اکثر تعلیمی ادارے اپنے سابقہ طلباء کرام کے ساتھ مختلف قسم کی تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں۔ جس کا مقصد احبابِ دیرینہ سے ملاقات،دریافت احوال، تعلیمی، تدریسی، دعوتی سرگرمیوں سے متعلق معلومات کا تبادلہ ہوتاہے۔سابقہ طلباء کرام بھی اپنی مادر علمی کی سرگرمیوں سے آگاہی اور اساتذہ کرام کی خدمت،پرستشِ احوال کا نیک مقصد لیے کشاں کشاں ان محافل میں شرکت کے لیے چلے آتے ہیں۔
جامعہ ابی بکر الاسلامیہ ملک عزیز کی عظیم الشان دانشگاہ ہے جس کےفیض یافتگان
کے مصداق دنیا کے کونے کونے میں دعوتِ سلفیہ کا کام کررہے ہیں۔اس سلسلہ میں حسب روایت جامعہ میں اک پروگرام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یادرہے کہ پروگرام ایسے وقت میں منعقد کیا جارہاتھا جب جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کے معمار ثانی، سالار قافلہ فضیلۃ الشیخ ضیاء الرحمن المدنی رحمہ اللہ کی المناک شہادت کا واقعہ رونما ہو چکا تھا جس بناء پر اس پروگرام کو مختصر کیا گیا اور حضرۃ الشیخ ضیاء الرحمن المدنی رحمہ اللہ کے ذکر جمیل اور نئی انتظامیہ کے لیے تجاویز وآراء کے لیے مختص کیا تھا۔
اس سلسلے میں متعلقہ شعبہ جات کے ذمہ داران کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد اسے حتمی شکل دی۔
اس پروگرام میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے ابتدائی تعلیمی عرصہ میں تدریسی خدمات سرانجام دینے والے درج ذیل اساطین علم کو خصوصی طور پر مدعو کیاگیا۔
بقیۃ السلف فضیلۃ الشیخ حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ (سابق مدیر التعلیم جامعہ ابی بکر الاسلامیہ، نائب شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ، فیصل آباد)
حضرت الاستاذ حافظ محمد شریف حفظہ اللہ (سابق مدرس جامعہ ابی بکر الاسلامیہ ورئیس مرکز التربیہ فیصل اباد)
محدث العصرالشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ (سابق مدرس جامعہ ابی بکر الاسلامیہ و رئیس المعہدالسلفی للتعلیم والتربیہ کراچی)
خاندان لکھویہ کے چشم وچراغ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر خلیل الرحمن لکھوی حفظہ اللہ(اولین مدیر التعلیم جامعہ ابی بکر الاسلامیہ ورئیس معہدالقران الکریم کراچی)
استاذ القراء فضیلۃ المقری قاری بشیر احمد حفظہ اللہ(سابق مدرس شعبہ تحفیظ القران الکریم جامعہ ابی بکر )
مہمانوں کے طعام وقیام کا بہترین انتظام جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں کیا گیا ۔
22اکتوبر بروز اتوارپرتکلف ناشتے کے ساتھ اس پروگرام کا آغاز ہوا۔
ناشتے سے فراغت کے بعد تمام مہمانان گرامی قدر مسجد میں اپنی اپنی نشستوں پر تشریف لے گئے ۔پروگرام کی نظامت کی ذمہ داری حسب روایت جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے سینئر استاذ مشفق و مربی فضیلۃ الشیخ ابو اسامہ ڈاکٹر محمد طاہر آصف حفظہ اللہ(نائب مدیرلجامعہ) نے سر انجام دی۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت فرقان مجید کے بابرکت کام سے ہوا جس کی سعادت الأخ سلمان حبیب(طالب جامعہ) نے حاصل کی انہوں نے سورۃ آل عمران ( آیات 156۔160)کی پُرسوز آواز میں تلاوت فرمائی ان آیات میں موت کے برحق ہونے شہادت کی فضیلت،نرم دلی، مشورہ کی ضرورت واہمیت اورنصرت الٰہی کی بشارتوں کے ساتھ ساتھ توکل علی اللہ کا درس دیا گیا ہے۔
تلاوت کلام الٰہی کے بعد ربیع الرحمن (طالب جامعہ) نےنظم پیش کی جس میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے محسن الشیخ ضیاء الرحمن رحمہ اللہ کی گوناگوں صفات اور خدمات جلیلہ کا ذکر جمیل تھا۔
تلاوت ونظم کے بعد فضیلۃ الشیخ طاہر آصف حفظہ اللہ نے پروگرام کی غرض وغایت اورماضی قریب میں پیش آنے والے حالات و واقعات اور اس سے پیدا ہونے والی صورت سے سامعین کو آگاہ کیا اور فرمایا کہ اصل میں یہ مجلس حادثہ فاجعہ کی وجہ سے مختصر کی گئی جو کہ حضرۃ الشیخ الشہید رحمہ اللہ سے متعلق تأثرات اور جامعہ کی تعمیر وترقی سے متعلق تجاویز وآراء پر مشتمل ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے تو کسی قسم کا خوف نہیں لیکن اگر اللہ نے ہمیں چھوڑ دیا تو ہمارا ٹھکانہ نہیں۔حمد وثنا کے لائق وہی ہے اس کے فیصلے خوبصورت فیصلے ہوتے ہیں۔ گلہ شکوہ کا حق نہیں۔ اساتذہ، اساطین علم نے ہمیں عزت وشرف بخشا ان حالات میں ان کی تشریف آوری ہمارے لیے حوصلہ کا باعث ہے۔ دوران گفتگو شیخ محترم کے الفاظ ٹوٹتے رہے ہچکچیاں جاری اور آواز رندہ جاتی تھی جو کہ ان کے دل کی کیفیت کی عکاس اور حضرۃ المدیر کے ساتھ ان کی قلبی یگانگت کی غمازی کر رہی تھی۔
اس کے بعد معدودے چند فضلاء سے اظہار خیال کی گزارش کی گئی۔جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔
(فاضل جامعہ ابی بکر ، بہاولپور میں تعلیمی وتربیتی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں)۔
’’بےشک وہ لوگ جنھوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھر خوب قائم رہے، تو ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔ یہ لوگ جنت والے ہیں، ہمیشہ اس میں رہنے والے، اس کے بدلے کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘
ع
شیخِ مکتب ہے اک عمارت گر
جس کی صنعت ہے رُوحِ انسانی
ہمیں اس المناک حادثہ سے نکلنا ہوگا۔
تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
یہ سلسلہ شہادت کا مبارک سلسلہ ہے شہید کے کاز اور مشن کو آگے بڑھانا ہے۔ اس میں ابناء الجامعہ کو ہر لحاظ سے تعاون کرنا ہوگا۔ کیونکہ جامعہ کے مکمل نظم ونسق کی ذمہ داری اب ابناءالجامعہ کے ہاتھوں میں ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ حالات کے پیش نظر اہل حق علماء کرام کو اپنی حفاظت کے سلسلے میں مناسب اقدامات کی ضرورت بھی ہے۔
(فاضل جامعہ ابی بکر گذشتہ 25 سال سے امریکہ میں دعوتی سرگرمیوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ )
ان حالات میں رسول اللہ ﷺ کے انتقال کے وقت سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے جملے ہمارے پیش نظر ہونا چاہئیں۔
’’توجہ سے سنو!جو شخص حضرت محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا اسے معلوم ہونا چاہیے کہ حضرت محمد ﷺ کی وفات ہوچکی ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتاتھا تو بے شک اللہ تعالیٰ زندہ جاویدہے اور اس پرکبھی موت نہیں آئے گی۔‘‘
’’اور اس زندہ پر بھروسا کر جو نہیں مرے گا اور اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کر۔‘‘(الفرقان:58)
طلبہ کرام سے گزارش ہے کہ وہ اپنا وقت ضائع نہیں کریں۔ میں نے لائبریری کا وزٹ کیاکتابوں پر گرد وغبار پڑا ہوا ہے۔ جس سے معلوم ہوتاہے کہ طلبہ کرام ان کتب سے کما حقہ مستفید نہیں ہورہے۔کتابوں کی تعداد کم ہے۔ مطالعہ کا ذوق کم، کتاب سے تعلق نہ ہونے کے برابر ہے۔
’’عبداللہ بن امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اکثر اپنے والد کو یہ کہتے سنا: اے اللہ ابو الہیثم کو بخش دے، اے اللہ ابو الہیثم پر رحم فرما۔ تو میں نے اس سے کہا کہ ابو الہیثم کون ہے؟ جواب دیا کہ دیہاتی تھا،میں نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا!! مجھے کوڑے مارنے سے ایک رات پہلے، انہوں نے مجھے ایک تاریک کوٹھری میں ڈال دیا، اور ایک آدمی نے مجھے ٹھونس کر کہا: کیا تم احمد بن حنبل ہو؟ میں نے کہا ہاں، اس نے کہا کیا تم مجھے جانتے ہو؟ میں نے کہا نہیں۔ اس نے کہا: میں ابو الہیثم ہوں، چور، شراب پینے والا، ڈاکو ہوں، امیر المومنین کے دفتر میں لکھا ہے کہ مجھے اٹھارہ ہزار کوڑے مارے گئے، اور میں نے یہ سب کچھ برداشت کیا۔ شیطان کی خاطر تو اے احمد !اللہ کے لیے صبر کر۔ جب انہوں نے مجھے باندھ دیا اور کوڑے مارے جانے لگے، جب بھی میری پیٹھ پر کوڑا اترتا تھا، مجھے ابو الہیثم کے الفاظ یاد آتے تھے اور اپنے آپ سے کہتا تھا، احمد! اللہ کی خاطر صبر کرو، اگر تم ابنِ حنبل نہیں ہو۔ توپھر ابو الہیثم بنو۔‘‘
ہمیں استقامت سے کام لینا ہوگا۔
ہمارا اجتماعی رویہ یہ ہے کہ ہم جس درخت کا سایہ لیتے ہیں اسی درخت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جامعہ ابی بکر اک سایہ دار درخت ہی نہیں بلکہ علمی کنواں ہے۔ہم سب کی ذمہ داری یہ ہے کہ مفوضہ ذمہ داریوں کو بطریق احسن ، بطیب نفس ادا کریں۔
حافظ عبد الستار عاصم حفظہ اللہ طویل عرصہ سے برطانیہ میں دعوتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، ان کی رفاعی خدمات کا سلسلہ پاکستان تک پھیلا ہوا ہے۔ اللهم زد فزد۔آپ اس پروگرام کے اصل روح رواں ہیں)ہم یہاں پر صرف مشائخ سے راہنمائی کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنا وقت بھی مشائخ کو دینا چاہیے تاکہ ان کے قیمتی مشوروں سے بہرہ ور ہوسکیں۔میری پہچان، تربیت جامعہ ابی بکر الاسلامیہ ہے۔ یہی وہ معمار ہیں جنہوں نے خلوص کے ساتھ ہماری تربیت کی جس کے ثمرات دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔
ہم (ابناء الجامعہ )انتظامیہ کے شانہ بشانہ ہے۔ انتظامیہ کو مایوس نہیں ہونا قدم آگے بڑھائیں۔ہم ہر طرح کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کراتے ہیں۔
الشیخ خلیل الرحمن لکھوی حفظہ اللہ نے اپنی گفتگو میں بانی جامعہ اور ان کے ابتدائی رفقائے سفر کا خصوصی تذکرہ کیا۔ مرحومین کے لیے دعائے مغفرت اور موجودین کے لیے توفیق مزید کی دعا فرمائی اور فرمایا کہ طلبہ کرام اوراساتذہ کرام کا آپس میں پیار ومحبت والفت والا رویہ ہونا چاہیے۔ ہر استاد اس منصب کو محض نوکری نہ سمجھے بلکہ اضافی وقت بھی دے۔شدرحال کرتے ہوئے قصداً احتراماً استاد کی زیارت ضرور کریں۔۔ اساتذہ طلبہ کو ادب بھی سکھائیں۔ اساتذہ کتب کا بالاستیعاب مطالعہ ضرور کریں۔ ہر فن کی ایک کتاب ازبر کریں۔ الشیخ حماد انصاری رحمہ اللہ نے الاصابۃفی تمییز الصحابۃ کا 100 بار مطالعہ کیا۔ ہر استاذ اورطالب علم کا شرعی اور اخلاقی فریضہ ہے کہ وہ اس جامعہ کے خادم بن کر رہیں۔
اس کے بعد شیخ محترم نے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے بانی ومؤسس پروفیسر ظفر اللہ رحمہ اللہ کی سادگی، انتھک محنت اور قدیم اساتذہ کی باہمی محبت والفت کا تذکرۂ خیر کیا۔
حضرۃ العلام الحافظ حافظ محمد شریف حفظہ اللہ اک عرصے تک جامعہ میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں ۔ان کا دل جامعہ کی محبت سے لبریز رہتاہے انہوں نے خراب صحت کے باوجود اس عظیم علمی مجلس کےلئے کراچی کی طرف رخت سفر باندھا، انہوں نے اپنے خطاب میں انتہائی درد بھرے انداز میں گفتگو کی ، ان کی گفتگو کا اک اک لفظ منہج محدثین کی نمائندگی کر رہا تھا۔ چند ایک نکات’’مشت نمونہ خرواراست‘‘ حاضر خدمت ہیں۔
منہج سلف میں تعزیتی اجتماع،مرثیہ کی ایک شکل ہے جو کہ سنت کے خلاف ہے اس لیے اس اجتماع میں مرثیے اورتعزیتی رنگت سے بچنے چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مشورے وتجاویز پر زور دیں ناکہ تأثرات والا رسمی سلسلہ شروع کیا جائے۔
’’جیسے لمبی زندگی ملے گی۔ پیاروں کی جدائی اورفراق سے پریشان ضرور ہونا۔تیرا باقی رہنا اور محبوب کا چلے جانا بہت المناک ہے۔‘‘
امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ شعر اس وقت پڑھا جب ان کے شاگرد الامام الدارمی رحمہ اللہ کی وفات کی خبر ملی ۔
ہمیں محبوب کی جدائی ، قائد کی وفات پر ہمت نہیں ہارنا چاہیے بلکہ ہمیں عقیدہ توحید، سیرت مبارکہ سے رہنمائی لینی چاہیے۔ جیسا کہ حدیث مبارک میں ہے:
’’جس منہج ،عقیدت پر ان کی جان گئی تم بھی جان دے دو۔‘‘
ہر غم میں یہ ارشاد نبوی یاد رکھیں۔ اس کے بعد شیخ محترم نے احباب ورفقاء کی موت پر اسلاف کے صبر کرنے کے واقعات ذکر کیے تاکہ شرکاء مجلس اور انتظامیۂ جامعہ اس حادثے کے اثرات سے نکل کر جامعہ کی تعمیر وترقی کے لیے پیش قدمی کریں۔
اساتذہ مطالعہ میں وسعت پیدا کریں اور اس میں رسوخ حاصل کریں۔ میں جامعہ کی ہر دعوت پر لبیک کہتے ہوئے ہر وقت لپکتے ہوئے آؤں گا۔ فکری انتشار کا دور ہے آپ فکر ومنہج میں ذرہ بھر بھی انحراف کا شکار نہ ہوں۔ منہج سلف پر قائم رہیں۔ ہمیں جم غفیر دیکھ کر لوگوں کو وہ نہیں سنانا چاہیے جو وہ سننا چاہتے ہیں بلکہ انہیں قرآن وسنت سنائیں۔
منہج دعوت میں مداہنت کو برداشت نہ کریں۔ تکفیری فکر، جذباتی نعروں سے اپنے آپ کو بچاکر رکھیں یہ ایک سراب ہے۔
امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ عالم فتنے کو واقع ہونے سے پہلے پہچان لیتاہے جبکہ عام فردفتنوں کا ادراک اور پہچان اختتام پر کرتاہے۔
zنئی انتظامیہ اس ذمہ داری کو جزء وقتی کام ناسمجھیں بلکہ اس فرمان کو اپنے پیش نگاہ رکھیں۔
’’اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ روکے رکھ جو اپنے رب کو پہلے اور پچھلے پہر پکارتے ہیں، اس کا چہرہ چاہتے ہیں اور تیری آنکھیں ان سے آگے نہ بڑھیں کہ تو دنیا کی زندگی کی زینت چاہتا ہو اور اس شخص کا کہنا مت مان جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام ہمیشہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔‘‘
یہ ذمہ داری بہت بڑا بوجھ ہے اس میں سرخروئی کے لیے انتظامیہ کو اپنا تعلق باللہ مضبوط کرنا ہوگا۔
’’یقینا ہم ضرور تجھ پر ایک بھاری کلام نازل کریں گے۔بلاشبہ رات کو اٹھنا (نفس کو) کچلنے میں زیادہ سخت اور بات کرنے میں زیادہ درستی والا ہے۔ بلاشبہ تیرے لیے دن میں ایک لمبا کام ہے۔‘‘
فضیلۃ الشیخ عبد اللہ ناصر رحمانی کا وجود مسعود اس وقت سلفی دعوت کے لیے کسی غنیمت سے کم نہیں ، آپ حفظہ اللہ عقیدہ ومنہج میں راسخ ،دعوت وتبلیغ میں دوراندیش اور عمل میں اخلاص کی نعمتوں سے مالامال ہیں۔ انہوں نے اپنی ناصحانہ گفتگو کا آغاز مکمل خطبہ حاجہ پڑھ کر کیا، ابتدائیہ میں انہوں نے حاضرین مجلس کے سامنے بانی جامعہ کے ساتھ اپنی رفاقت، سعودیہ میں قیام کے دوران جامعہ کی مالی اعانت کے سلسلے میں کیے گئے اقدامات کا تذکرہ کیا اور طلبہ کرام، اساتذہ عظام اور منتظمین کو جامع پندونصائح سے نوازا، جس کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
جامعہ ابی بکر کی محبت وعقیدت ہمارے رگ وریشہ میں پیوست ہے۔
نئی انتظامیہ پوری قوت سے اپنے کام کو لے کر آگے بڑھے۔ عصری فتن سے طلبہ کو لازمی طور پرمحفوظ رکھیں۔ موبائل کی وجہ سے اخلاص مفقود ہوتا جارہا ہے۔ امام عبد اللہ ابن المبارک کا فرمان ہے :
حصول علم کا پہلا درجہ یا پہلا قدم حسنِ نیت ہے اس کے بعد استماع، فہم،حفظ، عمل اور نشرواشاعت ہے۔‘‘
اخلاصِ نیت سے برکات حاصل ہوتی ہیں۔ موبائل سے شہرت کی محبت رواج پارہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
’’جو شخص شہرت والا لباس پہنے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ذلت کا لباس پہنائے گا۔‘‘
معنوی شہرت، ناموری اور تشہیر۔ اس شہرت کے فتنے میں موبائل پیش پیش ہے۔ طلبہ کرام کو اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
فرمانِ الٰہی ہے :
کو یادرکھیں۔ اور اسی طرح حدیث میں بھی دل کو مقدم ذکر کیا گیاہے۔
’’بےشک اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں اور اعمالوں کو دیکھتاہے۔‘‘
سرائر سے مراد دل میں چھپی نیت ہے۔
حدیث سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث میں ہے:
بے شمار دعاۃ ہیں۔ہمیں طلبہ کرام کو ان داعین کے چنگل سے محفوظ رکھنا ہوگا۔
اس ترتیب کو اپنانا ضروری ہے ، بدقسمتی سے ہمارے اکثر دعاۃ علمی رسوخ سے محروم ہوتے ہیں وہ نشر(تبلیغ) کو پہلے درجہ میں رکھتے ہیں جبکہ علم،استماع، حفظ اور علم پر عمل کی ترتیب کی پرواہ نہیں کرتے جس سے دعوت کے عمل کو نقصان ہورہا ہے۔
اس فکر کو توڑنا ضروری ہے۔ اساتذہ کرام طلبہ کرام کے تمیزات کو پہچانیں اور ان کی تربیت اسی منہج پر کریں۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کرام کے فکری میلانات، طبعی رجحانات اور متعین امتیازات کو مدنظر رکھ کر انہی خطوط پر تربیت فرمایا کرتے تھے۔مشہور حدیث سے اس طرزِ فکر کی رہنمائی ملتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے امتیازات کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشادفرمایا:
’’میری امت میں، امت پر سب سے زیادہ رحم کرنے والے ابو بکر ہیں، اور اللہ کے دین میں سب سے سخت عمر ہیں۔ سب سے زیادہ سچی حیا والے عثمان ہیں، زیادہ بہتر فیصلہ کرنے والے علی ہیں، اللہ کی کتاب کے زیادہ عالم اُبّی بن کعب ہیں، حلال و حرام کا زیادہ علم رکھنے والے معاذ بن جبل ہیں اور علم میراث کے زیادہ ماہر زید بن ثابت ہیں۔ سنو! ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین (دیانت دار فرد) ابوعبیدہ بن جراح ہیں۔رضوان اللہ علیہم اجمعین‘‘
مرغی کے بچوں کی طرح طلبہ کرام کو عصری فتنوں سے بچائیں۔
پروفیسر عبد الحی المدنی حفظہ اللہ نے حاضرین مجلس اور شیوخ عظام کو حضرۃ المدیر الشیخ ضیاء الرحمن المدنی کی شہادت سے رونما ہونے والی صورت حال سے جامع الفاظ میں آگاہ کرتے ہوئے گویا ہوئے کہ ہم نے اپنے منہج کو نہیں چھوڑا۔ اس حادثہ پر افراتفری نہیں ہوئی۔ معاملات کو پوری طرح کنٹرول کیا تھا۔ احتجاجی صورت حال نہیں بننے دی۔ تمام اساتذہ کرام کے اتفاق سے تین رکنی عبوری کمیٹی تشکیل دی گئی جو کہ ڈاکٹر محمد افتخار شاہد، الشیخ محمد طاہر باغ اور ڈاکٹر مقبول احمد مکی پر مشتمل تھی۔جنازہ اورتدفین کے تمام مراحل انتہائی ذمہ داری کے ساتھ بطریق احسن انجام دیئے گئے تھے۔مزید اکابرین کی رہنمائی درکار ہے۔
اس کے بعد کلمات تشکر کے لیے فضیلۃ الشیخ حافظ عبید اللہ حفظہ اللہ (مدیر جامعہ ابی بکرالاسلامیہ) کو دعوت دی گئی انہوں نے وقت کی قلت کے پیش نظر مختصر اورجامع گفتگو فرمائی اور کہا کہ آج کی مجلس میں بیان کیےگئے تمام الفاظ انتہائی قیمتی تھے جو کہ دل پر نقش ہوچکے ہیں۔مشائخ سے مجھے بہت سی نئی باتیں معلوم ہوئی۔یہ ذمہ داری اور مسؤولیت کے ساتھ ساتھ یہ شرف کی بات بھی ہے کہ مجھے خدمت دین کا وسیع میدان میسر ہوا ہے۔مشائخ عظام کے قیمتی مشوروں اور اساتذۂ جامعہ کے تعاون سے اس مشن کو آگے لے کر جانے کا عزم مصمم کا اظہار کیا۔
آخر میں الشیخ مسعود عالم حفظہ اللہ (سابق مدیر التعلیم) کو کلیدی خطاب کی دعوت کی گئی۔
کل کے شاگرد آج کے سرمایہ افتخار، رفیق سفر،صدقہ جاریہ فضلائے جامعہ! امر واقعہ یہ ہے کہ بعد میں آنے والے کے لیے کہنے کے لیے کچھ نہیں ہوتا جبکہ مجھ سے پہلے فضیلۃ الشیخ خلیل الرحمن لکھوی حفظہ اللہ نے تجرباتی طورپر اپنی زندگی کا نچوڑ آپ کے سامنے پیش کر دیا ہے اور حافظ محمد شریف صاحب حفظہ اللہ نے منہج کے حوالے سے اور علماء کی ذمہ داری کے حوالے سے پورا لائحہ عمل آپ کے سامنے پیش کر دیا ہے اور فضیلۃ الشیخ ہمارا سرمایہ افتخار الشیخ عبد اللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ نے (اخلاص)جو بنیاد کی اینٹ ہے اور اساسی عمل ہے اس کی طرف متوجہ کرکے ہم سب کوپوری طرح اپنی ذمہ داری سے آگاہ کر دیا ہے۔
’’ مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنھوں نے وہ بات سچ کہی جس پر انھوں نے اللہ سے عہد کیا، پھر ان میں سے کوئی تو وہ ہے جو اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وہ ہے جو انتظار کر رہا ہے اور انھوں نے نہیں بدلا، کچھ بھی بدلنا۔‘‘
یہ زندگی کا سفر اہل علم کا،اہل صدق واخلاص کا یہ اللہ کے ساتھ عہد اور وفاکا سفر ہوتاہے اور اس جامعہ کی ترقی،عروج اور ارتقاء کے اندر جن جن افراد نے کوشش کی ہے وہ اصحاب فضل وکرم والے تھے اور اہل علم تھے۔ وہ اللہ کے پاس پہنچ چکے ہیں انہوں نے بہت زیادہ مخلصانہ جدوجہد کےساتھ اور انتہائی بے غرضی کی زندگی کے ساتھ اور کسرنفسی کی انتہاء کے ساتھ، اس کی خدمت کی ہم نے اپنے برادرمکرم شیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ کو سفروحضر میں دیکھا کہ وہ انتہائی بے نفس آدمی تھے اوربے غرض آدمی تھے انہوں نے اپنا گھر نہیں بنایا، اپنے اثاثے نہیں بنائے، اپنا اسٹیٹس نہیں بنایا انہوں نے اسی جامعہ کے لیے سوچا اور اس کے لیے دن رات ایک کرتے تھے جس طرح انہوں نے بے غرضی اوربے نفسی کے ساتھ اس جامعہ کی خدمت کی وہ اک روشن مثال ہے جسے ہمیں پیش نگاہ رکھنا چاہیے۔ شیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ ہمیشہ ہمیں کہتے تھے کہ یہ جامعہ مسلمانوں کی امانت ہے یہ جماعت اورملت کا اثاثہ ہے یہ ظفر اللہ کے خاندان کا کوئی اثاثہ نہیں، ہاں میرے خاندان نے اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ اور اس کے تحفظ کے لیے میری ساتھ کھڑے ہوئے لیکن یہ جماعت کا اثاثہ ہے اور اگر غازی عبد الکریم رحمہ اللہ اس جامعہ کے رئیس ہیں آج اگر غازی عبد الکریم مجھے کان سے پکڑ کر جامعہ سے نکال دیں تو میں جامعہ کے گیٹ سے باہر ہوجاؤں گا۔ یہ ان کا جذبہ اور مزاج تھا، ان کے ہاتھوں سے کروڑوں روپے خرچ ہوئے لیکن انہوں نے اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں بنایا، درویشانہ زندگی گزاری۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو منور فرمائے۔
یہ زندگی آپ کے لیے روشن مثال ہے یہ درس سیرت بھی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’اے اللہ! مجھے مسکین بنا کر زندہ رکھ اور مسکین بنا کر فوت کر اور مجھے مسکینوں کی جماعت میں اٹھا۔‘‘
رسول اللہ ﷺ کو پیش کش کی گئی تھی۔
وہ آپ کو فرشتہ بنا کر نبوت عطاکردے یا اپنا بندہ بنا کر رسالت عطا کردے؟ سیدناجبریل علیہ السلام نے عرض کیا اے محمد (ﷺ) اپنے رب کے سامنے تواضع اختیار کیجیے،نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا : نہیں بلکہ مجھے بندہ بنا کر رسالت عطاکردے۔‘‘
تو رسول اللہ ﷺ نے کہا میں عبداً رسولا بننا چاہتاہوں۔ عبد ورسول بن کر انہوں نے زندگی گزاری اورجب رسول دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے گھر میں چراغ جلانے کے لیے تیل نہیں تھا۔ یہ پُر فتن دور ہے اس دور کی رنگینیاں اور اس میں شہرت کے فتنے ہیں اسٹیٹس کے فتنے ہیں، عیش وعشرت کے فتنے ہیں، یہ انسان کو کھینچتے ہیں اور لبھاتے ہیں۔ مؤسس جامعہ ان فتنوں میں مبتلا نہیں ہوئے۔
اور اللہ تعالیٰ غریق رحمت کرے عزیز القدر بیٹے ضیاء الرحمن رحمہ اللہ کو اس نے بھی اپنے باپ کے نقش قدم پرزندگی گزاری۔ اس نے بھی اسی بے نفسی کے ساتھ زندگی گزاری۔ خلفاء راشدین کا نمونہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ملی امانتوں پر تصرف کرتے وقت اپنا عیش وعشرت، آرام، اور اسٹیٹس نہیں بنایا جائے۔ ادارے کو ترقی دی جائے، ادارے کے تقدّم کے لیے اورقابل رشک بنانے کے لیے کہ لوگ اس کی طرف کھینچے ہوئے آئیں اس کے اوپر محنت کی ضرورت ہے اور اپنے آپ کو اس کے لیے مٹائیں۔
اخلاص، منہج سلف کے ساتھ تمسک اوراستقامت کے ساتھ کام کیا جائے گا تو
’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہمارے بارے میں پوری کوشش کی ہم ضرور ہی انھیں اپنے راستے دکھادیں گے۔‘‘
اللہ تعالیٰ راہنمائی فرمائے گا۔
’’ بےشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیااور ان لوگوں کے جو نیکی کرنے والے ہیں ۔‘‘
بندوں کا آنا جانا تو لگا رہے گا۔ اساتذہ کرام چلے گئے ، ان کے اساتذہ چلے گئے ان کے جانشینوں نے ان کے مشن کو زندہ رکھا۔ سید نذیر حسین محدث دہلوی(60سال) تک انہوں نے پڑھایا وہ چلے گئے اللہ رب العزت نے انہیں حافظ عبد اللہ غزنوی، حافظ عبد اللہ غازی پوری، مولانا عبد الجبار کھنڈیلوی، حافظ عبد المنان وزیرآبادی رحمہم اللہ اجمعین جیسے جانشین دیئے جنہوں نے اپنے استاذ کے علم اورمشن کو پورے برصغیر کے اندر ہی نہیں بلکہ افریقہ اورعرب دنیا تک پھیلادیا۔
اب آپ ان کے جانشین بنے ہیں اب آپ نے اس سلسلے کو آگے جاری رکھنا ہے اور قائم رکھنا ہے۔ نئے ولولے اورعزم اورحوصلے کے ساتھ کام کرنا ہے جہاں انہوں نے چھوڑا ہے اس سے آگے لیکر جانا ہے اس کو اونچا کرنا ہے اس میں کمزوری نہیں آنے دینی، اس میں کوئی تنزّل وتخّلل نہیں آنا چاہیے ۔
’’ تم لوگ جماعت کولازم پکڑو۔‘‘
اکابر اہل علم کے ساتھ رشتہ ناطہ جوڑے رکھنا۔
یادرہے کہ جماعت سے مراد تقویٰ وورع، علم ،تفقہ کو اپنا شعار بنانے والے لوگ ہیں۔
یہ ہے جماعت اس جماعت کے ساتھ وابستہ رہنا ان سے مشاورت کرنا۔ طلبہ کرام کی قدر کریں ان کی جتنی بھی عزت، تکریم اور خدمت کی جائے اسے سعادت سمجھیں۔ شیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ ہمیشہ اپنے آپ کو طالب علموں کا نوکر اور خادم کہتے تھے۔ اس طرح کی روشن مثالوں کو سامنے رکھیں یہ آپ کے لیے مشعل راہ ہے، اسٹیٹس کے فتنے،عیش وعشرت کا فتنہ ہے، ناموری اورشہرت کا فتنہ ہے اس کو اپنے پاس نا پھٹکنے دیں، اپنے آپ کو اللہ کے لیے مٹادیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بلندی اورعظمت عطا فرمائے گا کہ آپ لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بن جائیں گے جیسا کہ حدیث شریف ہے ۔
’’ پھر زمین میں بھی اس کی مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔‘‘
لیکن اس کے لیے انسان کو اللہ کے لیے ، اپنے آپ کو مٹانا ہوگا اوراپنے مقصد کو اونچا رکھیں۔ یہ ادارہ دین کی اقامت کے لیے ہے۔ اقامت دین کا کام اپنے اندر دین قائم کرنے سے شروع کریں اور اسی کی دعوت دیں ، یہی مشن انبیاء ہے فرمان رب العالمین ہے:
’’ اس نے تمھارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا جس کا تاکیدی حکم اس نے نوح کو دیا اور جس کی وحی ہم نے تیری طرف کی اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا، یہ کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں جدا جدا نہ ہو جاؤ۔‘‘
اور رسول اللہ ﷺ کو فرمایا:
’’ سو تو اسی کی طرف پھر دعوت دے اور مضبوطی سے قائم رہ، جیسے تجھے حکم دیا گیا ہے اور ان کی خواہشوں کی پیروی مت کر۔‘‘
کہ آپ نے اقامت دین کی دعوت دینی ہے اوراقامت دین کی دعوت میں اخلاص پیدا کرنا چاہیے۔ ہمارے اندر تعلق باللہ ہونا چاہیے، ہمارے اندر زہد وورع ہونا چاہیے اور اللہ رب العزت کی معیت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جیسا کہ فرمایا:
(توفیق خاص اور اعانت خاصہ کے ساتھ)
تقویٰ شعار بن جائیں اور زندگی کو احسان والی زندگی بنالیں اور تعلق باللہ کو اس سطح پر لے آئیں کہ
مصلح اور صالح اپنی زندگی کا مشن بنائیں کہ ہم نے اصلاح کرنی ہے اس وقت امت میں فساد بھی بڑا ہے اورافساد بھی بڑاہے۔ زمین فساد سے بھری ہوئی ہے۔ اس فساد وافساد کے دور کے اندر آپ کا کام اصلاح کرنا ہے۔ اصلاح کے کام کے لیے پہلے صالحیت ضروری ہے۔ اپنے آپ کو ٹھیک کریں اپنے آپ کو درست کریں۔
حکمت یہ ہے کہ انسان اپنے آپ سے شروع کرے اپنے آپ سے شروع کرے تو ان شاء اللہ
’’ بےشک میرا یارو مدد گار اللہ ہے، جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہی نیکوں کا یارو مدد گار بنتا ہے۔‘‘
اللہ رب العزت صالحین کا ولی ہے ، کارساز اورمددگار ہے اور نعم المولی ونعم النصیر،
یہ قرآن مجید کی راہنمائی ہے یہ ہدی للناس ہے اوربالخصوص ہدی للمتقین ہے۔ ھدی ورحمۃ للمحسنین ہے۔ قرآن کی راہنمائی میں رسول اللہ ﷺ کی سیرت اور سنت کی راہنمائی میں اورخلفائے راشدین کی زندگی سے راہنمائی لے کر ہمیں اپنا کام جاری رکھنا ہے اور ہمیں یہ جھنڈا گرنے نہیں دینا۔سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے میدان اُحد میں جھنڈا اٹھایا ہوا ایک ہاتھ کٹا تو دوسرے میں تھام لیا ، دوسرا کٹا تو دونوں کٹے ہوئے ہاتھوں میں جھنڈا پکڑلیا۔ اس دین کے جھنڈے کو اٹھائے رکھنا ہے۔لوگوں کے کا آنا جانا لگارہےگا۔
اور اگر اللہ کے راستے میں موت آجائے تو فرمان باری تعالیٰ کو یاد رکھیں:
’’ اور وہ شخص جو اللہ کے راستے میں ہجرت کرے، وہ زمین میں پناہ کی بہت سی جگہ اور بڑی وسعت پائے گا اور جو اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکلے، پھر اسے موت پالے تو بےشک اس کا اجر اللہ پر ثابت ہوگیا اور اللہ ہمیشہ سے بےحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘
’’اور بلاشبہ اگر تم مر جاؤ، یا قتل کیے جاؤ تو یقینا تم اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘
علم کا راستہ،تعلیم کا راستہ،اشاعت علم کا راستہ فی سبیل اللہ ہے۔رسول اللہ ﷺمعلم تھے، اسی راستے پہ نبی کریم لگے رہے۔
جذبات میں مت آئیں، جذباتی لوگ کہیں گے کہ سڑکوں پہ نکلیں اور یہ کردیں اور وہ کردیں۔یادرکھیں انقلاب والا لفظ صحیح لفظ نہیں ہے۔ انقلاب کا معنی تو پیچھے جانا ہوتاہے۔ دین میں انقلاب نہیں ہے دین میں اپنے آپ کو بدلنا ہے دین کے اندر دل کو بدلنا ہے، دین کے اندر اپنی زندگی کو بدلنا ہے، اور اسے برائی سے نیکی کی طرف لےکرآناہے یہ چیز انسان کو مٹی سے سونا بنادیتی ہے اورانسان کو خاک سےاکسیر بنادینے والی چیز ہے آپ نے اس چیز کے اوپر محنت کرنی ہے۔ یہ اہل علم کا کام ہے اس کو جاری رکھنا ہے اور یہ جامعہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نام سے منسوب ہے جس عزیمت اوراستقامت کے ساتھ اورصبر وثبات کے ساتھ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی خلافت کی ذمہ داری اٹھائی تھی اسی چیز کو سامنے رکھ کر آپ کو یہ ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔ اللہ رب العزت عزیز گرامی حافظ عبید اللہ صاحب اورعزیز گرامی محترم طاہر آصف صاحب اور ان کے رفقاء کی مدد فرمائے ، ان کی دستگیری اور راہنمائی فرمائے اورہمیشہ ان کو توفیق خاص سے نوازے اور آپ آپس میں مشاورت اور اجتماعیت کو لازم پکڑیں، طلبہ کی تربیت کا اہتمام کریں،نفلی روزے کا انتظام جاری رکھیں اوراس جامعہ کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے کے لیے اہل خیر سے بھی رابطہ رکھیں اوراہل علم وفہم کے ساتھ بھی رابطہ رکھیں۔ ان کی راہنمائی میں آگے چلیں اللہ رب العزت آپ کی حفاظت کرے اور آپ کو استقامت نصیب فرمائے۔ باری تعالیٰ اس جامعہ کو تقدّم، عروج، ازدھار،استمرار اوراستحکام نصیب فرمائے اورجو باتیں اس مجلس میں کی گئی ہیں کہنے اور سننے والوں کے لیے نافع بنائے۔
اللہ تعالیٰ علماء اور دین کے لیے کام کرنے والے اصحاب خیر کی حفاظت فرمائے، فتنے بہت زیادہ ہیں سازشیں بہت گہری ہیں لیکن
’’اور اگر تم صبر کرو اور ڈرتے رہو تو ان کی خفیہ تدبیر تمھیں کچھ نقصان نہیں پہنچائے گی۔‘‘(آل عمران:120)
صبراورتقوی وہ راستہ ہے جو ساری سازشوں کو ناکام کردیتاہے۔ اللہ تعالیٰ دینی اداروں اور افراد کے ساتھ جو سازشیں کی جاری ہیں اسے ناکام بنائے اور اسلام کو سربلند رکھے اورہمیں اسلام کو سربلند رکھنے والوں میں شامل فرمائے۔ آمین
حضرۃ الشیخ کے کلیدی خطاب کے اختتام پذیر ہوتے ہی نماز ظہر کا وقت ہوگیا تھا۔
نماز ظہر فضیلۃ الشیخ حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ کی اقتداء میں ادا کی گئی جس کے بعد معزز مہمانوں کے لیے پُر تکلف ظہرانے کا انتظام کیاگیا تھا۔ حسن انتظامات سے ظہرانے کا لطف دوبالا ہوگیا تھا،خوش گوار یادوں ، انمٹ نقوش اور منتظمین کے لیے ڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ یہ علمی،روحانی اور تربیتی مجلس بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوئی۔اللهم لك الحمد أولًا وآخرًا.
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…