Categories: مئی/جون 2023

قیام اللیل کی فضیلت

قیام اللیل کا شمار ان عبادات میں سے ہے جو عبادات میں سب سے افضل اور اطاعات میں سب سے خوبصورت عمل ہے اور شارع نے اس کی بہت ترغیب دی ہے ۔ صالحین کی خوبصورت عادت اور مومنین کی ہر دلعزیز تجارت ہے۔ رات کے کسی گوشہ میں مومن اللہ کی عبادت کے لیے اٹھتا ہے اور اللہ کے ہاں سجدہ ریز ہو کر اپنی جائز خواہشات کی تکمیل کے لیے سوال کرتا ہے۔ گڑ گڑا کر اللہ سے اس کا فضل مانگتا ہے اور اللہ کے ساتھ مناجات کرنے کے لیے جائے نماز پر مجاور بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ کامل مومن اس عظیم الشان ذات کی طرف تضرع کرتا ہے جو بہت عطا کرنے والا ہے۔

جیسے کہ اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ(السجدۃ:16)

’’ان کے پہلو اپنے بستروں کو چھوڑ دیتے ہیں، وہ اپنے رب کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘

اسی طرح اللہ نے دوسری جگہ کس خوبصورت انداز میں فرمایا:

اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍ اٰخِذِيْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِيْنَ كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ وَبِالْاَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ۠ (الذاریات:15۔18)

’’بےشک پرہیزگار باغوں اور چشموں میں ہیں۔ اپنے رب کی عطائیں لیتے ہوئے بےشک وہ اس سے پہلے نیکو کار تھے۔وہ رات میں کم سویا کرتے ہیں اور پچھلی رات اِستغفار کرتے ہیں۔‘‘

امام حسن بصری رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں: رات کو بیدار ہوا کرو، نماز کو سحری تک لمبا کرو اور پھر دعا اور استغفار کیا کرو۔

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَّ قَآىِٕمًا يَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ يَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ(الزمر:9)

’’کیا وہ شخص جو سجدے اور قیام کی حالت میں رات کے اوقات فرمانبرداری میں گزارتا ہے، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کی امید لگا رکھتا ہے (کیا وہ نافرمانوں جیسا ہوجائے گا؟) تم فرماؤ: کیا علم والے اور بے علم برابر ہیں ؟ عقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں ۔‘‘

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ: عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ الليْلِ فَإِنَّهُ دَأْبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، وَهُوَ قُرْبَةٌ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ، وَمُكَفِّرَةٌ لِلسَّيِّئَاتِ، وَمَنْهَاةٌ عَنِ الْإِثْمِ»

سیدنا ابو امامہ باہلی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا : قیام الیل کیا کرو کیونکہ یہ تم سے قبل نیک لوگوں کی عادت ہے اور یہ قربت الہی ، برائیوں کا کفارہ اور گناہوں کو مٹا دینے والی چیز ہے۔(الشیخ البانی نے حسن کہا ہے)

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا أَعَدَّهَا اللهُ لِمَنْ أَلَانَ الْكَلَامَ وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَتَابَعَ الصِّيَامَ وَصَلَّى بِالليْلِ وَالنَّاسُ نيام»

سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت میں کچھ ایسے کمرے ہیں (جو اس قدر شفاف ہیں) کہ ان کا ظاہر ان کے باطن سے اور ان کا باطن ان کے ظاہر سے نظر آتا ہو گا ، اللہ نے انہیں ایسے لوگوں کے لیے تیار کیا ہے جو نرم گفتگو کرتے ہیں ، کھانا کھلاتے ہیں ، کثرت سے (نفل) روزے رکھتے ہیں اور نماز تہجد پڑھتے ہیں جبکہ لوگ سو رہے ہوتے ہیں ۔‘‘(صحیح ابن حبان 1/363 ، حدیث نمبر 509)

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا مُحَمَّدُ، عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَجْزِيٌّ بِهِ، وَأَحْبِبْ مَنْ شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْلَمْ أَنَّ شَرَفَ الْمُؤْمِنِ قِيَامُ الليْلِ، وَعِزِّهُ اسْتِغْنَاؤُهُ عَنِ النَّاسِ»

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا: اے محمد! جیسے چاہو زندگی گزارو (بالآخر) موت تو ہے، جس کو چاہو اپنا محبوب بناؤ (بالآخر) جدا تو ہونا ہے، اپنی چاہت کے مطابق عمل کرو (بالآخر) اس کا بدلہ تو ملنا ہے۔ (اتنا ضرور) جان لو کہ مؤمن کا شرف رات کی نماز میں اور اس کی عزت لوگوں سے بے پرواہ ہو جانے میں ہے۔(المعجم الأوسط، حدیث:4278، سلسله احاديث صحيحه الألبانی: 831)

شاعر کا کیا خوبصورت شعر ہے:

إذَا مَا الَّليلُ أظلَمَ كَابَدُوه
فيسفرُ عنهمُ وهمُ ركوعُ
أطَارَ الخَوفُ نومَهُم فَقَامُوا
وَأهلُ الأمنِ فِي الدُنَيا هُجُوعُ
لَهُم تَحتَ الظَّلامِ وَهُمْ سُجُودٌ
أنِينٌ مِنهُ تَنفَرجُ الضُّلُوعُ

اگر رات گہری ہوئی تو وہ اس کا خمیازہ بھگتیں گے۔

جب وہ رکوع کر رہے ہوں گے تو وہ انہیں چھوڑ دے گا۔

خوف نے ان کی نیند توڑ دی تو وہ اٹھ گئے۔

اور اس دنیا میں اہل سلامتی بھوکے ہیں۔

وہ اندھیرے میں ہیں اور سجدہ کرتے ہیں۔

اس سے کراہتے ہوئے پسلیاں الگ ہو گئیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بھی قیام پر ابھارا جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

يٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًا اَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا (المزمل:1۔4)

’’اے چادر اوڑھنے والے۔ رات کے تھوڑے سے حصے کے سوا قیام کرو۔آدھی رات (قیام کرو) یا اس سے کچھ کم کرلو۔یا اس پر کچھ اضافہ کرلو اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔‘‘

ایک دوسری جگہ پر اللہ نے فرمایا:

وَ مِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا (الإسراء:79)

’’اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھو یہ خاص تمہارے لیے زیادہ ہے ۔قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو ایسے مقام پر فائز فرمائے گا کہ جو مقام محمود ہو گا ۔‘‘

عن عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ مِنَ الليْلِ حَتَّى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لِمَ تَصْنَعُ هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ ، وَقَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، قَالَ : أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا

’’ نبی کریم ﷺ رات کی نماز میں اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ کے قدم پھٹ جاتے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ اتنی زیادہ مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دی ہیں ۔ آپ نے فرمایا کیا پھر میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں ۔(صحیح البخاری:4837)

عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ، ثُمَّ مَضَى، فَقُلْتُ: يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ، فَمَضَى، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ بِهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ، فَقَرَأَهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ، فَقَرَأَهَا، يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا، إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ

’’سیدناحذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے رسولِ کریم ﷺکے پیچھے نماز ادا کی تو رسول اللہ ﷺنے سورہ بقرہ کا آغاز کر دیا میں نے دل میں کہا کہ رسولِ کریم ﷺسو آیات کے بعد رکوع کریں گے لیکن رسول اللہ ﷺنے قرات جاری رکھی، پھر میں نے دل میں کہا کہ رسولِ کریم ﷺسورہ بقرہ ایک رکعت میں ادا کریں گے لیکن رسول اللہ ﷺنے قراءت جاری رکھی اور سورہ النساء کی قرات کا آغاز کر دیا اس کو بھی مکمل پڑھ دیا ، اس کے بعد سورہ آل عمران بھی مکمل کر ڈالی، آپ ﷺآہستہ آہستہ قرات کیا کرتے تھے، جب کسی تسبیح والی آیت کے پاس سے گزرتے تو اللہ کی تسبیح بیان کرتے اور اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے، اگر پناہ مانگنے والی آیت کے پاس سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے»۔(صحیح مسلم:772)

رسول اللہ ﷺاپنے صحابہ کو بھی قیام الیل پر ابھارتے جیسے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے آتا ہے:

نِعمَ الرَّجلُ عبدُ اللهِ لو كانَ يصلِّي منَ الليلِ، فَكانَ بعدُ لا يَنامُ منَ الليلِ إلّا قليلًا.قال سالم بن عبد الله

’’عبداللہ بہت اچھا آدمی ہے اگر رات کو نماز ادا کرے ، سالم بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ اس فرمان کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمارات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔‘‘

رسولِ کریم ﷺنے اپنی امت کو قیام اللیل پر ابھارتے ہوئے فرمایا:

أَفْضَلُ الصَّلَاةِ، بَعْدَ الْفَرِيضَةِ، صَلَاةُ الليْلِ

’’فرائض کے بعد افضل نماز رات کی نماز ہے۔‘‘(صحیح مسلم)

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الغَافِلِينَ، وَمَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ القَانِتِينَ، وَمَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ المُقَنْطِرِينَ

سیدناعبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو شخص دس آیتوں (کی تلاوت) کے ساتھ قیام اللیل کرے گا وہ غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا، جو سو آیتوں (کی تلاوت) کے ساتھ قیام کرے گا وہ عابدوں میں لکھا جائے گا، اور جو ایک ہزار آیتوں (کی تلاوت) کے ساتھ قیام کرے گا وہ بے انتہاء ثواب جمع کرنے والوں میں لکھا جائے گا۔ (سنن ابي داود:1398)

رات کی نماز کا وقت عشاء کی نماز سے لیکر فجر کی اذان تک ے جیسے کہ رسولِ اللہ ﷺنے فرمایا:

عن عبد الله بْنِ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ الليْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِنْ خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ قَالَ: قُلْتُ: مَا مَثْنَى مَثْنَى؟ قَالَ: رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ

’’رات کی نمازدو دو رکعت ہے پھر جب کوئی صبح ہو جانے سے ڈرے تو ایک رکعت پڑھ لے، وہ اس کی ساری نماز کو طاق بنا دے گی۔‘‘(مسند احمد:5032)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: « يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ الليْلِ الآخِرُ فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ

سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ہمارا رب ہر رات جس وقت رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، آسمان دنیا پر اترتا ہے ، پھر فرماتا ہے: ہے کوئی جو مجھ سے دعا کرے میں اس کی دعا قبول کروں؟ ہے کوئی جو مجھ سے مانگےمیں اسے دوں؟ ہے کوئی جومجھ سے مغفرت طلب کرے میں اس کی مغفرت کر دوں؟۔(صحیح البخاری :1145)

رات کو جلدی بیدار ہونے میں جو اسباب مدد کرتے ہیں ان میں سے ایک رات کو جلدی سوجانا ہے، کیونکہ بلا وجہ جاگتے رہنا وقت کا ضیاع ہے خاص طور پر جب اللہ کی اطاعت سے ہٹ کر ہو جیسے کہ اکثر لوگوں کی حالت زار ہے ۔اسی لیے رسول اللہ ﷺنے عشاء کی نماز سے قبل سونا اور بعد میں باتیں کرنے کی ممانعت بیان کی ہے۔

الشیخ عثیمین رحمہ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں کہ: رمضان المبارک کے مہینے میں رات کے قیام کی بہت فضیلت ہے ، جیسے کہ صحیح البخاری میں سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے رمضان المبارک کا قیام ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام سابقہ گناہ معاف فرما دیں گے۔

ایک خوبصورت عبارت جس کو الشیخ عثیمین رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے :

وقيام رمضان شاملٌ للصَّلاةِ في أولِ الليل وآخرِهِ. وعلى هَذا فالتَّراويحُ منْ قِيام رمضانَ: فينْبغِي الحرْصُ عليها والاعتناءُ بها واحتسابُ الأجْرِ والثوابِ مِنَ اللهِ عَلَيْها. وما هِيَ إلاَّ لَيالٍ مَعْدودةٌ ينْتهزُها المؤمنُ العاقلُ قبل فواتِها

رمضان کا قیام رات کی نماز کو شامل ہے جو رات کے آغاز سے آخر تک ہوتا ہے ۔اسی طرح تراویح بھی رمضان کے قیام میں سے ہے، اس پر حرص کرنا اور اس کا اہتمام کرنا اور اجر و ثواب کی امید رکھنا ضروری ہے۔ یہ گنی چنی راتیں ہیں ایک مومن کو اس کا ضرور اہتمام کرنا چاہیے۔

editor

Share
Published by
editor

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago