Categories: اپریل 2022

فرقہ پرستی کے رد میں اہلحدیث کی دعوت فکر

رب العالمین فرمان ہے :

وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى١۪وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ١۪وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۰۰۲ (المائدۃ:٢)

«تعاون کرو نیکی اورخوف الہی کے کاموں میں اور مت تعاون کرو گناہ اور دشمنی کے کاموں میں۔اور اللہ ہی سے ڈرو،بیشک اللہ کا عذاب شدید ہے۔»

اہل حدیث بھی آ پ کو نیکی اور اللہ کے خوف کی طرف بلاتے ہیں اور اس پرفتن دور میں دعوت دین اور حق کے ترجمانی کا فریضہ ادا کرو، دینی اور سیاسی خدمات کے لیے بطور مسلمان آپ کا کردار ادا کرنا ضروری ہے۔ خاص طور پر فرقہ پرستی کے ناسور کوجڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے،اعلاء کلمةاللہ اور دنیا بھر میں طاغوتی فکر اور نظام کی بیخ کنی کے لئے،کشمیر،فلسطین سمیت دنیا بھر کے مجبور ومقہور مسلمانوں کے دفاع کے لئے فریضہ حق ادا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ایک اور حکم کے مطابق ہمیں چار بڑی ذمہ داریوں کو نبھانے کا حکم دیا گیا ہے۔

 دعوت خیر اور نیکی کی طرف بلانا،وعظ تبلیغ اور اسلام کی ترویج و اشاعت کرنا۔

معروف کا حکم دینا ۔یعنی قوت و طاقتِ اقتدار معروف ذرائع سے ہی حاصل کرکے معروف کا حکم دینا یعنی معروف(شرعی) قوانین کا نفاذ کرنا۔

اور بدی یا برائی کے کاموں سے روکنا ہے۔

اللہ پر اپنے اعمال سے ایمان اور یقین و بھروسہ قائم کرنا۔

ارشاد ہوتا ہے:

وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۰۰۱۰۴ (آل عمران:104)

«اور تم میں سے ایک ایسی جماعت ہونی چاہیے جو نیکی کا حکم دے اور بدی سے روکے اور وہی لوگ کامیاب وکامران ہوں گے۔»

پاکستان کے موجودہ حالات میں اسلام کی طرف جدید تقاضوں کے مطابق دین کی دعوت دینا اور ملک میں بدی برائی کو روکنے کا منظم اہتمام کرنا اور سیاسی میدان میں نظام حکومت اور سماج میں پنپنے والی برائیوں کی نشاندہی کرکے ان کو روکنے کی جد و جہد کرنا اور سیاسی نظام کو شورائی نظام میں بدلنے کے طور طریقوں کو رائج کرنا،نیکی کے تصورات کو عملی شکل دے کر آج کی نوجوان نسل کے سامنے پیش کرنا ایک اہم فریضہ ہے۔ اس کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا انتہائی اہم اور جملہ خرابیوں کا علاج ہے۔ اس لیے اس مقصد کی طرف آپ کو دعوت دینا اور ایک منظم قوت برپا کرنا فرض اولین ہے اور عین دین اور قرآن کے مطابق ہے۔۔اس لیے جماعت اہل حدیث آپ کو اس جامع فریضے کی ادائیگی کی طرف دعوت دیتی ہے۔اللہ کا حکم یاد دلاتی ہے:

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖٞ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ۰۰۹۲ (الأنبیاء:92)

اللہ تعالی کے اعلان کے مطابق مسلمانان عالم ایک امت واحدہ ہیں، یعنی ایک جماعت ہیں اور اس امت میں اپنے نفوس کے لیے اپنی ذات کے لیے اپنی لالچ اور اپنے شکم کو حق الناس سے ناجائز طریقے اور حرام مال سے بھرنے کے لیے اسکے اتحاد میں تفریق اور گروہ بندیاں قائم نہ کریں۔ اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اللہ کو ہی پالنے والا روزی رساں رب مان کر امت میں تفریق اور گروہ بندیاں ختم کرکے اسے امت واحدہ بنائیں۔چناچنہ اللہ تعالی کا یہ اعلان ہمیں غور سے سمجھنا چاہیے کہ گروہ بندی کتنا بڑا جرم ہے اورلوگ یہ گروہ بندیاں کیوں قائم کرتے ہیں۔

