صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے پیار

قارئین کرام! تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے بے تحاشا محبت والفت رکھتے تھے، کوئی بھی صحابی ایسا نہیں تھا جو ان سے نفرت وبغض رکھتا ہو۔ خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ کا حسنین کریمین سے محبت کے بعض حسین مناظر ملاحظہ ہوں۔

1۔ خلفاء راشدین کا حسین رضی اللہ عنہ سے پیار

علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:

كَانَ الصِّدِّيقُ يُكْرِمُهُ وَيُعَظِّمُهُ، وَكَذَلِكَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ (البداية والنهاية: 161/8)

سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدناحسین رضی اللہ عنہ کی عزت وتکریم کرتے تھے اور عمر وعثمان رضی اللہ عنہما بھی آپ کی عزت وتکریم کرتے تھے۔

2۔ ابوبكر صديق رضی اللہ عنہ کا حسن رضی اللہ عنہ سے پیار

سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

صَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْعَصْرَ ، ثُمَّ خَرَجَ يَمْشِي فَرَأَى الْحَسَنَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَحَمَلَهُ عَلَى عَاتِقِهِ ، وَقَالَ : بِأَبِي شَبِيهٌ بِالنَّبِيِّ لَا شَبِيهٌ بِعَلِيٍّ وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ.

سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ عصر کی نماز سے فارغ ہو کر مسجد سے باہر نکلے تو دیکھا کہ حسن رضی اللہ عنہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ آپ نے ان کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا اور فرمایا: میرے باپ تم پر قربان ہوں! تم میں نبی ﷺ کی شباہت ہے۔ علی کی نہیں۔ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہنسنے لگے۔(صحیح بخاری: 3542)

3۔ عمر رضی اللہ عنہ کا حسنین رضی اللہ عنہ سے پیار

امام ابن عساکر رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:

أن عمر بن الخطاب لما دون الديوان وفرض العطاء الحق الحسن والحسين بفريضة ابيهما مع أهل بدر لقرابتهما من رسول الله (صلى الله عليه وسلم) ففرض لكل واحد منهما خمسة آلاف درهم

جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دفاتر ترتیب دہے اور عطائیں مقرر کیں تو حسن وحسین رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ ﷺ سے قرابت کی وجہ اس کے والد کے ساتھ سے اہل بدر میں سے حصہ مقرر کیا۔(تاريخ دمشق: 238/13)

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:

أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كان يكرمهما ويحملهما ويعطيهما كما يعطي أباهما (البداية والنهاية: 226/8)

پس ثابت ہوا کہ سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان دونوں کی عزت وتکریم کرتے ان کی ذمہ داریاں اٹھاتے اور ان کو اسی طرح عطا کرتے جس طرح ان کے والد کو عطا کیا کرتے تھے۔

امام ذہبی رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:

أَنَّ عُمَرَ كَسَا أَبْنَاءَ الصَّحَابَةِ؛ وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ مَا يَصلُحُ لِلْحَسَنِ وَالحُسَيْنِ؛ فَبَعثَ إِلَى اليَمَنِ، فَأُتِي بِكِسْوَةٍ لَهُمَا، فَقَالَ: الآنَ طَابَتْ نَفْسِي

سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صحابہ کے بیٹوں کو کپڑے پہنائے لیکن ان میں کوئی ایسا کپڑا نہیں تھا جو حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے شایان شان ہو تو آپ نے یمن کی طرف ایک بندہ بھیج ان کے لیے جوڑے منگوائے پھر فرمایا: اب جاکر میرا دل خوش ہوا۔(سیر أعلام النبلاء: 351/4)

4۔ عثمان رضی اللہ عنہ کا حسنین رضی اللہ عنہما سے پیار

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:

كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يُكْرِمُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ وَيُحِبُّهُمَا. وَقَدْ كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يَوْمَ الدَّارِ – وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ محصور – عنده ومعه السيف متقلداً به يحاجف عَنْ عُثْمَانَ

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حسین وحسین رضی اللہ عنہما کی عزت وتکریم کرتے اور ان سے محبت کرتے تھے۔ جس دن عثمان رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں محصور تھے اس دن حسن رضی اللہ عنہ ان کے پاس تھے اور ان کے پاس تلوار تھی جو ان کے کندھے سے لٹکی ہوئی تھی جس سے وہ عثمان رضی اللہ عنہ کا دفاع کرتے تھے۔(البداية والنهاية: 41/8)

5۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا حسنین سے پیار

سعيد بن ابو سعید المقبری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ: ایک مرتبہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں سلام کیا، پس ہم نے آپ کے سلام کا جواب دیا۔ لیکن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو آپ کی آمد یا سلام کا علم نہیں ہو سکا۔ ہم نے بتایا کہ اے ابوہریرہ! یہ حسن بن علی آئے ہیں اور انہوں نے ہم پر سلام کیا ہے۔ تو آپ رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور کہا:

وَعَلَيْكَ السَّلَامُ يَا سَيِّدِي، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهُ سَيِّدٌ»

اے میرے سردار آپ پر بھی سلامتی ہو! پھر بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ سردار ہیں۔(مستدرک حاکم: 4792)

ابوالمھزم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ: ہم ایک خاتون کے جنازے میں تھے۔

فجعل أبو هريرة ينفض التراب عن قدميه بطرف ثوبه، فقال الحسين: يا أبا هريرة، وأنت تفعل هذا؟! فقال: دعني، فوالله لو يعلم الناس مثل ما أعلم لحملوك على رقابهم.

سیدنا ابوہریرہ حسین رضی اللہ عنہ کے قدموں سے گرد جھاڑنے لگے حسین رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابو ہریرہ! آپ یہ سب کر رہے ہیں؟ آپ نے جواب دیا: مجھے چھوڑیں، جو میں جانتا ہوں اگر لوگ وہ جان لیں تو آپ کو اپنے گردنوں پر سوار کرلیں۔(تاریخ الاسلام للذھبی: 627/2)

مستدرک حاکم میں ہے کہ ایک بار سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے ملے تو ان سے کہا:

«رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ بَطْنَكَ» ، فَاكْشِفِ الْمَوْضِعَ الَّذِي قَبَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُقَبِّلَهُ، قَالَ: وَكَشَفَ لَهُ الْحَسَنُ فَقَبَّلَهُ

ایک بار میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے پیٹ پر بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے، آپ میرے لیے اس حصے کو ظاہر کریں تاکہ میں بھی وہاں بوسہ دوں۔ جہاں رسول اللہ ﷺ نے اپنے لب مبارک لگائے ہیں۔ چناچہ آپ رضی اللہ عنہ نے وہ حصہ ظاہر کیا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہاں بوسہ دیا۔(مستدرک حاکم: 4785)

آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :میں نے جب بھی سیدناحسین بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک دن نبی ﷺ باہر تشریف لائے، آپ ﷺ نے مجھے مسجد میں پایا۔ آپ نے میرا ہاتھ تھاما اور مجھ پر سہارا لیا۔ پس میں آپﷺ کے ساتھ چل پڑا یہاں تک کہ بنو قینقاع کا بازار آ گیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : آپ ﷺ نے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی۔ آپ ﷺ نے بازار کا ایک چکر لگایا، (بازار کو) دیکھا پھر لوٹ آئے اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ لوٹ آیا۔ پھر آپ مسجد میں تشریف فرما ہوئے اور حبوہ باندھ کر بیٹھ گئے پھر فرمایا: ’ذرا منے کو میرے پاس بلانا۔ پس حسین رضی اللہ عنہ دوڑے ہوئے آئے اور آپ ﷺکی گود میں گر گئے۔ پھر انہوں نے آپ ﷺ کی داڑھی میں ہاتھ ڈال کر کھیلنا شروع کر دیا۔

فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَحُ فَمَ الْحُسَيْنِ فَيَدْخُلُ فَاهُ فِي فِيهِ وَيَقُولُ: «اللهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ»

نبی ﷺ سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کے منہ کو کھولتے اور اس میں اپنا منہ داخل کر کے فرماتے: اے اللہ! مجھے اس سے محبت ہے، تو بھی اس سے محبت کر۔(مستدرک حاکم: 4823)

مساور السعدی بیان کرتے ہیں کہ:

رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَائِماً عَلَى مَسجدِ رَسُوْلِ اللهِ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – يَوْمَ مَاتَ الحَسَنُ؛ يَبْكِي، وَيُنَادِي بِأَعلَى صَوْتِهِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! مَاتَ اليَوْمَ حِبُّ رَسُوْلِ اللهِ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

جس دن حسن رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا میں نے ابوہریرہ کو رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں کھڑے دیکھا وہ رو رہے تھے اور بلند آواز سے کہہ رہے تھے: لوگو! آج رسول اللہ ﷺ کے محبوب کا انتقال ہو گیا ہے۔(سير أعلام النبلاء: 346/4)

6۔ سیدہ ام سلمی رضی اللہ عنہا کا حسین رضی اللہ عنہ سے پیار

شہر بن حوشب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا کہ ایک عورت چیختی ہوئی آئی اور کہا: حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

قد فعلوها ملأ الله بيوتهم أو قبورهم عليهم نارا ووقعت مغشيا عليها وقمنا.

کیا انہوں نے ایسا کیا ہے ! اللہ ان کے گھروں کو یا ان کے قبروں کو آگ سے بھر دے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہا بے ہوش ہو گئیں اور ہم وہاں سے اٹھ کر آ گئے۔(تاریخ دمشق: 238/14)

7۔ سیدناعمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا حسین سے پیار

عيزار بن حريث العبدى رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کعبے کے سائے مین بیٹھے ہوئے تھے کہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو آتے ہوئے دیکھا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

هذا أحب أهل الأرض إلى أهل السماء اليوم

یہ شخص آج آسمان والوں کے نزدیک زمین والوں میں سے سب سے زیادہ محبوب ہے۔(تاریخ دمشق: 179/14)

8۔سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا حسن رضی اللہ عنہ سے پیار

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُصُّ لِسَانَهُ أَوْ قَالَ شَفَتَهُ يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَنْ يُعَذَّبَ لِسَانٌ أَوْ شَفَتَانِ مَصَّهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

میں نے نبی ﷺ کو حسن رضی اللہ عنہ کی زبان یا ہونٹ چوستے ہوئے دیکھا ہے اور اس زبان یا ہونٹ کو عذاب نہیں دیا جائے گا جسے نبی ﷺ نے چوسا ہو۔(مسند احمد: 16247)

صاحب عقد الفرید نقل کرتے ہیں کہ: ایک بار سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہم مجلسوں سے سوال کیا:

من أكرم الناس أباً وأمّاً وجدّاً وجدّةً وعمّاً وعمّةً وخالاً وخالةً؟ فقالوا: أمير المؤمنين أعلم، فأخذ بيد الحسن بن علي وقال: هذا أبوه علي بن أبي طالب، وأمّه فاطمة ابنة محمد، وجدّه رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وجدّته خديجة

ماں باپ، نانا نانی، چچا پھوپھی، خالہ اور ماموں کے حساب سے سب سے زیادہ مکرم کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: اے امیرالمومنین! آپ ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ (جو اس وقت مجلس میں موجود تھے) ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا: یہ ہیں۔ جن کے والد علی، ماں فاطمہ، نانا محمد رسول اللہ ﷺ اور نانی خدیجہ رضی اللہ عنہم ہیں۔(العقد الفريد: 345/5)

عبداللہ بن بریدہ بیان کرتے ہیں کہ:

أَنَّ حَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ: «لَأُجِيزَنَّكَ بِجَائِزَةٍ لَمْ أُجِزْ بِهَا أَحَدًا قَبْلَكَ وَلَا أُجِيزُ بِهَا أَحَدًا بَعْدَكَ مِنَ الْعَرَبِ»، فَأَجَازَهُ بِأَرْبَعِمِائَةِ أَلْفٍ، فَقَبِلَهَا

حسن بن علی رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس داخل ہوئے تو آپ نے فرمایا: میں ضرور آپ کو ایک ایسا عطیہ دوں گا جو آپ سے پہلے کبھی کسی عرب کو نہ دیا ہے نہ دوں گا۔ پھر آپ نے انہیں چار لاکھ عطا کیے اور انہوں نے قبول کیے۔(مصنف ابن أبي شيبة: 188/6)

9۔ سیدناجابر رضی اللہ عنہ کا حسین رضی اللہ عنہ سے پیار

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ

جس کو اس بات سے خوشی ہو کہ ایک جنتی آدمی دیکھے تو وہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھ لے کہ میں نے نبی کریم ﷺکو انہیں جنتی کہتے سنا ہے۔(صحيح ابن حبان: 6966)

10۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا حسین رضی اللہ عنہ سے پیار

ابن ابی نعم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ:

كُنْتُ شَاهِدًا لِابْنِ عُمَرَ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، قَالَ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا يَسْأَلُنِي عَنْ دم البعوض وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا.

میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں موجود تھا کہ ان سے ایک شخص نے احرام کی حالت میں مچھر کے مارنے کے متعلق سوال کیا ( کہ اس کا کفارہ کیا ہے) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے پوچھا: تم کہاں سے ہو؟ اس نے کہا: عراق سے۔ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس شخص کو دیکھو! جو مچھر کے خون کے متعلق سوال کر رہا ہے اور انہوں نبی ﷺکے نواسے کو قتل کر دیا۔ میں نے نبی ﷺسے سنا آپ ﷺنے فرمایا: یہ دونوں ( حسن و حسین رضی اللہ عنہما ) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔(صحیح بخاری: 5994)

11۔سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے جنازے میں صحابہ کی شرکت

ثعلبہ بن ابی مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ:

شَهِدْنَا الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ يَوْمَ مَاتَ وَدَفَّنَاهُ بِالْبَقِيعِ وَلَوْ طُرِحَتْ إِبْرَةٌ مَا وَقَعَتْ إِلَّا عَلَى رَأْسِ إِنْسَانٍ.

جس دن سیدناحسن بن علی رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی ہم ان کے جنازے میں شریک ہوئے اور ہم نے ان کو بقیع الغرقد میں سپرد خاک کیا۔ ان کے جنازے میں اتنے لوگ شریک تھے کہ اگر سوئی بھی پھینکی جاتی تو وہ کسی انسان کے سر پر ہی گرتی۔(مستدرک حاکم: 188/3)

آپ کے جنازے میں اتنی کثرت کی شرکت آپ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت کی واضح دلیل ہے۔

editor

Share
Published by
editor

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago