شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی محتاج تعارف نہیں۔ مولانا جانباز بیک وقت مفسر بھی تھے ، اور محدث بھی ، مورخ بھی تھے، اور محقق بھی، مصنف بھی تھے اور صحافی بھی ، ادیب بھی تھے اور نقاد بھی ، معلم بھی تھے اور متکلم بھی ، دانشور بھی تھے اور مبصر بھی مفتی بھی تھے اور جیّد عالم دین بھی آپ کا شمار پاکستان کے قابل فخر علمائے کرام میں ہوتا تھا۔
مولانا جانباز رحمہ اللہ جیسی عظیم شخصیت ،سراپا اخلاص وشفقت بزرگ، ملک وملت کے درد مند، دینی وملّی ومذہبی رہنما کی وفات ایسا المناک حادثہ ہے جس پر ہر درد مند دل افسردہ ومغموم ہے ان کے انتقال سے جماعت اہلحدیث پاکستان ایک عظیم دینی وعلمی شخصیت سے محروم ہوگئی ہے۔ آپ کی ذات گرامی قدیم روایات صالحہ کی قیمتی یادگار تھی۔ ان کی شخصیت اس قدر ہمہ گیر اور ہمہ صفت تھی جس کی مثال شاید اس زمانے میں ناپید ہے۔ ان کی ذات خود ایک انجمن تھی اور ایسی عظیم المرتبت شخصیتوں کے بارے میں شاعرِ مشرق نے فرمایا تھا۔
ہزاروں سال نرگس اپنی نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
مولانا جانباز علوم اسلامیہ کا بحر زخّار تھے ، تمام علوم پر ان کو مہارت حاصل تھی ۔ حدیث ، اسماء الرجال اور تاریخ پر ان کو عبور کامل تھا۔ فقہ المذاہب الاربعہ پر بھی ان کا مطالعہ وسیع تھا۔ فتاویٰ نویسی میں بھی ان کو ید طولیٰ حاصل تھا۔ ان کے فتاویٰ خالص کتاب وسنت کی روشنی میں ہوتے تھے۔
اخلاق وعادات سے مولانا جانباز اعلیٰ اوصاف کے مالک تھے، بہت زیادہ متواضع ،شریف الطبع اور محبت رکھنے والے انسان تھے ۔ دوستوں کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے اور حاجت مندوں کی ضرورت پوری کرتے تھے۔ اس کے ساتھ بہت زیادہ خوددار بھی تھے ۔عفاف واستغناء کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوٹا۔ جاہ وریاست کے طالب نہ تھے اور اپنی قیمت پہچانتے تھے۔
میرا ان سے ۱۹۸۰ء سے تعلق تھا ۔ ہرماہ دوماہ بعد ان سے ملاقات ہوتی تھی۔ بڑی محبت اور شفقت سے ملتے، اور مہمان نوازی میں کوئی کسر نہ چھوڑتے اس میں مبالغہ آرائی نہیں ، بلکہ حقیقت ہے کہ ’’میں نے علماء میں ایسا شریف ، ایسا نیک باطن، ایسا دور اندیش،ایسافیاض ، ایساسادہ مزاج، ایسامستقل مزاج ، ایساخوش اخلاق ، ایساشرم گفتار ، باغ وبہار ، ایسا خشک اور ایسا تر آدمی نہیں دیکھا۔ ایسا متقی وپرہیزگار اور ایسا وسیع المشرب اور وسیع الاخلاق وہ ومذہبی تھے اور سخت مذہبی۔
مولانا جانباز اس دور قحط الرجال میں گوہر شب چراغ تھے ان کی رحلت سے پاکستان کی جماعت اہلحدیث کو جو عظیم نقصان ہوا ہے۔ اس کی تلافی ناممکن ہے۔
اب نہ آئے گا نظر ایسا کمال علم وفن
گوبہت آئیں گے دنیا میں رجال علم وفن
مولانا جانباز کی دینی وتعلیمی اور علمی خدمات بہت زیادہ ہیں ان کا عظیم علمی کارنامہ سنن ابن ماجہ کی شرح ’’انجاز الحاجہ‘‘ (عربی)جو (۱۲) جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔ لائق ستائش ہے ، بقول پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی صاحب مولانا جانباز نے یہ شرح لکھ کر اپنے آپ کو محدثین کی جماعت میں شامل کرلیا ہے۔ ان کا یہ کارنامہ قیامت تک ان کیلئے خیر وبرکت کا باعث ہوگا اور ان شاء اللہ العزیز ذریعہ نجات ہوگا۔
مدت کے بعد ہوتے ہیں پیدا کہیں وہ لو گ
مٹتے نہیں ہیں دیر سے جن کے نشان کبھی
مولانا محمد علی جانبازبن حاجی نظام الدین ۱۹۳۴ء میں مشرقی پنجاب کے ضلع فیروزپور کے قصبہ چک بدھو میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کا آغاز قرآن مجید سے کیا ، اور قرآن مجید آپ نے اپنے قصبہ کے مولانا محمد رحمانی سے پڑھا جو دارالحدیث رحمانیہ دہلی کے فارغ التحصیل تھے ۔ اس کے بعد آپ نے دینی تعلیم جن دینی مدارس سے حاصل کی ۔ ان کی تفصیل یہ ہے۔
