اسلام دین برحق امن وامان اور سلامتی والادین ہے۔اخوت، محبت، آشتی، رواداری اور تحمل و برداشت اس کے اہم ستون ہیں۔کیونکہ ان اوصاف کا تعلق انسانی رشتوں اور باہمی معاملات سے ہے، یہ معاملات اگر خوشگوار ماحول میں چلتے رہیں تو انسانی معاشرہ سکون و راحت کا گہوارہ بن جاتاہے اور دل آپس میں جڑے رہتے ہیں۔دکھ اور سکھ کے لمحات مل جل کر گزارلیئے جاتے ہیں۔
اگرچہ غصہ انسان کے مزاج کا حصہ ہے، لیکن اس کے اظہار میں بھی توازن کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر غصے پر قابو نہ رکھا جائے تو وہ انسانوں کے لیے ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے۔غصے کی شدت قتل و غارت گری کرواتی ہے، معمولی معمولی باتوں پر طلاقیں ہو جاتی ہیں اور بسے بسائے گھر برباد ہوجاتےہیں ۔غصے کی شدت کی ابتدا حماقت سے ہوتی ہے اور انتہا ندامت پرہوتی ہے۔اور بسا اوقات ندامت وپچھتاوا بے سود ہوتاہےجبکہ رسول اکرم ﷺ کا فرمان گرامی ہے :
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِي، قَالَ: «لاَ تَغْضَبْ» فَرَدَّدَ مِرَارًا، قَالَ: «لاَ تَغْضَبْ»(صحيح البخاري،حديث:6116)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی: آپ مجھے کوئی نصیحت فرمائیں ۔آپ ﷺنے فرمایا: غصہ نہ کیا کر۔اس نے بار بار اپنے سوال کو دہرایا لیکن آپ یہی جواب دیتے رہے۔ غصہ نہ کیا کر۔
اور دوسری جگہ ارشاد پاک ہے :
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الغَضَبِ»(صحيح البخاري،حديث:6114)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پہلوان وہ نہیں جو سامنے والے کو یا مقابل کو پچھاڑدے بلکہ حقیقت میں پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس(خود)پر قابو رکھے۔
آج کل ہمارا معاشرہ رواداری اور تحمل و برداشت سے عاری ہوتا جارہا ہے،عدم برداشت کا رویہ بڑھتا جارہا ہے۔مزاجوں میں تشدد غالب آرہا ہے۔اس کی اصل وجہ کیا ہے؟ کیا اس میں گھریلو تربیت کی کمی رنگ دکھا رہی ہے،کیا یہ درسگاہوں کی تعلیم کا قصور ہے کہ وہ طلبہ میں محبت و اخوت کے جذبات پیدا نہیں کرتیں؟ ان کا سارا زور نصابی کتب کی تکمیل پر ہی ہوتا ہے ، تربیت کا پہلو ان کے نصاب میں شامل ہی نہیں ہوتا! کیا یہ بد عنوان سیاستدانوں کی غیر مہذب سیاست ہے جو عصبیتوں کوبھڑکا کر اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں؟کیا یہ دین کے نام پر نام نہاد علما ءومشائخ ،خانقاہوں اور آستانوں میں بیٹھے گدی نشینوں کی تنگ نظری ہے کہ وہ اپنے مسلک کو مضبوط کرنے کے لیے دوسروں کے مسلک کے متعلق نفرت اور بے زاری کا درس دیتے ہیں ، جو معاشرے میں افراد کو ذہنی اور قلبی طور پر دور کرتے جارہے ہیں۔یا کسی مشترکہ نصب العین کے تحت معا شرے میں نفرت و عداوت کا بیج بو کر تقسیم در تقسیم کیا جارہا ہے؟آخر یہ ماجرا کیا ہے؟
آج کل خونی رشتوں کے درمیان میں جو بے رحمی کا برتاؤ نظر آرہا ہے اور اپنے مزاج یا خاندانی روایات کے خلاف قدم اٹھانے والوں کے ساتھ بہیمانہ تشدد کیا جارہاہے، وہ انا پرستی، اور خود سری کی بد ترین علامت ہے۔ہمارے معاشرے میں اب کوئی کسی کو معاف کرنے کو تیار ہی نہیں ہے۔غصے اور انتقام نے انسانوں کو آتش فشاں بنا دیا ہے۔غیرت انسان کا فطری جوہر ہے جس کا مادہ اللہ نے ہی اس کے اندر رکھا ہے۔اس غیرت کا اظہار ہر اس موقع پر سامنے آتا ہے جب انسان کی عزتِ نفس، حرمت اور عصمت و ناموس پر حملہ کیا جارہا ہو۔تاہم ہمارا دین غم و غصے سے مغلوب ہونے پر صبر و تحمل کا درس دیتا ہے اور غیظ و غضب سے بھرے جذبات کو قابو رکھنے کا راستہ دکھاتا ہے۔
ارشاد ربانی ہے: الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَۚ۰۰۱۳۴
’’ جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں اور جو غصے کو روکتے اور لوگوں کےقصوروں کو معاف کردیتے ہیں اور اللہ نیکوکاروں کو دوست رکھتا ہے۔‘‘ (آلِ عمران: ۱۳۴)
بہادرشاہ ظفر کہتے ہیں ؎
ظفر آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یادِ خدا نہ رہی جسے طیش میں خوفِ خدا نہ رہا
جذباتِ بہیمیہ میں اشتعال کا نام غیظ و غضب ہے اور اشتعال سے ظلم و جورکی راہ ہموار ہوتی ہے، اس لیے قرآن و سنت نے بپھرے ہوئے جذبات کوقابو میں رکھنے کی تعلیم دی ہے۔عزت و آبرو پر حملہ انسان کے جذباتِ حیوانیہ کومہمیز دیتا ہے اور یہی وقت انسان کی آزمائش کا ہوتا ہے۔مثال کے طور پر پسند کی شادی پر بیٹی کو زندہ جلا کر مار دینا، کہیں غیرت جوش میں آکر بیٹی اور داماد دونوں کو ہی قتل کر دینا،زمین اور جائیداد کے تنازع پر ایک ہی گھر کے تمام افراد کو موت کے گھاٹ اتار دینا، اپنی پسند کی لڑکی کا رشتہ کرنے سے انکار پر گھر کو نذر آتش کر دینا،لڑکی پر تیزاب پھینک دینا وغیرہ۔یہ سب جرائم انسان کے حد سے بڑھے ہوئے غصے،جہالت اور انسانیت سے گرے ہوئے ہونے کی واضح علامات ہیں۔غیرت کی حساسیت اور اس کے اثر سے بھڑکنے والی آگ کی ہولناکی سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا مگر انسان کی بقا اور سلامتی کے پیش نظر اس امر سے بھی صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتاکہ کسی بھی انسان کو انتقام کے جوش میں آکر قتل کردینے کا کسی کو کوئی حق حاصل نہیں۔قرآن حکیم سے دوری ، اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات سے لاعلمی اس وحشت و دیوانگی کا ایک بڑا سبب ہے۔
سیرت النبیﷺ کا مطالعہ انسان کے سیرت و کردار اور اس کے اخلاق کو نکھارتا ہے۔اور اس کی عملی زندگی میں توازن و اعتدال پیدا کردیتا ہے۔اور غصے کے موقع پر بھی عمل کے اس پہلو پر نظر رکھتا ہے جس میں انسانیت کی فلاح مضمر ہے۔سیرتِ پاک کی تعلیم انسان کو حد سے تجاوز نہیں کرنے دیتی۔حسنِ خلق کا اُولیٰ درجہ یہ ہے کہ انسان میں قوتِ برداشت اور صبر و تحمل ہو طاقت رکھنے کے باوجود وہ کسی کی جان لینے کے درپے نہ ہو اور اپنے دشمن پر بھی رحیم و کریم ہو۔نہ صرف یہ بلکہ اس کے ظلم پر اللہ سے اس کی مغفرت کا طلب گار بھی ہو۔سلف صالحین کی تعلیمات کے مطابق چار چیزیں حسنِ خلق ہیں، سخاوت، الفت،خیر خواہی،اور شفقت۔‘‘ان چار چیزوں میں پوری انسانیت کی فلاح اور امن و سکون کی زندگی کے اصول بیان ہوئے ہیں اور یہی اصل دین ہے۔کیونکہ انسانوں کی سلامتی ہی تو اسلام کا پیغام ہے۔اگرہر شخص اپنے اوپر ہونے والی زیادتی اور ظلم پر انتقام لینے لگے تو یہ دنیا انسانوں کے لیے جہنم بن جائے گی۔
ایسا معاشرہ جس میں خود اعتمادی، توازن ہو، اس میں برداشت کا مادہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔لیکن جس معاشرے پر مریضانہ کیفیات غالب آجائیں وہاں یا تو ہر بڑی سے بڑی چیز برداشت کر لی جاتی ہے یا چھوٹی سی بات بھی برداشت نہیں ہوتی ۔اس لیے یہ ضروری ہے کہ قوم میں اس بات کا سلیقہ ہو کہ کس بات کو برداشت کرلینا غلط ہے اور کون سی بات جو اگر اچھی نہیں ہے تب بھی برداشت کرنی چاہئے۔مذہب اور مسلک کے علاوہ زندگی گزارنے کے آداب اور طریقوں کے بارے میں بھی اختلاف ہوتا ہے۔اس لیے تحمل و برداشت کی ہر قدم پر ضرورت ہوتی ہے۔
خیر و شر کی جنگ روزِ ازل سے جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گی۔کیونکہ یہ بھی اللہ کی طرف سے بندوں کے امتحان و آزمائش کی ایک صورت ہے۔قرآن کا مطلوب انسان وہ ہے جو اپنے اندر شر کی تاریکیوں پر خیر اور نیکی کی سکون آمیز روشنی بکھیر دے۔ظلمت کو انسانیت کے نور سے منور و تاباں کردے۔قرآن حکیم میں ارشاد ہوا ہے:
وَ لَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّيِّئَةُاِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَ بَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ۰۰۳۴ وَ مَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْاوَ مَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ۰۰۳۵
’’ اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی۔تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے، یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتےہیں اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں۔‘‘ ( فصلت: 34۔35)
آج کل ایک تشویشناک صورت حال یہ بھی دیکھنے میں آرہی ہے کہ کسی بھی ناپسندیدہ معاملے میں انسانوں کو زندہ جلا دینے کے پے درپے واقعات پیش آرہے ہیں۔اگر کوئی ڈاکو ڈکیتی کرتے وقت لوگوں کے ہاتھ آجائے تو اسے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اس کے جسم کو نذر آتش کردیتے ہیں ،جس میں اکثر کی موت واقع ہوجاتی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر یقین بالکل ختم ہوگیا ہے،کیونکہ رشوت اور اثر و رسوخ کی وبا نے قانون کے رکھوالوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے۔اور وہ اپنے فرائض اور انصاف کے تقاضوں کو یکسر بھلا چکے ہیں۔اس کے باوجود کسی فرد کو بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی ریاست میں نہیں ہوتی۔اور نہ ہی دی جاسکتی ہے۔اس طرح تو پوری ریاست آگ اور بارود کا ڈھیر بن جائے گی۔ انسانوں کی معمولی معمولی غلطیوں پر سر جسم سے جدا ہونے لگیں گے، سوختہ لاشیں گلیوں اور بازاروں میں بکھری پڑی ہوں گی۔
معاشرے میں یہ انسانیت سوز مظاہر اس بات کی عکاسی کر تے ہیں کہ آج کے دور میں غصے کی آگ نے اولادِ آدم کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بالکل ہی ذہنوں سے مٹا دیا ہے۔اگر ہم اپنے کسی جانی و مالی نقصان پر بدلہ لینے کے بجائے اپنے دل میں یہ سوچیں کہ ہم بھی تو دن اور رات میں کتنے گناہ کرتے ہیں ، اللہ کی نافرمانیاں کرتے ہیں لیکن اللہ ان پر ہماری فوری گرفت نہیں کرتااور ہماری بدا عمالیوں سے در گزر ہی فرما تا ہے۔ ہم تواس کا دیا ہوا رزق کھاتے ہیں ، اس کی عطا کی ہوئی بے شمار نعمتوں سے مستفید ہوتے ہیں اور پھر اسی کی نافرمانیاں کرتے ہیں ، کھاتے اس کا ہیں اور سجدے کسی اور کو کرتے ہیں۔اس سے بڑی احسان فراموشی اور کیا ہوگی؟ چناں چہ اگر وہ بھی ہماری ہر غلطی اور گناہ پر ہمیں فوراً پکڑنا شروع کردے تو ہمارا کیا بنے گا۔اس لیے ہمیں بھی چاہئے کہ اللہ کے بندوں کی خطاؤں کو معاف کر دیا کریں، اس میں بھی ہماری ہی بھلائی ہے۔ارشاد الٰہی ہے:
وَ لْيَعْفُوْا وَ لْيَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۰۰۲۲
’’ اور انہیں چاہئے کہ معافی اور در گزر سے کام لیں۔کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ اللہ تمہاری خطائیں معاف فرما دےاور اللہ قصوروں کو معاف فرمانے والا بڑا مہربان ہے۔‘‘(النور۲۲)
ہمارا ازلی اور کھلا دشمن شیطان لعین تو چاہتا ہی یہ ہے کہ وہ ہمیں اللہ کے سامنے ظالم، بدکردار، شقی القلب ، نافرمان اور سرکش بنا کر پیش کرے۔اور ہم ہیں کہ اس کی اس خواہش کو عملی جامہ پہناکر پورا کرتے رہتے ہیں۔اور ایسا نہ ہو کہ ہماری یہی نادانی کل روزِ محشر اللہ کے سامنے رسوا اور مجرم ثابت کرکے پیش کرے ۔العیاذ باللہ
اس بات پر کامل یقین رکھیں کہ شیطان انسان کے دل میں صرف وسوسہ ڈال سکتا ہے، برائی کی طرف راغب کر سکتا ہے ،لیکن کسی بھی برائی پر زبردستی عمل کروانا اس کے اختیار ہی میں نہیں ہے۔انسان اپنے ایمان کی کمزوری کی وجہ سے شیطان کے کاموں کو آسان کردیتا ہے۔آدم علیہ السلام کے دل میں اس نے وسوسہ ڈالا تھا ۔اسی دن سے وسوسے کا عمل تواتر سے جاری ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ بات سیدنا آدم علیہ السلام پر ان کی حوصلہ افزائی اور تالیف قلبی کے لیے واضح فرما دی کہ :
فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّيْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۰۰۳۸
’’اگر میری طرف سے کوئی ہدایت تمہیں پہنچے تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ کسی غم میں مبتلا ہوں گے۔‘‘ (البقرہ ۳۸)
رواداری، محبت، اخلاص، ایثار،قربانی ، در گزر اور وسیع القلبی کسی بھی با شعور معاشرے کا جوہر ہوتے ہیں۔ورنہ تو ہزاروں جانور بھی بڑے بڑے جنگلوں میں رہتے ہیں ، وہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں، ان کی تو فطرت میں شامل ہے کہ جس کو کمزور دیکھا اسی کی گردن دبوچ لی اور اپنا پیٹ بھر لیا، جانورکی زندگی کا مقصد پیٹ بھرنا اور اپنی نسل بڑھانا ہے یہ اس لیے کہ جانور جس میں جان تو ہوتی ہے مگر شعور نہیں ہوتا ، مگرکیا انسان بھی یہی سب کچھ کرنے دنیا میں آیا ہے؟ انسان تو وہ ہستی ہے جس کے بارے میں اس کے خالق نے ابلیس لعین سے مخاطب ہو کر پوچھا تھا:
قَالَ يٰۤاِبْلِيْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِيْنَ۰۰۷۵
’’ (اللہ نے فرمایا) اے ابلیس! جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اس کے آگے سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے منع کیا؟کیا تو غرور میں آگیا یا اونچے درجے والوں میں تھا؟‘ (ص ۷۵)
غور و تدبر کا مقام ہے کہ انسان کی قدر و منزلت کیا ہے کہ اللہ نے اسے اپنے ہاتھوں سے بنایا، کسی جانور کے بارے میںکہیں اس قسم کے الفاظ نہیں آئے ہیں۔پھر بھی انسان اللہ کی نا شکری کی روش پر اپنی زندگی گزارے، یہ کتنا بڑا ظلم ہے!انسان کو تو پوری نسل آدم کے لیے فراخ دل اور رحیم و کریم ہونا چاہیے۔اگر اسے تمام مخلوق پر عزت و تکریم ملی ہے تو اس کی وجہ نیابتِ الٰہی ہے۔جس کے لیے اللہ نے اس کا انتخاب کیا ہے۔ ع
چن لیا میں نے تمہیں سارا جہاں رہنے دیا
بدقسمتی سے اب ہم ان اوصاف ِ حمیدہ سے محروم ہوتے جارہے ہیںجنہیں اللہ ہمارے فکر و عمل میں دیکھنا چاہتا ہے۔یہی سبب ہے کہ ہم انتہائی تیزی سے اخلا قی پستی میں گرتے جارہے ہیں۔دور ِ حاضر کی اصل ضرورت ان ہی اوصاف کی ترویج و ترقی اور ان پر عمل پیرا ہونے کی ہے۔اگر ہمیںاپنے معاشرے کو امن و امان کا گہواراہ بنانا ہے تو ان اوصاف کو اپنے اندر پیدا کرنا ہوگا ، ورنہ ہم اسی طرح بد امنی، تشدد اور نفرت کی آگ میں خود بھی جلتے رہیں گے اور دوسروں کو بھی جلاکر راکھ بناتے رہیںگے۔
انسان کے لیے اپنی طبیعت میں صبر و تحمل، عفوو در گزر کی خوبی پیدا کرنے کی اصل تربیت گاہ اس کا اپنا گھر ہے۔جو شخص اپنے اہل خانہ کے ساتھ نرمی کا سلوک کرتا ہے اس کے گھر میں امن رہتاہے اور برکت نازل ہوتی ہے، ایسا شخص گھر سے باہر بھی اپنی اسی خوبی کے سبب لوگوں کی خیرخواہی حاصل کرتا ہے۔اور بہت سے جھگڑوں سے بچا رہتا ہے۔جبکہ غصہ معاشرے کے لیے،گھرانے کے لیے اور فرد کے اپنے لیے بھی مضر ہے۔ ع
اندازِ بیان گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…