یورپ اور دنیا بھر کے عیسائی اور دیگر غیر مسلم طاقتیں، نزولِ قرآن کے پہلے روز سے ہی اسے مٹانے کی کوشش کرتے چلے آ رہے ہیں، سویڈن میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ بھی اسی ناپاک سلسلہ کی ایک کڑی ہے مگر کمال ہے کہ قرآن اس سب کے باوجود پورے آب و تاب سے کھڑا ہے اس کا ایک حرف تو کیا، ایک حرکت بھی تبدیل نہیں کی جا سکی اور سویڈن کے نادانوں کو کون سمجھائے کہ یہ تبدیل ہو بھی نہیں سکتی کیونکہ یہ وہ ہے کہ جس کی حفاظت خود اللہ تعالیٰ کررہے ہیں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کے ساتھ بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے،اگرچہ کافر لوگ ناپسند کریں۔
اور ارشادفرمایا :
بے شک ہم نے ہی یہ نصیحت نازل کی ہے اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔
سویڈن کے نادانو!جہاں میرے رب نے بڑے بڑے بیریئر لگا رکھے ہیں وہاں تمہاری ناتواں پھونکوں کی بھلا کیا اوقات ہے؟
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
اس شمع ہدایت کو روشن اور کتاب ھدی کو محفوظ رکھنے کے لیے میرے رب تعالیٰ نے جو اقدامات کیے ہیں ان کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں:
نزول قرآن سے پہلے جنات، آسمان کی باتیں سن لیا کرتے تھے اگرچہ نزول قرآن سے پہلے بھی عالم بالا کی حفاظت کا انتظام تھا، مگر جنات کوئی نہ کوئی بات سن لیتے تھے اور انہیں بالائی فضا میں چھپ کر بیٹھنے کی بھی کوئی نہ کوئی جگہ مل جاتی تھی۔
آسمان کی باتیں سننے کی کیفیت و طریقہ کیا تھا؟سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم ﷺسے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ’’جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی حکم صادر فرماتا ہے تو اس کا کلام سن کر فرشتے اظہار اطاعت و عجز کے لیے اپنے بازو (پر) پھڑ پھڑانے لگتے ہیں، (اس کلام کی آواز ایسی ہوتی ہے) جیسے کسی چٹان پر زنجیر کی آواز۔ پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ تمھارے رب نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں کہ اس نے جو فرمایا حق فرمایا اور وہ بلند اور بڑا ہے۔ (اس وقت) فرشتوں سے سنائی دینے والی بات کو چوری سننے والے شیطان سننے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ چوری چھپے سننے والے اس طرح ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں‘‘
اور راوی حدیث سفیان نے دائیں ہاتھ کی انگلیاں کھول کر ایک دوسرے کے اوپر کر کے دکھائیں ’’پھر بعض اوقات وہ شعلہ سننے والے کو اس سے پہلے جا پہنچتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کو جلدی سے بتائے اور اسے جلا دیتا ہے اور بعض اوقات اس وقت پہنچتا ہے جب وہ اپنے ساتھ والے کو جلدی سے بتا چکا ہوتا ہے، جو اس سے نیچے ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسے زمین تک پہنچا دیتے ہیں۔‘‘ [ صحیح بخاری : ۴۷۰۱ ]
فرشتے ،بادلوں میں آکر آپس میں باتیں کیا کرتے تھے تو جنات انہیں سن لیا کرتے تھے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :
’’فرشتے عنان یعنی بادل میں اترتے ہیں اور (آپس میں) اس بات کا ذکر کرتے ہیں جس کا آسمان میں فیصلہ کیا گیا ہوتا ہے، تو شیطان چوری سے وہ بات سننے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے سن لیتے ہیں، پھر وہ یہ بات کاہنوں کو چپکے سے پہنچا دیتے ہیں، پھر کاہن اس میں اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا دیتے ہیں۔‘‘
کاہن کے کان میں مرغی کے کڑکڑ کرنے کی طرح ڈال دیتے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺسے کاہنوں (غیب کی باتیں بتانے والوں) کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺنے فرمایا :
’’وہ کچھ بھی نہیں۔‘‘لوگوں نے کہا : ’’یا رسول اللہ! بعض اوقات وہ ہمیں کوئی بات بتاتے ہیں جو سچی نکلتی ہے۔‘‘ آپ ﷺنے فرمایا :
’’وہ بات حق ہوتی ہے جسے جنّی (جن) اچک لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں مرغی کے کڑکڑ کرنے کی طرح ڈال دیتا ہے، پھر وہ اس کے ساتھ سو (۱۰۰) جھوٹ ملا لیتے ہیں۔‘‘
نزول قرآن کے لیے آسمان کے پہرے پہلے سے بھی سخت ہوگئے
(یعنی قرآن مجید میں گڑ بڑ کرنے اور اس میں جنات و شیاطین کی طرف سے کچھ نیا شامل کرنے کا یہ ایک ممکنہ دروازہ ہوسکتا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اسے پیشگی بند کر دیا)
اب( آپ ﷺ کی بعثت کے بعد) جب وہ جنات سننے کے لیے اوپر گئے تو ساری بالائی فضا سخت پہرے اور مسلسل شہابوں (انگاروں) کی بارش سے بھری ہوئی تھی۔
جیسا کہ خود جنوں نے کہا ہے :
’’اور یہ کہ بے شک ہم نے آسمان کو ہاتھ لگایا تو ہم نے اسے اس حال میں پایا کہ وہ سخت پہرے اور چمکدار شعلوں سے بھر دیا گیا ہے۔اور یہ کہ ہم اس کی کئی جگہوں میں سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے تو جو اب کان لگاتا ہے وہ اپنے لیے ایک چمکدار شعلہ گھات میں لگا ہوا پاتا ہے۔اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کیا ان لوگوں کے ساتھ جو زمین میں ہیں، کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے، یا ان کے رب نے ان کے ساتھ کسی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے۔‘‘
ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
’’اور ہم نے اسے ہر مردود شیطان سے محفوظ کر دیا ہے۔مگر جو سنی ہوئی بات چرا لے تو ایک روشن شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔‘‘
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں : وہ جنات ( جب آسمان سے خبریں نہ سن سکے اور) اپنی قوم کی طرف واپس آئے تو انھوں نے پوچھا: ’’کیا معاملہ ہے؟‘‘ انھوں نے کہا : ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی ہے اور ہم پر انگارے پھینکے گئے ہیں۔‘‘ تو ان جنات کی قوم نے کہا : ’’تمھارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ کی وجہ کوئی نئی پیدا ہونے والی چیز ہی ہو سکتی ہے، اس لیے تم زمین کے مشارق و مغارب کا سفر کرکے دیکھو کہ وہ کون سی چیز ہے جو تمھارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ بنی ہے۔‘‘ تو کچھ جنات، نبی ﷺ کے پاس اس وقت پہنچے جب آپ، اپنے اصحاب کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے، جب انھوں نے قرآن سنا تو کان لگا کر سننے لگے (جنوں کے قرآن سننے کی کیفیت کو اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر یوں بیان کیا ہے:
اور جب ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو تیری طرف پھیرا، جو قرآن غور سے سنتے تھے تو جب وہ اس کے پاس پہنچے تو انھوں نے کہا خاموش ہو جاؤ، پھر جب وہ پورا کیا گیا تو اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن کر واپس لوٹے۔اور کہنے لگے : ’’اللہ کی قسم! یہی وہ چیز ہے جو تمھارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ بنی ہے۔‘‘
پھر جب وہ اپنی قوم کی طرف واپس آئے تو انھوں نے کہا :
’’اے ہماری قوم!
’’بلاشبہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا، جو سیدھی راہ کی طرف لے جاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم کبھی کسی کو اپنے رب کے ساتھ شریک نہیں کریں گے۔‘‘ اور آپ ﷺ پر جنوں کی گفتگو وحی کی گئی تھی۔ [ بخاري : ۷۷۳۔ مسلم : ۴۴۹ ]
دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے ان جنوں کے اپنی قوم سے خطاب کو یوں بیان کیا ہے :
انھوں نے کہا اے ہماری قوم! بے شک ہم نے ایک ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے، وہ حق کی طرف اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
قرآن میں رد و بدل کرنے کا یہ دوسرا دروازہ ہوسکتا تھا کہ اسے جنات اور شیاطین سے تو بچا لیا گیا مگر جو اسے لے جانے والا ہے کہیں وہ ہی اس میں کوئی گڑ بڑ نہ کردے تو اللہ تعالیٰ نے یہ دروازہ بھی بند کر دیا اور وہ اس طرح کے اس ڈیوٹی پر جس کو متعین کیا وہ بذات خود بھی بہت امانت دار ہے کہ اسے جو امانت دی جائے اسے من و عن آگے منتقل کرتا ہے اور طاقت ور بھی بہت زیادہ ہے کہ کوئی دشمن راستے میں اس سے زبردستی رد و بدل نہیں کرواسکتا، فرمایا :
’’بے شک یہ یقینا ایک ایسے پیغام پہنچانے والے کاقول ہے جو بہت معزز ہے۔بڑی قوت والا ہے، عرش والے کے ہاں بہت مرتبے والا ہے۔وہاں اس کی بات مانی جاتی ہے، امانت دار ہے۔‘‘
جبریل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی قوتیں عطا فرمائی ہیں اور ہر قوت ہی نہایت مضبوط اور زبردست ہے، بھلا جسے اللہ تعالیٰ نہایت مضبوط قوتوں والا فرمائے اس کی قوتوں کا کون اندازہ کر سکتا ہے۔ سید ولد آدم ﷺ نے انھیں ان کی اصل صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا اور اس دیکھنے سے جو کیفیت آپ ﷺ پر گزری اس سے ان کی عظمت و ہیبت، حسن و جمال اور قوت و وسعت کا تھوڑا سا اندازہ ہوتا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
’’رسول اللہ ﷺنے جبریل علیہ السلام کو (اصل صورت میں) دیکھا، ان کے چھ سو پَر تھے۔‘‘
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’میں نے جبریل ﷺ کو دیکھا، اس کے چھ سو بازو تھے اور اس کے پروں سے حیران کن رنگا رنگ موتی اور یاقوت جھڑ رہے تھے۔‘‘
نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ایک دفعہ میں چلا جا رہا تھا، اچانک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی تو میں نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، تو میں اس سے ڈر گیا، یہاں تک کہ میں زمین پر گر گیا، پھر میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا اور کہا، مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو، تو انھوں نے مجھے چادر اوڑھا دی۔‘‘ [صحیح بخاري : ۴۹۲۶ ]
ذرا سوچیں کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے رسول ﷺ تک وحی منتقل کرنے والا فرشتہ اتنا طاقتور ہے کہ اس کے کرسی پر بیٹھنے سے زمین و آسمان کے درمیان کا سارا خلا پُر ہوگیا تو بھلا کس میں اتنی جرات ہوسکتی ہے کہ اسے راستے میں ڈرا دھمکا کر وحی میں تبدیلی پیدا کرسکے۔
اب یہ مسئلہ ہوسکتا تھا کہ آسمان کا پہرہ بھی مضبوط ہو گیا، پیغام رساں فرشتہ بھی امانت دار اور قوۃ والا مقرر ہوا لیکن جس ذات پر نازل ہورہا ہے اس کی کیفیت کیا ہے؟ آیا وہ اس عظیم الشان امانت کی متحمل ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ بطور انسان یا بتقضاء بشریت اس سے کسی کمی اور سستی کی بنا پر قرآن ضائع ہو جائے یا اس میں کوئی تبدیلی واقع ہو جائے ۔ سبحان اللہ
دیکھیں میرے رب تعالیٰ نے اس دروازے کو کیسے بند کیا اور حفاظت قرآن کے لیے کیسا زبردست بندوبست کیا اس ذات گرامی ﷺ کے سینہ مبارک کو بشری آلودگیوں اور شیطانی غلاظتوں سے ویسے ہی پاک صاف کر دیا،فرمایا :
’’کیا ہم نے تیرے لیے تیرا سینہ نہیں کھول دیا۔‘‘
اور آپ کا مبارک سینہ دو مرتبہ چاک کر کے اسے صاف کر کے اس مقدس امانت کے لیے تیار کیا :
ایک دفعہ مائی حلیمہ سعدیہ کے پاس بچپن میں اور دوسری بار معراج کے موقع پر۔
پہلی مرتبہ حلیمہ سعدیہ کے پاس سینہ چاک
’’ سیدناانس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ بچپنے میں جب بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے تو جبرئیل امین نے آکر آپ کو زمین پر چت لٹایا اور سینہ چاک کرکے آپ کادل مبارک باہر نکالا اور پھر اس کے اندر سے جما ہوا کچھ خون نکالا اور کہا یہ آپ کے دل میں شیطان کاحصہ ہے ۔ پھرایک طلائی طشتری میں آبِ زم زم سے آپ کے قلب مبارک کو غسل دیا اور پھر اس شگاف کوملایا اور اس کی اصلی جگہ پر اسے رکھ دیا۔ اتنے میں دوسرے بچوں نے دوڑ کر آپ کی رضاعی والدہ کو اطلاع دی کہ محمدقتل کردیے گئے ہیں تو انہوں نے آکر آپ کا اڑا ہوا رنگ دیکھا۔
سیدناانس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ کے سینہ مبارک پر ٹانکوں کے نشان دیکھے ہیں۔ (صحيح مسلم : 162)
دوسری مرتبہ معراج کے موقع پر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ میں ایک رات مکہ مکرمہ میں اپنے گھر محو خواب تھا کہ جبرئیل امین میرے گھرکی چھت پھاڑ کر میرے پاس تشریف لائے اور میرا سینہ چاک کیا، آبِ زمزم سے دھویا اور پھر ایمان وحکمت سے بھری ہوئی ایک طلائی طشتری میرے سینہ میں انڈیل دی اور پھر اسے بند کردیا پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف لے گئے۔‘‘(صحيح البخاري :1636)
یہ تیسرے اقدام کا ہی حصہ ہے کہ جس ذات گرامی پر یہ مقدس کتاب نازل ہوئی ہے نہ صرف یہ کہ اس کا مبارک سینہ پاک صاف کردیا گیا ہے بلکہ اس کے حواس، ذہانت اور جسمانی نشو نما بھی بہتر سے بہترین شکل میں ڈھال دی گئی اسے ہر قسم کے ذہنی اور اخلاقی عیب سے بچا لیا گیا تاکہ کسی طرف سے بھی اس کتاب میں کوئی رخنہ باقی نہ رہے
آپ کو ہر طرح کی دیوانگی، نادانی اور ذہنی کمزوری سے بے عیب قرار دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
’’کہ تو اپنے رب کی نعمت سے ہرگز دیوانہ نہیں ہے۔‘‘
اور فرمایا :
’’اور تمہارا ساتھی ہرگز کوئی دیوانہ نہیں ہے۔‘‘
سبحان اللہ! جس کے دیوانہ نہ ہونے کی گارنٹی خود اللہ تعالیٰ دے رہے ہیں اندازہ کیجئے کہ وہ کس قدر کمالِ عقل رکھتا ہوگا اور اس کا اخلاق و کردار کس قدر اعلی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
’’اور بلاشبہ یقینا تو ایک بڑے خلق پر ہے۔‘‘
آسمان کا پہرہ بھی سخت ہوگیا، پیام رساں فرشتہ بھی بہت طاقتور اور امانت دار مقرر ہوگیا جس ذات گرامی پر نازل ہونا تھا اس کی بھی ظاہری اور باطنی، جسمانی اور روحانی صفائی اور تیاری ہوگئی،اب ایک خدشہ یہ تھا کہ پہلے جس طرح آسمان سے جِنات باتیں سن لیا کرتے تھے اسی طرح جبریل علیہ السلام کے محمد ﷺ کو وحی سناتے وقت بھی کوئی انسان یا جن اسے سن سکتا تھا اور بعد میں کہہ سکتا تھا کہ اے نبی! میں بھی سن رہا تھا، آپ کو غلطی لگ رہی ہے، جبریل نے ایسے نہیں ایسے فرمایا تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ دروازہ بھی بند کر دیا اور وحی کا طریقہ ہی کچھ ایسا رکھا کہ کوئی انسان یا جن اسے سمجھ ہی نہ سکےاگرچہ نزول وحی کے وقت آپ ہوش و حواس اور روحانی طور پر نہایت چاق و چوبند اور چوکس ہوا کرتے ۔ کسی عصبی تکلیف میں مبتلا ہوتے نہ کسی بیماری کا کوئی دورہ پڑتا۔ مگر کچھ ظاہری کیفیت تبدیل ہو جایا کرتی تھی اور وہ بھی فرشتہ جب وحی نازل کرکے چلا جاتا تو آپ تھوڑی دیر بعد اپنی طبعی حالت میں لوٹ آتے۔
وحی کا طریقہ اس قدر ما فوق الفطرت اور مشکل تھا کہ عام انسان تو دور کی بات شروع شروع میں جناب محمد رسول اللہ ﷺ بھی گھبرا جایا کرتے تھے جیسا کہ سب سے پہلی وحی کے نزول کے وقت آپ بہت زیادہ گھبرا گئے اور کپکپانے لگے۔(صحیح بخاری :3)
اور دوسری وحی کی کیفیت بیان کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
ایک روز میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان کی طرف ایک آواز سنی اور میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے بیچ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں اس سے ڈر گیا اور گھر آنے پر میں نے پھر کمبل اوڑھنے کی خواہش ظاہر کی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
میں نے سخت کڑاکے کی سردی میں رسول اکرم ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺپر وحی نازل ہوئی اور جب اس کا سلسلہ موقوف ہوا تو آپ ﷺ کی پیشانی پسینے سے شرابور تھی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ پر وحی نازل ہونے لگی تو آپ کو وحی کی سخت تنگیوں نے ایسا پکڑ لیا کہ شدید سردی والے دن میں آپ سے موتیوں کی طرح پسینہ ٹپک رہا تھا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
کہ وحی نازل ہوتے وقت کبھی مجھ کو گھنٹی کی سی آواز محسوس ہوتی ہے اور وحی کی یہ کیفیت مجھ پر بہت شاق گزرتی ہے۔ جب یہ کیفیت ختم ہوتی ہے تو میرے دل و دماغ پر اس ( فرشتے ) کے ذریعہ نازل شدہ وحی محفوظ ہو جاتی ہے۔
یعلیٰ بن امیہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کبھی آپ مجھے نبی کریم ﷺ کو اس حال میں دکھایئے جب آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ جعرانہ میں اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ ٹھہر ے ہوئے تھے کہ آپ پر وحی نازل ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا۔ یعلیٰ آئے تو رسول اللہ ﷺ پر ایک کپڑا تھا جس کے اندر آپ تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے کپڑے کے اندر اپنا سر کیا تو کیا دیکھتے ہیں ۔
کہ آپ کا روئے مبارک سرخ ہے اور آپ خراٹے لے رہے ہیں۔
صحابہ کرام yاس وحی کی آواز کو شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ سے تشبیہ دیا کرتے کیونکہ انہیں اس کی ہلکی ہلکی آواز سنائی دیتی تھی۔(مسند أحمد)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
کہ آپ ﷺ اونٹنی پر سوار ہوتے، آپ پر وحی اترتی تو اونٹنی زمین پر گردن رکھ دیتی۔
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو آپ کی ران میری ران پر تھی، آپ کی ران کا اتنا بوجھ تھا، قریب تھا کہ وہ میری ران کو کچل دے۔
سبحان اللہ! قرآن کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ کا ایسا شاندار انتظام کہ واضح عربی زبان ہونے کے باوجود بوقتِ نزول قریب کھڑے انسان خراٹوں، گھنٹیوں، اور شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسی آواز سے زیادہ کچھ نہیں سمجھ سکتے تھے تو بھلا کوئی انسان کل یہ دعویٰ کیسے کرسکتا تھا کہ وحی ایسے نہیں ایسے نازل ہوئی تھی۔
قرآن پر اعتراض اور لوگوں کی طرف سے اسے مشکوک سمجھے جانے کا ایک دروازہ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ اگر ہمارے نبی کریم ﷺ زمانے میں مروجہ تعلیمی طریقہ کار کے مطابق بڑے پڑھے لکھے اور ڈگری ہولڈر ہوتے تو شاید کسی کو یہ کہنے کا موقع مل جاتا کہ یہ کتاب تو محمد ﷺ کی ذاتی تصنیف ہے یعنی جھوٹے لوگوں کو بات بنانے کا موقع مل سکتا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے یہ دروازہ بھی نہ کھلنے دیا اور نبی کریم ﷺ کو أُمی حالت میں مبعوث کرکے بڑے بڑے فصیح و بلیغ لوگوں کے منہ بند کر دیے۔فرمایا :
’’اور تو اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتا تھا اور نہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا، (اگر تو پڑھنے اور لکھنے والا ہوتا تو) اس وقت باطل والے لوگ ضرور شک کرتے۔‘‘
الغرض کہ جب وہ ذات گرامی ﷺ جس نے دنیا کے سامنے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پیش کیا ہے، لکھنے اور پڑھنے پر قادر نہیں تو یہ اشکال کیسے پیش کیا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنے پاس سے کچھ لکھ کر اس میں شامل کر دیا ہو؟
بالآخر مشرکین مکہ نے نبی کریم ﷺ پر یہ اعتراض جڑ ہی دیا، آپ کے امی ہونے کے باوجود انہوں نے تہمت لگا دی کہ محمد ﷺ نے خود ہی قرآن تصنیف کیا ہے تو اس کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
’’کہہ دے : اگر اللہ چاہتا تو میں اسے تم پر نہ پڑھتا اور نہ وہ تمھیں اس کی خبر دیتا، پس بے شک میں تم میں اس سے پہلے ایک عمر رہ چکا ہوں، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟۔‘‘
اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ہمارے استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد رحمہ اللہ لکھتے ہیں :’’مطلب یہ ہے کہ میں نبوت سے پہلے ایک عمر، یعنی چالیس برس تم میں رہا، اس ساری مدت میں تم سب جانتے ہو کہ نہ مجھے پڑھنا آتا تھا نہ لکھنا تو کیا تمھاری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ قرآن جس کی سب سے چھوٹی سورت کی مثل پیش کرنے سے اللہ کے سوا پوری کائنات عاجز ہے، وہ میں نے کیسے تصنیف کر لیا اور تم اعتبار کیوں نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو نہ وہ اسے مجھ پر نازل کرتا، نہ میں اسے پڑھ کر تمھیں سناتا اور نہ وہ اس کی خبر تمھیں دیتا۔‘‘
بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبوت سے پہلے تو آپ فی الواقع لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، مگر نبوت کے بعد آپ ﷺ نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا۔ ان حضرات نے عقیدت میں غلو کی وجہ سے یہ بات کہی ہے اور اپنی طرف سے یہ تصور ذہنوں میں بٹھا رکھا ہے کہ شاید «امی» کہنے سے آپ کی شان میں کوئی کمی واقع ہوتی ہے جبکہ غور کیا جائے تو «امی» ہونے میں آپ کی زیادہ شان ہے، کیا انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ ایک شخص «امی» ہوکر سارے جہاں کا استاذ بن جائے، یہ زیادہ حیران کن بات اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے یا یہ کہ کوئی عالم فاضل اور پڑھا لکھا شخص کوئی کتاب تصنیف کر کے لے آئے؟۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ کی شان ہے کہ ایک طرف آپ ﷺ کو وہ کتاب عطا فرمائی کہ ساری دنیا جس کی چھوٹی سے چھوٹی سورت کی مثل بنانے سے عاجز ہے، تو دوسری طرف آپ ﷺ کو نہ پڑھنا سکھایا نہ لکھنا۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ کا ہمیشہ (وفات تک) یہی حال رہا، آپ نہ پڑھ سکتے تھے نہ ہی ایک سطر یا ایک حرف اپنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے۔
ہمارے استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد رحمہ اللہ لکھتے ہیں : آپ ﷺ کے آخری وقت تک اُمی ّ ہونے کی دلیل صلح حدیبیہ کے معاہدے کا واقعہ ہے، جس کا صلح نامہ سیدناعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے تحریر کیا تھا۔
اس روایت میں نبی کریم ﷺ کے بارے میں ہے :
’’آپ لکھ نہیں سکتے تھے ۔‘‘
یہ واقعہ ذوالقعدہ چھ ہجری کا ہے جس کے بعد رسول اللہ ﷺچار سال اور چند ماہ زندہ رہے، اس میں صراحت ہے
(آپ ﷺلکھتے نہیں تھے) اب وہ کون سی روایت ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ اس واقعہ کے بعد آپ ﷺ نے لکھنا سیکھ لیا تھا؟
قرآن، اگر محمد ﷺ کی ذاتی اختراع ہوتی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگنے کے بعد مہینہ بھر وحی کا انتظار نہ کیا جاتا۔
قرآن، اگر محمد ﷺ کی ذاتی اختراع ہوتی تو یہ آیات
قرآن مجید میں نہ ہوتیں۔
آپ کا بذات خود اعتراف کہ قرآن لکھنا میرے امکان اور میرے بس ہی میں نہیں
جب آپ کے مخالفین نے آپ سے یہ مطالبہ کیا کہ اس قرآن کے علاوہ کوئی اور قرآن ہمارے پاس لاؤ یا اسے ہی بدل دو ۔
تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی زبانی یہ بات کہلوائی:
’’کہہ دے : میرے لیے ممکن نہیں کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں، میں پیروی نہیں کرتا، مگر اسی کی جو میری طرف وحی کی جاتی ہے، بے شک میں اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔‘‘
ایک خدشہ اور چور دروازہ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ باقی سب اقدامات تو اپنی جگہ درست ہیں لیکن اگر عربی فصاحت و بلاغت میں مہارت رکھنے والا کوئی شخص اپنی طرف سے چند جملے بنا کر اسے کلام الہی کے طور پر منوانے چلے، جیسا کہ پہلی آسمانی کتابوں کے ساتھ ایسا ہو چکا ہے، تو اصلی قرآن اور جعلی قرآن میں تفریق کیسے ہوگی؟
اس کا جواب یہ ہے کہ سبحان اللہ! قرآن کے کسی دشمن، انسان یا جن کا اپنے پاس سے اس میں کوئی نیا کلام شامل کرنا تو درکنار کوئی شخص اس بات پر قادر ہی نہیں ہے کہ اس سے ملتا جلتاکلام ہی بنا سکے اور لطف کی بات ہے کہ قرآن نے قیامت تک کے لیے یہ چیلنج بھی کررکھا ہے کہ تمام جن و انس مل کر بھی میری ایک آیت جیسی آیت نہیں بنا سکتے ، فرمایا :
کہہ دے اگر سب انسان اور جن جمع ہو جائیں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہیں لائیں گے، اگرچہ ان کا بعض بعض کا مددگار ہو۔
سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے یہی چیلنج کرنے کے بعد اگلا چیلنج یہ بھی کردیا کہ اگر اب نہیں تو قیامت تک بھی تم اس جیسا کلام پیش نہیں کرسکتے
فرمایا :
حیران کن بات یہ ہے کہ قرآن کی سب سے چھوٹی سورۃ «الکوثر» ہے جو کہ صرف 3 آیات پر مشتمل ہے گویا چیلنج یہ تھا کہ 3 آیات پر مشتمل کوئی سورۃ بنا لاؤ۔
اس وقت اہل عرب میں ادب و لغت کا ایسا غلغلہ تھا کہ شاعری کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔امرء القیس، عنترہ اور زہیر جیسے نامور شعراء کی بلاغت ابھی تازہ دم تھی۔بھلا وہ عرب لوگ جو اپنی فصاحت پر بے حد اِتراتے اور نازاں تھے ان کے لیے تین آیات بنانا کیا مشکل تھا؟
جو، بڑے بڑے قصیدے اور معلقات لکھ سکتے تھے وہ تین جملوں کی ایک عبارت بنانے سے کیوں عاجز آگئے؟
اور پھر وہ لوگ اسلام دشمنی میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے اور یقیناً اس حوالے سے بھی انہوں نے ضرور بہت کوشش کی ہوگی کہ کوئی عبارت بنا کر قرآن کے اس چیلنج کا جواب دے کر اسے جھوٹا ثابت کیا جائے مگر تمام تر کوششوں کے باوجود وہ ایسا نہ کرسکے۔
ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال آتا ہو کہ اُس وقت تعلیم و تعلم کا اتنا رواج نہیں تھا جہالت کا غلبہ تھا تو وہ اجڈ لوگ کیسے اس چیلنج کو پورا کرتے مگر یہ خیال اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ 14 سو سال کا لمبا عرصہ گزر گیا ہے اس دوران بڑے بڑے غیر مسلم عربی دان گزرے ہیں اور آج کے جدید ترقی یافتہ دور میں بھی مصر، یمن، فلسطین، شام کے علاقوں میں عربی زبان پر عبور رکھنے والے لاکھوں غیر مسلم تعلیم یافتہ لوگ موجود ہیںمگر پھر بھی یہ چیلنج جوں کا توں برقرار ہے اور اسے توڑا نہ جا سکا۔الغرض اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنوں کو اس جیساکلام بنانے سے بے بس کرتے ہوئے یہ چور دروازہ بھی بند کردیا کہ کوئی شخص اس میں پیوند کاری کرسکے
مندرجہ بالا تمام اقدامات کے باوجود یہ احتمال موجود تھا کہ اِس بات کی کیا گارنٹی کہ جس ذات پر وحی نازل ہو وہ اسے یاد بھی رکھ پائے یا نہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ دروازہ بھی بند کر دیا اور نبی کریم ﷺ کو زبانی قرآن یاد کروانے کی ذمہ داری خود لے لی
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
ہم ضرور تجھے پڑھائیں گے تو تو نہیں بھولے گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ (شروع میں) رسول اللہ ﷺ قرآن مجید اترتے وقت (اسے یاد کرنے کے لیے) ساتھ ساتھ ہونٹ ہلاتے جاتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری :
’’تو اس کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دے، تاکہ اسے جلدی حاصل کرلے۔بلاشبہ اس کوجمع کرنا اور (آپ کا ) اس کو پڑھنا ہمارے ذمے ہے۔‘‘ (القیامۃ:16، 17)
سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کا اسے پڑھنا ہمارے ذمے ہے۔
اس کے بعد جب جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آتے تو آپ کان لگاکر سنتے رہتے، جب وہ چلے جاتے تو نبی ﷺ اسی طرح پڑھ لیتے جیسے جبریل علیہ السلام نے پڑھا تھا۔ [ بخاری، بدء الوحي، باب کیف کان بدء الوحي : ۵ ]
پھر سب لوگوں نے دیکھا کہ واقعی رسول اللہ ﷺ کو صرف ایک دفعہ جبریل علیہ السلام سے سن کر کسی کتابت یا تکرار کے بغیر اتنا بڑا قرآن حفظ ہوگیا۔خود نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
جب یہ وحی کی کیفیت ختم ہوتی ہے تو میرے دل و دماغ پر اس (فرشتے) کے ذریعہ نازل شدہ وحی محفوظ ہو جاتی ہے الغرض اب کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ شاید محمد ﷺ قرآن کی کوئی محکم آیت بھول گئے ہوں۔ (صحیح البخاری : ۲)
کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو سکتا تھا کہ جس ذات پر قرآن نازل کیا جا رہا ہے، قرآن اس ذات تک محفوظ شکل میں پہنچ تو جائے مگر وہ ذات کسی معاشرتی دباؤ، برادری کے پریشر، ذاتی ترجیحات یا لالچ کی بناء پر اسے سو فیصد آگے بیان کرنے سے قاصر رہے اور اس کا کچھ حصہ چھپا لے مگر اللہ تعالیٰ نے یہ دروازہ بھی بند کر دیا، قربان جائیں جناب محمد رسول اللہ ﷺ پر کہ آپ نے تبلیغِ قرآن کا حق ادا کر دیا کوئی ایک آیت تو درکنار ایک لفظ بھی چھپا کر نہیں رکھا ۔نبی کریم ﷺ کی یہ گارنٹی تو خود اللہ تعالیٰ نے دی ہے فرمایا :
’’اور وہ غیب کی باتوں پر ہرگز بخل کرنے والا نہیں۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ انہیں جو وحی کرتے ہیں وہ اسے اپنے پاس ہی نہیں رکھ لیتے بلکہ امت تک پہنچا دیتے ہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
’’جو شخص تمھیں بتائے کہ محمد ﷺ نے آپ پر نازل ہونے والی کوئی بات چھپائی ہے، تو اس نے یقینا جھوٹ بولا ہے۔‘‘
تفسیر طبری میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے آپ نے فرمایا :
اگر رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی کتاب میں سے کچھ چھپانا ہوتا تو یہ آیت چھپاتے :
’’ تو نے اپنے دل میں وہ جو چھپائے ہوئے تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تو لوگوں سے خوف کھاتا تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ حق دار تھا کہ تو اسے ڈرے۔‘‘
بھلا وہ شخص کسی پریشر کو کیسے قبول کرسکتا ہے کہ جس نے اپنا 40 سالہ صاف شفاف کیریئر داؤ پہ لگا کر ڈنکے کی چوٹ اللہ رب العزت کی توحید کا اعلان کیا تھا اور کسی کی ناراضگی کی کوئی پرواہ نہیں کی؟
اور وہ شخص کسی دباؤ کا شکار کیسے ہو سکتا ہے جس نے انجام کی پرواہ کیے بغیر سپر پاوروں کے حاکموں کو دو ٹوک الفاظ میں لکھ بھیجا تھا کہ «اَسْلِمْ تَسْلَمْ» اسلام قبول کر لو اسی میں تمہاری خیر ہے؟
بھلا کسی ایسے شخص کو تبلیغِ حق سے کیونکر روکا جا سکتا ہے کہ جس کی ڈکشنری میں «لومۃ لائم» کی کوئی جگہ نہیں؟
اور اس شخص کے بارے میں کسی لالچ کا سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ جس کے جانثار دوستوں کی طرف سے ہر قسم کی دنیاوی آفر کے باوجود وہ کہے کہ میرا اس دنیا سے کیا تعلق؟ میں تو دنیا میں ایک مسافر کی طرح ہوں جو تھوڑی دیر کسی درخت کے نیچے بیٹھے اور پھر اسے چھوڑ کر آگے چل پڑے۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…