| ۱ | دار الحدیث راجو وال |
| ۲ | مدرسہ تعلیم الاسلام اوڈانوالہ |
| ۳ | دار الحدیث منافیہ وزیر آباد |
| ۴ | جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ |
| ۵ | جامعہ سلفیہ فیصل آباد |
مولانا جانباز نے جن اساتذہ سے علوم اسلامیہ کی تکمیل کی ۔ ان کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
| ۱ | مولانا محمد رحمانی |
| ۲ | مولانا پیر محمد یعقوب قریشی |
| ۳ | مولانا محمد صادق خلیل |
| ۴ | مولانا محمد عبد اللہ مظفر گڑھی |
| ۵ | مولانا ابوالبرکات احمد |
| ۶ | مولانا پروفیسر غلام احمد حریری |
| ۷ | مولانا شریف اللہ خاں سورتی |
| ۸ | حضرت العلام شیخ العرب والعجم حافظ محمد محدث گوندلوی رحمہم اللہ جمیعاً |
۱۹۵۷ء میں جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ سے فارغ ہوئے اور ۱۹۵۸ء میں جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے سند فراغت حاصل کی۔
۱۹۵۹ء میں شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کی سفارش پر جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں تدریس پرمامور ہوئے اور اس کے بعد جامعہ سلفیہ کے کتب خانہ کی ترتیب اور اساتذہ کی تنخواہوں اور دوسرے جملہ انتظامی امور بھی آپ کے سپرد تھے۔ ۱۹۶۲ء تک آپ جامعہ سلفیہ سے منسلک رہے۔
۱۹۶۲ء میں مولانا حافظ محمد شریف کی درخواست پر سیالکوٹ تشریف لائے ، اور جامع مسجد اہلحدیث ڈپٹی باغ میں خطابت کے علاوہ درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا ۔ ۱۹۶۴ء میں جامعہ ابراہیمہ (اب جامعہ رحمانیہ) میں تدریس پر مامور ہوئے، اور وفات تک آپ اس مدرسہ میں تدریس فرماتے رہے۔ اس مدرسہ میں آپ کے معاون مولانا عطاء الرحمان اشرف حفظہ اللہ تھے۔
مولانا جانبازایک کامیاب مصنف بھی تھے ، آپ نے مختلف موضوعات پر چھوٹی بڑی (۳۰) کتابیں لکھی ہیں۔ جن کے نام درج ذیل ہیں:
| ۱ | انجاز الحاجہ شرح سنن ابن ماجہ (عربی) (۱۲) |
| ۲ | اہمیت نماز |
| ۳ | صلوٰۃ مصطفی ﷺ |
| ۴ | معراج مصطفیﷺ |
| ۵ | آل مصطفیﷺ |
| ۶ | احکام سفر |
| ۷ | حرمت متعہ |
| ۸ | عورت کا سیاست میں حصہ لینے کی شرعی حیثیت |
| ۹ | احکام دعا اور توسل |
| ۱۰ | نفحات العطر فی تحقیق مسائل عید الفطر |
| ۱۱ | ارکان اسلام |
| ۱۲ | توہین رسالت کی شرعی سزا |
| ۱۳ | تحفۃالوریٰ فی مسائل عید الاضحی |
| ۱۴ | دوران خطبہ دورکعت پڑھنے کا حکم |
| ۱۵ | صفات المؤمنین |
| ۱۶ | احکام نکاح |
| ۱۷ | احکام طلاق |
| ۱۸ | حرمت متعہ بجواب حلتِ متعہ |
| ۱۹ | اسلام میں صلہ رحمی کی اہمیت |
| ۲۰ | احکام عدت |
| ۲۱ | احکام وقف وہبہ |
| ۲۲ | احکام قسم ونذر |
| ۲۳ | رزق حلال اور رشوت |
| ۲۴ | تحریک پاکستان اور موجودہ حکمران |
| ۲۵ | ووٹ کی شرعی حیثیت |
| ۲۶ | مشورہ اور استخارہ کی شرعی حیثیت |
| ۲۷ | رمضان کیسے گزاریں؟ |
| ۲۸ | شرح اربعین ابراہیمی |
| ۲۹ | شرح اربعین ثنائیہ |
| ۳۰ | شرح نخبۃ الاحادیث مولانا سید محمد داؤد غزنوی رحمہ اللہ |
مولانا جانباز تقریباً ۴ ماہ علیل رہے آخر آپ نے ۱۴ ذی الحجہ ۱۴۲۹ھ مطابق ۱۳ دسمبر ۲۰۰۸ء کو ۷۴ برس کی عمر میں رحلت فرمائی۔ پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی نے نماز جنازہ پڑھائی اور قبرستان حسین شاہ میں دفن ہوئے۔ اللہم اغفرہ وارحمہ ووسع مدخلہ ۔ آمین
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…