۔7 اکتوبر 2022ء کو شنگریلا ہوٹل مری میں بنام’’تشدد،مسلح تصادم اور قدرتی آفات میں صحافت ‘‘ منعقد ہونے والی دوروزہ میڈیا ورکشاپ صحافت جس میں دینی جرائد کے مدیران کو مدعو کیاگیا تھا جس کا اہتمام IPS اور ICRC کے باہمی اشتراک سے ہوا۔ ورکشاپ کی ابتداء رب ذوالجلال کے بابرکت کلام پاک سے ہوئی جس کی سعادت سید ندیم فرحت کے حصہ میں آئی اور نعت رسول مقبول ﷺ پیش کرنے کے لیے اسامہ حمید تشریف لائے اس کے بعد شرکاء نے اپنا اور اپنے مؤقر جریدہ اور ادارے کا تعارف کروایا۔یادرہے کہ نظامت کی ذمہ داری روزنامہ امت کے کالم نگار احسان کوہاٹی المعروف سیلانی صاحب کے سپرد تھی۔
پروگرام کا باقاعدہ آغاز آئی سی آر سی ایڈوائزر ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی نے کیا اور انہوں نے سب سے پہلے دینی جرائد کے مدیران کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی آئی پی ایس کو خراج تحسین سے نوازا کہ جن کی کاوشوں نے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے مدیران کو ایک گلدستہ میں پرو دیا ،اس کے بعد رحمانی صاحب نے آئی سی آر سی کے قیام کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی انہوں نے بتایا کہ انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس ایک نہایت غیر معمولی ادارہ ہے جو 1863ء کو آج سے 159 سال پہلے معرض وجود میں آیا جس کی بنیاد خدمت آدمیت اور احترام انسانیت پر رکھی گئی تھی جبکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور فطرت میں خیر کا داعیہ رکھا ہے۔
فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَاکے مصداق پیدا کردہ انسان اور اس کے بنائے گئے معاشروں میں انسانی خدمت کی کسی نہ کسی شکل میں ہمیشہ رہی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا تاج نبوت سے سرفراز ہونے سے پہلے حلف الفضول کا منعقد کرنا شرک،قتل وغارت اور ہر طرح کی برائی میں گرے ہوئے معاشرے میں مظلوم اور بے یارومددگار کی مدد کرنے پر مکہ کے سرداروں کا اکٹھا ہونا تکریم انسانیت کے اسی فطری تصور کا تسلسل ہے۔ریڈ کراس اور ہلال احمر کے اہم اصولوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے سات اہم اصول ہیں:
۱۔ تکریم انسانیت
۲۔ غیر وابستگی
۳۔ غیر جانبداری
۴۔خودمختاری
۵۔ رضاکارانہ خدمت
۶۔اتحاد
۷۔عالمگیریت
1986ء سے ان اصولوں کو اس تحریک کے نصب العین کے طور پر نافذ العمل کیاگیاہے۔ڈاکٹر ضیاء اللہ صاحب نے بتایا کہ آئی سی آر سی نے 1947ء میں قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کے کہنے پر پاکستان میں اپنا پہلا دفتر کھولا تھا اور دنیا کے 80 سے 90 ممالک میں آئی سی آر سی اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ دنیا کے 193 ممالک اس تحریک کو فنڈز مہیا کرتے ہیں اور وہ یہ فنڈز آفت زدہ علاقوں،جنگ وجدل چاہے وہ جنگ جس نوعیت کی بھی ہو اس میں خرچ کرتی ہے اور طب وصحت کے حوالہ سے خصوصی طور پر اپنی خدمات پیش کرتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب کےفوراً بعد بغیر کسی وقفہ کے اگلے مقرر ڈاکٹر کامران اعظم اسسٹنٹ پروفیسر ہری پور یونیورسٹی نے ’’انسانی المیے کے پہلو اور اس میں موجود حساسیت میں درکار احتیاطیں‘‘ کے موضوع پر گفتگو کا آغاز کیا مگر وہ اپنے موضوع سے انصاف نہ کر سکے کیونکہ ان کے پاس وقت بہت کم تھا اور وہ کچھ ذاتی وجوہات کی بناء پر بہت زیادہ لیٹ ہوئےتھے ، علمی شخصیت تھے مگر حاضرین ان سے کوئی خاص استفادہ نہ کرسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو سزا نہیں دیتا مگر ہم خود اپنے اعمال کی وجہ سے سزا کے لیے کافی ہے۔
چائے کے وقفہ کے بعد پروگرام مزید آگے بڑھا تو ڈاکٹر محمد مشتاق چیئرمین شعبہ قانون میرپوریونیورسٹی آزاد کشمیر نے ’’بین الاقوامی قانون جنگ اور انسانیت کی تکریم ‘‘ کے موضوع پر بہت مفید علمی اور سیر حاصل گفتگو کی انہوں نے کہا جنگ کہیں بھی ہو اور کیسی بھی ہو جنگ کبھی بھی پسندیدہ عمل نہیں رہی جنگ ہمیشہ تباہی ہی لاتی ہے مگر جنگ کرنے کے بھی اسلامی اور بین الاقوامی اصول وضوابط ہیں ان سے پہلو تہی کرنا کسی طرح بھی صحیح نہیں ہوگا۔ بین الاقوامی قوانین کی رو سے بھی دوران جنگ قتل ہونے والے افراد کی میتوں کا احترام کیا جائے گا، قتل ہونے والے دشمن کی میت کی بے حرمتی جائز نہ ہوگی جب زندہ تھا تو دشمن مگر مرنے کے بعد اس کا احترام انسانیت والا حکم لوٹ آیا لہذا اس کو دفن کیا جائے گا اور مقتول کا مثلہ کرنا جائز نہ ہوگا۔ ان کے بعد احسان کوہاٹی المعروف سیلانی صاحب نے اعظم خان بی بی سی کے رپوٹر کو اسٹیج پر آنے کی دعوت تھی ان کا موضوع ’’انسانی المیے اور انسان دوست خدمات کی رپورٹنگ اور تجزیے میں درکار احتیاطیں‘‘تھا۔ ان کی گفتگو کافی معلوماتی تھی اور رپورٹنگ کرنے کے طریقے مثالیں دے کر سمجھانے کی کوشش کی۔استنبول ترکیا میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات بھی شیئر کیے مگر ایک چیز جو کہ آج کل دنیاوی لحاظ سے کامیاب کہلانے والے ہر شخص کا وطیرہ بن گیا ہے کہ دین سے بیزاری کا اظہار کرو اور شعائر اسلام اور دیندار لوگوں کا مذاق اڑاؤ اور ترقی پاؤ۔ ان کے بعد آنے والے بعض صحافیوں کی گفتگو میں دبے لفظوں میں ایسا ہی اظہار پایا گیا اس کے بعد نماز ظہر اور ظہرانہ کا وقفہ دیاگیا۔
وقفہ کے بعد سیلانی صاحب نے نوید سنائی کہ عارف خلیل (ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ) سے تعلق رکھنےاسٹڈی سرکل،انسانی خدمات کے ادارے اور ان کے بنیادی اصول پہ گفتگو کرنے کے لیے مائک پر آرہے ہیں ان کا گفتگو کرنے اور بات سمجھانے کا انداز بہت نرالہ تھا سب سے پہلے تو انہوں نے اسٹڈی سرکل کے حوالے سے شرکاء سے چند سوالات کیے اور مجلس کو خوب گرمایا جس سے تھکن میں کچھ کمی کا احساس ہوا کیونکہ سوائے دو چھوٹے چھوٹے وقفوں کے صبح 8 بجے سے 4 بجے تک مسلسل لیکچرز ہورہے تھے اور انہوں نے کہا کہ رضائے الٰہی کے ضابطہ کی پابندی کرتے ہوئے حصول مقصد کی کوشش کرنی چاہیے۔
ان کے بعد سیلانی صاحب نے ضرار جان (رفاہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیا سائنسز اسلام آباد) کے آنے کا اعلان کیا جن کا موضوع ’’ہنگامی حالات میں معلومات کا حصول،انتخاب اور استعمال‘‘ تھا جن کی گفتگو سے لگا کہ یہ ایک دبنگ صحافی ہیں اپنے موضوع سے کافی حد تک انہوں نے انصاف کیا۔ عملی صحافت مثالیں دے کر سمجھائی اور بتایا کہ مضامین، اداریہ،کالم اور خبر لکھتےہوئے ذاتی احساسات کو بالائے طاق رکھنا چاہیے مزید بتایا کہ ہنگامی حالات، سیلاب طوفان،زلزلہ،دھماکہ اور جنگ کی صورت میں خبروں کی بھرمار ہوتی ہے۔ ایسے میں خبروں کا تجزیہ کرنا اور سچائی جاننا ایک بہت بڑا امتحان ہوتاہے سچ جاننے کے لیے صحافی کو بے حس ہونا پڑتا ہے اگر وہ بے حس نہیں ہوتا تووہ حقیقی رپورٹنگ نہیں کرپائے گا اُسے خبر کا حصہ نہیں بننا چاہیے وگرنہ وہ خود خبر بن جائے گا اسی طرح دو روزہ میڈیا ورکشاپ کے پہلے دن تین سیشن ساڑھے پانچ بجے شام بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوئے۔ ولله الحمد والمنة
دوسرے دن کے چوتھے سیشن کی ابتداء بھی سیلانی صاحب کی نظامت میں ہوئی جس میں کلام پاک کی تلاوت کا شرف اسامہ حمید کو حاصل ہوا نعت رسول مقبول ﷺ پڑھنے کی سعادت مشارکین میں سے ایک ساتھی کے حصہ میں آئی۔جس میں انہوں نے پڑھا کہ
میرے کریم ﷺ سے گر قطرہ کسی نے مانگا
دریا بہا دیئے ہیں دُر، بے بہا دیئے ہیں
اس کے بعد سیلانی صاحب نےفیض اللہ خان سینئر صحافی، رپورٹر اے آر وائی کراچی کو دعوت سخن دی جن کا موضوع’’ پیچیدہ انسانی المیہ،ہمہ جہتی تعارف‘‘تھا۔ انہوں نے اپنے موضوع کو بہت بہتر انداز میں بیان کیا اور تجربات شیئر کیے اور راقم السطور کے سوال کرنے پر اپنے پانچ سال کی قیدوبند کے حالات وواقعات بہت ہی مختصر طور پر بیان کیے تو سیلانی صاحب کو مزید وضاحت کرنا پڑی۔ پروگرام آگے بڑھاتے ہوئے سیلانی صاحب نے اعلان کیا کہ ’’انسانی دوست صحافت کے ذریعے انسانی خدمت‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں وقار بھٹی جن کا تعلق جنگ گروپ سے ہے انہوں نے بتایا کہ میں ایک ہیلتھ رپورٹر ہوں، ہیلتھ رپورٹنگ کرتے ہوئے اس ملک میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے پاکستانی حکومت ہیضہ کو وبائی مرض ماننے کے لیے تیار نہیں ہے ایسے ہی عورتوں،بچوں اور دیگر امراض کے بارے میں حکومت پہلو تہی کام لیتی ہے مگر ایمانداری،دیانتداری اور نیک نیتی سے کی گئی رپورٹنگ کے اچھے ثمرات ضرور سامنے آتے ہیں۔
مختصر چائے کے وقفہ کے بعد پانچواں سیشن کیلئے سید ندیم فرحت آئی پی ایس ریسرچ فیلو نے مائیک سنبھالا اور اعلان کیا کہ زلزلہ،سیلاب، انسانی تنازعات وغیرہ کے متعلق ذاتی تجربات ومشاہدات کے حوالہ سے کسی مشارک کے پاس معلومات ہوں تو بیان کر سکتاہے بعض مشارکین نے اپنے اپنے تجربات ومشاہدات خاص طور پر حالیہ بارشوں اور سیلابی صورت میں عوام کی خدمات کے متعلق گفتگو کی کہ ہم سب سے پہلے متأثرہ علاقہ کا سروے کرتے ہیں اور وہاں لوگوں کی ضروریات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں میں سے بعض ثقہ خدمت گاروں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیںاس سروے کی روشنی میں امدادی سامان کو جمع کیا جاتاہے اور فوراً متأثرہ جگہ سامان کی ترسیل کو یقینی بنایا جاتاہے اس طریقہ کار کو ڈاکٹر رحمانی صاحب اور سید ندیم فرحت صاحب نے بہت سراہا اور کہا کہ یہی امداد کی تقسیم کا طریقہ کار ہونا چاہیے۔
پانچویںسیشن کیلئے آخری نشست تھی عملی مشق: اس میں سید ندیم فرحت اور اسامیہ حمید بھائی نے سکرین پر ایک پیراگراف نمودار کیا اور پڑھ کر سنایا۔ شرکاء جن کوچھ چھ افراد کے ایک گروپ میں پہلے سے ہی تشکیل دے دیا گیا تھا ان سے مطالبہ کرتے ہوئے بعض کی ذمہ داری لگائی کہ وہ اس پیرا گراف سے خبر نکالیں اور کسی سے کہا گیا کہ اس پر تبصرہ کریں اور کسی کو کہا کہ اداریہ لکھیں مگر وقت بہت کم تھا کیونکہ اس کے بعد جمعۃ المبارک اور کھانے کا وقفہ تھا بہر حال شرکاء نے اپنے اپنے فہم کے مطابق مطلوبہ نتائج تک پہنچنے کی بھرپور کوشش کی آخر میں سید ندیم صاحب نے بعض شرکاء کی خبر،تبصرہ اور اداریہ پر تبصرہ بھی کیا اور کمی کوتاہی کی اصلاح بھی کی۔ جمعہ کے بعد اختتامی سیشن کی ابتداء ہوئی تو پھر سیلانی صاحب مائیک ہاتھ میں لیے مسکرا رہے تھے ساتھ انہوں نے محترم رحمانی صاحب کو شرکاء سے ہمکلام ہونے کی دعوت دی تو انہوں گفتگو کرنے سے منع کر دیا کہ وقت بہت کم ہے مگر شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بے حد خوشی ہورہی ہے کہ ہم خوش اسلوبی سے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔اس کے بعد سیلانی صاحب نے دینی سوچ، تڑپ اور امت کا غم رکھنے والی شخصیت میری مراد محترم خالد رحمن صاحب چیئرمین آف آئی پی ایس جو کہ ایک مدبر،مفکر اور مصنف بھی ہیں ۔اور مدلل گفتگو کرنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں انہیں اسٹیج پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے دعوت دی گئی انہوں نے شرکاء کے صبروتحمل،نظم وضبط کی تعریف کی اورمقررین کو داد دی۔انہوں نے اپنے لیکچر میں کہا کہ ابلاغ میں ایک پیغام ہوتاہے دوسرا پیغام دینے والا، تیسرا پیغام کا ذریعہ اور چوتھا پیغام وصول کرنے والا۔ اس جملے کے بعد انہو ں نے شرکاء سے سوال کیا کہ بتائیں : دنیا میں اس وقت مسلمانوں کی کل تعداد کتنی ہے؟ تو انہوں نے خود ہی جواب دیا کہ دنیا میں لگ بھگ دو ارب مسلمان ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ مسلمانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے اسلام دنیا کا سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے لیکن اس کے بعد جانتے ہیں دوسرا نمبر کس کا ہے؟‘‘ خالد رحمن صاحب کے سوال کا کوئی درست جواب نہ دے سکا، زیادہ تر کا جواب عیسائیت تھا۔
انہوں نے جواب دیا کہ کہ سوچ الحاد کی ہے، ملحدین اس حساب سے دوسرے نمبر پر ہیں، اس کا مطلب بڑا واضح ہے کہ ہمارے پاس ابلاغ کے چار لوازمات میں سے تین موجود ہیں ، کمی کوتاہی چوتھے میں ہے، یہاں پیغام دینے والا بھی ہے، پیغام بھی ہے، کوئی نہ کوئی میڈیم یعنی اخبار، رسالہ، ریڈیو،ٹی وی کچھ بھی ہے، لیکن پیغام کو ویسے وصول نہیں کیا جارہا جیسا ہونا چاہیے، یہ ایسے ہی ہے کہ آپ کسی کو بارہ اکتوبر کو تین بجے کھانے پر بلائیں اور وہ تین اکتوبر کو بارہ بجے پہنچ جائے یعنی پیغام ٹھیک سے موصول نہیں کیا گیا بالفظ دیگر پیغام دینے کے طریقے میں کمی رہی، اس بارے میں سوچنا ہوگا۔‘‘
سب سے آخر میں شرکاء کرام میں اسناد اور تحائف تقسیم کیے گئے یوں دوروزہ میڈیا ورکشاپ بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوئی۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…