کتاب: خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت
مصنف: حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ
ناشر: مکتبہ ضیاء الحدیث ، لاہور
طبع: دوم
سال: 2018
صفحات: 600 (مع المراجع: 603)
حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ (صاحب تفسیر احسن البیان) کا سن پیدائش 1945ء ہے اور حیران کن طور پر ان کی یہ کتاب 1970ء میں (فقط پچیس برس کی عمر میں) شائع ہوئی جس کو انہوں نے اس سے بھی کم عمری میں سن 1965ء کے «الاعتصام» رسالے میں قسط وار لکھا جو کچھ ہی سالوں بعد مفید اضافہ جات کے ساتھ پہلی بار 1970 میں زیور طباعت سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آئی۔
25 برس کے ایک قلمکار کی خامہ فرسائی میں اس طرح سے سلالت بیان اور تحقیق کلام کا گوہر نایاب یقینا نعمت خداوندی ہی تھا جس پر بڑے بڑے علماء ، محققین اور ادباء داد و تحسین دئے بغیر نہ رہ سکے…جس کو مذکورہ کتاب کے صفحہ «26» سے صفحہ «46» تک دیکھا جا سکتا ہے کہ ان مدح خواہوں میں جہاں مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ ، مفتی تقی عثمانی حفظہ اللہ اور مولانا اسحاق صدیقی جیسے ملکی علماء شامل تھے وہیں مولانا صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ ، مولانا ضیاء الدین اصلاحیس اور مولانا ابو الحسن علی الندوی جیسے غیر ملکی علماء بھی شامل مدح و تعریف تھے اسی طرح اس مدح سرائی میں جہاں ماہنامہ «فکر و نظر» ، ہفت روزہ «چٹان» اور روزنامہ «نوائے وقت» اور اس طرح کے بہت سے مشہور و معروف رسائل و اخبارات نے حصہ لیا وہیں پروفیسر یوسف سلیم چشتی اور جناب وارث سرہندی جیسے نابغہ روزگار ادباء بھی داد و تحسین دئے بغیر نہ رہ سکے۔
یہ کتاب کل چھ (6) ابواب پر مشتمل ہے جس میں بہت ہی اہم امور اور ضروری باتوں کو موضوع بحث بنایا گیا ہے جن کی روشنی میں سید ابو الاعلی مودودی رحمہ اللہ کی کتاب «خلافت و ملوکیت» کے اعتراضات کا شافی و کافی جواب علمی اور تحقیقی نقطہ نظر سے دیا گیا ہے جن جوابات کو پڑھ تشنگان علم کی تشفی ہو گئی ہے۔
اس کتاب کو پڑھ کر جہاں اعتراضات کی حقیقت معلوم ہوتی ہے وہیں تین امور ایسے ہیں جو بالکل واضح ہو کر قارئین کتاب کے سامنے آتے ہیں۔
ہم ان تین امور کا تجزیہ ذیل میں پیش کر دیتے ہیں:
(1) «اسلام کا نظام حکومت» : زیر تنقید کتاب «خلافت و ملوکیت» سے عامة الناس پر جو تأثر گیا ہے وہ تقریبا ایسا ہی تأثر تھا جس کو مستشرقین بارہا پھیلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور وہ یہ ہے کہ «اسلامی نظام حکومت (خلافت) فقط 30 سال چل سکا اور اس کے بعد جبر و استبداد والا نظام (ملوکیت) مسلمانوں پر مسلط ہو گیا» جس سے کچھ ایسا تأثر جاتا ہے کہ گویا اسلامی نظام حکومت واقعی اتنا کمزور تھا کہ محض ایک مختصر عرصے میں متزلزل ہو گیا جسے اصحاب رسول ﷺ بھی نہ بچا سکے….حالانکہ حقیقت حال اس سے بالکل مختلف ہے اور امر واقعی یہ ہے کہ اسلامی طرز حکومت 13 صدیوں کے طویل عرصے تک بلا توقف کامیابی سے چلتا رہا ہے۔
اس بارے میں حافظ صاحب نے بے شمار دلائل بھی دئے اور «ملوکیت» جس کو زہر ہلاہل گردانا جاتا ہے اس کی نفی کرتے ہوئے زمانہ ملوکیت کی وہ تصویر پیش کی کہ زہر ہلاہل گردانی جانے والی ملوکیت تریاق و قند نظر آنے لگتی ہے جس میں طور پر قرون اولی کا زمانہ قابل ذکر ہے۔
مزید آپ نے اس کے جواز پر ابن خلدون کے حوالے سے «اجماع امت» بھی نقل فرمایا ہے کیونکہ علماء امت اور صلحاء ملت نے کبھی اس نظام (ملوکیت) کو غیر شرعی نہ کہا جبکہ وہ ہمیشہ برسر اقتدار حکام کے سامنے «کلمة الحق» کی صدا سناتے رہے اور «لا یخافون في الله لومة لائم» کی نظیر ثابت ہوئے۔
اس لئے ہم اس حوالے سے اہم نقاط جو حافظ صاحب نے ذکر کئے ہیں وہ ذکر کر دیتے ہیں تاکہ «ثم تکون ملکا و رحمة» کے مصداق اس نظام کو سمجھا جا سکے:
خلافت یا ملوکیت میں سے کوئی بھی نظام بذات خود قبیح یا مستحسن نہیں بلکہ اس منصب پر فائز ہونے والے کی ذات پر منحصر ہے کہ اس کا طرز عمل کیسا ہے جیسا کہ خود بہت سے لوگ «عمر بن عبدالعزیر رحمہ اللہ» کو باوجود نظام «ملوکیت» میں «بادشاہ» ہونے کے بہترین حاکم تسلیم کرتے ہیں۔
حکمرانوں اور بادشاہوں کے طرز عمل میں جو تبدیلیاں واقع ہوئی وہ خلافت کے خاتمے اور ملوکیت کی آمد کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وہ انہی تدریجی برائیوں کا پیش خیمہ تھا جو معاشرے کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوئی۔
ملوکیت بھی خلافت جیسا ہی نظام حکومت تھا جس نے مسلمانوں کو کفر و اہل کفر پر 13 صدیوں تک برتری اور عزت دی اسی لئے اہل کفر آج ہمیں اس نظام کی طرف لوٹنے سے روکنے کیلئے کوشاں نظر آتے ہیں.
ایک آخری بات اس باب میں ذہن نشین کر لینی چاہئے جس کی طرف حافظ صلاح الدین صاحب بارہا توجہ دلاتے رہے ہیں کہ جب عوام کے سامنے «ملوکیت» کے اوئل دور تک کو اس انداز سے متنازعہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے کہ نہ صرف «ملوکیت» بلکہ اس کے اولین قائدین (جو کہ صحابہ کی جماعت کا ہی حصہ تھے) سے بھی نفرت ہونے لگ جائے تو عامة الناس کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ پھر آخر وہ کون سا نظام ہے جو ہمیں اسلام نے دیا تھا اور جو ہمارے لئے کار آمد بھی ہے؟
تو اس کے جواب میں «خلافت» کی طرف دعوت دی جاتی ہے لیکن جب اس نظام کے نفاذ کی بات آتی ہے تو فورا ہی قبلہ اس «جمہوریت» کی طرف کر لیا جاتا ہے جس کی درگاہ پر بہت سے لوگ اپنی جبین نیاز ٹیک چکے ہیں اور پھر «شوروی نظام» کے نام پر یوں باور کروایا جاتا ہے جیسے خلافت بھی عین «حق بالغ رائے دہی» (vote) سے قائم ہوئی تھی حالانکہ حقیقت حال یہ ہے کہ چاروں خلفاء میں سے کوئی بھی اس انداز سے منتخب نہ ہوا….اس نقطے کو بھی کو حافظ صاحب نے اپنی کتاب میں مجملا اور مفصلا دونوں انداز سے بیان کر دیا ہے اور واضح کر دیا ہے کہ اسلام کا نظام حکومت موجودہ جمہوریت سے بالکل مختلف اور ملوکیت کے قریب ترین ہے۔
2) «تعظیم صحابہ»: گو کہ حافظ صلاح الدین یوسف اس وقت عمر کے اس گوشے میں تھے کہ عین ممکن تھا انکی تنقید میں جذباتیت در آتی لیکن ہمیں یہاں علم و تحقیق کی ایک ایسی تہہ مصنف پر نظر آتی ہے جس نے انہیں فقط جذبات کے بحر بے کراں میں نہ بہنے دیا بلکہ جب وہ اس میدان میں اترے تو شہسوار علم و فہم بن کر اپنے ساتھ تحقیق و منہج سلف جیسے اعلی ہتھیار لے کر میدان میں اترے اسی لئے «خلافت و ملوکیت» میں صحابہ کرام پر جو بے جا اعتراضات تھے اور جو غیر منصفانہ و غیر عادلانہ لب و لہجہ ان شخصیات کے حوالے سے استعمال کیا گیا تھا اس کا جواب میں حافظ صاحب نے جذباتی نعروں یا تنقید بے جا کا سہارا نہ لیا اور نہ ہی سوقیانہ انداز تنقید اپنایا بلکہ آپ نے بڑی ہی متانت و شائستگی سے علمی و تحقیقی انداز بیان کو ملحوظ خاطر رکھا اور تعظیم صحابہ کا درس دینے میں بھی کوئی دقیقہ نہ اٹھائے رکھا بلکہ صحابہ کے وجوہ انور اور کردار اطہر پر ڈالے گئے گرد و غبار کو اس خوبصورتی سے ہٹایا کہ ان کا کردار واقعی بیش قیمت لگنے لگا اور جو کچھ غلطیاں ان سے سرزد ہوئی اس کی اتنی علمی توجیہات پیش کی کیں کہ عقیدہ سلف کی وضاحت ہو گئی اور بجائے وہ خطا کار مجرم ہونے کے حق بجانب ماجور یا خطا کار ماجور نظر آنے لگے (رضوان اللہ علیہم اجمعین) اس حولے سے اہم بھی کچھ اہم نقاط کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے تاکہ ان پاک باز ہستیوں پر کوئی انگشت نمائی نہ کر سکے۔
صحابہ کرام معصوم نہیں ان سے بھی غلطی کا امکان موجود ہے.۔
صحابہ کرام مجموعی طور پر اعلی کردار کے حامل تھے جن کے کردار و گفتار کی قرآن و حدیث نے بھی تعریف کی اور جن کی خوبیوں کو بیان کرنے میں تاریخ نے بھی کوئی کسر نہ اٹھائے رکھی۔
مشاجرات صحابہ میں جو خاموش رہا کامیاب رہا کیونکہ وہ مشاجرات اجتہاد پر مبنی تھے اور ان میں سے ہر کوئی حق بجانب تھا اسی طرح ان کے مشاجرات ہمیشہ دین کی سر بلندی کیلئے ہوئے کبھی بھی حب جاہ و مال یا منصب انکے مشاجرات میں آڑے نہ آئے۔
تمام صحابہ جنتی ہیں اور سب کیلئے اللہ نے اپنی رضا کا اعلان کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ حافظ صاحب نے «خلافت و ملوکیت» میں صحابہ کی کردار کشی کے جواب میں صحابہ کے محامد و محاسن بیان فرمائیں ہیں تاکہ امتی ان کی سیرت و کرادار کو اپنائیں اور «فقد اھتدوا» کے مصداق بن سکیں۔
یاد رہے کہ سیدنا عثمان ، سیدنا معاویہ ، سیدنا عمرو بن العاص ، سیدنا مغیرہ بن شعبہ سیدنا طلحہ ، سیدنا زبیر اور ام المؤمنین عائشہ رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے عظیم صحابہ بھی اس فہرست میں شامل ہیں جن کی «خلافت و ملوکیت» میں کردار کشی کی گئی تھی جس کا جواب حافظ صاحب نے بڑی اعلی ظرفی سے علمی طور پر دیا ہے۔
3) «کتب تاریخ»: چونکہ «خلافت و ملوکیت» کی رو سے صحابہ پر کئے گئے اعتراضات میں سے اکثر کا دار و مدار کتب تاریخ پر ہے اسی لئے حافظ صاحب نے اس پر بڑی تفصیلی بحث کی ہے اور خاص کر ان کتابوں پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے جن کو مولانا مودودی نے اپنی کتاب کا اہم مصدر کہا ہے. ساتھ ہی آپ نے تاریخی کتب کے حوالے سے یہ بات بھی واضح کی ہے کہ ان کتابوں سے استفادہ کرنے والوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ نہ تو یہ کتابیں مکمل طور پر منزل من اللہ ہیں اور نہ ہی فقط وسواس الشیاطین کا مبنی ہیں بلکہ اس میں رطب و یابس سب ملا ہوا ہے اور جھوٹ و سچ کی آمیزش ہے پس اہل حق پر لازم ہے کہ وہ حق و سچ کو اخذ کریں اور جھوٹ و باطل سے اجتناب برتیں…خاص کر جب بات قرون مفضلہ اور سیرت صحابہ کی ہو تو ان چند امور کو ضرور یاد رکھنا چاہیے:
صحابہ کے بارے میں وہی بات قابل قبول ہوگی جو قرآن و حدیث اور ان کے مجموعی عمل سہوے موافقت رکھتی ہو اور مخالف نہ ہو۔
تاریخ کے رطب و یابس سے وہی بات قبول کی جائے گی جس سے عظمت صحابہ پر حرف نہ آتا ہو یا اس کی کوئی ایسی معقول و مقبول تأویل کی جائے جو انکے اعلی مقام و شرف صحابیت کے لائق ہو۔
تاریخ کو بھی استنادی حیثیت سے پرکھا جائے اور بے سند و کمزور روایات سے گریز کیا جائے۔
اگر تاریخ کی تحقیق و تنقیح سے کسی کو یہ اندیشہ لاحق ہوتا ہے کہ یوں تاریخ کا کثیر حصہ ہمارے پاس نہ رہے گا تو ان بے سر و پا تخیلاتی افسانوں اور اختراعی داستانوں کا مسخ ہو جانا زیادہ بہتر ہے بجز اس کے کہ ان کے ذریعہ رداء صحابیت تار تار کی جائے ، جبین صحابہ کو مکدر بنایا جائے یا کردار صحابہ کو مسخ کیا جائے۔
ہی وہ تین اہم نقاط ہیں جن پر «خلافت و ملوکیت» میں رائی کا پہاڑ بنانے کی کوشش کی گئی تھی جس کو ایک علمی و تحقیقی ہوا کے جھونکے نے پاش پاش کر دیا اور عظمت صحابہ کو پر نور کر کے مزید جلا بخشا اور اظہر من الشمس کر دیا اور ساتھ ہی جو اسلامی طرز حکومت کے خاتمے کی نویدیں اور افسانے سنائے جاتے تھے انہیں یہ کہہ کر ہوا میں اڑا دیا کہ…
پھونکوں سے یہ چراغ بھجایا نہ جائے گا
آخر میں سب اتنا ہی کہوں گا کہ یوں تو اس کتاب میں بہت سی خصوصیات ہیں لیکن اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مجموعی طور پر یہ کتاب تحریر و تحقیق کے اعلی اسلوب نگارش ، تنقید و تنقیح باسلوب گزارش ، تدقیق و تخریج کی دقت ، الفاظ و تراکیب کی جدت ، ادب و احترام سے مرقع اور توضیح و بیان سے مرصع نظر آتی ہے. جس میں علم و قلم کا حق ادائی جبین قرطاس پر بڑی خوش نمائی سے کیا گیا اور اوج ثریا کی سی رفعت رکھنے والے ، چٹانوں کی سی ہمت برتنے والے اور سید المرسلین کی خدمت کرنے والے صحابہ کے حقیقی مقام و مرتبے کی نشاندہی کی گئی ہے جس پر تاریخ کی چند روایات کے دھندلکے سے گرد و غبار کی ایک دبیز تہہ بچھا کر ان کے اظہر من الشمس کرادار رفعت اور تابناک سیرت کو چھپانے کی کوشش نا تمام اور سعی لا حاصل کی گئی تھی اور یوں رفض کا وہ جام جس میں خمار جمہوریت بھر کر دیا گیا تھا وہ ٹوٹ کر چور ہو گیا ہے۔
رب العالمین سے دعا ہے وہ حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ پر اپنی رحمت تامہ فرمائے جنہوں نے تنقید بھی اس خوبصورت انداز سے تحریر کی کہ اس میں دعوت فکر و نظر پنہا تھی اور جذبہ خیر سگالی صاف ظاہر ہوتا تھا۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…