سفید داڑھی،سرپر سرخ رومال، آنکھوں پر نظر کا چشمہ، میانہ قد، تھوڑا سا بھاری جسم، جھکی ہوئی نظریں، چہرے سے ٹپکتا ہوا علمی وقار، سادہ اطوار، بااخلاق اورطالبان علوم نبوت سے محبت کرنے والے یہ تھے۔ شیخ محمد احمد سندھی صاحب ۔
محمد بن احمد سندھی 1947ء گوٹھ چناری شریف نزد دریاخان مری (کوٹ لالو) ضلع نوشہروفیروز میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق مورجو قبیلے سے تھا۔
پرائمری اول کلاس اورابتدائی ناظرہ قرآن مجید اپنے آبائی گاؤں میں پڑھا۔ اس کے بعد مدینہ منورہ چلے گئے اورمدینہ منورہ میں پرائمری تعلیم کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اعدادی چار سال، دار الحدیث مدینہ منورہ میں اورثانویہ تا عالیہ تعلیم حاصل کی بعد ازاں 1398ھ میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے کلیۃ الدعوۃ واصول الدین سے سند فراغت حاصل کی۔
شیخ محمد احمد سندھی نے بہت سے اساطین علم سے کسب فیض کیا۔ ان میں سے صرف چند کے اسماء گرامی مل سکے ہیں۔ شیخ محمد عمر فلاتہ، شیخ محمد مراد بلوچی، شیخ محمد ثانی افریقی
شیخ محمد احمد سندھی کو دار الافتاء والارشاد کی طرف سے 1398ھ میں مبعوث کرکے بھیجا گیا۔ اس وقت دار الافتاء والارشاد کے سربراہ مفتی اعظم شیخ ابن باز رحمہ اللہ (متوفی 13مئی 1999ء) تھے۔
آپ نے تدریس کا آغاز دار العلوم غواڑی بلتستان سے کیا۔ پانچ سال تک وہاں تدریس کرتے رہے۔ 1403ھ میں دار العلوم منصورہ ضلع مٹیاری سندھ آگئے اور وہاں پر گیارہ سال تدریسی فرائض سرانجام دیتے رہے۔1414ھ میں دریاخان مری ضلع نوشہروفیروز تشریف لے آئے۔(یہ مدرسہ مولوی عبدالرحمن خاصخیلی کا ہے)۔ 1996ء میں مدرسہ شمس العلوم کھرڑا ضلع خیرپور میرس چلے گئے۔1996ء میں وسطی سندھ میں مسلک اہل حدیث کی درسگاہ مدرسہ دار القرآن والحدیث بھریا روڈ ضلع نوشہروفیروز ہماری درخواست پر تشریف لے آئے۔ 2007ء میں مدرسہ تعلیم القرآن پھل ضلع نوشہروفیروز چلے گئے اور 2011ء میں ریٹائرہوگئے۔آپ نے تقریباً 35 سال تدریس کی اور آپ سے بلاشبہ ہزاروں متلاشیان علم نے استفادہ کیا۔
جس دور میں آپ مدرسہ دار القرآن والحدیث بھریاروڈ میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ راقم الحروف بھی وہاں پر تدریسی خدمات پر مأمور تھا اگر کبھی کوئی عربی عبارت سمجھنے میں کوئی مشکل پیش آتی تو بلاجھجھک آپ کے پاس پہنچ جاتا تو آپ بڑے احسن انداز میں عبارت حل کردیتے۔ آپ بتایا کرتے تھے کہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ان کا اور علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید (1987ء) کا ایک ہی دور تھا اور ہمیں عربی پر بڑا عبور حاصل تھا لہٰذا ہماری گفتگو بھی عربی میں ہوا کرتی تھی۔
شیخ محمد احمد سندھی صاحب سے بلامبالغہ ہزاروں طلباء نے تعلیمی حظ اٹھایا جن کا احصاء ممکن نہیں ہے۔ آپ سے دار العلوم غواڑی بلتستان میں تعلیم حاصل کرنے والوں میں سے ایک میرے استاذ محترم نمونہ سلف شیخ ابو عبد المجید بلتستانی صاحب حفظہ اللہ بھی ہیں۔ (شیخ محترم سے راقم نے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں سیرت النبی ﷺ پڑھی ہے) مدرسہ دار القرآن والحدیث بھریا روڈ ضلع نوشہروفیروز میں آپ کے سامنے زانوائے تلمذکرنے والوں میں سے مولانا خلیل الرحمن بصری، مولانا عبد الغفار ناصر، مولانا محمدسرور، حافظ سیف اللہ سیف، مولانا سیف الرحمن آرائیں، مولانا فتاح اللہ جمالی، مولانا محمد اختر خاصخیلی، مولانا سیف اللہ بھٹو، مولانا عبد الوہاب چنہ، ماسٹر اختر علی، حافظ محمد رمضان کمبوہ ودیگر شامل ہیں۔
تدریس کے علاوہ آپ مختلف مساجد میں خطبات جمعہ اوردرس قرآن مجید بھی دیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ آپ نے مختلف موضوعات پر مضامین بھی لکھے ہیں۔
شیخ محمد احمد سندھی رحمہ اللہ نے دوشادیاں کیں تھیں، جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو چھ بیٹے اور چھ بیٹیاں عطا فرمائیں۔ ایک بیٹا آپ کی زندگی میں ہی فوت ہوگیا تھا۔
شیخ محمد احمد سندھی نے مورخہ 28 ستمبر 2023ء بروز جمعرات صبح کے وقت اپنے آبائی گاؤں چناری شریف میں وفات پائی۔ مولانا محمد شفیق عاجز نے نماز جنازہ پڑھائی اورمقامی قبرستان میں آپ کو دفن کر دیاگیا۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…