Categories: اپریل 2022

آہ استاذی المکرم …. رحمہ اللہ

میں کچھ عرصہ سے سوچ رہا تھا کہ حمد و نعت، نظمیں ترانے، ٹائٹل نشید، منظوم منقبت و خراج، ڈاکومینٹریز اور دیگر جملہ وائس اوورز، الغرض بہت ساری پروڈکشنز کیں ہیں، متعدد اداروں، ٹی وی چینلز، متعدد جامعات و مدارس، متعدد شخصیات و جماعتوں کے پلیٹ فارمز پہ خدمات دیں ہیں. اب کیوں نہ اپنی آواز میں قرآنِ مجید کا ترجمہ ریکارڈ کروں!

چنانچہ ترجمہِ قرآن کے سکرپٹ کے حوالے سے کچھ خاص لوگوں سے ملاقاتوں کے لیے دور دراز کے چند ایک سفر کِیے، ملاقاتیں ہوئیں اور سکرپٹ جیسے پہلے سنگِ میل تک خاطرخواہ کامیابی ملی الحمد للہ.

پھر خیال آیا کہ آڈیو ریکارڈنگ کے ساتھ ساتھ اس پراجیکٹ کی ویڈیو بھی خود ہی تیار کرواؤں جو ایک نرالے انداز میں ہو، لہٰذا اس کے لیے بھی مختلف رفقاء سے مشاورت و ملاقاتیں کی، معاملات طے کیے.

پھر مزید یہ خیال بھی آیا کہ کیوں نہ مکمل قرآنِ کریم کی تلاوت بھی اپنی ہی آواز میں ریکارڈ کروں، تاکہ حمد و نعت، نظموں ترانوں اور وائس اوورز کے ساتھ ساتھ احباب میری آواز میں قرآن بھی سنیں! اور یہ نہ صرف اخروی خزانوں کے حصول کا باعث بنے گا، بلکہ میرے بچوں اور میری نسلوں کے لیے میری ایک یادگار بھی ہو گا ان شاءاللہ.

واضح رہے کہ میں باقاعدہ مجوّد قاری نہیں ہوں، البتہ اس ضمن میں ادارہ دارالسلام کی معرفت سے کچھ دن استاذ القراء فضیلۃ الشیخ قاری ادریس العاصم رحمہ اللہ سے مستفید ہوا ہوں، بعد ازاں دارالسلام ہی کے لیے اپنی آواز میں قرآنی قاعدہ ریکارڈ کر کے دے چکا ہوں بفضل اللہ تعالٰی.

بہر کیف، تلاوتِ قرآن کی ریکارڈنگ سے قبل کچھ عرصہ پھر استاذ المکرم رحمہ اللہ کے پاس جا کر مشق کرنے کا رادہ کر لیا.

2 فروری 2022 بروز بدھ صبح تقریبًا نو بجے میں نے استاذِ مکرم سے فون پہ رابطہ کِیا اور شرفِ ملاقات کی خواہش کی. ویسے بھی کچھ عرصہ قبل استاذی نے فرمایا تھا کہ بھئی تجھ سے خصوصی ملاقات کرنا چاہتا ہوں، اس کے لیے تمھارے سٹوڈیو آؤں گا ان شاءاللہ ( جو اپنی بعض مصروفیات اور علالت کے باعث تشریف نہ لا سکے تھے)

الغرض میں تقریبًا ساڑھے نو بجے دن گھر سے نکلا. گزشتہ دن چونکہ بائیک پر لاہور سے باہر کا سفر کیا تھا تو اس وجہ سے رات سے جسم میں درد، منہ کا ذائقہ کچھ تبدیل اور ہلکا بخار بھی تھا.میں نے اسے ایزی لیا اور ملاقات کے لیے چل پڑا.

استاذی چونکہ ناسازیِ طبیعت کے باعث اپنی رہائشگاہ پہ تھے اور مجھے ان کی رہائشگاہ کا پتہ معلوم نہ تھا، اس لیے حکم ملا کہ مدرسہ پہنچ کر وہاں سے کسی ساتھی کے ساتھ رہائشگاہ پہ آ جاؤں.

چنانچہ فصیلِ لاہور کے معروف دروازہ «شیرانوالہ» کے دامن میں جامع مسجد لسوڑی والی سے متصل استاذِ محترم کے مدرسہ میں پہنچا، مدرسہ اپنی جگہ کے لحاظ سے تنگیِ داماں کے لیے شکوہ کناں تھا. نیچے دُکانیں بن چکی ہیں چھوٹی سی راہداری میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہلی منزل پہ پہنچا جہاں قرآنی نسخہ جات کی مہک نے اسقبال کیا. اس بحرِ علوم سے طفلانِ مکتب اپنی علمی تشنگی بجھاتے ہوئے مخمور لگ رہے تھے. مسند پہ موجود ایک استاذ صاحب انتہائی خندہ پیشانی و احترام سے پیش آئے (ناچیز کو دیکھ کر پہچان گئے تھے) بعد از سلام و آداب ان سے درخواست کی کہ استاذِ محترم کا گھر دکھانے کے لیے کسی ساتھی کو میرے ساتھ بھیج دیجیے!.

انھوں نے شفقت فرمائی اور ایک مقامی بچے کو میرے ساتھ روانہ کر دیا.

بچے کے ہمراہ بادامی باغ کے گنجان آباد علاقے میں استاذِ محترم کی رہائشگاہ پہ پہنچا تو یہاں گھر کی حالت بھی مدرسہ کی ہمسوز تھی. میں سوچنے پہ مجبور ہو گیا کہ اب تو ہر طرف ترقی ہے، چھوٹے سے چھوٹے صاحبانِ مدرسہ بھی (مخیر حضرات کے تعاون سے) اچھا خاصہ رہن سہن رکھتے ہیں، لیکن یہاں ایک استاذ صاحب ہیں جو اتنا بڑا نام، اتنی زیادہ پہچان رکھتے ہیں، ہزاروں قراء کے استاذ ہیں، طویل عرصہ سے خدمات دے رہے ہیں، بڑی بڑی دینی جماعتیں ان سے اپنی ضرورت پوری کرتی ہیں، استاذ صاحب کو کسی جماعت کی ضرورت نہیں، بلکہ جماعتوں کو ان کی ضرورت ہے، بڑے بڑے لوگ ان کے گرویدہ اور ان کی خدمات کے برملا معترف ہیں. اس سب کے باوجود استاذ صاحب کی رہائشگاہ پرتکلف و پر آسائش نہیں، بلکہ انتہائی سادہ سی ہے اور کسی کشادہ و پرکیف سوسائٹی کے بجائے گنجان محلے کی ایک چھوٹی سی گلی میں ہے.

بہرکیف، کچھ لمحے بعد مجھے استاذِ محترم کے پاس لے جایا گیا. کتابوں میں گِھرے ایک سادہ اور چھوٹے سے کمرے میں ایک بستر پہ نیم دراز وہ عظیم الشان شخصیت کہ جو «خیرکم من تعلم القرآن و علمه» کی تفسیر تھے، پرنور چہرے پر سفید ریشی چاند سے نکلتی چاندنی کا منظر پیش کر رہی تھی۔

حقیر کو دیکھ کر اٹھ بیٹھے ملنے کے لیے مزید اٹھنے لگے تو میں نے جھٹ آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ تھام لیے اور ان سے بیٹھے رہنے کی درخواست کی. دورانِ مصافحہ نرم و گداز ہاتھوں کا ایسا روح پرور لمس محسوس کیا کہ …… اللہ اکبر…

پروین شاکر کے اس شعر کی فزیکل تشریح اس دن محسوس ہوئی کہ

اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا

روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی

استاذی محترم نے شفقت سے میرے سر کے پیچھے سے ہاتھ رکھ کر میرے چہرے کو جب اپنے سینے سے لگایا تو لمسِ پدری، احساسِ اپنائیت، اُنسِ خاص، لذتِ اخلاص، حرارتِ آغوش، شیرینیِ اخلاق، حلاوتِ ایمان ….. جانے کتنے سارے جذبوں نے بیک وقت اپنا ترنم چھیڑا کہ بے اختیار میری آنکھوں کے دریچے نم ہو گئے.

ان کے سینے سے لگے میرے وہ چند لمحے روحانی سرور و کیف کی وہ رفعت تھی کہ جسے کبھی فراموش نہیں کر سکوں گا.

مزاج پرسی و حالتِ صحت پر فرمانے لگے کہ جِلد الرجی کا مرض ہے، اللہ شفا دے گا ان شاءاللہ.

میرے گھر، بچوں اور جملہ معاملات کے بارے پوچھا، میرے جواب دینے پر ڈھیروں دعائیں دیں.

میں نے عرض کی کہ استاذِ محترم! آپ سے ملاقات کا بہت دنوں سے خواہش مند تھا، کچھ سستی رہی اور کچھ مصروفیات نے گھیرے رکھا. ایک بار آپ نے بھی تشریف لانے کا فرمایا تھا، مزید یہ کہ آپ سے ملاقات کرنے کی اب اپنی بھی ضرورت تھی، بالآخر حاضر ہو گیا ہوں.

اپنے تشریف لانے کے حوالے سے فرمانے لگے کہ یار! میں تمھارے سٹوڈیو میں کچھ مخصوص ریکارڈنگز کروانا چاہ رہا تھا لیکن علالت و نحیفی اور دیگر مصروفیات کے باعث نہیں آ سکا.

میں نے عرض کی: استاذی! اللہ کریم آپ کو صحت و تندرستی عطا فرمائے اور لمبی و بابرکت عمر دے، آپ کا مشفقانہ سایہ تا دیر ہمارے سروں پہ قائم رکھے!

میرے آپ کے پاس حاضر ہونے کی وجوہ میں آپ کی زیارت تو تھی ہی، مزید دو وجوہات کے پیشِ نظر حاضر ہوا ہوں، اول یہ کہ زندگی کا کچھ بھروسہ نہیں، جانے کس موڑ پہ سانسوں کی ڈور ختم ہو جائے، چاہتا ہوں کہ آپ کے پاس کچھ عرصہ مسلسل حاضر ہو کر قرآن کی مشق کروں اور اپنا تلفظ درست کروں، کیونکہ حمد و نعت اور نظمیں ترانے بہت پڑھ لیے، اب اپنی آوز میں قرآن ریکارڈ کرنا چاہتا ہوں. اور یہ سب آپ کے زیر سرپرستی کرنا چاہتا ہوں.

دوم یہ کہ آپ کی آواز میں تقریباً ساری روایات اور مختلف لہجات کے کچھ سیمپل ریکارڈ کرنا چاہتا ہوں. مجھے لگتا ہے کہ آپ کے بعد ہمارے مسلک میں ان علوم و فنون کی رفعت شاید ناپید ہو. آپ نے اپنے ہزاروں شاگردوں میں یہ دولت بانٹی ہے لیکن پتہ نہیں کیوں مجھے ایسے لگتا ہے کہ یہ «خاص چیز» محدود ہو کر رہ گئی ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنی آواز میں کچھ نا کچھ ایسی چیزیں ریکارڈ کروا لیں!

اس کے لیے میرا دل تو چاہتا ہے کہ میں روزانہ آ کر آپ کو لے جایا کروں اور سٹوڈیو میں ریکارڈ کیا کروں. لیکن آپ کی طبعی حالت و صحت شاید اس امر کی اجازت نہ دے. اس کے لیے دوسرا راستہ یہ ہے کہ بھلے باقاعدہ آڈیو سٹوڈیو نہ سہی، آڈیو کے کچھ ایکیوپمنٹس آپ کے پاس ہی لگ جائیں اور آپ اِدھر ہی ریکارڈ کروا دیں!

میں نے ابھی حال ہی میں قاری عبدالسلام عزیزی صاحب کو ان کے مدرسہ میں سٹوڈیو بنا کر دیا ہے، وہ اسی مقصد کے لیے ہے، لہٰذا آپ کے لیے بھی کچھ نہ کچھ ایسا انتظام ہونا چاہیے! .

فرمانے لگے کہ «تم نے درست بھانپا ہے. واقعی جو چیز میں چاہتا ہوں، ابھی تک اس کو صحیح معنوں میں فروغ نہیں مل سکا. یہ میری بھی خواہش ہے کہ ریکارڈ کرواؤں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بیماری اور عمر کے حساب سے اب میرا سانس چھوٹا ہو کر رہ گیا ہے، اب یہ مجھ سے نہیں ہو سکے گا. ایک وقت تھا جب ….فلاں … نے (یہاں نام نہیں لکھنا چاہتا کہ امانت ہے) مجھے کہا تھا یہ کام کرنے کو. اور اس نے کچھ انتظام کر بھی لیا تھا. پھر اچانک اس نے یہ سب روک دیا اور کہا کہ شیخ صاحب! اسے ہم بعد میں دیکھ لیں گے، ابھی کچھ دوسری مصروفیات ہیں. کافی عرصہ بعد اس نے مجھ سے معزرت کی اور کہا کہ آپ سے جو کام لینا تھا اور نہیں لے سکا تھا، پھر آپ کو روک دیا تھا، وہ دراصل …فلاں صاحب… (یہاں ایک بڑی شخصیت کا نام لیا جو میں باعثِ امانت نہیں لکھ سکتا) نے رکوایا تھا، اس شخصیت نے کہا کہ «یہ کیا کام شروع کر دیا ہے؟ چھوڑو اسے اور حدیث پہ کام کریں گے، اس کی زیادہ ضرورت ہے»

پھر استاذی فرمانے لگے کہ ان کا وہ حدیث والا کام بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا تھا.

میں نے عرض کی « چلیں استاذی! جو ہونا تھا ہو چکا، اب یہ کام ہو جانا چاہیے! اگر آپ اپنی آواز میں نہیں کروا سکتے تو کم از کم اپنے کسی شاگرد کی آواز میں کروا لیں! لیکن اپنی موجودگی اور سرپرستی میں!

تو استاذی نے خوشی سے اس بات کی اجازت دی اور دعا بھی دی.

رہی بات میری قرآنی مشق کی تو انھوں نے بخوشی فرمایا کہ کل سے ہی «تحبیرالتجوید» (تجوید کے لیے استاذی رحمہ اللہ کی اپنی تصنیف ہے) کا سبق اور حدر کی مشق شروع کر دو! ظہر کے بعد روزانہ میرے پاس گھر ہی آ جایا کرو!

میری خوشی کی انتہا نہ رہی، کیونکہ استاذالقراء امامِ قرءت فضیلۃالشیخ قاری ادریس العاصم بذاتِ خود ایک سند تھے اور مجھے یہ سڑٹیفکیٹ ملنے والا تھا کہ قرآن کے استاذ کے لیے مجھے ان کا نام ملنے والا تھا.

بعد ازاں استاذی مکرم نے چائے بنوائی اور بسکٹس کے ساتھ «تبرک» عطا کیا، ان سے مزید بہت ساری باتیں ہوئیں، بہت قیمتی نصیحتیں ملیں، ڈھیروں دعاؤں کے انمول جواہر سمیٹے. چند واقعات بھی زینتِ گفتگو بنے رہے. چند ایک آپ احباب سے بھی ذکر کیے دیتا ہوں:

دریں اثنا میں نے عرض کی: استاذی! آپ سے چند دن مستفید کیا ہوا تھا، اپنے سٹوڈیو میں تلاوت کی ریکارڈنگ کے دوران قاریوں کو میں نے وقت ڈالا ہوتا ہے، انھیں جب ان کی کوئی غلطیاں بتاتا ہوں تو وہ کہتے ہیں « جعفر بھائی! آپ تو کہتے ہیں کہ آپ نے باقاعدہ تجوید نہیں پڑھی، نہ ہی آپ حافظ یا قاری ہیں، پھر آپ کو ان غلطیوں کا کیسے پتہ لگ جاتا ہے؟

تو میں کہتا ہوں کہ بھئی! میں نے واقعی باقاعدہ تجوید نہیں پڑھی، نہ ہی میں حافظ یا باقاعدہ قاری ہوں، البتہ میں نے چند دن الشیخ ادریس العاصم صاحب سے کچھ پڑھا ہے.

اس پر استاد محترم خوب مسکرائے اور اسی نوع کا واقعہ سنایا کہ جیسے آج تم میرے پاس آئے ہو کہ اپنا تلفظِ قرآن درست کرنا ہے، اسی طرح کچھ دن ڈاکٹر راشد رندھاوا صاحب بھی اپنا تلفظِ قرآن درست کرنے کی غرض سے میرے پاس آتے رہے ہیں، بعد ازاں انھوں نے اپنے ادارے میں جب کوئی قاری رکھنا ہوتا تو اس کا انٹرویو خود لیتے، انٹرویو دینے والے کو لگتا کہ ڈاکٹر صاحب کو متاثر کر لیں گے لیکن ڈاکٹر صاحب ان سے جب قرآنی ایڈیشن لیتے تو بال کی کھال اتارتے، اب ان کے سارے قاری ان سے جھجکتے ہیں کہ بھئی انھیں تو سارا پتہ ہے.

اسی طرح ایک اور صاحب کا بھی واقعہ سنایا کہ اس نے شیخ صاحب سے اپنی صرف سورۃ فاتحہ درست سیکھ لی، بعد ازاں وہ صاحب جب بھی کسی مسجد میں نماز پڑھتے تو اکثر امام صاحب کو بعد میں پکڑ لیتے کہ تمھاری سورۃ فاتحہ درست نہیں ہے، فلاں جگہ پر یہ غلطی کی ہے، فلاں جگہ پر یہ غلطی تھی..

پھر ایک واقعہ میں نے ان سے شیئر کیا کہ پیغام ٹی وی کے لیے ایک بار میں محترم قاری احمد میاں تھانوی صاحب کا انٹرویو کر رہا تھا، انٹرویو میں ذاتی سوالات کے ساتھ ساتھ کچھ علمِ تجوید کے سوالات بھی کیے. پروگرام کی ریکارڈنگ کے بعد انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ «میاں! آپ نے تجوید کہاں پڑھی ہے؟

میں نے جواب دیا کہ «نہیں حضرت! میں نے تجوید نہیں پڑھی.

حیران ہو کر پھر استفسار کیا کہ اگر آپ نے تجوید نہیں پڑھی تو آپ کو اخفاء، ادغام، اقلاب، اظہار، وقوف اور مدات وغیرہ کا کیسے پتہ ہے؟ آپ کے سوالات سے تو یہی لگ رہا تھا کہ آپ بھی مجوّد ہیں!

میں نے عرض کی کہ شیخ صاحب! میں نے دراصل کچھ دن الشیخ ادریس العاصم صاحب کی خدمت میں گزارے ہیں؛

فرمانے لگے « اوہو ،، پھر تو آپ نے تجوید پڑھ لی ہے، اتنے بڑے نام کے چھاؤں میں رہے ہو اور کہتے ہو کہ آپ نے تجوید نہیں پڑھی !

اسی طرح استاذی مکرم نے بتایا کہ ایک بار قاری عبدالودود عاصم حفظہ اللہ پی ٹی وی پر مقابلہ اذان کے لیے گئے. انتظامیہ نے پہلے سب کا آڈیشن لیا تاکہ مقابلہ کے لیے مؤذنوں کا انتخاب کیا جاسکے. آڈیشن لینے والوں میں معروف قاری سید صداقت علی بھی تھے. جب انھوں نے قاری عبدالودود عاصم سے ان کا نام پوچھا تو انھوں نے اپنا نام بتایا. ان کا نام سنتے ہیں قاری سید صداقت علی نے فورًا کہا کہ آپ آڈیشن رہنے دیں! آپ منتخب ہی منتخب ہیں، کیونکہ آپ کے نام «عبدالودود»کے ساتھ جو لقب «العاصم» لگا ہے، مجھے اس سے معلوم ہو گیا کے کہ آپ کس کے شاگرد ہیں.

دورانِ گفتگو میں نے ان سے سوال کیا کہ استاد جی! مشاہدہ میں یہ بھی آتا ہے کہ آج کل طلباء جب قاری بن جاتے ہیں اور خوب نام بھی بنا لیتے ہیں تو اپنے اساتذہ سے دور دور رہتے ہیں اور ادب و احترام کے معاملے میں بھی خشکی دیکھنے کو ملتی ہے. اس کے جواب میں استاذی محترم نے فرمایا کہ واقعی ایسا ہی ہے. یہ بہت غلط ہے، یہی وجہ ہے کہ موجودہ قراء میں وہ روحانیت نظر نہیں آتی جو ایک قاریِ قرآن میں ہونی چاہیے!

اس کے ذیل میں اپنے استاذ قاری اظہار احمد تھانوی صاحب کے بارے خوب تذکار چھیڑے رہے، کس طرح ان کی خدمت کرتے تھے، یہ خدمت فراغت کے بعد بھی جاری رہی، پاکستان میں بھی اور سعودیہ میں بھی.

مزید فرمایا کہ اب تم «حافظ عبدالعظیم» (دارالسلام، لاہور) کو دیکھو! مجھے جب بھی کہیں ملتے ہیں، میں بیٹھا ہوں تو میری ٹانگیں دبانا شروع کر دیتے ہیں، خواہ پاس جتنے بھی اور جیسے بھی لوگ بیٹھے ہوں، نہیں جھجکتے، خدمت کرنا شروع کر دیتے ہیں، اللہ انھیں جزائے خیر عطا فرمائے!.

میں نے سوال کیا کہ آج کل بڑے بڑے ناموں والے قاریوں کو بھی جب سنتا ہوں تو مجھے کچھ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ آواز اور لہجوں میں ورائٹی کے چکر میں قواعدِ تجویدی کہیں کہیں درست ادا نہیں کرتے. آپ نے بتایا تھا کہ تنوین مع الف کے جب وقف کرنا ہو تو ایک الف کی مد کریں، اس سے زیادہ جائز نہیں، مثلًا:

وَ رَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ۰۰۲ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًاؒ۰۰۳

تو ان میں «اَفْوَاجًااور تَوَّابًا» پر اکثر قراء تین تین چار چار الف کی مد کر جاتے ہیں.اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟حالانکہ میں خود شاید ان سے اچھا قرآن نہیں پڑھ سکتا لیکن سماع کے معاملے میں کافی بہتر ہوں کہ آپ سے کچھ باریکی سیکھ رکھی ہے..

جوابًا فرمانے لگے: تم نے بالکل درست سمجھا ہے. یہ واقعی غلطیاں ہیں. یہ لوگ کھڑی زبر پر وقف کی صورت میں بھی یہی غلطی کرتے ہیں، جیسے: سورة الضحٰی کی آیات ہیں.

دورانِ تلاوت جب کہیں ایک جیسے وقوف آ جائیں تو یہ لوگ ان وقوف کی مدّات میں ایک جیسی مقدار ہی نہیں رکھ پاتے، کہیں کم مقدار تو کہیں زیادہ.

بیٹا! «وقف» دراصل قرءت کا حسن ہے. اور یہ لوگ اس حسن کو بگاڑ دیتے ہیں.

اسی طرح اکثر قراء حرکات، بالخصوص زیر اور پیش کو بھی مجہول ادا کرتے ہیں. «ع» کو بھی بعض اوقات زیادہ تکلف سے ادا کرتے ہوئے بگاڑ دیتے ہیں. «ر» ساکن پر اکثر قلقلہ کر جاتے ہیں.

«ر» مفتوح، «ر» ساکن ماقبل فتح یا ضمہ، «ر» ساکن ما قبل ساکن ما قبل فتح یا ضمہ جب بھی اسے پُر پڑھتے ہیں تو اکثر اپنے ہونٹ گول کرتے ہیں جو سرا سر غلط ہے. یہی سلوک حروفِ مستعالیہ» خ،ص،ض،غ،ط،ق،ظ « کے ساتھ کرتے ہیں کہ جب انھیں پُر پڑھتے ہیں تو ہونٹوں کو گول کرتے ہیں، یہ درست نہیں ہے.

تم نے مدات کی مقدار کی بات کی ہے. اکثر قراء جب اخفاء مع الغنہ کرتے ہیں تو اس کی مقدار تین تین الف تک کھینچ لے جاتے ہیں، حالانکہ اس کی مقدار صرف ایک الف ہے.

دراصل بیٹا! یہ لوگ تجوید تو پڑھ لیتے ہیں، سبع عشرہ بھی کرتے ہیں لیکن پھر عرب کے موجودہ قراء کو سن کر ان کے لہجوں کو من و عن کاپی کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو لہجوں کے چکر میں اپنی اصل سے بھٹک جاتے ہیں.

اگر عرب کے لہجوں کی بات کی جائے تو جو ان کے پرانے قراء تھے، ان کے لہجے ایمان افروز زیادہ تھے، جیسا کہ قاری محمد رفعت جیسے نام ہیں.ان کے لہجوں میں بہت روحانیت تھی. دل چاہتا ہے کہ انھیں سنتے ہی رہیں!

میں نے عرض کی استاد جی! ایک اور سوال، آپ کہیں گے کہ یہ سوال پہ سوال کیے جا رہا ہے، اس کے اندر کا میڈیا پرسن اسے سکون نہیں کرنے دے رہا، دراصل استادجی! آپ سے مل کر اس قدر زیادہ ایکسائٹِڈ ہوں کہ بس کچھ نہ پوچھیں!

استاذی: نہیں نہیں، تم پوچھو! میں تو چاہتا ہوں کہ یہ باتیں کھل کے ہونی چاہییں اور لوگوں کو پتہ لگنا چاہیے!

میں گویا ہوا: خیر، آپ نے لہجوں کی بات کی ہے تو سوال یہ ہے کہ لہجہ دراصل کہتے کسے ہیں؟

فرمایا: بیٹا لہجہ دراصل آواز کے اتار چڑھاؤ کا نام ہے. اس کا تعلق مخارج سے نہیں، بلکہ آواز سے ہے. کہاں آواز کو اٹھانا ہے، کہاں گرانا ہے، کہاں آواز کو سیدھا رکھنا ہے، کہاں جھول دینا ہے. یہ مقامات کے حساب سے ترتیب یا ڈیزائن دیا جاتا ہے.

میں نے عرض کی: استاد جی لہجوں کا تعلق اگر آواز کے ساتھ ہے تو موسیقی کے راگوں اور قراء کے لہجوں میں کیا فرق ہے؟ کیونکہ راگ اپنے طے شدہ سُروں کی ایک مخصوص ترتیب سے اور باقاعدگی کے ساتھ ادا کرنے سے واضح ہوتے ہیں. اب جہاں تک میں سمجھا ہوں تقریبًا لہجے بھی آواز کے اتار چڑھاؤ میں ایک مخصوص قاعدے کے تحت قائم کیے جاتے ہیں ؟

استاذی: نہیں نہیں، موسیقی کے راگوں اور لہجوں میں فرق ہے. راگوں کے اپنے قواعد ہوں گے لیکن لہجوں میں ہم الفاظ کی ساخت، ان کے مطالب و مفاہیم اور بالخصوص وقف کی صورتوں کو ملحوظ رکھتے ہیں.

(یہاں میں خاموش ہو گیا، موسیقی اور قرآنی لہجات میں مماثلت کے بارے زیادہ بات نہیں کی، کیونکہ ادب بھی ملحوظ تھا اورموسیقی کا موضوع بھی مناسب نہیں لگ رہا تھا)

فرمانے لگے کہ مفاہیم و مطالب سے لہجوں کی مطابقت سے یاد آیا کہ ایک بار سعودیہ میں ہم قاری محمد رفعت صاحب کی تلاوت سن رہے تھے، ہمارے استاذ صاحب نے پوچھا کہ یہ قاری صاحب کون ہیں؟ انھیں نام بتایا گیا تو ہمارے استاذ صاحب نے فرمایا کہ یہ محض تلاوت نہیں کر رہے، بلکہ یہ تو اپنے لہجے میں قرآن کا ترجمہ و تفسیر بیان کر رہے ہیں.

بہرکیف، تجوید کے علم و فن پہ استاذی مکرم کے ساتھ سیر حاصل گفتگو رہی، مزید لکھوں تو طوالت ہو گی۔

علاوہ ازیں اپنے بعض شاگردوں، بالخصوص سدیس پاکستان قاری عبدالودود عاصم صاحب حفظہ اللہ، قاری محمد صادق صاحب حفظہ اللہ اور چند دیگر کے بارے بہت اچھی اچھی باتیں کرتے رہے اور انھیں دعائیں دیتے رہے.

میں نے باتوں باتوں میں استاذی کے مدرسہ اور رہائشگاہ کی حالت کے بارے ذکر کیا تو فرمانے لگے کہ مدرسہ والی جگہ پہ نیچے مالکوں نے دکانیں بنا دی ہیں، ہمیں اوپر شفٹ کر کے محدود کر دیا ہے، چلو …. اللہ انھیں جزائے خیر دے !

گھر کے بارے فرمایا کہ جعفر بیٹا! دنیا کی کوئی ایسی نعمت نہیں ہے جو اللہ نے مجھے اس گھر میں نہ دی ہو! الحمد للہ میں بالکل سکون میں ہوں، مجھے اس بارے کسی سے کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے اور نہ کسی سے کوئی طمع و طلب، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے اتنا کچھ عطا فرمایا ہے، طرح طرح کے کھانے اللہ نے کھلائے ہیں، عمدہ لباس، اچھے سفر بھی کیے ہیں، مالک نے گھر والے بھی نیک دیے، اولاد بھی عطا فرمائی الحمد للہ علی ذالک.

بلکہ مجھے تو کبھی کبھی یہ ڈر آتا ہے کہ جتنا کچھ اللہ سبحانہ وتعالٰی نے مجھے عطا کر دیا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ آخرت میں میرے لیے کچھ نہ بچے! .

بہرحال مجھے جتنا کام کرنا چاہیے تھا، نہیں کر سکا، بس یہی خواہش ہے کہ اب جتنی زندگی بچی ہے، خدمتِ قرآن ہی کرتا رہوں، بلکہ میرا تو دل چاہتا ہے کہ جب مجھے موت آئے، میں مدرسے میں بیٹھا پڑھا رہا ہوں. وہیں سے مجھے اٹھا کر گھر لے آئیں.

دریں اثناء نمازِ ظہر کا وقت ہو گیا، ایک بچہ استاذی مکرم کے وضو کے لیے پانی لے کر آیا. تحدیثِ نعمت کے طور پہ عرض کرتا چلوں کہ میں حقیر و ناچیز نے اپنے لیے سعادت کے یہ لمحے ضائع نہ ہونے دیئے، بچے کے ہاتھ سے پانی کا برتن لے لیا اور استاذی مکرم کو ان کے بیڈ پر ہی بٹھائے اپنے ہاتھوں سے وضو کروایا اور خوب دعائیں لیں، الحمد للہ رب العٰلمین.

بعد ازاں استاذی محترم نے بیماری کے باعث وہیں نماز ادا کی میں نے اجازت طلب کی تو فرمایا کہ کھانے کا وقت ہو گیا ہے، کھاناکھا کر جاؤ!

میں نے عرض کی کہ استاد جی! بعض لوگ کہتے ہیں کہ

مرشد دا دیدار ھِ باہو سانوں لکھ کروڑاں حجّاں ہو

میں یہ تو نہیں کہوں گا کیونکہ بہت مبالغہ ہے اور غلط ہے. لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ آپ کی زیارت، سیر حاصل گفتگو اور آپ کے پند و نصائح کے بعد کسی قسم کے کھانے پینے کی حاجت ہی نہیں رہی. مجھے پچھتاوا ہو رہا ہے کہ میں کوئی کیمرہ وغیرہ ساتھ لے آتا اور آپ کی یہ ساری باتیں، نصیحتیں ریکارڈ کر کے لے جاتا. اب مجھے فکر یہ لاحق ہو رہی ہے کہ اتنی ساری باتیں میں سب کی سب کیسے سنبھال پاؤں گا، کہیں بھول نہ جاؤں.

استاذی مکرم نے مسکرا کر ڈھیروں دعائیں دیں اور مجھے رخصت کیا.

استاذِ محترم سے کم و بیش دو سے اڑھائی گھنٹے مسلسل اور ون ٹو ون، یعنی اکیلے ایک مفصل ملاقات رہی، الحمد للہ.

میں ان کی رہائشگاہ سے جب واپس آ رہا تھا تو ایک عجب سی ایمانی مسرت محسوس کر رہا تھا. اور ساتھ یہ احساس بھی کہ یار ہم لوگ کتنے ناقدرے اور غافل ہیں جو پاس رہتے ہوئے بھی اس قدر قیمتی اور عظیم انسان سے کما حقہ مستفید نہیں ہو پائے.

بہرکیف، ان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اردو بازار میں ان کے بتائے ہوئے مکتبہ سے اپنے نصاب کے لیے استاذی مکرم کی لکھی کچھ کتابیں خریدیں اور اپنے آفس آ گیا. میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ میری ان سے آخری ملاقات تھی. ہلکے بخار کی صورت میں طبیعت تو پہلے ہی کچھ درست نہ تھی، اسی شام بخار نے اپنا زور دکھایا، رہی سہی کسر نزلہ زکام اور کھانسی نے پوری کی، کندھے اور گردن ایسی جکڑی کہ جیسے کسی نے شکنجا کس دیا ہو، اپنا سر بھی خود اٹھانے کی سکت نہ رہی اور ہم صاحبِ فراش… حالت ایسی ہو گئی کہ اہل خانہ مجھے پکڑ کر بٹھاتے اور لِٹاتے.

سوچا کہ اب جیسے ہی طبیعت بہتر ہو گی، استاذی محترم کے پاس پیش ہو کر باقاعدہ سبق شروع کر دوں گا.

لیکن کیا خبر تھی کہ جو انھوں نے اس دو اڑھائی گھنٹے کی ملاقات میں سبق دیے تھے، وہ آخری تھے …

سات فروری بروز سوموار کو کچھ طبیعت سنبھلی تو ارادہ کیا کہ کل ضرور استاذجی کے پاس جاؤں گا ان شاءاللہ.

لیکن اللہ کو شاید کچھ اور منظور تھا.

اسی دن سوشل میڈیا پر استاذی مکرم کے فرزند جناب ابوبکر عاصم حفظہ اللہ کی پوسٹ پڑھی کہ گھر میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگی اور وہ نورانی شخصیت جھلس گئی. یہ حادثہ استاذی کے گھر میں اسی جگہ پیش آیا جہاں میں ان سے ملاقات کر کے آیا تھا۔

 ایک بجلی استاذی مکرم کے گھر میں بپھری اور دوسری میرے دل پر گری۔

عجیب عجیب طرح کے وسوسے و خیالات مضطرب کرنے لگے. اگلے دن عیادت کے لیے جانے لگا تو پھر ایک اور حکم موصول ہوا کہ ہسپتال میں آنے سے احباب گریز کریں، رش لگ جانے اور علاج معالجے میں خلل کا اندیشہ..

سو انتظار …. انتظار …. انتظار ….

کب خبر ملے کہ استاد جی ٹھیک ہو گئے ہیں، سب کچھ معمول پر ہو اور ہم اپنی خواہش دیرینہ کو تکمیلی جامہ پہنائیں۔

کل بالآخر یہ دل چھلنی کر دینے والی خبر ملی کہ استاذی مکرم ہم سب کو داغِ مفارقت دے گئے ہیں۔

اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ

نمازِ جنازہ پڑھی، دل خون کے آنسو رو رہا تھا، بعد از نمازِ جنازہ لاؤڈ سپیکر پر استاذی رحمہ اللہ کی آواز میں تلاوتِ قرآن سنی تو آنکھوں کا ضبط بھی ٹوٹ پڑا ….

اب کیفیت کچھ ایسی ہے کہ ایک طرف یہ تسلی کہ استاذی کے ایامِ آخریں میں ان سے تسلی بخش ملاقات نصیب ہوئی، انھوں نے دل کی باتیں مجھ ناچیز سے شیئر کیں، دوسری طرف یہ ملال کہ میں استاذی کے پاس پڑھنے سے محروم ہو گیا ہوں۔

خیر، ہزاروں کی تعداد میں استاذی کے تلامذہ ہیں جو ان کے لیے صدقہِ جاریہ بنیں گے ان شاءاللہ

editor

Share
Published by
editor

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago