قارئین کرام! بوسہ فرط محبت کا ایک انداز ہے شریعت نے اظہار محبت میں بھی اپنے ماننے والوں کو ایک اسوہ دیا ہے ایک مؤمن کسی سے محبت بھی شریعت کے دائرے میں کرتا ہے تو نفرت بھی ۔ لہذا بوسہ کے حوالے سے ہماری کیا رہنمائی کی گئی ہے؟ آئیں اس کے مختصر احکام ومسائل ملاحظہ فرمائیں۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا جبکہ یہ لوگ نئے نئے مدینہ آئے تھے ، اور ان کی صاحبزادی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بخار کی وجہ سے لیٹی ہوئی تھی، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے قریب ہوئے اور پوچھا: بٹیا تمہارا کیا حال ہے ؟ اور ان کے رخسار پر بوسہ دیا ۔
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: ہاتھ اور پیشانی کی طرح رخسار کو بوسہ دینا بھی جائز ہے ہمارے علم کے مطابق اس کی مخالفت ثابت نہیں۔(مصافحہ ومعانقہ کے احکام ومسائل: 25)
سید نا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، صحابہ آپ کے پاس اس طرح بیٹھے ہوئے تھے کہ گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں ، پھر کچھ اعراب آئے اور انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوالات کیے ۔ پھر جب آپ ﷺ کھڑے ہوئے تو لوگ بھی کھڑے ہو گئے۔
. پھر لوگ آپ کے ہاتھ کو بوسہ دینے لگے ۔ میں نے بھی آپ کا ہاتھ تھام کر اپنے چہرے پر رکھا جو کہ مشک کستوری سے زیادہ معطر اور برف سے زیادہ ٹھنڈا تھا ۔(القبل والمعانقة والمصافحة لابن الأعرابي: 3)
اسی طرح عاصم بن بہدلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
میں جب بھی کسی سفر سے واپس ہوکر ابو وائل شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ کے پاس آتا تو وہ میری ہتھیلی کو بوسہ دیتے۔(القبل والمعانقة والمصافحة لابن الأعرابي: 5)
مالک بن مغلول رحمہ اللہ سے روایت ہے:
طلحہ بن مصرف نے خیثمہ کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور مالک بیان کرتے ہیں: طلحہ نے میرے ہاتھ کو بوسہ دیا۔(القبل والمعانقة والمصافحة لابن الأعرابي: 6)
حسین بن علی الجعفی کہتے ہیں:
بسا اوقات سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ میرا ہاتھ چوم لیا کرتے تھے۔ (القبل والمعانقة والمصافحة لابن الأعرابي: 7)
محقق العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے مندرجہ بالا آثار کو حسن اور صحیح کہا ہے ۔اور ان کے تحت لکھا ہے کہ: تکریم کے غرض سے ہاتھ کو بوسہ دینا جائز ہے۔ مزید رقمطراز ہیں : بہتر یہی ہے کہ کسی کو ایک مدت کے بعد ملا جائے تبھی بوسہ دیا جائے روزانہ ملاقات پر اس سے اجتناب کیا جائے۔ ملاحظہ ہو: (القبل والمعانقة المصافحة بتحقيقه)
سعودی فتاویٰ کمیٹی سے سوال کیا گیا کہ ایک بھائی کا اپنے بھائی کو اللہ کی رضا کے لیے اس کے چہرے پر بوسہ دینے کا کیا حکم ہے؟ نیز اس حوالے سے صحابہ کرام کے آثار کیا ہیں؟
شیخ رحمہ اللہ نے جواب دیا: افضل یہ ہے کہ عام حالات کی ملاقات میں صرف مصافحے پر اکتفاء کیا جائے جب سفر سے واپسی ہو تو معانقے میں کوئی حرج نہیں۔(فتاوى اللجنة الدائمة: 127/24)
بچوں کو بوسہ دینا رحمت ہے۔ کچھ اعرابی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا : کیا تم لوگ اپنے بچوں کو چومتے ہو ؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا : ہاں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تو اپنے بچوں کو نہیں چومتے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
یہ میرے اختیار کی بات تو نہیں جب اللہ نے تمہارے اندر سے رحم کا جذبہ سلب کر لیا ہے ۔(صحيح مسلم: 2317)
اسی طرح سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا۔ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ کہنے لگے: میرے دس بیٹے ہیں میں نے تو کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ آپ ﷺنے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا:
. جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
فرط محبت سے میت کو بوسہ دینا جائز ہے۔ بشرطیکہ وہ برکت وغیرہ کی نیت سے نہ ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ:
نبی کریم ﷺنے عثمان بن مظعون رضی الله عنہ کا بوسہ لیا وہ انتقال کر چکے تھے آپ رو رہے تھے۔ یا راوی نے کہا: آپ کی دونوں آنکھیں اشک بار تھیں۔
آپ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے :
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا ۔
سعودی فتاوی کمیٹی کی فتوی ہے :
رہی بات میت کو چومنے کی تو فرط محبت سے ایسا کرنا جائز ہے شرط ہے کہ یہ برکت کی نیت سے نہ ہو۔ کیونکہ یہ عمل سنت سے ثابت ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا تھا۔ یہ عمل عورتوں کے لیے جائز نہیں سوائے اس صورت کے کہ مرنے والا اس کا محرم ہو اور مردوں کے لیے بھی جائز نہیں سوائے اس صورت کے کہ مرنے والا اس کا محرم ہو۔(فتاوی اللجنة الدائمة: 163/9)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجر اسود کو چھوتے اور چومتے دیکھا ہے۔
اسی طرح حدیث میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حجر اسود کے پاس آئے اور اسے بوسہ دیا اور فرمایا:
میں خوب جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے، نہ کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع۔ اگر رسول اللہ ﷺکو تجھے بوسہ دیتے ہوئے میں نہ دیکھتا تو میں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔
سعودی فتوی کمیٹی سے سوال کیا گیا کہ بغیر طواف کے حجر اسود کو بوسہ دینا کیسا ہے؟ تو کمیٹی نے جواب دیا:
بغیر طواف کے حجر اسود کو بوسہ دینا مشروع نہیں ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ صرف طواف میں حجر اسود کو بوسہ دیتے تھے اس کے علاوہ نہیں دیتے تھے۔(فتاوی اللجنة الدائمة: 238/10)
فقیہ العصر علامہ صالح عثیمین فرماتے ہیں:
حجر اسود کو بوسہ دینا طواف کی سنتوں میں سے ہے بغیر طواف کے حجر اسود کو بوسہ دینا مشروع نہیں ہے۔(مجموع فتاوى ورسائل العثيمين: 326/22)
حجر اسود کے علاوہ کعبے کے دیواروں یا حرم کی دیواروں ،دروازوں اور چوکھٹوں کو بوسہ دینا مشروع نہیں سعودی فتوی کمیٹی کا فتوی ہے:
صرف حجر اسود کو بوسہ دینا مشروع ہے رسول اللہ ﷺ نے حجر اسود کو بوسہ دیا لیکن اس کے علاوہ کعبے کو بوسہ نہیں دیا۔(فتاوی اللجنة الدائمة: 229/11)
رسول اللہ نے رکن یمانی کو صرف چھوا ہے بوسہ نہیں دیا علامہ البانی رحمہ اللہ حج وعمرہ میں کیے جانے والی بدعات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اور رکن یمانی کو بوسہ دینا۔(بدعت ہے)
شامی ارکان کو چومنا یا ان کا استلام کرنا مشروع نہیں علامہ البانی رحمہ اللہ حج وعمرہ میں کیے جانے والی بدعات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’شامی ارکان کو چھونا اور بوسہ دینا۔‘‘(بھی بدعت ہے)
سعودی فتوی کمیٹی کا فتوی ہے:
’’اذان یا اذان کے علاوہ عام حالات میں نبی معظم ﷺ کا نام سن کر انگوٹھے چومنا بدعت ہے جس کا کوئی اصل نہیں۔‘‘
علامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قرآن مجید کو بوسہ دینا بدعت ہے مسنون نہیں، یہ عمل نہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ہوتا تھا نہ صحابہ کے دور میں۔(فتاوى نور على الدرب للعثيمين: 2/4)
سعودی فتوی کمیٹی کا مزید کہنا ہے:
’’آدمی کے قرآن مجید کو چومنے کے متعلق ہمیں کوئی دلیل معلوم نہیں۔‘‘ (فتاوی اللجنة الدائمة: 152/4)
علامہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
کبھی کبھی چوم لینا جائز ہے، لیکن اس کو عادت نہ بنایا جائے جیسا کہ صوفیوں کی عادت ہے۔(موسوعة الألباني في العقيدة: 925/3)
اکثر لوگ جب قبروں کی زیارت کے لیے جاتے ہیں تو ان کو بوسے دیتے ہیں جو ہرگز درست نہیں اسلام نے صرف قبروں کی زیارت اور ان کے لیے دعائے مغفرت کرنے کا حکم دیا ہے۔ پیر عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جب کوئی شخص قبر کی زیارت کرے تو نہ اس پر ہاتھ رکھے نہ بوسہ دے، کیونکہ یہ یہود کی عادت ہے۔‘‘
علامہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قبر کو بوسہ دینا یا چوکھٹ کو بوسا دینا یا قبر کو چھونا یہ ساری چیزیں جائز نہیں ہیں۔ جو شخص قبر کے پاس کھڑا ہو وہ فقط اسے سلام کرے اور اس کی مغفرت کے لیے دعا کرے۔ (مجموع فتاوى ابن باز: 277/1)
بعض لوگ مسجد نبوی کے دیواروں یا رسول اللہ ﷺکی قبر کی جالی کو بوسہ دینے کی کوشش کرتے ہیں جو درست نہیں، اس سے شرک اور بد عقیدگی کا دروازہ کھلتا ہے۔
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
علماء کا اتفاق ہے کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی قبر کی زیارت کرے یا کسی نبی، صالح یا صحابی کے قبر کی زیارت کرے وہ قبر کو نہ چھوئے نہ بوسہ دے۔ (مجموع الفتاوی: 79/27)
علامہ صالح بن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اگر رسول اللہ ﷺکے حجرے کی دیوار کو اللہ تعالی کی عبادت اور رسول اللہ ﷺکی تعظیم کی نیت سے چوما جائے تو یہ بدعت ہے، اگر صرف محبت یا ویسے ہی چوما جائے تو یہ بے وقوفی اور جہالت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے۔(مجموع فتاوى ورسائل للعثيمین: 299/17)
روزے کی حالت میں بیوی کو بوسہ دیا جا سکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔سیده ام سلمی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
آپ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ ﷺایک ہی برتن سے غسل جنابت کیا کرتے تھے اور نبی کریم ﷺروزے سے ہونے کے باوجود ان کا بوسہ لیتے تھے۔(صحیح البخاری: 1929)
وضاحت: ایسی حالت میں ہر آدمی کے لیے بوسہ دینا جائز نہیں ہے صرف اس کے لیے جو اپنے نفس پر کنٹرول رکھ سکتا ہو۔
سعودی فتوی کمیٹی سے سوال کیا گیا کہ کیا روزے کی حالت میں بیوی کو بوسہ دینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا:
روزے کی حالت میں بیوی کو بوسہ دینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺروزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیا کرتے تھے۔(فتاوی اللجنة الدائمة: 163/9)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
نبی کریم ﷺ اپنی بعض بیویوں کو بوسہ دیتے ، پھر نماز پڑھتے اور نیا وضو نہیں کرتے۔
علامہ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ:
میرے چچا نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا مجھ سے نکاح کرے گا، لڑکی کی عمر اس وقت بارہ سال ہے، لڑکی کی ماں اور لڑکی خود دونوں اس رشتے پر راضی ہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا لڑکی کی والدہ میرے لیے محرم ہیں؟ اب جب وہ دور سے تشریف لاتی ہیں یا زیادہ دیر کے بعد آتی ہیں تو کیا میں اس کا ہاتھ چوم سکتا ہوں، کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے؟
آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا:
آپ پر اپنی چچی کا ہاتھ چومنا حرام ہے اگرچہ آپ نے اس نے اس کی بیٹی کو نکاح کا پیغام دے رکھا ہے، جب تک یہ رشتہ طے نہیں ہوتا وہ آپ کے لیے غیر محرم ہے۔ (فتاوی اللجنة الدائمة: 432/17)
علامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
تعزیت کے وقت میت کے اقرباء کو بوسہ دینے کے متعلق میں سنت سے کوئی دلیل نہیں پاتا، لہذا لوگوں کے لیے جائز نہیں کہ اسے سنت بنا لیں، کیونکہ جو چیز رسول اللہ ﷺسے اور آپ کے صحابہ سے ثابت نہیں ہے لوگوں کو اس سے اجتناب کرنا لازم ہے۔
سعودی علماء سے سوال کیا گیا کہ: میں آج کل ریاض شہر میں رہتا ہوں اور یہاں میرے رشتہ دار بھی رہتے ہیں، جو انتہائی قریبی ہیں۔ مثلاً میری خالہ کی بیٹیاں، میرے چچاؤں کی بیویاں اور ان کی بیٹیاں۔ میں جب انہیں ملنے جاتا ہوں تو انہیں سلام کہتا ہوں۔ وہ مجھے بوسہ دیتی ہیں اور میرے ساتھ بیٹھ جاتی ہیں اور پردہ نہیں کرتیں اور میں اس طور طریقہ سے تنگی محسوس کرتا ہوں۔
جواب: یہ عادت بری، منکر اور شریعت مطہرہ کے خلاف ہے۔ آپ کے لیے یہ جائز نہیں کہ آپ انہیں بوسہ دیں یا ان سے مصافحہ کریں۔ کیونکہ چچاؤں کی بیویاں، چچا کی اور ماموں کی بیٹیاں آپ کے لیے محرم نہیں ہیں۔ ان پر واجب ہے کہ وہ آپ سے پردہ کریں۔(فتاوی اسلامیہ: 207/1)
سعودی علماء سے سوال ہوا کہ: کیا کسی شخص کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو بوسہ دے۔ جب وہ بڑی ہو جائے اور سن بلوغت سے آگے نکل جائے۔ خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ اور خواہ اس کے رخسار کا بوسہ لیا جائے یا منہ وغیرہ کا، اور جب وہ انہی مقامات کا بوسہ لے تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر کوئی شخص بلا شہوت اپنی بیٹی کا، خواہ وہ بڑی ہو یا چھوٹی ہو، بوسہ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور جب وہ بڑی ہو تو بوسہ اس کے رخسار پر ہونا چاہیے۔ جیسا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے رخسار کا بوسہ لیا تھا۔چونکہ منہ کا بوسہ لینا کبھی جنسی شہوت کا سبب بھی بن جاتا ہے۔ لہٰذا اسے ترک کرنا ہی بہتر اور محتاط روش ہے۔ اسی طرح اگر بیٹی اپنے باپ کا بوسہ لے تو بلا شہوت اس کے ناک یا سر کا بوسہ لے اور اگر شہوت کے ساتھ ہو تو سب کے لیے حرام ہوگا تا کہ فتنہ کا قلع قمع اور بے حیائی کا سدباب ہو۔(فتاوی اسلامیہ: 270/1)
سعودی فتوی کمیٹی کے علماء رقمطراز ہیں:
حرمت کے لیے دو سالوں کے درمیان پانچ بار یا اس سے زائد بار دودھ پینا شرط ہے اگر لڑکی نے اسی طرح دودھ پیا ہے تو ایسی خاتون مرضعہ کے خاوند کی رضاعی بیٹی شمار ہوگی اور ایسی عورت کے لیے اپنے رضاعی باپ کو سلام کرنے یا مصافحہ کرنے یا اس کی تکریم کرتے ہوئے اس کے سر کو بوسہ دینے میں کوئی حرج نہیں ۔
سعودی فتوی کمیٹی کے علماء رقمطراز ہیں:
منگیتر سے خلوت اختیار کرنا، اسے بوسہ دینا اور اسے چھونا جائز نہیں، کیونکہ وہ نکاح سے قبل ایک اجنبی عورت کی طرح ہے۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…