عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ : عنقریب کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو تمہارے ساتھ قرآن کی متشابہہ آیات کی بنیاد پر بحث کریں گے۔ تم ان پر سنن کے ذریعے سے گرفت کرنا ، کیونکہ سنن کو جاننے والے اللہ کی کتاب کا زیادہ علم رکھتے ہیں ۔(سنن الدارمی، المقدمة) ہر دور میں ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو ابتغاء الفتنة کی عملی تصویر پیش کرتے ہیں۔ اور عوام الناس کے درمیان اپنے دجل سے قرآن و سنت کے متعلق شبہات پیدا کرنے کی ناکام کوششیں کرتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ حدیث میں موجود ہے کہ «مَا أَنْزَلَ اللهُ دَاء إِلا أنزل لَهُ دَوَاء» ’’ اللہ نے جو بیماری اتاری ہے تو اس کی شفا بھی اتاری ہے ۔‘‘ (رواہ البخاری) پس یقینا ایسے بیمار لوگوں کی دوا ہر دور میں اهل السنۃ والجماعۃ کی شکل میں موجودرہی ہے۔ جب جب ان لوگوں نے فتنوں کو ہوا دینے کی کوشش کی تب تب اهل السنۃ والجماعۃ کے افراد نے ناصرف ان کا قلع قمع کیا بلکہ قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ ان کے برپا فتنوں کا بھی سر کچل کر رکھ دیا۔ انہیں فتنوں میں سے قرآن کے متعلق دو گروہوں جہمیہ اور زنادقہ نے بھی اس امت کے اندر زہر قاتل گھولنے کی ناکام کوشش کی ۔ لیکن امام اهل السنۃ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ان کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر نمودار ہوئے اور ان کے تمام شبہات کا قرآن و سنت سے ایسا رد کیا کہ کبھی ان کو دوبارہ اهل السنۃ والجماعۃ میں فتنۃ برپا کرنے کا موقع تک ناملا۔ یہ کتاب اسی موضوع پر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے لکھی اور اس میں ان دونوں گروہوں کے شبہات کا تسلي بخش رد کیا ۔ یہ کتاب اصلا عربی زبان میں ہے ، لیکن اس موضوع کی اہمیت و افادیت کو جانتے ہوئے راقم نے اس کتاب کو اردو میں ڈھالنے کی ایک عظیم ذمہ داری اس وقت اپنے سر لی جب راقم مسجد نبوی ﷺ میں امام و خطیب شیخ عبدالمحسن القاسم حفظہ اللہ سے اس کتاب کا اجازہ لے رہا تھا، 2019 میں اس کتاب کا ترجمہ راقم نے شروع کیا اور کچھ ہی عرصہ میں اس کا ترجمہ مکمل کر لیا۔ الحمد للہ ترجمہ میں کوشش کی گئی ہے کہ سلیس اور آسان الفاظ کا چناؤ کیا جائے ۔ لیکن چونکہ کمال تو صرف اللہ رب العزت کی ذات کے لائق ہے۔ اس لیے اگر کہیں غلطی دیکھے تو ضرور آگاہ کیجیے تاکہ اس کی درستگی کی جاسکے ۔ اللہ تعالی میرے اس عمل کو قبول فرما لے اور میرے والدین اور تمام اساتذہ کے لیے صدقہ جاریہ بنا دے۔
أخوكم في الله: ابو تیمیہ مجتبٰی عالم بن محمد عارف (متخرج معھد اھل الحدیث والأثر بمصر)
تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہر دور میں رسول بھیجے اور ان میں وقفہ کے درمیان علماء کو ان کا وارث بنا دیا۔ اہل علم ان لوگوں کو ہدایت کی طرف بلاتے ہیں جو گمراہ ہو ئے۔اور ان کی طرف سے ملنے والی ہر تکلیف پر صبر کر تے ہیں۔ وہ اللہ کی کتاب سے گمراہوں کو سیدھے راستے پر لاتے ہیں۔ اور اللہ کے نور یعنی اس کےعلم سے اندھوں کو روشنی دیتے ہیں۔ پس کتنے ہی لوگوں کو را ہ راست پر لائے جن کو ابلیس نے سیدھے راہ سے ہٹا دیا تھا اور کتنے ہی مفرور گمراہوں کی انہوں نے راہنمائی کی ۔پس ان (علماء ) کا لوگوں کے ساتھ کتنا اچھا بر تاؤ ہے اور اس کے برعکس لو گو ں کا ان کے ساتھ کتنا افسوسناک بر تاؤ ہے۔
یہ علماء اللہ کی کتاب کے بارے ہر حد سے بڑھنے والے لوگوں کی تحریفات کو ختم کر تے ہیں۔ اور باطل گروہوں کی غلط بیانی کو مٹا دیتے ہیں۔ اور جاہلوں کی باطل تأ ویلاوت کا رد کر تے ہیں۔ اور وہ لوگ تو حد سے بڑھنے والے باطل اور جہلاء ہیں جنہوں نے بد عات کو لازم کر لیا اور فتنوں کو ترویج دی۔ ان بدعتیوں اور جاہلوں نے کتاب اللہ میں اختلاف کیا اور وہ اللہ کی کتاب کی مخالفت کر نے والے ہیں۔ اور قرآن کے احکامات کو ترک کرنے میں سب اکھٹے ہیں۔ اور وہ بغیر علم کے اللہ پر ، اللہ کے متعلق اور اللہ کی کتاب کے بارے میں باتیں کرتے ہیں۔ وہ قرآن کی متشابہات آیات سے بات کرتے ہیں۔ اور عوام الناس کو ان مسائل کے بارے میں دھوکہ دیتے ہیں جو ان کو شبہہ دیتے ہیں۔ پس ہم اللہ سے ان تمام گمراہ لوگوں کے فتنوں سے پناہ چاہتے ہیں۔
زنادقہ زندیق کی جمع ہے فیروز آبادی ؒ «قاموس» میں کہتے ہیں : الزندیق زاء کی کسرہ کے ساتھ دو معبودوں کو ماننے والا یا ظلمت اور نور کے قائل یا جو آخرت اور ربوبیت کا عقیدہ نہیں رکھتا۔ یا جو بظاہر مومن بنے اور دل میں کفر رکھے اور یہ زن دین کا معرب ہے جس کا معنی ہے «عورت کا دین»۔
اور ملا علی قاری مرقات میں ، جیسے کہ مشکوۃ (2/207) میں بھی ذکر ہے ، حدیث عکرمہ «سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس زندیق لائے گئے آپ نے ان کو جلا دیا « (الحدیث) اس کے تحت (ملا علی قاری ) فرماتے ہیں: زندیق وہ ہے جو بقاء دھر کا قائل ہے آخرت اور خالق پر یقین نہیں رکھتا اور کہتا ہے حلال و حرام سب ایک ہیں اور اس کی توبہ کی قبولیت میں دو روایتیں ہیں۔اور راجح یہی ہے کہ امام و قاضی کے پاس اس کی توبہ قبول نہیں۔ باقی رہی عند اللہ اس کی توبہ کی قبولیت تو اللہ کے پاس تو ہر کافر کی توبہ قبول ہوتی ہے بشرطیکہ توبہ میں سچا ہو۔
امام ثعلب رحمہ اللہ کہتے ہیں «زنديق» اور «برزين» یہ عربی کلمے نہیں اور عام لوگوں کے نزدیک اس کا معنی ملحد اور دھری ہے۔
مولانا عبد الحق دہلوی نے حواشی مشکوۃ میں کہا ہے «اصل میں یہ مجوسی کی کتاب زند کے پیروکار تھے اور اس حدیث میں ان سے مراد وہ لوگ تھے جو اسلام سے مرتد ہوگئے تھے یا عبد اللہ بن سباء کے پیروکار تھے جو فتنہ انگیزی اور امت کو گمراہ کرنے کے لئے بظاہر مسلمان بنے پھرتے تھے اور ان کا یہ دعوی تھا کہ علی رب ہیں تو انہیں گرفتار کر کے ان سے توبہ کروائی لیکن انہوں نے توبہ نہ کی پھر گڑھے کھدوا کر اس میں آگ جلائی اور انہیں اس میں پھینک دینے کا حکم دیا یہ ان کا اجتہادی فیصلہ تھا۔ بعد میں جب سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول پہنچا کہ کسی کو جلانے کی سزا دینی جائز نہیں آگ کا عذاب رب ہی دے سکتا ہے تو جلانے کی سزا سے رجوع کرلیا۔»
باب: “ متشابہات قرآن کا بیان جس میں زنادقه گمراہ ہوئے‘‘
شبه رقم (1) :
امام احمد بن حنبل رحمه اللہ نے فر مایا کہ! اللہ عزوجل کے اس فر مان کے بارے کہ: “ جب ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے”(سورۃ النساء ،آیت نمبر56) ۔اس پر زنا دقة نے اعتراض کیا کہ “ ان کی چمڑیوں کے ساتھ ایسا سلوک کیوں ہے کیونکہ جس چمڑی نے نا فرمانی کی تھی وہ تو جل گئی اور پھر اللہ نے اس کی جگہ دوسری چمڑی بدل دی؟ چنانچہ اس عمل سے تو ہمیں یہ معلوم ہو تا ہے کہ ان چمڑیوں کو عذاب دے گا جس نے کبھی گناہ کیا ہی نہیں جو اللہ کے اس فر مان میں ہے کہ “ ہم ان کے علاوہ دوسری چمڑی بدل دیں گے»
پس اس وجہ سے زنادقة نے قرآن کے بارے میں شک کیا اور یہ بدگمانی کی کہ اس میں ٹکراؤ ہے۔
تو میں( احمد بن حنبل) نے )انہیں (کہا کہ!اللہ عزوجل کا یہ فر مان ہے کہ “ہم ان کے علاوہ اور چمڑیاں بدل دیں گے” اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پہلی کے علاوہ کوئی دوسری چمڑی آئے گی۔ بلکہ اس فرمان “ ہم ان کے علاوہ اور چمڑی بدل دیں گے” کا مطلب یہ ہے کہ:اس کو تبدیل کر نا یعنی اسے دوبارہ بنا دینا ہے۔کیونکہ جب ان کی چمڑی سڑ جائے گی تو اللہ اسے دوبارہ بنا دے گا۔(یعنی اس کو دوبارہ ٹھیک کر دے گا) اور یہ اس لئے ہے کہ رب کے کلام میں حکمت ہے جو صرف اہل علم ہی سمجھ سکتے ہیں۔قرآن میں کچھ احکا م خاص ہیں اور کچھ عام ہیں اور بہت سے پہلو اور افکار ہیں جن سےصرف اہل علم واقف ہوتے ہیں۔
شبه رقم (۲) :
اور اللہ عزوجل کا یہ فرمان کہ! “آج کا دن وہ دن ہے کہ یہ بول بھی نہ سکیں گے۔ اور نہ انھیں معذرت کی اجازت دی جائے گی ”(سورۃ المرسلات ،آیت نمبر 35-36)پھر دوسری آیت میں فرما یا کہ!“ تم سب کے سب قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے ” (سورۃ الزمر، آیت نمبر31) اس پر انہوں نے کہا یہ کیسے محکم کلام میں سے ہو سکتا ہے؟ کہ پہلےارشاد فرما یا! “ آج کا دن وہ دن ہے کہ یہ بول بھی نہ سکیں گے ”(سورۃ المرسلات، آیت نمبر35) اور پھر دوسرے مقام پر ارشاد فر مایا کہ ! “ پھر تم سب کے سب قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے”(سورۃ الزمر،آیت نمر 31) اس پر زنادقة نے بدگمانی کی کہ قرآن کا بعض حصہ بعض سے ٹکرا تا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس وجہ سے قرآن میں شک کیا۔
جہاں تک اس ارشاد کی تفسیر ہے کہ : “ آج کا دن وہ ہے کہ یہ بول ھی نہ سکیں گے” تو یہ پہلا مر حلہ ہے جب تمام مخلوقات دوبارہ جی اٹھے گی۔ جسکی مقدار ساٹھ (60) سال ہو گی جس میں وہ بات نہ کر سکیں گے۔ اور نہ ہی کسی معذرت کی انھیں اجازت دی جائے گی۔ پھر اس (مر حلہ) کے بعد انھیں بو لنے کی اجازت مل جائے گی اور وہ باتیں کر یں گے۔ اسی لئے اللہ عزوجل کا یہ فر مان کہ : “کہیں گے ، اے ہمارے رب ! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے تو نیک عمل کر ینگے”(سورۃ السجدۃ، آیت نمبر12)
پس جب انھیں بو لنے کی اجازت ملی تو وہ بات کر نے لگے اور جھگڑ نے لگے ۔ جیسے کہ اللہ کا فر ما ن ہے کہ “پھر بلا شبہ تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے” یعنی حساب و کتاب اور مظالم کا بدلہ دیتے وقت ۔ پھر اس کے بعد ان سے کہا جائے گا کہ: “ تم میرے ساتھ جھگڑا نہ کرو” یعنی میرے پاس۔ “ حالانکہ میں پہلے ہی تمھاری طرف (عذاب کی ) وعید بھیج چکا تھا ”(سورۃ ق ،آیت نمبر 28) پھر اس فر مان کے بعد ان کو عذاب ہو نے والا ہے۔
شبه رقم (۳):
اور اللہ عزوجل کا یہ فر مان کہ: “ اور ایسے لوگوں کو بروزِ قیامت اوندھے منہ جمع کریں گے۔ (اس حال میں) کہ وہ اندھے ، گو نگے اور بہرے ہو نگے” ( بنی اسرائیل ،آیت نمبر97) اور دوسری آیت میں فر مایا کہ: “ اور دوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے” (الاعراف، آیت نمبر50)
تو زنادقة نے اعتراض کیا کہ یہ کیسے محکم کلام میں سے ہو سکتا ہے؟ کہ ایک مقام پر فرمایا کہ“اور ایسے لوگوں کو بروزِ قیامت اوندھے منہ جمع کریں گے۔ (اس حال میں ) کہ وہ اندھے ، گو نگے اور بہرے ہو نگے” اور پھر دوسرے مقام پر فرمایا کہ: وہ ایک دوسر ے کو پکاریں گے۔ پس اس وجہ سے زنادقة نے قرآن میں شک کیا۔
جہاں تک اللہ عزوجل کے اس فر مان: “اور جنت والے دوزخ والوں کا پکاریں گے” (سورۃ الاعراف ،آیت نمبر 44) کا تعلق ہے تو اس کی تفسیر یہ ہے کہ جب پہلےپہل لوگ آگ میں داخل کیے جائینگے تو ایک دوسرے سے بات کر ینگے اور پکاریں گے کہ “ اے مالک! تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے۔ وہ کہیں گا تمھیں تو ہمیشہ رہنا ہے” (سورۃ الزخرف، آیت نمبر77)پھر وہ کہیں گے کہ!“ اے ہمارے رب ہمیں بہت تھوڑے قریب کے وقت تک ہی مہلت دے”(سورۃ ابراہیم، آیت نمبر 44) اور (کہیں گے) کہ : “ اے ہمارے رب ہماری بد بختی ہم پر غالب آگئی”( سورۃمومنون، آیت نمبر106) تو اس وقت تک وہ باتیں کریں گے یہاں تک کہ ان سے کہاں جائے گا کہ: “ دھتکارے ہو ئے یہی پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو” (سورۃ مومنون ،آیت نمبر108)تو پھر وہ اندھے ،گو نگے اور بہرے ہو جا ئینگے۔ اور بات کر نا ختم ہو جائے گا۔ صرف سانس کا آنا جانا ہی باقی ہو گا۔ پس یہ تفسیر (وضاحت) ہے اللہ کے فر مان کی جس میں زنادقة نے شک کیا۔
شبه رقم (4)
اور اس کا یہ فر مان کہ : “ اس دن نہ تو آپس کے رشتے ہی رہیں گے نہ آپس کی پوچھ گچھ ” ( سورۃمومنون ،آیت نمبر101)اوردوسری آیت میں اس نے فر مایا کہ : “ ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے پو چھیں گے” (سورۃالصافات ،آیت نمبر 50)چنا نچہ زنادقة نے یہ اعتراض کیا کہ کیسے یہ (قرآن ) سچا ہو سکتا ہے۔ اور اس وجہ سے انہوں نے قرآن مجید میں شک کیا۔
جہاں تک اللہ عزوجل کا یہ فر مان ہے کہ: “ اس دن نہ تو آپس کے رشتے ہی رہیں گے نہ آپس کی پوچھ گچھ ”تو یہ دوسری مر تبہ صور پھو نکنے کا وقت ہے۔ جب قبروں سے (مردے) کھڑے ہو نگے تو نہ وہ آپس میں پوچھ گچھ کریں گے اور نہ وہ اس وقت کو ئی بات کرینگے۔ پس جب ان کا حساب ہو جائے گا اور جنت اور دوزخ میں داخل ہو جائینگے تو پھر ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے پو چھیں گے۔ پس یہ تفسیر (وضاحت) ہے ان آیات کی جس میں زنادقة نے شک کیا۔
شبه رقم (5)
اور اس کا یہ فر مان کہ “ تمھیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا۔ وہ جواب دیں گے کہ ہم نمازی نا تھے” (سورۃ المدثر،آیت 42-43)اور دوسری آیت میں یہ فر مایا کہ : “ ان نمازیوں کے لئے افسوس اور ویل نامی جہنم کی جگہ ہے”(سورۃ الماعون ،آیت نمبر4) اس پر زنادقة نے کہا کہ اللہ نے نمازیوں کی بھی مذمت کی اسی لئے اس نے فر مایا: “ ان نمازیوں کیلئے افسوس اور ویل نامی جہنم کی وادی ہے” اور ان لوگوں کے بارے میں کہا جو نماز نہیں پڑھتے تھے کہ اسی وجہ سے وہ آگ میں داخل ہو ئے۔ اس وجہ سے زنادقة نے قرآن مجید میں شک کیا اور گمان کیا کہ اس میں تضاد ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ: اور اس کا یہ فر مان کہ : “ نما زیوں کیلئے ویل نامی جگہ ہے” تو اس سے منافقین مراد ہیں۔ “ جو اپنی نماز سے غافل ہیں”(سورۃ الماعون ،آیت نمبر 5) یہا ں تک کہ نماز کا وقت چلا جاتا۔ “ جو ریا کار ہیں”(سورۃ الماعون، آیت نمبر6) منافق کہتے تھے جب وہ ( ایمان والے) دیکھیں تو نماز پڑھ لینا اور اس وقت نماز نہ پڑھنا جب وہ نہ دیکھ رہے ہو۔ اور جہاں تک اس فر مان کا تعلق ہے کہ “ تمھیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا تو وہ جواب دیں گے (کہ) ہم نمازی نہ تھے۔‘‘
یعنی مومن موحد (توحید پرست) نہ تھے۔ پس یہ (وضاحت) ہے ان آیات کی جن کے بارے میں زنادقة نے شک کیا۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…