 فرمان باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ

« بیشک اکثر احبار (علماء ) و رھبان (درویش،پیر و سردار اور گرہوں کے سربراہ )لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتےہیں (گروہ بندیاں کرتے ہیں اور لوگوں کو )اللہ کے راستے یعنی (اتحاد کے ذریعےایک امت بنانے) سے روکتے ہیں۔(التوبۃ:34)

 اللہ تعالیٰ کا قران حکیم میں اعلان ہے کہ اس نے تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنایا تھا۔تاکہ سب اتحاد و یکجہتی اور اجتماعی طور پر اللہ کی عبادت کریں۔

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيّٖنَ مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ(البقرۃ:٢١٣)

«تمام لوگ ایک ہی امت تھے پس (ان کے تفرقہ بازی کرنےکے بعد )اللہ تعالی نے نبیوں کو خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا۔

اللہ تعالی ہمیں بار بار یہ ہدایت کرتے رہے کہ اتحاد اور یکجہتی یک رنگی اور یگانگت پیدا کرکے رہو۔اسی لیے اللہ تعالی نے سورت آل عمران کی آیت نمبر 104 میں حکم دیا۔

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا(آل عمران :104)

 «اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور گروہ بندی مت کرو۔»

 اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو چنا اور ان میں انبیائے کرام اور رسل علیہم السلام کو بھیجا،لیکن انہوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور کتابِ الہی کو پس پشت ڈال کر گروہوں اور فرقوں میں بٹ گئے، آپ ﷺ کا فرمان ہے:

«یہودی اکہتر فرقوں میں بٹے، عیسائی بہتر فرقوں میں بٹے، اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹے گی۔»(صحیح ابن حبان)

آپ ﷺ نے اس امت میں تفرقہ بازی رونما ہونے کی خبر دی ، عہدِ نبوت سے جس قدر دور ہوتے جائیں گے گروہ بندیاں اور اختلافات بڑھتے جائیں گے، آپ ﷺ کا فرمان ہے:

 «بیشک تم میں سے جو بھی میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت زیادہ اختلافات دیکھے گا-»(مسندِ احمد)

نبی ﷺ نے فرقہ آرائی سے خبردار فرمایا تا کہ مشیئتِ الہی میں جس کے لیے سلامتی لکھی ہوئی ہے_ وہ فرقہ واریت سے بچ جائے۔

 آپ ﷺ کا فرمان ہے:

 «اپنے آپ کو فرقوں میں بٹنے سے بچاؤ۔»(ترمذی)

نیز اللہ تعالی نے یہ بھی بتلا دیا کہ اس کی طرف جانے والا راستہ ایک ہی ہے، لہذا جو بھی کتاب و سنت سے متصادم راستہ ہو گا،وہ شیطان کا راستہ ہے۔

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ١ؕ قَلِيْلًا مَّاتَذَكَّرُوْنَ۰۰۳ْ(الأعراف:3)

«لوگو! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اس کی پیروی کرو اور اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی مت کرو۔مگر کم ہی تم نصیحت مانتے ہو۔»

اللہ تعالی نے اقامت دین کرنے اور گروہ بندی سے دوری کی تاکیدی نصیحت تمام اقوامِ عالم کو اسی طرح فرمائی جیسے انبیائے کرام کو فرمائی، فرمانِ باری تعالی ہے:

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِيْۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ وَ مَا وَصَّيْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِيْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِيْسٰۤى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ

«اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کردیا ہے جسے قائم کرنے کا اس نے سیدنا نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا اور جو (بذریعہ وحی) ہم نے تیری طرف بھیجا ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے سیدنا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں گروہ بندیاں مت کرنا۔»(الشورى:13)

اللہ تعالی نے گروہ بندی اور تفرقہ پردازوں کی سخت مذمت فرمائی:

وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِي الْكِتٰبِ لَفِيْ شِقَاقٍۭ بَعِيْدٍؒ۰۰۱۷۶

«اور بیشک جن لوگوں نے کتاب میں اختلاف کیا وہ دور کی بد بختی میں پڑ گئے۔» (البقرة:176)

تفرقہ پردازوں کی کیفیت بیان کرنے کے لئے فرمایا:

كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ۰۰۵۳ (المؤمنون: 53)

 «جس گروہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی پر اترا رہا ہے۔»

گروہ بندی کے لیے تگ و دو منافقوں کی صفات میں سے ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

وَ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِيْقًۢا بَيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ

«اور کچھ لوگوں نے مسجد بنائی نقصان پہنچانے کے لئے ، کفر کے لئے اور مومنوں میں پھوٹ ڈالنے کیلئے۔(التوبہ:١٠٧)

اور مزید یہ بھی فرمایا کہ منافقین اسی پر پروان چڑھتے ہیں:

تَحْسَبُهُمْ جَمِيْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى  (الحشر: 14)

«تم انہیں متحد سمجھتے ہو حالانکہ ان کے دل جدا جدا ہیں۔»

 فرقہ واریت جاہلوں کی خصوصی صفات میں سے ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے:

«جو شخص بھی اطاعت سے رو گردانی کرے اور اجتماعیت سے نکل جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔»(مسلم)

اللہ تعالی نے فرقہ آرائی میں ملوث لوگوں سے مشابہت اور ان کی ڈگر پر چلنے سے منع فرمایا اور کہا:

وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَيِّنٰتُ (آل عمران: 105)

 «اور ایسے لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جنہوں نے نشانیاں آنے کے بعد بھی اختلاف کیا اور بٹ گئے۔»

اللہ تعالی نے اپنے رسول ﷺ کو دھڑے بندیاں کرنے والوں سے لا تعلق قرار دیا اور فرمایا:

اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ

«بیشک جن لوگوں نے اپنا دین ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور دھڑوں میں بٹ گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔»[الأنعام: 159]

فرقہ واریت میں ملوث لوگ رسول اللہ ﷺ کے مخالف اور مومنوں کے ساتھ تصادم رکھتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے:

وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ١ؕ وَسَآءَتْ مَصِيْرًاؒ۰۰۱۱۵  (النساء: 115)

«جو شخص باوجود راہ ہدایت کے واضح ہو جانے کے بھی رسول اللہ کے خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑ کر چلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کر دیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے وہ پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔»

سب سے بڑا اختلاف رب العالمین کی وحدانیت سے انحراف ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَ لَا يَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِيْنَ۰۰۱۰۶ (يونس: 106)

«اور اللہ کے سوا کسی کو مت پکاریں جو نہ آپ کو کچھ فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان اگر آپ ایسا کریں گے تو تب یقیناً ظالموں سے ہو جائیں گے۔»

 بالکل اسی طرح بدعات ایجاد کرنا خیر المرسلین ﷺ کی اتباع سے دوری ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے:

«جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا،جس کا حکم ہم نے نہیں دیا تو وہ مردود ہے۔» (متفق علیہ)

حکمرانوں اور حکومتی قائدین کے خلاف بغاوت، ملکی قیادت سے قیادت چھیننے کے لئے اختلاف بہت بڑی خرابی کا باعث ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے:

«جس شخص نے اللہ تعالی کی اطاعت سے ہاتھ کھینچا تو وہ قیامت کے دن آئے گا تو اس کے پاس کوئی عذر نہیں ہو گا، اور جو شخص اجتماعیت کو چھوڑنے کی حالت میں مرے تو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔» (مسند احمد)

تمام معاشروں میں اہل علم افراد ہی قائد اور راہنما ہوتے ہیں، لوگوں کے دلوں میں الفت ڈالنے اور ان میں باہمی اتحاد قائم کرنے کی ذمہ داری بھی انہیں پر عائد ہوتی ہے، اگر وہی آپس میں چپقلش رکھیں تو یہ ان کی باتوں کو مسترد کرنے کا باعث بنتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا معاذ اور ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا:

«آسانی کرنا، تنگی میں مت ڈالنا، خوشخبریاں سنانا، متنفر مت کرنا، ایک دوسرے کی بات ماننا اختلاف مت کرنا۔»(متفق علیہ)

اسی طرح حق بات میں اختلاف سے منع کرتے ہوئے فرمایا:

 «قرآن مجید کی اس وقت تک تلاوت کرو جب تک تمہارے دل مانوس رہیں اور جب(قراءت میں اختلاف کی وجہ سے) اختلاف ہونے لگے تو اٹھ جاؤ۔» (متفق علیہ)

نماز کے لئے الگ الگ دھڑے بنانا اور اکٹھے با جماعت نماز ادا نہ کرناشیطان کے غلبہ پانے کی صورت ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے:

«کسی بھی بستی یا بادیہ میں تین افراد نماز با جماعت کا اہتمام نہ کریں تو شیطان ان پر غالب ہے، اپنے آپ کو اجتماعیت سے جوڑے رکھو؛ کیونکہ بھیڑیا دور نکلنے والی بکری کو کھا جاتا ہے۔»(ابوداود)

بلکہ نبی رحمت ﷺ نے بکھر کر نماز کے انتظار کو بھی اچھا نہیں سمجھا، سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

«ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ (نماز پڑھانے کے لئے)داخل ہوئے تو ہمیں ٹولیوں کی شکل میں (نماز کا انتظار کرتے ہوئے)دیکھ کر فرمایا: (کیا ہے کہ میں تمہیں ٹولیوں میں دیکھ رہا ہوں!؟)»(مسلم)

رسول معظم ﷺ نے صف بندی کرتے ہوئے نمازیوں کو اختلاف سے روکا اور اختلاف کرنے والوں کے چہروں میں بگاڑ اور دلوں میں نفرت پیدا ہونے کی وعید سنائی۔ کیوں کہ ظاہری طور پر بگاڑ کا پیدا ہونا اندرونی بگاڑ کا باعث ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے:

 «تم ضرور صفیں سیدھی کرو گے یا اللہ تعالی تمہارے چہروں میں بگاڑ پیدا کر دے گا۔» (مسلم)

نماز میں امام کی مخالفت بھی اختلاف کے ان مظاہر سے ہے جن سے اسلام نے منع فرمایا ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے:

 «بیشک امام اقتدا کے لئے مقرر کیا گیا ہے لہذا امام کی مخالفت مت کرو۔»(بخاری)

اسلام نے جس طرح دینی امور میں اختلاف سے روکا ہے اسی طرح دنیاوی امور میں بھی اختلافات سےروکا ہے،چنانچہ کھانے کے لئےاکٹھے ہونے سے برکت حاصل ہوتی ہے اور الگ الگ کھانے سے برکت ختم ہو جاتی ہے،جیسے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ:

«ہم کھاتے تو ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے! تو آپ ﷺ نے فرمایا: (لگتا ہے تم کھانا اکٹھے نہیں کھاتے) انہوں نے کہا: «بالکل ایسے ہی ہے» تو آپ ﷺ نے فرمایا: (کھانے کے لئے اکٹھے بیٹھو اور اس پر بسم اللہ پڑھو، تمہارے لیے اس میں برکت ڈال دی جائے گی۔»(ابو داود)

دورانِ سفر رفقائے سفر سے بکھر جانے کو شیطانی راستہ قرار دیا گیا،آپ ﷺ نے فرمایا:

«ان گھاٹیوں اور وادیوں میں تمہارا بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے۔»(ابو داود)

معاشرے کے افراد کی باہمی قطع تعلقی اور بے رخی سے منع فرمایا اور بتلایا کہ:

«جنت کے دروازے سوموار اور جمعرات کے دن کھولے جاتے ہیں، تو ہر اس شخص کو معاف کر دیا جاتا ہے جو اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتا، سوائے اس شخص کے جس کی اپنے بھائی کے ساتھ چپقلش ہو، تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے: ان دونوں کو آپس میں صلح کرنے تک مہلت دو، ان دونوں کو آپس میں صلح کرنے تک مہلت دو۔»(مسلم)

رسول معظمﷺ نے تعصب اور جاہلانہ نعروں سے بھی منع فرمایا:

«ایک انصاری شخص نے آواز لگائی: «اے انصاریو!» تو دوسرے نے صدا لگا دی: «اے مہاجرو!» تو اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «جاہلانہ نعرے کیوں لگا رہے ہو، انہیں ترک کر دو یہ بد بو دار ہیں۔»(متفق علیہ)

اللہ تعالی کو اپنے بندوں کے درمیان اختلاف پسند نہیں ہے ، لہذا لوگوں میں اختلافات غیر اللہ کی جانب سے ہوتے ہیں، شرعی اصولوں نے یہ واضح طور پر کسی بھی ایسی چیز کو حرام قرار دے دیا ہے جو گروہ بندی اور اختلاف کا باعث بنے، چنانچہ ہر اس چیز کو منع کر دیا گیاجو مسلمانوں میں اختلافات کا باعث بنے، مثلاً: بد ظنی، حسد، جاسوسی، چغلی، سود، کسی کی بیع پر بیع کرنا، کسی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجنا، عیب جوئی کرنا، ملاوٹ کرنا وغیرہ، نیز اللہ تعالی نے باہمی اتحاد قائم کرنے اور اختلافات سے بچنے کے لئے اچھی سے اچھی گفتگو کرنے کا حکم دیا اور بری گفتگو سے روکا، فرمان باری تعالی ہے:

وَ قُلْ لِّعِبَادِيْ يَقُوْلُوا الَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّيْطٰنَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ  (الإسراء: 53)

«اور میرے بندوں سے کہہ دیں کہ وہی بات کیا کریں جو بہترین ہو، بیشک شیطان ان کے درمیان فساد ڈلواتا ہے۔»

 فرمانِ باری تعالی ہے:

وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَۙ۰۰۳۱ مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِيَعًا١ؕ  (الروم: 31، 32)

«اور مشرکوں کی طرح مت ہو جانا جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور دھڑوں میں بٹ گئے۔یعنی امت مسلمہ کو ٹکڑوں میں بانٹنا اور الگ الگ گروہ بندیاں اور جماعتیں قائم کرنا شرک ہے۔

کتاب و سنت سے مکمل رو گردانی یا کچھ حصے کو مان لینا اور باقی مسترد کر دینا تنازعات اور تصادم کا راستہ ہے:

وَمِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِيْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪فَاَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ (المائدة: 14)

«جو اپنے آپ کو نصرانی کہتے ہیں ہم نے ان سے بھی عہد و پیمان لیا، انہوں نے بھی اس کا بڑا حصہ فراموش کر دیا جو انہیں نصیحت کی گئی تھی، تو ہم نے بھی ان کے آپس میں بغض اور عداوت ڈال دی جو تا قیامت رہے گی۔»

متَشابہ نصوص کی ٹوہ لگانا گمراہی اور سب کیلئے آزمائش ہے:

فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَآءَ تَاْوِيْلِهٖ (آل عمران: 7)

«جن کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کی متَشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، فتنے کی طلب اور ان کی مراد کی جستجو کے لئے۔»

شبہات اور شہوات کے دروازے میں قدم رکھنے کی وجہ سے کئی اقوام تباہ ہو گئیں اور نسلوں میں اختلافات پیدا ہوگئے۔

شیطانی راستوں پر چلنے کا نتیجہ اختلاف ہی ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ (الأنعام: 153)

«اور مختلف راستوں پر مت چلو یہ تمہیں اللہ کے راستے سے دور لے جائیں گے۔» 

کوئی بھی قوم سرکشی کرے تو وہ گروہوں میں تقسیم ہو جاتی ہے فرمانِ باری تعالی ہے:

وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِمَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ (آل عمران: 19)

« جن لوگوں کو کتاب دی گئی انہوں نے علم آ جانے کے بعد ہی اختلاف کیا صرف آپس میں سرکشی کی وجہ سے۔»

جس اختلاف کی بنیاد بھی ہوس پرستی، تعصب، سرکشی،شرک وبدعات، تقلید،اکابر پرستی اور گروہی تعصب ہو تو وہ فرقہ آرائی کا راستہ ہے،اس سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔

 فرقہ آرائی اور اختلاف عام طور پر بد ظنی اور ہوس پرستی سے جنم لیتے ہیں۔

حصولِ دنیا کے لئے بڑھ چڑھ کر دوڑ دھوپ کرنا عداوت اور بغض کا باعث ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: «اللہ کی قسم! مجھے تمہارے بارے میں غربت کا اندیشہ نہیں ہے، مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں دنیا ایسے ہی فراوانی کے ساتھ دے دی جائے گی،جیسے تم سے پہلے لوگوں کو دی گئی، پھر تم بھی انہیں کی طرح بڑھ چڑھ کر دنیا کے لئے آگے بڑھو گے، اور یہی دنیا تمہیں بھی تباہ کر دے گی، جیسے سابقہ اقوام کو دنیا نے تباہ کیا۔»(متفق علیہ)

جب لوگ گروہوں میں بٹ جائیں تو شیطان ان پر غالب آ جاتا ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے:

«اپنے آپ کو ملت سے پیوستہ رکھو، اور الگ ہونے سے بچاؤ؛ کیونکہ شیطان تنہا کے ساتھ ہوتا ہے، جبکہ دو افراد سے دور رہتا ہے۔»(ترمذی)

ابلیس کا چہیتا چیلا بھی وہی ہے،جو امت میں سب سے زیادہ تفریق پیدا کرے، آپ ﷺ کا فرمان ہے:

«بیشک ابلیس اپنا تخت پانی پر لگا کر اور اپنے چیلوں کو بھیجتا ہے، ان میں سے شیطان کا قریبی وہی ہوتا ہے جو سب سے زیادہ فتنہ پرور ہو، ان چیلوں میں سے ایک آ کر کہتا ہے: «میں نے یہ کیا ، میں نے وہ کیا» تو ابلیس اسے کہتا ہے: توں نے کچھ نہیں کیا! پھر ایک اور آ کر کہتا ہے: «میں نے اس وقت تک پیچھا نہیں چھوڑا جب تک میاں بیوی میں تفریق نہیں ڈال دی» ،آپ نے فرمایا: ابلیس اس کے قریب ہو کر کہتا ہے: «تو سب سے اچھا ہے۔»(مسلم)

دینی امور میں اختلاف، ہوس پرستی اور گمراہ نظریات اللہ کے راستے اور دینِ الہی سے روکتے ہیں، اسی کی وجہ سے انبیائے کرام علیہم السلام کے راستے اور منہج سے انحراف پیدا ہوتا ہے،کیونکہ سب انبیائے کرام علیہم السلام نے دین اسلام کے قیام اور حق بات پر باہمی اتحاد کا حکم دیا نیز تفرقہ سے روکا، اور جب اختلاف پیدا ہو جائے، متخاصم لوگوں کا دین خطرے میں پڑ جاتا ہے، انہیں کتاب و سنت سے تعلیمات لینے کی برکت سے محروم کر دیا جاتا ہے، ان پر ہوس غالب آ جاتی ہے، علم و ہدایت کا تسلط ختم ہو جاتا ہے، گروہ بندی سے دلوں میں کدورت اور رابطہِ اخوت منقطع ہو جاتا ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے:

«تم اختلاف میں مت پڑو وگرنہ تمہارے دل گدلے ہو جائیں گے۔»(مسلم)

گروہ بندی دشمنی اور بغض کا باعث بنتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

وَّلَا تَفَرَّقُوْا١۪ وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ  (آل عمران: 103)

«اور تفرقہ میں نہ پڑو اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر اس وقت کی جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ پھر اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی۔»

کوئی بھی قوم بٹ جائے تو کمزور اور ناتواں بن جاتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِيْحُكُمْ (الأنفال: 46)

«تنازعات میں مت پڑو وگرنہ تمہاری ہوا تک اکھڑ جائے گی۔»

اور اگر کسی قوم میں گروہ بندی پیدا ہو جائے تو یہ اللہ تعالی کے ان سے ناراض ہونے کی علامت ہوتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

قُلْ هُوَالْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ

« آپ کہہ دیں کہ وہ قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے لئے بھیج دے یا تو تمہارے پاؤں تلے سے یا کہ تم کو گروہ در گروہ کر کے سب کو آپس میں بھڑا دے اور تمہارے ایک کو دوسرے کی لڑائی کا ذائقہ چکھا دے۔» (الأنعام: 65)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:«تمہیں خواہشات اور اختلافات کا مزہ چکھا دے۔»

اختلافات کی فوری سزا دشمنوں کے مسلط ہونے کی صورت میں ملتی ہے، یہی وجہ ہے آج کشمیر،فلسطین، شام، عراق اور دیگر مجبور مسلمان ممالک میں مسلمانوں پر دشمن مسلط ہیں۔اللہ تعالی نے اپنے نبی کو وعدہ دیا ہوا ہے کہ:

 «ان کے اپنے نفسوں کے علاوہ بیرونی کوئی دشمن مسلط نہیں کیا جائے گا جو انہیں تہس نہس کر دے، چاہے ساری دھرتی کے دشمن ان کے خلاف متحد ہو جائیں، یہاں تک یہ خود ایک دوسرے کو ہلاک کرنے لگیں گے اور ایک دوسرے کو قیدی بنانے لگیں گے۔»( مسلم)

تنازعات، اختلافات اور تفرقہ بازی سے حق تباہ ہوتا ہے، دینی اقدار منہدم ہوتی ہیں اور یہ مشرکین کی مشابہت بھی ہے، یہ گمراہی پھیلنے اور جہالت پر مبنی باتیں پھیلنے کا ذریعہ ہیں، ان میں ملوث ہو کر دینی احکام پر عمل، دین کی تعلیم اور دعوت شدید متاثر ہوتی ہیں، بلکہ دینی شعائر معطل ہو جاتے ہیں،امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور دیگر نیک سرگرمیاں معدوم ہو جاتی ہیں، اختلافات کے باعث نعمتیں زائل ہوتی ہیں، نبی کریم ﷺ کو لیلۃ القدر دکھائی گئی تو آپ ﷺ لیلۃ القدر کے متعلق بتلانے کے لئے نکلے، [باہر] دو آدمی جھگڑ رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا:

 «میں تمہیں لیلۃ القدر کے بارے میں بتلانے کے لئے نکلا تھا، لیکن فلاں اور فلاں جھگڑ رہے تھے تو اس کی تعیین اٹھا لی گئی۔»(بخاری)

 امام ابن حزم اندلسي رحمه الله فرماتے ہیں :

«اور خوب جان لو کہ جتنے بھی گمراہ فرقے ہیں اللہ نے ان کے ہاتھوں سے کبھی خیر جاری نہیں کی، نہ ہی بلادِ کفر کی بستی ہی فتح کروائی ہے اور نہ ہی اسلام کی سربلندی کا کوئی کام کروایا ہے،ان فرقوں کی کوششوں کا محور مسلمانوں کا معاشرہ ہے، یہ اہلِ ایمان میں تفریق پیدا کرتے ہیں، ان پر اپنی تلواروں کو مسلط کرتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔»  ( الفصل في الملل والأهواء والنحل: ٢٢٧/٤)

اگر گروہ بندی پیدا ہو جائے تو یہ بڑے سنگین جرائم کا پیشہ خیمہ ہو سکتی ہے، جن کی وجہ سے قتل و غارت اور خون بہہ سکتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُ وَلٰكِنِ اخْتَلَفُوْا  (البقرۃ:253)

«اور اگر اللہ تعالی چاہتا تو ان رسولوں کے بعد لوگ آپس میں لڑائی جھگڑا نہ کرتے جبکہ ان کے پاس واضح احکام بھی آ چکے تھے۔ لیکن انہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔»

اختلافات کا نتیجہ تباہی ہوتا ہے،آپ ﷺ کا فرمان ہے: «اختلافات مت کرو؛ کیونکہ تم سے پہلے لوگوں نے اختلافات کئے تو تباہ ہو گئے۔»(بخاری)

آخرت میں اختلافات کرنے والوں کے چہرے سیاہ ہوں گے، فرمانِ باری تعالی ہے:

يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ١ۚ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ١۫ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۰۰۱۰۶  (آل عمران: 106)

«اس دن جب کہ کچھ چہرے روشن ہوں گے اور کچھ سیاہ ہو رہے ہوں گے تو جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے (انہیں کہا جائے گا) کیا تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا تھا ؟ سو جو تم کفر کرتے رہے اس کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو۔»

سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:»اہل سنت کے چہرے سفید ہوں گے اور اہل بدعت و فرقہ پرستوں کے چہرے سیاہ ہوں گے۔»

اللہ تعالی کا ہاتھ ملت اور اجتماعیت کے ساتھ ہوتا ہے، اور جو کوئی ملت سے بیزار ہو کر تنہا ہو گا اسے جہنم میں بھی تنہا ہی ڈالا جائے گا۔

کتاب وسنت کے ان تمام تر واضح نصوص کے بعد

مسلمانو!گروہ بندی ذلت اور عذاب ہے، تنازعات برے اور مصائب کا ذریعہ ہوتے ہیں، اختلافات کمزوری اور دیوانگی پیدا کرتے ہیں، انتشار دین و دنیا دونوں کے لئے تباہی ہے، اس کی وجہ سے دشمن خوش ہوتا ہے اور امت کمزور ہوتی ہے، اس کی وجہ سے دعوت الی اللہ کے راستے میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں، علم کی نشر و اشاعت بند ہوتی ہے، سینے میں کینہ اور دلوں میں ظلمت چھا جاتی ہے، معیشت کمزور اور وقت رائیگاں ہو جاتا ہے،اختلاف انسان کو نیک کاموں سے موڑ دیتی ہے ۔

مسلمان دوسروں کے ساتھ اپنی بھی اصلاح کرتا ہے، اپنے اندراللہ تعالی کا خوف وخشیت پیدا کریں، اتحاد قائم کریں۔یہی نبی رحمتﷺ کی امت کو انتشار اور اختلاف سے خلاصی دلائے گا۔ان شاءاللہ

editor

Share
Published by
editor

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago