قال الله تعالى:
’’خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے سبب فساد پھیل گیا۔ تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے۔ بہت ممکن ہے کہ باز آجائیں۔‘‘
اس آیت سے معلوم ہو اکہ گناہوں کی وجہ سے لوگ ہزاروں قسم کی پریشانیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور صحیح اَحادیث سے بھی ثابت ہے کہ کسی قوم میں اِعلانیہ بے حیائی پھیل جانے کی وجہ سے ان میں طاعون اور مختلف اَمراض عام ہو جاتے ہیں ۔ناپ تول میں کمی کرنے کی وجہ سے قحط آتا ہےاور ظالم حاکم مقرر ہوتے ہیں ۔زکوٰۃ نہ دینے کی وجہ سے بارش رک جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا عہد توڑنے کی وجہ سے دشمن مُسَلَّط ہو جاتا ہے۔لوگوں کے مالوں پر جَبری قبضہ کرنے کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق حکمرانوں کے فیصلے نہ کرنے کی وجہ سے لوگوں کے درمیان قتل و غارت ہوتی ہے اور سود خوری کی وجہ سے زلزلے آتے اور شکلیں بگڑ جاتی ہیں ۔مفسرین عظام نے فساد کے معانی قحط، وبائی امراض، برکتوں کا اٹھ جانا، منفعت کی کمی، آگ لگنا اور ڈوب کر ہلاک ہونا وغیرہ کئے ہیں۔
آیت اور اَحادیث کے خلاصے کو سامنے رکھتے ہوئے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ موجودہ صورتِ حال پر غور کر لے۔فی زمانہ بے حیائی عام ہونا،ناپ تول میں کمی کرنا ، ظلم وزیادتی لوگوں کے اَموال پر جبری قبضے کرنا،زکوٰۃ نہ دینا،جوا اورسود خوری وغیرہ، الغرض وہ کونسا گناہ ہے جو ہم میں عام نہیں اور شاید انہی اعمال کا نتیجہ ہے کہ آج کل لوگ ایڈز، کینسر اور دیگر جان لیوا اَمراض میں مبتلا ہیں ،ظالم حکمران ان پرمسلط ہیں ،بارش رک جانے یا حد سے زیادہ آنے کی آفت کا یہ شکار ہیں ، دشمن ان پر مُسَلَّط ہوتے جارہے ہیں ، قتل و غارت گری ان میں عام ہو چکی ہے، زلزلوں ،طوفانوں اور سیلاب کی مصیبتوں میں یہ پھنسے ہوئے ہیں،تجارتی خسارے اور ہر چیز میں بے برکتی کا رونا یہ رو رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عقل ِسلیم عطا کرے اور اپنی بگڑی عملی حالت سدھارنے کی توفیق عطافرمائے۔
پھلوں اوراناج کا نقصان دراصل انسان کے گناہوں کی وجہ سے ہے اللہ کے نافرمان زمین کے بگاڑنے والے ہیں۔ آسمان و زمین کی اصلاح اللہ کی عبادت و اطاعت سے ہے۔جیسا کہ ارشاد نبوی ﷺ ہے:
’’زمین پر ایک حد کا قائم ہونا زمین والوں کے حق میں چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے ۔‘‘ [سنن ابن ماجه:2538، قال الشيخ الألباني:حسن]
یہ اس لیے کہ حد قائم ہونے سے مجرم گناہوں سے باز رہیں گے۔ اور جب گناہ نہ ہونگے تو آسمانی اور زمینی برکتیں لوگوں کو حاصل ہونگی۔ چنانچہ آخر زمانے میں جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول ہوگااور اس پاک شریعت کے مطابق فیصلے کریں گے مثلا خنزیر کا قتل، صلیب کو توڑنا، جزئیے کا ترک یعنی اسلام کی قبولیت یا جنگ پھر جب آپ علیہ السلام کے زمانے میں دجال اور اس کے مرید ہلاک ہو جائیں گے یاجوج ماجوج تباہ ہو جائیں گے تو زمین سے کہا جائے گا کہ اپنی برکتیں لوٹادے اس دن ایک انار لوگوں کی ایک بڑی جماعت کو کافی ہوگا اتنا بڑا ہوگا کہ اس کے چھلکے تلے یہ سب لوگ سایہ حاصل کرلیں۔ ایک اونٹنی کا دودھ ایک پورے قبیلے کو کفایت کرے گا۔
یہ ساری برکتیں صرف رسول اللہ ﷺکی شریعت کے جاری کرنے کی وجہ سے ہونگی جیسے جیسے عدل و انصاف میں اضافہ ہوگا ویسے ویسے خیر و برکت بڑھتی چلی جائے گی۔
اس کے برخلاف فاجر شخص کے بارے میں حدیث شریف میں ہے:
اس کے مرنے پر بندے، شہر، درخت اور جانور سب راحت پالیتے ہیں۔ [صحیح بخاری:6512]
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’ ہم نے انہیں بھلائیوں برائیوں میں مبتلاکیا تاکہ وہ لوٹ جائیں ۔‘‘
تم زمین میں چل پھر کر خود ہی دیکھ لو کہ تم سے پہلے جو مشرک تھے ان کا انجام کیا ہوا؟ رسولوں کی نہ ماننے اللہ کے ساتھ کفر کرنے کا کیا وبال ان پر آیا؟ یہ دیکھو اور عبرت حاصل کرو ۔
اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا اصول یہ ہے کہ وہ انسانوں کے سب اعمال کی سزا دنیا میں نہیں دیتا۔ اگر ایسا ہو تو روئے زمین پر کوئی انسان بھی زندہ نہ بچے۔
فرمان باری تعالیٰ ہے :
’’اور اگر اللہ گرفت کرے لوگوں کی ان کے اعمال کے سبب تو اس زمین کی پشت پر کسی جاندار کو نہ چھوڑے ‘ لیکن وہ ڈھیل دیتا رہتا ہے ان کو ایک مقررہ مدت تک۔‘‘
اس اصول کے تحت اگرچہ اللہ تعالیٰ دنیا کی زندگی کی حد تک انسانوں کی زیادہ تر نافرمانیوں کو نظر انداز کرکے ان کی سزا کو مؤخر کرتا رہتا ہے لیکن بعض گناہوں یا جرائم کی گرفت وہ دنیا میں بھی کرتا ہے اور اس گرفت کا مقصد یہ ہوتا ہے :لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَکہ شاید اس سے کچھ لوگوں کو ہوش آجائے اور وہ توبہ کر کے اپنی روش تبدیل کرلیں۔
دوسری جگہ پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں، وہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی کا بدلہ ہے اور وہ (اللہ تعالیٰ) تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما لیتا ہے۔‘‘
گزشتہ چند دنوں سے پاکستان میں تاریخ کا انتہائی خطرناک سیلاب آیا ہوا ہے، جس نے ہر طرف قیامت برپا کر دی ہے۔ بے بس انسان اور جانور خس و خاشاک کی طرح تیرتے نظر آتے ہیں۔ ملک تباہی و بربادی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ ہر منظر دل دہلا دینے والا اور رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔ جس کی وجہ سے کروڑوںلوگ مصیبت کا شکار ہوئے ہیں اور لاکھوں افراد پوری پاکستان عوام سے رحم کی اپیل کررہے ہیں بلکہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیںکیونکہ لاکھوں لوگوں کو اگر بروقت مطلوبہ امداد نہ دی گئی تو یہ سب ممکنہ وبائی امراض اور بھوک کے ہاتھوں زندگی کی بازی بھی ہار سکتے ہیں۔ اس لئے ہم سب مسلمانوں کو ایسے دکھی بہن بھائیوں کی فوری مدد کے لئے آگے بڑھنا ہوگا۔ ان کے دکھ درد کو اپنا درد سمجھ کر ان کے ہرضرورت پوری کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ دریا کی موجوں سے بچ نکلنے والوں کو موت اور مایوسی کی دلدل میں گرنے سے بچانا ہوگا۔ تباہی بہت بڑی ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ بربادی کے ایسے ہولناک مناظر ماضی میں نہیں دیکھے گئے۔ بلاشبہ موجودہ سیلاب کی تباہی 2005ء کے زلزلے اور 2010ء کے سیلاب سے بھی زیادہ ہے مگر ہمیں اس آزمائش کا جوانمردی سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ اور ہمیں ان حکمرانوں کا بھی محاسبہ کرنا ہوگا جو ان بدترین حالات میںکینیڈا جاکر مہنگے ترین فائیو اسٹار ہوٹلز میں اپنے دو درجن معاونین کے ساتھ قیام پذیر ہوتے ہیںجبکہ پوری دنیا میں سیلاب کے متاثرین کی بے کسی، بے سروسامانی و تباہی کی ایسی ایسی تصاویر چھپ چکی ہیں جو کہ اندوہناک صورتحال پیش کرتی ہیں جبکہ اغیار جن کی تقلید کی مثالیں دیتے ہوئے ہمارے اشراف تھکتے نہیں ہیں۔ ان کا وزیراعظم جب برطانیہ سے نیویارک پہنچا تو وہ مہنگے ترین ہوٹل کی بجائے اپنے قونصل خانے میں ٹھہرتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ کیونکہ ملک کے معاشی حالات خراب ہیں، اس لئے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ مگر وطن عزیز پاکستان کے صاحبانِ اقتدار کی گنگا الٹی بہتی ہے۔ عوام الناس کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے اغیار کی شرائط پر قرض نما امداد لینے کیلئے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں۔
قارئین کرام! مگر یہ ہمارے برے اعمال ہی عذاب الٰہی کو دعوت دے رہے ہیں۔ قانونِ قدرت ہے کہ زمینی اور آسمانی آفتیں قوموں کی مسلسل اور مجموعی بداعمالیوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ہماری قوم کی حالت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں، بغاوتوں، عیاشیوں اور فحاشیوں میں بری طرح گِھرچکی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان تو رکھتے ہیں مگر اس کا سیاسی اور معاشی اقتدار تسلیم نہیں کرتے اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم کو تو صرف اللہ تعالیٰ کی بادشاہی پر ہی ایمان رکھنا چاہئے اور ہمارا آئین تو صرف اور صرف قرآن کریم اور صاحب قرآن کا اسوۂ حسنہ ہونا چاہئے۔ ہم نے اس فرمانِ باری تعالیٰ کو بھلا دیا ہے۔
’’کہو وہ اس بات پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کردے۔‘‘ (الانعام:65)
’’اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ ان پر ظلم کرے بلکہ یہی لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔‘‘
’’یہ تمہارے پیش کردہ اعمال کا بدلہ ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ۔‘‘
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے قیدیوں میں ایک عورت تھی جو دوڑ رہی تھی، اتنے میں ایک بچہ اس کو قیدیوں میں ملا اس نے جھٹ اسے اپنے پیٹ سے لگا لیا اور اس کو دودھ پلانے لگی۔ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: کیا تم خیال کر سکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں ڈال سکتی ہے؟۔ ہم نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم نہیں۔ آپ ﷺ نے اس پر فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جتنی یہ عورت اپنے بچہ پر مہربان ہے۔
نظام کائنات میں دَر آنے والی تبدیلی اس کے منتظم اعلیٰ کے وجود پر ایمان لانے کا ذریعہ بھی بنتی ہے اور انسان کو یہ باور کراتی ہے کہ اے غافل انسان، وقت ہے سنبھل جا۔ خود ساختہ نظام کو چھوڑ دو۔ جو تم نے دنیا میں نظام بنا رکھا ہے اس کو کبھی تو پانی کی لہریں اور کبھی زمین کی چند سیکنڈ کی لرزش ختم کرنے کیلئے کافی ہے۔ قدرتی طوفان کے آگے نہ کوئی سرحد رہ جاتی ہے اور نہ کوئی سپر پاور۔
قرآن و حدیث میں کچھ اعمال ایسے بتائے گئے ہیں جن سے غضبِ الٰہی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
’’ اور اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرے گا کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے ،اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں دے گا جب تک وہ استغفار میں مشغول رہیں۔‘‘
جیسا کہ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’الجواب الکافی‘ میں خلیفۂ وقت سیدنا عمر بن عبدالعزیزرحمہ اللہ کا ایک مکتوب نقل کیاہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’حمد و صلوٰۃ کے بعد جان لیجئے آفاتِ سماویہ زلزلہ اور دیگر بلائیں ایسی چیزیں ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر عتاب ظاہر فرما کر ان سے توبہ کرانا چاہتا ہے۔‘‘
رسول اکرمﷺ نے بتلایا کہ صدقہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو ٹھنڈا کرنے کا ذریعہ ہےتو آیئے اپنے سیلاب متأثرین بہن بھائیوں کی دل کھول کر امداد کریں۔
اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کی اس وقت تک مدد کرتا رہتاہے جب تک وہ بندہ اپنے (مسلم) بھائی مدد کرتا رہتاہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جس آدمی نے کسی مومن سے دنیا میں مصیبتوں کو دور کیا اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی مصیبتوں کو دور کرے گا اور جس نے تنگ دست پر آسانی کی اللہ اس پر دنیا میں اور آخرت میں آسانی کرے گا اور اللہ اس بندے کی مدد میں ہوتے ہیں جو اپنے بھائی کی مدد میں لگا ہوتا ہے۔‘‘
تو آیئے، بارگاہِ الٰہی میں صدقِ دل سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور انفرادی اور اجتماعی معاملات میں قرآن و حدیث کی تعلیمات پر عمل کرنے کا عہد کریں۔ اللہ ہماری خطائوں سے درگزر فرمائے۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…