلہ پر راضی رہے،صبر سے کام لے اور اللہ سے عافیت کی دعا مانگتا رہے ،کیونکہ یہی اُس کے دکھوں کا مداوا اور یہی اُس کی پریشانیوں اورمصیبتوں کی دَواء ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:

مَن لم يسألِ اللهَ يغضبْ علَيهِ (الترمذي: 3373)

 جو اللہ تعالیٰ سے نہ مانگے تو اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوتا ہے ۔

سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ :

قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللهِ، ‏‏‏‏‏‏عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَلِ اللهَ الْعَافِيَةَ ، ‏‏‏‏‏‏فَمَكَثْتُ أَيَّامًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللهِ، ‏‏‏‏‏‏عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللهَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي:‏‏‏‏ يَا عَبَّاسُ يَا عَمَّ رَسُولِ اللهِ سَلِ اللهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ (صحيح الترمذي: 3514 )

کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کی کہ مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیے جسے میں اللہ رب العزت سے مانگتا رہوں، آپ نے فرمایا: ”اللہ سے عافیت مانگو“، پھر کچھ دن رک کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں اللہ سے مانگتا رہوں، آپ نے فرمایا: ”اے عباس! اے رسول اللہ ﷺ کے چچا! تم اللہ سے دنیا و آخرت میں عافیت طلب کرو“۔

دعا کے الفاظ

ما من دعوةٍ يدعو بها العبدُ أفضلُ من اللهم إنِّي أسألُك المعافاةَ في الدُّنيا والآخرةِ (ابن ماجه: 3120)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ‌ نے فرمایا: کوئی بندہ جو بھی دعا مانگے وہ اس دعا سے افضل نہیں ہے: اللهم إنِّي أَسأَلُكَ المُعَافَاةَ فِي الدُّنيَا وَالآخِرَةِ اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں۔

۹۔ صدقات و خیرات

احادیث میں صدقے کی بڑی فضیلت آئی ہے، اس کا اجرسات سو گنا تک ملتا ہے، پھر اگر صدقہ وخیرات لوگوں کی ضرورت کے موقع پرہو تو اسکی فضیلت اور بڑھ جاتی ہے، خاص کر سردی کے موسم میں جبکہ لوگ سردی سے بچنے کے لئے، کپڑے، گرم لباس اور لحاف وغیرہ اور آمدنی میں کمی کی وجہ سے کھانے پینے کی چیزوں کے محتاج ہوتے ہیں تو ایسے ایام میں صدقہ کی فضیلت بڑھ جاتی ہے، اگر ہم اس بات کا جائزہ لیں کہ ہمارے محلے میں، پڑوس میں اور ہمارے آس پاس کے علاقے میں کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے پاس سردی سے بچنے کے لئے نہ کپڑے ہیں اور نہ لحاف اور نہ رضائی کا انتظام ، تو اہل ثروت ومخیر حضرات کیلئے ایسے نادار لوگوں کی مدد کرنا اجر وثواب کمانے کا بڑا موقعہ غنیمت ہے اور اس کے فضائل بھی کثرت سے وارد ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ الله وَأَحْسِبُهُ قَالَ : كَالْقَائِمِ لَا يَفْتُرُ وَكَالصَّائِمِ لَا يُفْطِرُ (صحیح بخاری : 6007)

نبی ﷺ نے فرمایا: بیواؤں اور مساکین کی مدد کرنے والا ان پر خرچہ کرنے والا مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے یا وہ مسلسل قیام کرنے والے اور روزے رکھنے والے شخص کی طرح ہے۔

آپ ﷺ نے مزید ارشاد فرمایا : مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ (صحیح مسلم : 2699)

جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور کر دے، تو اللہ اس کی قیامت کی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور فرمائے گا، اور جس نے کسی نادار و تنگ دست محتاج کے ساتھ آسانی و نرمی کا رویہ اپنایا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دنیا و آخرت میں آسانی کا رویہ اپنائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کا عیب چھپائے گا تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا عیب چھپائے گا، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے، جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے ۔

۱۰۔ توبہ و اِستغفار

اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے۔ ہرطرف موت کا خوف ہے ،ہر شہر اور گاؤں سے روزانہ کئی کئی اموات ہو رہی ہیں، لوگوں میں خوف وہراس ہے ۔ اس کے علاہ پوری دنیا میں موسمی تغیرات کا شور برپا ہے ، طوفانی بارشوں سے کئی کئی بستیاں اور دیہات صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں ۔آئے دن کے زلزلوں اور طوفانوں کی وجہ سے کس قدر بڑے اور وسیع پیمانے پر لوگوں کی جانوں اور مالوں کا نقصان ہونے لگا ہے۔ ان حالات سے نجات کے لئے ضروری ہے کہ ہم گناہوں پر ندامت اختیار کرتے ہوئے، توبہ واستغفار ، رب سے مناجات اور خصوصی دعائوں کا اہتمام کریں ۔کثرتِ استغفارمنہج نبوی ہے، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: 

يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إلى اللهِ، فإنِّي أَتُوبُ في اليَومِ إلَيْهِ مِئَةَ مَرَّةٍ (صحيح مسلم : 2702)

لوگو ! اللہ کی طرف توبہ کیا کرو کیونکہ ایک دن میں اللہ سے سو بار توبہ کرتا ہوں ۔

 اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: 

واللہِ إنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللهَ وأَتُوبُ إلَيْهِ في اليَومِ أكْثَرَ مِن سَبْعِينَ مَرَّةً (صحيح البخاري: 6307)

اللہ کی قسم!میں اپنے رب کے سامنے ایک دن میں سترمرتبہ سے زیادہ، توبہ واستغفار کرتاہوں ۔

رسول اللہ ﷺ نے توبہ واستغفار کے معاملے کووفات سے قبل مزید بڑھا دیاتھا،چنانچہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

كان رَسولُ اللهِ ﷺ يُكثِرُ أنْ يَقولَ قَبلَ مَوتِه: سُبحانَ اللهِ وبحَمدِهِ، أستَغفِرُ اللهَ، وأتوبُ إليه (أخرجه مسلم (484)، وأحمد (25508) واللفظ له)

یعنی: رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات سے قبل کثرت کے ساتھ یہ کہنا شروع کردیاتھا:اللہ تعالیٰ پاک ہے،اسی کیلئے ہر قسم کی حمدہے،میں اللہ تعالی ٰسے اپنے گناہوں کی استغفار طلب کرتاہوں۔ اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

یہ عام حالات میں نبی کریم ﷺ کی عادت مبارکہ تھی ،حالانکہ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفور لہ تھی۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:‏   يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ الليْلِ الآخِرُ فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ (صحيح البخاري : 1145)

اللہ تعالیٰ ہر روز رات کو ، جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، پہلے آسمان پر نزول اجلال فرماتے ہیں او رپکارتے ہیں، ‘›کون ہے جو دعاکرے اور میں اس کی دعا قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اسے دوں او رکون ہے مغفرت کا طالب کہ میں اسے بخش دوں؟

موسم سرما كی طویل راتوں میں ہر طرف سکون، اطمینان اور فضا میں سناٹا طاری ہوتا ہے، تمام لوگ گہری نیند سو رہے ہوتے ہیں۔ اس پر سکون ماحول میں انسان ایک کمزور او ربے بس انسان اپنے رب کی رحمت، فضل اور احسان طلب کرنے کے لیے اپنے ہاتھ اوپر کو اٹھا دیتا ہےتو اس وقت اللہ رب العزت توبہ و رحمت کے دروازے کھول کر اپنے بندوں کے قریب تر آجاتے ہیں ، گناہوں اور معصیتوں کے سمندروں میں ڈوبے ہوئے انسانوں کیلئے لمحۂ فکریہ ہے کہ ہم کس قدر توبہ واستغفار کے محتاج ہیں؟

۱۱۔ غریبوں كی مدد

موسم سرما میں بہت سے ایسے نادار اور غریب لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ سردی سے بچاؤ کے لیے مناسب لباس خرید سکیں ، لہذا سردی کے موسم میںہمیں اُن نادار اور غریب بھائیوں کو نہیں بھولنا چاہیئے ، بلکہ نیکی کے اِس موقع سے فائدہ اُٹھاکر آخرت کے لیے ذخیرہ سامان کرنا چاہیئے ۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ (صحيح الترمذي،الرقم : 1930 ومسلم (2699))

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی پریشانیوں میں سے کسی پریشانی کو دور کر دیا، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی پریشانیوں میں سے بعض پریشانیاں دور فرما دے گا، اور جس شخص نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس پر آسانی کرے گا۔

قرآن وحدیث کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سردیوں کا موسم عبادت کا موسم ہے۔لہذا زیادہ سے زیادہ نیک کاموں میں صرف کریں ، نفلی روزے رکھیں ۔ان دنوں میں رمضان کے قضا روزے بھی آسانی سے رکھے جا سکتے ہیں۔ صدقہ وخیرات کریں، راتیں بہت لمبی ہیں ۔ انہیں تہجد ، دعا واستغفار ،تلاوت قرآن پاک، ذکر واذکار ، اور درود شریف جیسی عبادات میں صرف کریں۔اللہ تعالیٰ مزید توفیق عطا فرمائے۔ آمین

admin

Share
Published by
admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago