طلوع اسلام سے کچھ پہلے تاریخ میں عربوں کے متعلق سب سے پہلے قطع تذکرہ آشوری بادشاہ سلمنا سرسوم کے کتبہ میں ملتاہے۔ عرب کی اصطلاح جغرافیائی محل وقوع کا لحاظ کیے بغیر جزیرہ نمائے عرب کے تمام باشندوں کے لیے استعمال کرنے آئے ہیں۔ جزیرہ نمائے عرب ثقافت کے دو قدیم مرکزوں یعنی مصر اور بابل کے درمیان پوشیدگی کے ساتھ گھستا چلا گیا۔ وہ اپنے دامن زندگی کو ان دونوں ملکوں کے تہذیبی اثرات سے پاک نہ رکھ سکا۔ اسلام سے پہلے عربوں میں کوئی فوجی تنظیم موجود نہیں تھی۔ اسلام کی تاریخ میں عرب،تاجروں کے روپ میں نظر آتے تھے۔ عربوں نے شاعری کی طرح اپنے آرٹ میں بھی اس کے کئی ایک پہلو سے دلچسپی لی ہے۔ وہ جزئی تزئین وآرائش کا ایک لطیف ذوق رکھتے تھے۔ انہیں فنِ تعمیر اور خاص کر فن مصوری میں سائنسی علوم کی سی شاندار ترقی نصیب نہیں ہوئی۔ (تاریخ عرب۔ فلپ،کے،حتی)
عرب معاشرے نے مصر اور بابل سے جو بہت سی چیزیں اپنائیں ان میںسے ایک رسم بد یہ بھی اپنائی تھی۔ عرب کی عورتوں میں یہ رسم بد تھی کہ خوبصورتی کے لیے جسم کے کسی بھی حصے میں سرمہ بھرنے کا کام کرتی تھیں۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ مطلوب جگہ پر سوئی یا کسی نوک دار چیز سے جسم کے حصے کو چھید کر، کوئی نام یا کسی کی تصویر بناکر وہاں سرمہ یا تیل وغیرہ چھڑکا جاتا تھا پھر زخم مندمل ہونے کے بعد وہ نام یا تصویر مستقل طور پر باقی رہتی۔ عربی زبان میں اس عمل کو وشم کہاجاتاہے۔یہ عمل کرنا اور کروانا شرعا حرام ہے۔ آج کے اس جدید دور میں اسے Tattoo کہا جاتاہے۔(ہدایۃ القاری شرح صحیح البخاری)
دنیا کا سب سے قدیم مانا جانے والا ٹیٹو اور اوٹزی نامی ممی پر ملا تھا۔ اس ممی کو انس میں کہا جاتاہے یہ ممی 1991ء میں اطالوی ایلپس کے دور دراز خطے میں دریافت ہوئی تھی اور یہ تقریبا 5000 سال تک برف منجمند رہی تھی۔ (BBC Urdu.com)
انیسویں صدی کے آخر میں تھامس ایڈیسن کے پرنٹر کے طرز کی ایک ٹیٹو مشین بنائی گئی تھی۔ یہ سن 1875ء میں تیار کی گئی تھی اور تب سے اب تک اس میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ اب بھی جلد میں ایک منٹ میں 50 سے 3000 مرتبہ چھید کرتی ہے۔ (BBC Urdu.com)
ٹیٹو بنوانا اسلام میں ہی نہیں بلکہ دوسرے مذاہب میں بھی منع۔ بائبل میں اپنے جسم پر کچھ گدوانے کا ذکر ملتاہے اور یہ احبار 19: 28 میں ہے۔ اس آیت میں لکھا ہے ’’تم اپنے اوپر مت گدوانا۔‘‘ خدا نے یہ حکم بنی اسرائیل کو دیا تھا اور یوں انہیں آس پاس کی قوموں سے الگ کیا تھا جو اپنے جسم پر اپنے دیوتاؤں کے نام یا علامتیں گدواتی تھی۔
کچھ لوگ اپنی ایک الگ پہچان بنانے کے لیے ٹیٹو بنواتے ہیں اور کچھ لوگ ایسا اس لیے کرتے ہیں تاکہ وہ یہ ثابت کرسکیں کہ انہیں اس بات کا پورا حق ہے کہ وہ اپنے جسم کے ساتھ جو چاہیں کر سکتے ہیں(میرا جسم میری مرضی) کہ محض فیشن کہہ کر یا کسی گروپ کے رکن کے طور پر اپنی پہنچان کروانے کے لیے ٹیٹو بنواتے ہیں۔
پرانے وقتوں میں ٹیٹو ہاتھ سے کندہ کیے جاتے تھےجس میں بنانے والا ایک سوئی سے سوراخ کرکے اس میں اپنے ہاتھ سے سیاہی ورنگ بھرتا تھا۔ تاہم یہ طریقہ کار وقت کے ساتھ جدت اختیار کر گیا۔
امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: الواشمہ ، یہ وشم کا اسم مؤنث اسم فاعل ہے۔ یعنی وشم کرنے والی عورت، یہ وہ عورت ہے جو اپنے ہاتھ یا کلائی یا ہونٹ وغیرہ یا اپنے جسم کے کسی بھی حصہ میں سوئی وغیرہ داخل کرے حتی کہ خون نکل آئےاور پھر اس جگہ میں سرمہ یا چونا وغیرہ بھر دے جس سے وہ سبز رنگ کا ہوجائے۔ ایسا فعل کرنے والی عورت کو واشمہ کہتے ہیں۔ جس کے ساتھ یہ فعل کیاگیا ہو اسے موشومہ کہتے ہیں اور اگر کوئی عورت ایسا کرنے کا مطالبہ کرے تواسے مستوشمہ کہا جاتاہے اور یہ کرنے والی اور کروانے والی اور اپنے اختیار کے ساتھ اسے طلب کرنے والی سب پر حرام ہے۔(شرح مسلم 106/14)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ
نبی کریم ﷺ نے مصنوعی بال لگانے والی، لگوانے والی، سرمہ بھرنے والی اور سرمہ بھروانے والی (سب عورتوں) پر لعنت بھیجی ہے۔( صحیح بخاری، حدیث:5947)
سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصاویر ہوں۔ ‘‘ (صحیح بخاری، حدیث:5949)
فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں جو انسانوں کے لیے رحمت کی دعا اور استغفار کرتے ہیں، ہم اگر اپنے جسموں پر مستقل تصاویر بنوائیں تو کیا فرشتے ہمارے لیے دعا کریں گے؟؟
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہےانہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
جو لوگ یہ تصاویر بناتے ہیں انہیں قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا ان سے کہا جائے گا: جو تم نے بنایا ہے اس میں روح بھی ڈالو۔‘‘ (صحیح بخاری،حدیث:5951)
قرآن مجید ، فرقان حمید میں اللہ تعالیٰ نےفرمایا:
’’جو چیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھہرائی ہیں وہ ایک ایک کرکے بتادی ہیں۔‘‘ (الانعام:119)
ان حرام کردہ چیزوں میں ایک تصویر بھی ہے۔جن گناہوں کے ارتکاب پر لعنت کی وعید سنائی گئی ہو وہ کبیرہ گناہ کہلاتے ہیں۔ ایسے گناہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے اور توبہ بھی اس شرط کے ساتھ کی جائے کہ بقیہ زندگی اس گناہ سے باز رہنے کا عزم کرے۔
ہر ذی روح کی تصویر خواہ وہ انسان ہو یا حیوان ہو، سایہ دار ہو یا غیر سایہ دار، تصویر کے حرام ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ خواہ تصویریں چھپی ہوئی یاقلم وغیرہ سے بنائی گئی ہوں، یا تراشی گئی ہوں، یا کسی قالب میں ڈھالی گئی ہوں سب حرام ہیں اورمذکورہ احادیث کے بیانِ حرمت میں ان تمام اقسام کی تصاویر شامل ہیں۔
آج کے مسلمانوں کو نہیں معلوم کہ اسلامی تاریخی اثاثہ کیا ہے؟ اسلامی تہذیب وثقافت کیا ہے؟ انہیں کچھ بھی یاد نہیں۔ مغرب پرستوں کی نقالی میں ہم لوگ اس طرح بھٹکے چلے جارہے ہیں کہ جن لوگوں کو اسلامی تہذیب کے علمبردار اورمسلم ثقافت کے دعویدار ہونے کا زعم ہے ان میں بھی بعض ایسے حضرات ہیں کہ روشن خیالی کے زعم میں مغربی تہذیب کی رُو میں بہتے ہوئے اسے نہ صرف اپنائے جارہے ہیں بلکہ اس کے جواز میں دلائل پیدا کرنے کی ناکام کوشش بھی کیے جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ منفی تعصب کا شکار ہوچکاہے۔ مغرب کی اندھا دھند تقلید نے ہمیں خوشحالی اور ترقی کو ماننے کے لیے اسلام سے دور کر دیا ہے۔
کفار نے مسلمانوں کی بربادی کے لیے کوئی طریقہ نہ چھوڑا۔ بھائی آپ نے ٹیٹو نہیں بنانے تو ہم آپ کو ٹیٹو کے طرز پر چھپی ہوئی آستینیں دیتے ہیں جو آپ پہن کر اپنا شوق پورا کر سکتے ہیں۔دور سے دیکھنے والے کو ایسا ہی معلوم ہوگا جیسے آپ نے اپنے بازو پر ٹیٹو بنوا رکھے ہیں۔
اگر بعض لوگ مہندی کے نقوش سے ٹیٹو کے جواز کو کشیدہ کرتے ہیں تو انہیں اپنےعلم کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہ وہ جہلاء ہیں جو جہنم کے دروازے پر کھڑے ہیں۔ خود بھی جہنم میں جائیں گے اور آپ کو بھی لے جائیں گے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ دین کے علم کو ایسے نہیں اٹھائے گا کہ بندوں کے سینوں سے نکال لے بلکہ اہلِ علم کو موت دے کر اٹھائے گا۔ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے ان سے مسائل پوچھے جائیں گے تو وہ بغیر علم کے فتوے دے کر خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ (صحیح بخاری، حدیث:100)
کیمیکل والی مہندی کے نقصانات ثابت ہوجائیں کہ یہ جلدی بیماریاں پیدا کرنے کا باعث ہے تو پھر یہ شرعاً ممنوع ہوگا کیونکہ مسلمان کے لیے ایسا کام کرنا جائز نہیں جس میں اس کو یا کسی دوسرے کو ضرر ہو اور پھر نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے: ’’نہ تو کسی کو ضرر پہنچاؤ اور نہ خود ضرر اور نقصان اٹھاؤ۔‘‘ (ابن ماجہ، حدیث:784)
مہندی سے زینت اختیار کرنے کی کچھ شرائط درج ذیل ہیں:
1۔ یہ نقوش وقتی ہوں اورختم ہوجائیں، نہ کہ ہمیشہ اورقائم رہے۔
2۔ کسی ذی روح کی اشکال نہ بنائی جائیں۔
۳۔ زینت کسی اجنبی اور نامحرم کے سامنے ظاہر نہ کی جائے۔
4۔مہندی سے عورت کی جلد کو ضرراورنقصان نہ ہو۔
5۔اس میں کافرہ اور فاجرہ عورتوں سے مشابہت نہ ہو۔
6۔یہ نقش محرف شدہ ادیان کے شعار کی اشکال نہ رکھتے ہوں یا کسی فاسد اورگمراہ منہج سے تعلق نہ رکھتے ہوں۔
7۔مہندی جس سے لگوائی جائے، وہ عورت ہو۔شر والی جگہ میں نہ ہو۔
اگر یہ شرائط پوری ہوں تو اس زینت کو اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ وقتی وشم جس پر ٹیٹو کا اطلاق کیاجاتاہے، اس میں ہماری رائے یہ ہے کہ مہندی سے رنگنے کا حکم دیاجائے یہ حرام طریقہ نہیں۔ (مأخوذ از: شیخ ابن جبرین، فتاوی کمیٹی، اسلامیہ)
جو دِیے ہمارے اسلاف اپنا خون جِلا دے کر جَلا گئے، ان کو اپنی آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنا ہم پر لازم ہے۔ دجل وفریب، گمراہی وجہالت اور فتنوں کے پُر زور ریلے میں ہم اور ہماری آئندہ آنے والی نسلیں تنکوں کی مانند بہہ جائیں گی۔ اگر ابھی ہم نے خود کو علم سے آراستہ نہ کیا۔ ایسے ایسے فتنے ہمارے منتظر ہیں کہ کوئی صبح کو مومن ہوتوشام کو کافر ہوجائے گا اورشام کو مومن ہو تو صبح کافر ہوجائے گا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ان فتنوں سے پہلے پہلے جو تاریک رات کے حصوں کی طرح (چھا جانے والے) ہوں گے، (نیک) اعمال کرنے میں جلدی کرو۔ (ان فتنوں میں)صبح کو آدمی مومن ہوگا اور شام کوکافر، یا شام کو مومن ہوگا تو صبح کو کافر، اپنا دین(ایمان) دنیوی سامان کے عوض بیچنا ہوگا۔ ( صحیح مسلم، حدیث : 313)
جس وقت میں یہ تحریر لکھ رہا تھا تو خیال گزرا کہ گوگل سرچ کیا جائے کہ کراچی میں ٹیٹو بنانے والے موجود ہیں یا نہیں۔ نہایت افسوس کے ساتھ پانچ سے سات دکانوں کے مکمل پتہ اوررابطہ نمبرز موجود تھے۔
لادین معاشروں سے جو طریقے برآمد ہوتے ہیں ان کو بلاحیل وحجت، ترقی کے نام پر اپنانے کے آزادانہ طرزِ عمل کی حوصلہ افزائی تو نہیں کی جاسکتی کیونکہ دورِ حاضر میں مادہ پرستی کے فروغ نے ایمان واخلاق کی اقدار کا دیوالیہ نکال دیا ہے۔ تاہم رب العالمین کی شریعت میں ہر نوع اور تبدیلیوں کے لیے مکمل ہدایات موجود ہیں۔
آج ہمارے تعلیمی اداروں میں بچوں کی کامیابی پر دادرسی کے لیے چہرے اورہاتھوں پر قلم یا رنگوں سے دل یا ستارے بناکر رنگ بھر دیا جاتاہے۔ اسی طرح قومی تہواروں کے مواقع پر چہرہ پر ملک کے جھنڈے یا ہیروز کی تصاویر وغیرہ بنائی جاتی ہیں۔ ان امور سے ہم بچوں کے ننھے ذہن کہیں ٹیٹو جیسے حرام عمل کی طرف راغب نہ کردیں لہذا ان تمام امور سے اجتناب کرنا چاہیے۔
گناہ سب سے بڑا مرض اورہلاکت کا سب سے قریبی راستہ ہے۔ گناہوں پر اصرار بندے کی حیاء ختم کر دیتاہے، گنہگار اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی حقیر اورذلیل بن جاتاہے۔ گناہ کی نحوست سے انسان خود، اس کی اولاد،اس کا مال، حیوانات ونباتات غرضیکہ ہرچیز متأثر ہوتی ہے، گنہگار بالآخر معاشرہ میں ذلت کا باعث بن جاتاہے۔ گناہ کے ارتکاب سے عقل وحفظ فاسد ہوجاتے ہیں، گناہ دل کو اندھا کر دیتاہے، گناہ موجب لعنت ہے، گناہ کے بسبب بروبحر اورکائنات کی دیگر چیزوں میں فساد برپا ہوتاہے۔ گناہ قلب انسان سے غیرت کی حرارت بجھا کر انسان کو بے غیرت بنادیتاہے، گناہ انسان کو کمزور کر دیتاہے، جس کے نتیجے میں اس کا دشمن طاقتور ہوکر اس پر غلبہ پالیتاہے، گناہ نعمتوں کے زوال کا سبب ہے۔ دل کو خوف اور وحشت سے بھر دیتاہے ہے، گناہ بندے کو جہنم میں دھکیل دیتاہے، نفس کی خباثت اوربصیرتِ قلب کے اندھے پن کا کا باعث ہے۔ لہذا حتی الامکان گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ ہمیں ہر چھوٹے بڑے گناہ پر معافی مانگنے کی توفیق عطا فرمائے اور دوسروں کو تلقین کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…