کس کی ذمے داری ، کون جواب دہ؟

خبریں گردش میں ہیں کہ بھارتی ہوا باز تیسری باری میں اپنے مشن میں کامیاب ہو گئے۔۔۔

لیکن اس خبر کے ساتھ ہی ہمارے دیسی لبرلز کو ایک اور موضوع مل گیا ہے ، مسٹر اور ملا کی لکیریں کھینچنے والے ، یونیورسٹیز اور جامعات کے درمیان دوریاں پیدا کرنے والے ہمارے دیسی لبرلز ایک بار پھر طیش میں آ گئے ہیں کہ ملاؤں نے کیا کیا؟ ملک کو برباد کر کے رکھ دیا؟ ہم ذہنی پسماندگی کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔۔۔اور اس طرح کے بہت سے بے جا الزامات و اعتراضات۔۔۔۔

ایسا ہی اعتراض کسی بڑے محدث کی محفل میں بھی کیا گیا تھا کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ، اور آپ اب بھی بیٹھے بخاری مسلم کا درس دے رہے ہیں۔۔۔۔تو علامہ صاحب نے جوابا بڑی ہی خوبصورت بات کہی تھی کہ: «ہم تسلیم کرتے ہیں کہ وہ لوگ چاند تک پہنچ گئے ہیں لیکن ذرا خود ہی بتاؤ مخلوق سے مخلوق تک پہنچنا زیادہ بڑی بات ہے یا مخلوق سے خالق تک پہنچنا؟»

یقینا مخلوق سے خالق تک پہنچ جانا بڑا سفر ہے ، بڑی کامیابی ہے تو پھر کیوں ہم کسی کے مخلوق سے مخلوق تک پہنچنے پر خوش ہوں اور حالت یہ ہے کہ نہ ہی ہم نے مخلوق تک پہنچنے کی کوشش کی اور نہ ہی خالق تک پہنچنے میں کوئی دلچسپی لی۔

ایسے ہی ایک اعتراض کے جواب میں کسی نے بڑی خوبصورت بات کہی تھی کہ: «چلو انہوں نے جس کی محنت کی اسے پا لیا ، اور ہم جس کام کی محنت کر رہے ہیں ، ہمیں امید ہے کہ ہم بھی اس منزل کو پا لیں گے ، لیکن ذرا تم تو یہ بتاؤ کہ تم نے کیا کیا؟ نہ ہی تم چاند تک پہنچ پائے اور نہ ہی چاند کے مسجود تک پہنچنے کی کوشش کی۔ (خسر الدنیا والآخرۃ)

باقی رہا یہ سوال کہ کیا واقعی علماء اور مدارس نے ترقی کے میدانوں میں کوئی رکاوٹیں کھڑی کی ہوئی ہیں تو آئنہ دکھانے کیلئے ماضی قریب میں ہونے والے ایک ربوٹک مقابلے کا حوالہ دے دیتے ہیں (جسے ہمارے لبرل اور سیکولر ذہن رکھنے والوں نے دبانے کی بہت کوشش کی اور کوئی خبر کسی نیوز چینل پر بھی نہ چلنے دی) جس میں بیت السلام تلہ گنگ کے نونہالوں نے اسکولز ، کالجز اور یونیورسٹیز کے مقابلے میں آ کر «روبوٹس مقابلہ» جیتا ہے۔۔۔۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ تنگ نظری کا طعنہ دینے والے خود ایسے تنگ نظر ٹہرے کہ بجائے ان نونہالوں کو سراہنے کے اس مقابلے کا ذکر ہی کرنا بھول گئے۔۔۔۔۔

اور یہ تو صرف ایک مثال ہے کہ جب مدارس و جامعات کے طلبہ اس میدان میں اترے تو انہوں نے کیا کیا کارنامے انجام دئے اور کس کس طرح ملک و قوم کا نام روشن کیا ، اگر تاریخ کے جھروکوں میں جھانکا جائے تو ایسے بڑے بڑے کارنامے ہمیں مدارس و جامعات کے علماء و طلباء کے ہاتھوں سر انجام ہوتے ہوئے نظر آئیں گے۔۔۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایک سوال ہمارے دیسی لبرلز سے بنتا ہے کہ چلیں اگر آپ کا اعتراض مان لیں کہ علماء نے قدغن لگائی ہوئی ہے اور وہ مدارس و جامعات میں طلبہ کو سائنس و ٹیکنالوجی کے فنون سے آشنا نہیں کرواتے تو ہم اتنا پوچھنے کا حق تو رکھتے ہیں کہ پھر وہ جس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں کیا وہ ذمے داری صحیح سے ادا کر رہے ہیں ، یعنی قرآن و حدیث اور فقہ و اصول جیسے علوم و فنون میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں؟ تو یقینا کسی کو بھی اس میں دو رائے نہ ہوں گی اور سب ہی یک زباں ہو کر تسلیم کریں گے۔۔

پھر ایک سوال ہم دیسی لبرلز سے یہ بھی پوچھ لیتے ہیں کہ قریب ہی مشہور ہونے والی ہماری بہاولپور کی ایک یونیورسٹی کے تین کیمپسوں میں جب طلبہ کی تعداد دیکھی گئی تو وہ کوئی ارسٹھ ہزار (68000) طلبہ ہیں جو سو سے زائد مختلف شعبہ جات (فیکلٹیز) میں زیر تعلیم ہیں۔۔۔۔اب آپ ہی بتائیں کہ یہ صرف ایک یونیورسٹی کے طلبہ کی تعداد اور اس کے شعبہ جات ہیں تو دیجئے جواب کہ علماء تو اپنی ذمے داریاں ادا کر رہے ہیں لیکن یہ یونیورسٹیاں کیا کردار ادا کر رہی ہیں؟

خلا بازی کا فن ہو یا زمین کو سر کرنے کی بات ہو ان کی تعلیم ہمارے ہاں بھی دی جا رہی ہے ، کروڑوں ، اربوں روپے ان فنون پر خرچ کئے جا رہے ہیں تو پھر نتائج کیوں نہیں؟ کس عالم نے یونیورسٹی میں آ کر آپ کو روکا ہے؟ کس مدرسے نے آپ کے فنڈ میں سے کچھ حصہ اپنے نام کروایا ہے؟

کیا ہے کوئی جواب؟یا پھر آپ کی کارکردگی صفر در صفر ہے اور آپ اس کارکردگی کو چھپانے کیلئے مدارس و جامعات پر تنقید برائے تنقید کئے جا رہے ہیں کہ انگلیاں کہیں آپ کی طرف نہ اٹھ جائیں ، سوالات کا رخ آپ کی طرف نہ ہو جائے؟

سوچئے گا ضرور کہ کس کی کیا ذمے داری تھی اور کس کے سر اس ذمے داری کی عدم ادائیگی کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے؟

admin

Share
Published by
admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago