کپڑے میں تھوک اور رینٹ وغیرہ کے لینے کا بیان
محمد بن یوسف، سفیان، حمید، انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے ایک مرتبہ اپنے کپڑے میں تھوکا، ابوعبداللہ بخاری فرماتے ہیں : اس حدیث کو ابن ابی مریم نے تفصیل کے ساتھ بیان کیا۔ انھوں نے کہا: ہم نے یحییٰ بن ایوب سے بواسطہ حمید سنا، انھوں نے کہا: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نبی معظم ﷺ کی یہی روایت سنی۔
Narrated Anas: The Prophet once spat in his clothes
له متابعة
معانی الکلمات
| بَزَقَ | اس ایک آدمی نے تھوکا |
| ثَوْبِهِ | اپنے کپڑے میں |
تراجم الرواۃ
1نام ونسب: محمد بن یوسف بن واقد بن عثمان الضبی الفریابی
کنیت: ابو عبد اللہ الفریابی
محدثین کے ہاں مقام ورتبہ: امام ابو حاتم فرماتے ہیں کہ فریابی ثقہ،صدوق تھے اور فریابی امام ابخاری اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ کے اساتذہ میں سے ہیں۔امام ابن حجر عسقلانی کے ہاں ثقہ فاضل تھے، امام ذہبی رحمہ اللہ کے ہاں محدث تھے۔
وفات: محمد بن یوسف الفریابی کی وفات ماہ ربیع الاول 212ہجری میں ہوئی ۔
2نام ونسب: سُفْيَان بن سعيد بن مَسْرُوق بن حبيب بن رَافع بن عبد الله بن موهبة بن اُبَی بن عبد اللہ
کنیت: ابو عبد اللہ الثوری الکوفی
ولادت: امام ثوری کی ولادت 97 ہجری میں ہوئی۔
محدثین کے ہاں مقام ورتبہ: امام یحییٰ بن معین اور دیگر محدثین کے اقوال کے مطابق سفیان ثوری امیر المؤمنین فی الحدیث کے لقب سے متصف تھے۔
امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ثوری ثقہ ،حافظ،فقیہ، عابد، امام حجہ مگر ان سے کبھی کبار تدلیس بھی ہوئی ہے۔سفیان ثوری نے چھ سو سے زائد کبار اساتذہ کرام سے کسبِ علم کیا ہے۔
وفات: سفیان ثوری نے 161 ہجری میں وفات پائی۔
3نام ونسب: حمید بن ابی حمید الطویل البصری الخزاعی
کنیت: ابو عبید البصری
ولادت: حمید الطویل کی پیدائش 67 ہجری میں ہوئی۔
محدثین کے ہاں مقام ورتبہ: امام ابن حجر کے ہاں ثقہ،عابد وزاہد تھے مگر تدلیس بھی پائی جاتی ہے۔ امام ذہبی کے ہاں بھی ثقہ تھے مگر سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے تدلیس کرتے تھے۔
وفات: حمید الطویل نے نماز کی حالت میں 142 ہجری میں وفات پائی۔
3 سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا ترجمہ حدیث نمبر 2 میں ملاحظہ فرمائیں۔
شرح الحدیث
اس حدیث میں اقذار کے متعلق وضاحت کی جارہی ہے جو قذر کی جمع ہے۔ قابل نفرت چیز کو قذر کہا جاتا ہے۔ اس کی دوقسمیں ہیں: قابل نفرت کے ساتھ ساتھ نجس بھی ہو، جیسے بول وبراز اورمنی وغیرہ۔ *قابل نفرت ہونے کے باوجود ناپاک نہ ہو، جیسے تھوک، بلغم اور پسینہ وغیرہ۔ اس باب میں امام بخاری رحمہ اللہ ان اقذار کا حکم بیان کرتے ہیں جو قابل نفرت تو ہیں لیکن نجس نہیں۔ اس کے بیان کرنے کی ضرورت اس لیے پیدا ہوئی کہ سیدناسلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ تھوک اور ناک سے بہنے والی رطوبت کو منہ اور ناک سے الگ ہونے کے بعد نجس خیال کرتے تھے۔ اس مسئلے میں امام بخاری رحمہ اللہ جمہور کے ہم نوا ہیں کہ تھوک اوربلغم وغیرہ پاک ہیں، اگر کپڑے کو لگ جائیں تو کپڑا ناپاک نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر یہ چیزیں پانی میں گرجائیں تو اس سے پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ یہ دوسری بات ہے کہ اس کے استعمال سے دوسروں کو گھن آئے لیکن ہر گھن والی چیز کا ناپاک ہونا ضروری نہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ابن حزم رحمہ اللہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ سیدناسلمان فارسی رضی اللہ عنہ اورامام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے نزدیک تھوک ناپاک ہے بشرطیکہ منہ سے الگ ہوجائے۔ (فتح الباري:459/1)
علامہ عینی رحمہ اللہ نے لکھا ہے: تھوک کے متعلق کچھ تفصیل ہے کہ اگر منہ پاک ہوگا تو تھوک بھی پاک ہوگا اوراگر تھوک ایسے شخص کا ہو جس نے شراب نوشی کی ہے تو اس وقت اس کا تھوک بھی ناپاک ہوگا اور جوٹھا بھی ناپاک ہوگا۔ (عمدةالقاري:681/2)
رسول اللہ ﷺ کا کپڑے میں تھوکنا اس وجہ سے تھا کہ آپ ﷺ نے مسجد میں دیوار کے ساتھ تھوک لگا ہوا دیکھا تو آپ نے فرمایا کہ دوران نماز میں اگر تھوکنے کی ضرورت ہوتو اپنی بائیں طرف یا قدموں کے نیچے تھوکے، پھر آپ نے چادر کے کونے پر تھوک کر اس کے کناروں کو مل دیا اور فرمایا کہ اس طرح بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن کپڑے میں تھوکنے کی صورت اس وقت ہے جب اسے جلدی فراغت کی ضرورت ہو جیساکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب الصلاۃ میں ایک عنوان (باب:39) بایں الفاظ قائم کیا ہے:
’’جب تھوک کا غلبہ ہوتوچادر کے کسی کنارے میں تھوک دے۔‘‘
اگرچہ مذکورہ حدیث سے یہ بات معلوم نہیں ہوتی، تاہم صحیح مسلم کی ایک روایت میں اس کی وضاحت ہے۔ (فتح الباري:465/1) چونکہ وہ روایت امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط کے مطابق نہ تھی، لہٰذا عنوان میں اس کی طرف اشارہ کردیا ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث:1228(550)
ان احادیث کی روشنی میں معلوم ہوا کہ اگرنماز میں اس کی ضرورت پیش آجائے تو اسے منہ میں جمع کرنے کی بجائے اپنے بائیں طرف تھوک لے اور اگر بائیں جانب کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتو یہ اپنے پاؤں کے نیچے تھوک لے اور اگرغلبے کی صورت ہوتو کپڑے میں تھوک کراسے مل لے۔ لیکن موجودہ حالات میں بائیں جانب یا قدموں کے نیچے تھوکنے کے بجائے کپڑے والی صورت ہی زیادہ صحیح ہے۔ واللہ أعلم
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…