جی تو پیارے بچو!!!
کیا حال ہیں آپ سب کے؟ امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔۔۔
ننھے قارئین!!جیسا کہ پچھلے قصے میں بتایا گیا تھا کہ شیطان ہم انسانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اور اس نے اس دشمنی کی وجہ سے ہی ہمارے ابا جان سیدنا آدم علیہ السلام اور اماں جان حوا علیہا السلام کو جنت سے بھی نکلوا دیا تھا۔
بالکل اسی طرح شیطان کوشش کرتا ہے کہ وہ ہمیں بھی جنت کے راستے سے ہٹا کر جہنم کی طرف لے جائے۔۔۔ جس کے لئے وہ خود اور اس کے چیلے دن رات محنت کرتے ہیں۔
در اصل شیطان چاہتا ہے کہ ہم ایسے کام کریں جس سے وہ خوش ہو اور اللہ تعالی ناراض ہو جائیں۔
اور کیاآپ کو معلوم ہے!!!
آپس میں لڑائی جھگڑا کرنے اور ایک دوسرے سے بات نہ کرنے ، ناراض ہو جانے سے شیطان خوش ہوتا ہے اور اللہ تعالی ناراض ہوتے ہیں۔۔۔ اور ہم مسلمانوں کی تو ہمیشہ یہی کوشش ہونی چاہئے کہ ہر ایسے کام سے بچیں جو کام اللہ تعالی کی ناراضگی کا سبب بنے۔
پیارے بچو!کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں پہلی دفعہ کس کی لڑائی ہوئی؟ اور پھر اس لڑائی کا نتیجہ کیا نکلا؟
آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں!
یہ بہت پہلے کی بات ہے جب دنیا میں بہت کم لوگ آباد تھے اور سیدنا آدم علیہ السلام بھی موجود تھے۔۔۔ اور یہ قصہ بھی انہی کےدو بیٹوں کا ہے جن میں سے ایک کا نام ہابیل تھا اور دوسرے کا نام قابیل تھا۔
ہابیل بہت ہی اچھا لڑکاتھا وہ بڑوں کا کہنا بھی مانتا تھا اور اچھے اچھے کام بھی کیا کرتا تھا اور اسکا دوسرا بھائی قابیل وہ بالکل بھی اچھا لڑکا نہیں تھا اور وہ بڑوں کا کہنا بھی نہیں مانا کرتا تھا۔۔۔ہمیں چاہئے کہ ہم اچھے بچوں کی طرح بات مانا کریں ورنہ سب کہیں گے کہ دیکھو کیسا خراب بچہ ہے کسی کی بات ہی نہیں مانتا۔
ایک دن ہابیل اور قابیل کی آپس میں کسی بات پر لڑائی ہو گئی ان کے والد سیدنا آدم علیہ السلام انہیں سمجھایا کہ ایک دوسرے سے لڑتے نہیں ہیں بلکہ آپس میں مل جل کر رہتے ہیں لیکن پھر بھی لڑائی ہوتی رہی تو یہ دیکھ کر سیدنا آدم علیہ السلام نے ان سے کہا کہ تم دونوں ایک کام کرو اللہ کی راہ میں صدقہ نکالو۔ جس کا صدقہ اللہ کی راہ میں قبول ہو گیا وہ سچاہوگا اور جسکا صدقہ قبول نہ ہوا وہ جھوٹاہوگا اور یوں معاملہ بھی حل ہو جائے گا۔
چنانچہ ان دونوں نے ایسا ہی کیا اور اللہ تعالی نے ہابیل کے صدقے کو قبول فرما لیا۔
ننھے ساتھیو! شاید آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیسے پتہ چلا کہ ہابیل کا دیا ہوا صدقہ قبول ہو گیا ہے اور قابیل کا نہیں ہوا؟
آئیے ہم آپ کو بتا دیتے ہیں!
پہلے زمانے میں صدقہ دینے کا طریقہ یہ تھا کہ جہاں لوگ رہتے اس جگہ سے تھوڑی دور خالی اور سنسان جگہ وہ چیز رکھ دیتے جو صدقے میں دینی ہوتی۔۔۔پھر اگر اللہ تعالی نے صدقہ قبول فرمانا ہوتا تو آگ یا اس جیسی کوئی چیزآتی اور صدقے والی چیز کو آسمان کی طرف اٹھا کر لےجاتی۔
تو اگر لوگ دیکھتے کہ وہ چیز آسمان کی طرف چلی گئی تو وہ خوش ہو جاتے کہ انکے صدقے کو اللہ رب العالمین نے قبول فرما لیا ہے،اور اگرایسا نہ ہوتا تو وہ اللہ تعالی سے دعائیں کرتے اللہ ان کے صدقات اور عبادات کو بھی قبول فرمائے۔۔۔ ہمیں بھی کوئی بھی نیک کام کرکے یہ دعا ضرور کرنی چاہیے:
’’اے اللہ! آپ ہمارے نیک اعمال کو قبول فرمائیے ، بے شک آپ سننے والے اور جاننے والے ہیں ۔‘‘(آمین)
پیارے بچو!ہابیل اور قابیل کے معاملے کا بھی ایسے سب لوگوں کو پتہ چل گیا تھا کہ ہابیل کا صدقہ اللہ رب العٰلمین نے قبول فرما لیا ہےاور وہ یہ دیکھ کر بے حد خوش ہوا لیکن قابیل یہ دیکھ کر اور زیادہ غصہ ہو گیا اور حسد و جلن کی آگ میں جھلس کر رہ گیا۔
اس کا حسد اور غصہ اس حد تک بڑھ گیا کہ وہ اپنے ہی بھائی کو قتل کرنے کی دھمکی دینے لگا اور کہنے لگا کہ میں تمہیں مار ڈالوں گا۔ یہ سن کر ہابیل کوبھی بہت غصہ آیا لیکن وہ جانتا تھا کہ لڑائی جھگڑا کرنا اچھی بات نہیں ہے اسی لئے وہ کہنے لگا کہ اگر تم مجھے مارنا چاہو یا قتل کرنے کیلئے ہاتھ بڑھاؤ تو میں تمہیں کچھ نہ کہوں گا اور نہ تمہیں ماروں گا کیونکہ ایسا کرنے سے اللہ تعالی ناراض ہو جاتے ہیں اور میں تو اللہ کی ناراضگی سے بہت ڈرتا ہوں۔
لیکن قابیل پر تو شیطان سوار تھا اور اسکا غصہ تھا کہ ختم ہی نہ ہورہا تھا اور آخر کار ایک دن اس نے موقع پا کر ہابیل کواتنےزور سے کلہاڑا مارا کہ اس کہ جان نکل گئی اور وہ فوت ہو گیا۔
ساتھیو! دیکھا آپ نے لڑائی جھگڑے کا نتیجہ!!!
اسی لئے ہمیں لڑائی جھگڑے سے دور رہنا چاہئے اور اگر کسی سے کوئی بھی چھوٹی موٹی لڑائی ہوجائے تو اسے فورا معذرت کر لینی چاہئے اور آپس میں مل جل کر ہنسی خوشی رہنا چاہئے۔
ننھے قارئین!!قابیل نے ہابیل کو مار تو دیا لیکن اب وہ پریشان ہو گیا کہ وہ لاش کا کیا کرے؟
ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ اللہ تعالی نے کوے کو بھیجا جو قابیل کے قریب آ کر زمین میں گڑھا کھودنے لگا، یہ دیکھ کر قابیل کو سمجھ آیا کہ وہ بھی اپنے بھائی کو زمین کھود کر ایسے ہی دفنائے اور پھر اس نے ایسا ہی کیا لیکن وہ بہت شرمندہ بھی ہوا کہ ایک کوّامجھ سے بھی زیادہ سمجھدار ہے لیکن کہتےہیں نااب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیںکھیت! بس اسی طرح اب اسکے پچھتانے کا بھی کوئی فائدہ نہ تھا۔
اس دن سے اللہ تعالی نے ساری انسانیت کے لئے یہ اعلان فرما دیا کہ جو کوئی بھی کسی کو قتل کرے گااس کا گناہ ایسا ہوگا کہ گویا کہ اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا اور جو کوئی بھی ایک جان بچائے گا تو اسکو اتنا ثواب ملے گا کہ گویا کہ اس نے پوری انسانیت کو بچایا ہو۔۔۔ اسی لئے ہمیں چاہیے کہ ایسے کام کریں جس سے لوگوں کی جان بچائی جا سکے۔
جیسے: مریضوں کو دوائیاں دینا ، بھوکوں کو کھانا کھلانا اور ایمبولینس کو راستہ دینا وغیرہ۔
پیارے بچو! کیا آپ بتا سکتے ہیں ؟
اگر ہمیں غصہ آئے تو ہمیں کون سی دعا پڑھنی چاہیے؟
ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ نے پہلوان کسے کہا ہے؟
ہم لوگوں کی جان بچانے کے لیے اور کیا کیا کام کر سکتے ہیں؟
آپ مندرجہ بالا سوالات کے جوابات مندرجہ ذیل واٹس ایپ نمبر پر یا دفتر مجلہ اسوہ حسنہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ گلشن اقبال بلاک 5 کے پتے پر بذریعہ ڈاک ارسال کر سکتے ہیں ۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…