سموم تیز ہے موج صبا کو عام کرو
خزاں کے رُخ کو پلٹنے کا اہتمام کرو
امت مسلمہ وہ گروہ ہے جس نے اﷲ تعالیٰ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اﷲ تعالیٰ کو الٰہ واحد مانتی ہے۔ اسے معبودِ حقیقی، کارساز، داتا، دستگیر، حاجت روا، مشکل کشا، حاکم و مالک اور خالق سمجھتی ہے۔ اور بطور امتِ مسلمہ یہ ایمان رکھتی ہے کہ اس کے حکم کی بجا آوری، اس کے احکامات کی تعمیل و تکمیل، دنیا بھر میں اس کے نظام کے نفاذ اور غلبہ کے لیے (چاہے عوام ہوں یا حاکم) تمام کوششیں بروئے کار لائیں گے۔ دنیا کو ظلم و ستم سے بچانا، ان کو شرک و کفر اور باطل رسومات و بدعات سے نکالنا بھی اس کا بنیادی فریضہ قرار پایا۔ قیامِ نظامِ عدل و انصاف، قیام امن و سلامتی اور کلمہ توحید کے سائے تلے جمع ہو نے والوں کو ظلمات، پریشانیوں اور مشکلات سے نکالنا اور فراخی مہیا کرنا بھی اس کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری قرار پائی ہے۔
اسی طرح لوگوں کے جان و مال، عزت و آبرو کو محفوظ کرنا، تمام تعصبات، امیر و غریب، حاکم و محکوم، کالے اور گورے کی تفریق کو ختم کرنا بھی اس پر فرض قرار پایا۔ شرکیہ اور کفریہ تفکرات کی بیخ کنی اور اہلِ اسلام کی کردارسازی پر بالخصوص توجہ اور تربیت سے آشنائی دینا بھی اس کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ہے۔
تقویٰ کے نظام کو متعارف کرانا اور انسانیت کی اصلاح اس امت کے فرائض میں سے ہے۔ ان ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا کرنے سے اﷲ تعالیٰ کا منشاء صرف یہ ہے کہ اسلام کو دنیا بھر میں غلبہ حاصل ہو جائے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت پھیلائو اور اسے خوف اور طمع سے پکارو، بے شک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔‘‘
لیکن حقیقت یہ ہے کہ بطور امت ہم غلبہ اسلام کے لیے اپنی ان اصلاحی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر رہے۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ پر ذلت، محکومی، پستی اور غلامی اس پر سائے کی طرح مسلط کر دی گئی ہے اور یہ حالت تبدیل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔
امت مرحومہ اپنی ذمہ داریوں سے بغاوت اور پہلو تہی کر رہی ہے۔ غلبہ اسلام کی طرف کوئی قدم ہی نہیں بڑھ رہا۔ نتیجہ دیکھ لیں! آج دنیا ہمارا تماشا دیکھ رہی ہے۔ یاد رہے کہ یہ تماشا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حقائق کا سامنا کرتے ہوئے ہم اپنی اصلاح و فلاح کی طرف از خود قدم نہیں بڑھاتے۔ رسول اﷲﷺکی عالمگیر دعوتِ توحید و سنت کو لے کر خود ساختہ سیاسی نظاموں، باطل فرقوں اور ان کی چیرہ دستیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عملی میدان میں نکل نہ کھڑے ہوں۔ ؎
نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
اﷲ تعالیٰ کا دستور یہ ہے کہ وہ انبیاء و رسل کے ذریعے امتوں کی اصلاح فرماتا ہے، تاکہ ان کے سامنے ذمہ داریوں سے آگاہی، پیغام و دعوت پہنچانے کا طریقہ کار، نیز اس کے نتیجے میں پیش آمدہ مشکلات و مصائب کی صورت میں ایک واضح نمونہ، رول ماڈل وغیرہ موجود ہوں، تاکہ یہ امت اپنی ذمہ داریوں کو کامل انداز میں پورا کر سکے۔
ان کے مشن و منشور، لائحہ عمل اور پروگرام کی ترسیل میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ اگر یہ امت اﷲ تعالیٰ کے کیے ہوئے عہد و میثاق کو پورا کرتی ہے تو اﷲ تعالیٰ انھیں دنیا میں کامیابی، تخت و تاج، امامت وقیادت اور غلبہ عطا فرماتا ہے، اگر امت مسلمہ اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کرتی ہے، اس کا ادراک نہیں کرتی، اس راستے میں وقت اور مال خرچ کرنے سے اعراض کرتی ہے، اﷲ تعالیٰ اس پر اپنا غضب ڈالتا ہے۔ اسے دنیا کی قیادت و سیادت سے محروم کر دیتا ہے۔ دھتکاری ہوئی اقوام اس پر مسلط کر دیتا ہے۔ بہ طور مثال آپ بنی اسرائیل کا تذکرہ قرآنِ مجید میں پڑھ سکتے ہیں۔ ان واقعات میں گہرا سبق اور ہماری ہدایت کا مکمل سامان موجود ہے۔
آئیے سطورِ ذیل میں رسول اﷲﷺ کا ایک خط پڑھتے ہیں جو مسلم حکمرانوں اور زعمائے ملت کو ان کی ذمے داریوں اور فرائضِ منصبی سے سبکدوش ہونے کی دعوت دیتا ہے۔
رسول اﷲﷺ کا منذر بن ساویٰ کے نام مکتوب:
منذر بن ساویٰ بحرین کا حاکم تھا۔ رسول اﷲﷺ نے اس کو بھی دعوتِ اسلام دی اور اس کے نام مکتوب گرامی ارسال فرمایا۔ جس کے پہنچانے کا شرف سیدناعلاء بن الحضرمی رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا۔ مکتوبِ گرامی کے جواب میں منذر نے خدمتِ عالی میں عریضہ لکھا کہ:
’’یا رسول اﷲﷺ! میں نے آپ کا مکتوبِ گرامی پڑھا اور بحرین کے لوگوں کو سنایا۔ ان میں سے بعض نے اسلام کو پسند کیا اور اسلام میں داخل ہوگئے اور بعض نے بُرا مانا۔ میری سر زمین میں مجوسی بھی ہیں اور یہودی بھی ہیں، ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟‘‘
اس کے جواب میں نبی کریمﷺنے تحریر فرمایا:
’’یہ خط محمد (ﷺ) کی جانب سے جو اﷲ کے پیغمبر ہیں، منذر بن ساویٰ کے نام
تجھ پر اللہ کی سلامتی ہو، میں اس اﷲ کی حمد کرتا ہوں جو یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور میں اﷲ کی یکتائی اور محمد (ﷺ) کی رسالت کی گواہی دیتا ہوں۔ بعد حمد و صلاۃ! میں تم کو اﷲ تعالیٰ کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو شخص نصیحت قبول کرے گا وہ اپنے ہی حق میں خیر خواہی کرے گا اور جو شخص میرے قاصدوں کی فرماں برداری کرے گا وہ میرا فرماں بردار ہوگا۔ میرے قاصدوں نے تمھاری تعریف کی ہے، میں تمھاری قوم کے بارے میں تمھاری سفارش کرتا ہوں۔ مسلمانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو، جب تک وہ اسلام کے فرماں بردار رہیں۔ میں نے خطا کاروں کو معاف کر دیا، تم بھی ان کی طرف سے معذرت قبول کر لو اور تم جب تک صالح اعمال کرتے رہو گے ہم تمھیں معزول نہیں کریں گے۔ جو شخص یہودیت اور مجوسیت پر قائم رہے اس پر جزیہ ہے۔‘‘
رستم ایرانی فوج کا سپہ سالار تھا۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا ربعی بن عامرtکو اپنا سفیر بنا کر بھیجا۔ سفیرِ اسلام رستم کے پاس پہنچے۔ آپ کا نقشہ کسی نے یوں کھینچا:
’’دربار فرش فروش سے آراستہ تھا۔ رستم یاقوت اور بیش بہا موتی زیب تن کیے، بیش قیمت لباس پہنے، سر پر تاج رکھے، سونے کے تخت پر بیٹھا تھا۔ سیدناربعیt پھٹے پرانے لباس میں پہنچے، مختصر سی ڈھال، چھوٹا سا جھنڈا، یہ ان کی حیثیت تھی، وہ گھوڑے پر سوار فرش کو روندتے ہوئے بڑھتے چلے گئے اور پھر گھوڑے سے اترے، قیمتی گاؤ تکیہ سے گھوڑے کو باندھ دیا اور رستم کے پاس جانے لگے۔ آلاتِ حرب سے مزین، سر پر خود اور جسم پر زرہ تھی۔ لوگ بولے جنگی لباس تو اتار دو۔ کہنے لگے: میں خود سے نہیں آیا ہوں، مجھے بلایا گیا ہے، اگر تم کو منظور نہیں تو ابھی واپس جاتا ہوں۔ رستم نے کہا: آنے دو۔ وہ اسی فرش پر نیزہ ٹیکتے ہوئے بڑھے۔ نیزے کی نوک نے فرش کو جابجا کاٹ دیا۔ رستم نے پوچھا: تمھارا کیا مقصد ہے؟ بولے: ہمیں اﷲ نے اس لیے بھیجا ہے کہ جس کی مرضی ہو اس کو بندوں کی بندگی سے نجات دلا کر اﷲ کی بندگی میں داخل کر دیں اور دنیا کی تنگیوں سے نکال کر آخرت کی وسعتوں میں پہنچا دیں اور ادیان و مذاہب کی زیادتیوں سے چھٹکارا دلا کر اسلام کے عدل کے سائے تلے لے آئیں۔‘‘
تاریخ اسلام سے ایک چھوٹا سا واقعہ ہے، مگر مسلمان حکمرانوں کو ان کی ذمہ داریوں اور اسلوبِ دعوت سے آگہی کے لیے کافی ہے۔ کیا ہمارے حاکم آج ایسا کر رہے ہیں۔ کبھی کسی صدر یا وزیر اعظم نے کسی غیر مسلم ملک کے وزیر اعظم کو اسلام کی دعوت دی ہے۔ جن دشمن اسلامی ممالک میں کلمہ گو مسلمان کو غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ افسوس مسلم ممالک نے سوائے زبانی کلامی قرار دادوں کے اس کا مستقل حل نکالنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال ہی نہیں کیا۔
میرے مسلمان بھائیو! یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ مسلمان اس دنیا میں اﷲ تعالیٰ کا خلیفہ ہے۔ اسے بے حمیتی اور خوف کی زندگی بسر نہیں کرنی، نہ ہی یہود و نصاریٰ اور ہنود کی خوشامد اور چاکری اس کا اعزاز ہے اور یہ کہ وہ ان خود ساختہ اور جھوٹے نظاموں اور جھوٹے تخت و تاج کو سیلوٹ کرنے اور ان کے اقتدار و غلبہ کو تسلیم و رضا سے قبول کرنے آیا ہے۔ اہلِ ایمان غیرت مند ہوتے ہیں اور وہ غیرت و حمیت سے زندہ رہتے ہیں، کیوںکہ مسلمانوں کا ایمان و یقین فطری طور پر اسے شجاع و بہادر بناتا ہے۔ غیر مسلم کی تہذیب و ثقافت، ان کے رسوم و رواج، ان کا نظامِ حکومت چاہے جس قدر پرکشش ہو، اس پر اثر انداز ہو ہی نہیں سکتا۔
جہاد فی سبیل اﷲ ایک ایسا دعوتی مشن ہے جس میں امت مسلمہ کی بیداری اور شان و شوکت کا پروگرام مضمر ہے، جہاد فی سبیل اﷲ امت مسلمہ پر فرض ہے۔ خونِ مسلم کی ضیا پاشیوں سے غیر ملکی تسلط سے آزادی ملتی ہے، کفر کے اندھیرے چھٹتے ہیں، اغیار کا ظلم و ستم ختم ہوتا ہے اور ملک و ملت کی حفاظت ہوتی ہے۔ 57 اسلامی ممالک کو ملا کر جہاد فی سبیل کا احیاء کرنا چاہیے، ورنہ جگہ جگہ مغربی تسلط سے ان کا اقتدار دم توڑ جائے گا۔ یہ اﷲ تعالیٰ کا حکم ہے:
’’بلاشبہ اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں، جیسے وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہوں۔‘‘
اور اس کے ساتھ انھیں طاقت کے حصول اور جہاد کے لیے ابھارا جائے گا۔
’’اے نبی! ایمان والوں کو لڑائی پر ابھار۔‘‘
’’بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں، اس کے بدلے کہ یقینا ان کے لیے جنت ہے، وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں، یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں اس کے ذمے پکا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ اپنا وعدہ پورا کرنے والا کون ہے؟ تو اپنے اس سودے پر خوب خوش ہو جائو جو تم نے اس سے کیا ہے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘
خلیفۃ الرسول سیدنا ابو بکر صدیقtکا مسلمانانِ یمن کے نام مکتوب:
خلیفۃ الرسولﷺکی طرف سے یمن کے ان تمام مومنوں اور مسلمانوں کے نام جن کے سامنے یہ خط پڑھا جائے
’’میں تمھارے سامنے اس اﷲ کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اما بعد! اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں پر جہاد کو فرض فرمایا اور انھیں ہر حال میں نکلنے کا حکم دیا، چاہے ہلکے ہوں یا بھاری۔ اپنے راستے میں مال و جان لے کر جہاد کرنے کا حکم دیا۔ جہاد اﷲ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ ایک زبردست فریضہ ہے، جس کا ثواب اﷲ کے ہاں بہت زیادہ ہے۔ ہم نے مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ ملکِ شام میں جا کر رومیوں سے جہاد کریں۔ وہ اس کے لیے فوراً تیار ہوگئے اور اس میں ان کی نیت بہت اچھی ہے (کہ وہ اﷲ کو راضی کرنے کے لیے جا رہے ہیں) لہٰذا تم بھی (اس سفرِ جہاد کی) تیاری جلدی سے کر لو، لیکن اس سفر میں آپ لوگوں کی نیت ٹھیک ہونی چاہیے۔ تمھیں دو خوبیوں میں سے ایک خوبی تو ضرور ملے گی۔ شہادت یا فتح اور مال غنیمت۔۔۔ کیوںکہ اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں سے اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ وہ صرف باتیں کریں اور عمل نہ کریں۔ اﷲ کے دشمنوں سے جہاد کیا جاتا رہے گا۔ و ہ اپنے دین کی حفاظت فرمائے گا۔ میری دعا ہے کہ اﷲ تمھارے دلوں کو ہدایت عطا فرمائے اور تمھارے اعمال کو پاکیزہ فرمائے اور تمھیں جم کر مقابلہ کرنے والے مہاجرین کا ثواب عطا فرمائے۔‘‘ (حیاۃ الصحابہ: ۱/ ۴۷۵)
تاریخ امم میں ہم آخری امت ہیں، جن کے نبی حضرت محمدﷺآخری نبی اور رسول ہیں۔ اس لیے انسانیت کو ہدایت اور صراطِ مستقیم پر گامزن رکھنے کے لیے ان پر کچھ اہم ذمہ داریاں فرض قرار دی گئی ہیں، جب ہم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے منظم انداز میں سعی کریں گے تو اﷲ تعالیٰ اس امت کا کھویا ہوا وقار دوبارہ لوٹا دے گا اور پہلے کی طرح اسے سرفرازی اور غلبہ عطا فرمائے گا۔ اﷲ تعالیٰ کا یہ وعدہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
’’اور نہ کمزور بنو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب ہو، اگر تم مومن ہو۔‘‘
’’اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں اور اگر وہ تمہارا ساتھ چھوڑ دے تو وہ کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے گا اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔ ‘‘
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! صبر کرو اور مقابلے میں جمے رہو اور مورچوں میں ڈٹے رہو اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم کامیاب ہو جائو۔‘‘
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم کسی گروہ کے مقابل ہو تو جمے رہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو، تاکہ تم فلاح پائو۔ اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں مت جھگڑو، ورنہ بزدل ہو جائو گے اور تمھاری ہوا چلی جائے گی اور صبر کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
’’اور ان کے (مقابلے کے) لیے قوت سے اور گھوڑے باندھنے سے تیاری کرو، جتنی کر سکو، جس کے ساتھ تم اللہ کے دشمن کو اور اپنے دشمن کو اور ان کے علاوہ کچھ دوسروں کو ڈرائو گے، جنھیں تم نہیں جانتے، اللہ انھیں جانتا ہے اور تم جو چیز بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے وہ تمہاری طرف پوری لوٹائی جائے گی اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘
’’وہ جو تمھارے بارے میں انتظار کرتے ہیں، پھر اگر تمھارے لیے اللہ کی طرف سے کوئی فتح ہو جائے تو کہتے ہیں کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے اور اگر کافروں کو کوئی حصہ مل جائے تو کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں ہوگئے تھے اور ہم نے تمھیں ایمان والوں سے نہیں بچایا تھا۔ پس اللہ تمھارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا اور اللہ کافروں کے لیے مومنوں پر ہر گز کوئی راستہ نہیں بنائے گا۔‘‘
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمھاری مدد کرے گا اور تمھارے قدم جما دے گا۔‘‘
’’پس تم بودے ہوکر صلح کی درخواست پر نہ اُتر آؤ جبکہ تم ہی سب سے اونچے ہو اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہر گز تم سے تمہارے اعمال کم نہ کرے گا۔‘‘
’’اللہ نے لکھ دیا ہے کہ ضرور بالضرور میں غالب رہوں گا اور میرے رسول، یقینا اللہ بڑی قوت والا، سب پر غالب ہے۔‘‘
’’وہ لوگ کہ اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور اچھے کام کا حکم دیں گے اور برے کام سے روکیں گے، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضہ میں ہے۔‘‘
’’وہ جنھیں ان کے گھروں سے کسی حق کے بغیر نکالا گیا، صرف اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے۔ اور اگر اللہ کا لوگوں کو ان کے بعض کو بعض کے ذریعے ہٹانا نہ ہوتا تو ضرور ڈھا دیے جاتے (راہبوں کے) جھونپڑے اور (عیسائیوں کے) گرجے اور (یہودیوںکے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں، جن میں اللہ کا ذکر بہت زیادہ کیا جاتا ہے اور یقینا اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرے گا، بے شک اللہ یقینا بہت قوت والا، سب پر غالب ہے۔‘‘
’’وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے، اگرچہ مشرک لوگ ناپسند کریں۔‘‘
ان آیاتِ مقدسہ میں اﷲ تعالیٰ نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ امت مسلمہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ توحید کے دشمنوں، اسلام کے مخالفین اور باطل پرستوں کو مات دیں اور ان پر غلبہ حاصل کر لیں۔ اس غلبے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں عدل و انصاف کا نظام ہو، باطل پرستوں کی چیرہ دستیوں اور غلامی سے بنی نوعِ انسانیت کو آزادی ملے، معاشرے میں امن پھیلے، خوشحالی اور ترقی کو نئی راہیں ملیں۔
ملت اسلامی کے غالب نہ آنے سے دنیا کا نظام غیر متوازن رہے گا۔ سود عام ہوگا، فحاشی و عریانی کو فروغ ملے گا، شرک جیسا ظلم عظیم، بدعات اور تارکِ سنت کے مظاہر عام ہوں گے۔ استحصالی نظام کو پذیرائی ملے گی، ہر جگہ شرکیہ و کفریہ رسومات کی ترویج نظر آئے گی۔ ایک مالک حقیقی کے آگے گردن جھکانے کے بجائے زندہ انسانوں اور مردہ لوگوں کی قبور پر گردنیں جھکیں گی۔
سیاسی لوگ اور وڈیرے نچلے درجے کے لوگوں کا معاشی، اقتصادی اور سیاسی استحصال کریں گے۔ سودی نظام کے شکنجے میں لوگ کَسے جائیں گے باوجود کوشش کے نکل نہیں سکیں گے۔ اس چیز کا مشاہدہ آپ مختلف ممالک کے مالیاتی نظام سے لگا لیں۔
مہنگانی نے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ پاکستان کروڑوں ڈالر کی رقم صرف سود کی مد میں ادا کرتا ہے۔ ورلڈ بینک اور امریکہ کا مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف اس سے پھر بھی راضی نہیں، وہ سود بڑھاتا جا رہا ہے۔ آئے روز اس پر شکنجہ مزید کسا جا رہا ہے۔ سود جیسے حرام ترین کاروبار میں بڑے بڑے ’’متقیوں‘‘ کو ملوث دیکھا ہے۔ اسٹیٹ لائف انشورنس، بیمہ کمپنیاں اور تکافل جیسے ادارے سودی نظام کا باقاعدہ حصہ ہیں۔ کم آمدنی والے لوگ ان کے جھانسے میں آکر اپنے ایمان کو داؤ پر لگا بیٹھتے ہیں۔ ان کمپنیوںکی پشت پر مسلک پرستوں کے نامی گرامی علمائے کرام کے فتاویٰ ہیں۔ ’’تکافل‘‘ کے نام پر جو ادارے وجود میں آئے ہیں، ملک کے ممتاز ترین علمائے کرام کی سرپرستی انھیں حاصل ہے۔ مذہبی لوگ ان کا نام سن کر اس کے ممبر بن رہے ہیں۔
دوسری طرف مہنگائی کی وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت ہے، جب کسی فیکٹری سے اس کی پروڈکٹ مارکیٹ میں آجاتی ہے وہ اس میں سود کی رقم کو بھی شامل کر دیتا ہے جو اس نے فیکٹری یا کارخانے کو چلانے کے لیے کسی سودی ادارے (بینک وغیرہ) سے لی ہوتی ہے۔ اس وقت مارکیٹ میں آٹا ڈیڑھ سے دو سو روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔
مہنگائی کی بدترین شرح کا ہمیں سامنا ہے۔ امت مسلمہ ان تمام بحرانوں اور مسائل سے تب ہی نکل سکتی ہے جب وہ اپنی اصلاح کی ذمہ داری کو پورا کرے گی۔ پوری مخلوق کو اﷲ کے در پر اور اس کے قائم کردہ نظام کے سائے تلے آنا پڑے گا۔ ورنہ: ع
تمهاری داستاں تک نہ ہوں گی داستانوں میں
اس سلسلے میں صحیح فکر رکھنے والے علمائے کرام اور ماہرینِ دین کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’یہ (اولیاء اﷲ) رسول اﷲﷺ کے نائب بن کے مخلوق کو اﷲ کا حکم دیتے اور اﷲ تعالیٰ کی منہیات سے روکتے ہیں۔ درحقیقت یہی رسول اﷲﷺ کے وارث ہیں، ان کا کام مخلوق کو حق تعالیٰ کے در پر لانا ہے۔‘‘
قرآنِ مجید نے تمام اہلِ ایمان سے خطاب فرما کر اس امر کی مکمل وضاحت فرما دی کہ اسلام کو بہ طور دین کے پسند فرمایا ہے۔ رسول اﷲﷺ اﷲ تعالیٰ کے اس پیغام کو لے کر دنیا میں مبعوث ہوئے۔ اسی دین کے نفاذ کے لیے 23 سالہ نبوت کی زندگی میں حتی الوسع کوشش فرمائی۔ آپ ﷺکی دعوت بے لاگ تھی۔ مشرکینِ مکہ نے آپﷺ کو اقتدار کی پیشکش کی۔ طرح طرح کے لالچ دیے۔ آپﷺ نے اپنے عمل اور سیرت سے ثابت کیا کہ کفار کے ساتھ مصالحتی بنیادوں پر کوئی مشترک نظام قائم کرنا اور اسے چلانا ناممکن ہے۔ مشرکینِ مکہ کا یہ سلوگن تھا: ’’اپنا عقیدہ چھوڑو نہیں اور دوسرے کو چھیڑو نہیں۔‘‘ اسی بنیاد پر انھوں نے آپﷺ سے مصالحت و مفاہمت کی کوشش کی، لیکن آپﷺنے ایسی ’’وسیع البنیاد‘‘ حکومت کی تشکیل و قیام کو قرآنِ مجید کے حکم کی روشنی میں رد فرما دیا:
’’کہہ دے اے کافرو! میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ اور نہ میں اس کی عبادت کرنے والا ہوں جس کی عبادت تم نے کی۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔ تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین ہے۔‘‘
رسول اﷲﷺ ہجرت کے بعد مدینہ تشریف لائے، میثاقِ مدینہ ہوا تو اس میں آپﷺ کی حیثیت حَکَم کی سی تھی، وہاں کوئی ایسی وسیع البنیاد حکومت قائم نہیں کی گئی جس میں مخالفین اور باطل طبقات کو شامل کیا گیا ہو۔ بعض الناس کا یہ دعویٰ بالکل جھوٹا ہے کہ اسلام ایسا دین ہے جس میں کفر کو بھی ساتھ ملانے میں کوئی حرج نہیں، اسلام ہرگز ہرگز ایسا مصالحت پسند دین نہیں، بلکہ ایسا دعویٰ کرنے والے رسول اﷲﷺ کی نبوت اور دعوت کے واضح منکر ہیں۔ قرآنِ مجید کی یہ آیت ایسے اذہان کی نفی کرتی ہے۔ ارشاد فرمایا:
’’وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے، اگرچہ مشرک لوگ ناپسند کریں۔‘‘
اگر امتِ مسلمہ اپنی مفوضہ ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہوگی تو پھر اس کا انجام انتہائی بھیانک ہوگا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمھیں کیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے اللہ کے راستے میں نکلو تو تم زمین کی طرف نہایت بوجھل ہوجاتے ہو؟ کیا تم آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے ہو؟ تو دنیا کی زندگی کا سامان آخرت کے مقابلے میں نہیں ہے مگر بہت تھوڑا۔ اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تمھیں دردناک عذاب دے گا اور بدل کر تمھارے علاوہ اور لوگ لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نقصان نہ کرو گے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔‘‘
امت مسلمہ بجائے دین اﷲ کے قیام کے، عیش و عشرت کو ترجیح دے اور دنیاوی مال و متاع ہی کو مطمح نظر ٹھہرا لے گی تو اﷲ تعالیٰ اس سے قیادت و سیادت کا منصب چھین لے گا اور انھیں سخت سے سخت سزا دے گا۔
آج امت مسلمہ کی اکثریت رواجی اور روایتی دین کی پیروکار ہے۔ بجائے کتاب و سنت سے رہنمائی لینے کے، مولویوں اور پیروں کے رحم و کرم پر ہے۔ یا پھر خواہشاتِ نفسانی کو دین بنا لیا گیا ہے۔ یہ نفس کے پجاری اور خواہشات کے اسیر قرآن و سنت کی تعلیمات سے کوسوں دور زندگی گزار رہے ہیں۔ اس لیے تو جگہ جگہ ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں ان کو مار پڑ رہی ہے، ان کے ملکوں اور مفتوحہ علاقوں پر کفار کی یلغاریں ہیں، لیکن عیش و طُرب کی زندگی کو نیکی و تقویٰ سے بدلنے کی پھر بھی کوشش نہیں ہو رہی۔ جس طرح بنی اسرائیل نے اپنی دینی ذمہ داریوں سے پہلو تہی اختیار کی، اﷲ تعالیٰ کے منشاء و مرضی کو مقصودِ حیات نہ بنایا تو اﷲ تعالیٰ اس پر سخت ناراض ہوا۔ غیروں کی غلامی اور ذلت کی زندگی ان کا مقدر بن گئی۔ فرمایا:
’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ہمیشہ اس حال میں رہیں گے کہ انھیں اس کی وجہ سے جو انھوں نے کیا، کوئی نہ کوئی سخت مصیبت پہنچتی رہے گی، یا ان کے گھر کے قریب اترتی رہے گی، یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آجائے۔ بے شک اللہ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
یاد رکھیں: عذابِ الٰہی سے قومیں اس وقت دوچار ہوتی ہیں جب ان میں مصلحانہ کردار بالکل ختم ہو جائے۔ اس لیے فرمایا:
’’اور تیرا رب ایسا نہ تھا کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کر دے، اس حال میں کہ اس کے رہنے والے اصلاح کرنے والے ہوں۔‘‘
سورۃ المائدہ میں فرمایا:
’’انھیں رب والے لوگ اور علماء ان کے جھوٹ کہنے اور ان کے حرام کھانے سے کیوں نہیں روکتے؟ یقینا برا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘
مزید فرمایا:
’’وہ ایک دوسرے کو کسی برائی سے، جو انھوں نے کی ہوتی، روکتے نہ تھے، بے شک برا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘
درج بالا ان دونوں آیات میں علمائے کرام، راہبروں اور عامۃ الناس کو اپنی اپنی استطاعت اور قوت کے مطابق دینی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند کیا جا رہا ہے۔
سابقہ اقوام کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اگر دورِ حاضر کے مسلم ممالک کے دینی، سیاسی اور معاشی حالات پر نظر ڈالیں تو جگہ جگہ شرک کے نظام کا تسلط نظر آئے گا۔ مغربی جمہوریت لوگوں پر مسلط کی گئی ہے یعنی لوگوں پر لوگوں کا بنایا ہوا قانون نافذ کیا گیا ہے۔ دین دار لوگوں کو بھی بادشاہوں اور ڈکٹیڑوں کے سامنے اپنی گردنیں جھکانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ پورے ملک کا نظام کتاب و سنت سے ہٹ کر بلکہ خود ساختہ جمہوری ڈھانچوں پر قائم ہے۔ بادشاہ اور حاکم اپنی من مرضی کے فیصلے صادر کرتے ہیں۔ اﷲ کے احکامات اور فیصلوں کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ اگر بعض سلیم القلب لوگ اس نظامِ باطل کے خلاف کلمہ حق بلند کرتے ہیں تو ان کو طرح طرح کی اذیتیں دے کر قتل کر دیا جاتا ہے۔ کئی ممالک کی مثالیں آپ کے سامنے ہے، جن لوگوں نے تبدیلی نظام کی جوت لگائی ان کو چن چن کر پھانسی دے دی گئی۔ اسی طرح بنگلہ دیش میںپچاس سال پرانے مقدمات کا سہارا لے کر ۸۰، ۸۰ سال کے اسلام پسند بزرگ رہنماؤں کو شہید کر دیا گیا۔ باقی امت مسلمہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ وجہ یہ ہے کہ سب مغرب کے غلام اور مفادات کے اسیر بن چکے۔ قرآن و سنت کے نفاذ کے مسئلہ سے امریکہ اور یورپ خائف ہے۔ وہ ہر صورت صہیونی ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے عیش پرست، مفاد پرست، سود خور اور کرپٹ مافیا کو اسلامی ممالک کی سربراہی دینے میں پوری پوری مدد فراہم کرے۔ تاکہ ان ممالک میں مغربی تہذیب و ثقافت اور مادر پدر آزاد معاشرہ قائم کرنے میں آسانی ہو، جن ممالک کو مختلف قسم کے بحرانوں کا سامنا ہے، آپ اس میں امریکہ کی دلچسپی ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ ایسے میں اﷲ کی مدد و نصرت کہاں سے آئے گی؟
اسلامی ممالک اپنے ذاتی مفادات اور خواہشات کی دنیا سے نکل کر اﷲ اور اس کے رسولﷺ کی حاکمیت کو ملک و ملت میں نافذ کر دیں اور اسلامی بلاک بنا کر اﷲ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کے مستحق بن سکتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کا وعدہ ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمھاری مدد کرے گا اور تمھارے قدم جما دے گا۔‘‘
امت مسلمہ کو اپنے غلبے کے لیے صالح اعمال کی طرف توجہ دینی چاہیے اور ایسے امور جو امت مسلمہ کے اجتماعی مفاد میں نقصان کا باعث بنتے ہیں، انھیں ترک کر دیں اور اختیار کرنے سے باز رہیں، توحید و سنتِ رسولﷺ، اسلامی نظام، جہاد فی سبیل اﷲاور تقویٰ ایسے امور ہیں جو اس کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ غیر اسلامی نظام، شرک، طاغوت کی بندگی، فرقہ پرستی، بدعات، مایوسی، خود غرضی، فحاشی و عریانی وغیرہ ایسے امور امت مسلمہ کے غلبہ کو نقصان بلکہ اس کے شیرازہ کو بکھیرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اس سلسلے میں مسجد اور منبر کا مثبت کردار انتہائی اہم ہے۔
اﷲ تعالیٰ نے رجوع کرنے اور اس سے مغفرت طلب کرنے والے سے خیر و بھلائی کے وعدے کر رکھے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں بھی اس کا مصداق بنا دے۔ ارشاد ہوتا ہے:
’’اللہ تمھیں عذاب دے کر کیا کرےگا، اگر تم شکر کرو اور ایمان لے آئو۔ اور اللہ ہمیشہ سے قدر کرنے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘
اصل شکر گزاری یہ ہے کہ اپنی ذات، گھر اور اس زمین پر توحید و سنت کے نظام کے قیام اور غلبہ کی بھرپور سعی و کوششیں کی جائیں۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…