Categories: جنوری2009

آہ ……شیخ الحدیث محمد علی جانباز بھی داغ مفارقت دے گئے

شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی محتاج تعارف نہیں۔ مولانا جانباز بیک وقت مفسر بھی تھے ، اور محدث بھی ، مورخ بھی تھے، اور محقق بھی، مصنف بھی تھے اور صحافی بھی ، ادیب بھی تھے اور نقاد بھی ، معلم بھی تھے اور متکلم بھی ، دانشور بھی تھے اور مبصر بھی مفتی بھی تھے اور جیّد عالم دین بھی آپ کا شمار پاکستان کے قابل فخر علمائے کرام میں ہوتا تھا۔

مولانا جانباز رحمہ اللہ جیسی عظیم شخصیت ،سراپا اخلاص وشفقت بزرگ، ملک وملت کے درد مند، دینی وملّی ومذہبی رہنما کی وفات ایسا المناک حادثہ ہے جس پر ہر درد مند دل افسردہ ومغموم ہے ان کے انتقال سے جماعت اہلحدیث پاکستان ایک عظیم دینی وعلمی شخصیت سے محروم ہوگئی ہے۔ آپ کی ذات گرامی قدیم روایات صالحہ کی قیمتی یادگار تھی۔ ان کی شخصیت اس قدر ہمہ گیر اور ہمہ صفت تھی جس کی مثال شاید اس زمانے میں ناپید ہے۔ ان کی ذات خود ایک انجمن تھی اور ایسی عظیم المرتبت شخصیتوں کے بارے میں شاعرِ مشرق نے فرمایا تھا۔

ہزاروں سال نرگس اپنی نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

مولانا جانباز  علوم اسلامیہ کا بحر زخّار تھے ، تمام علوم پر ان کو مہارت حاصل تھی ۔ حدیث ، اسماء الرجال اور تاریخ پر ان کو عبور کامل تھا۔ فقہ المذاہب الاربعہ پر بھی ان کا مطالعہ وسیع تھا۔ فتاویٰ نویسی میں بھی ان کو ید طولیٰ حاصل تھا۔ ان کے فتاویٰ خالص کتاب وسنت کی روشنی میں ہوتے تھے۔

اخلاق وعادات سے مولانا جانباز اعلیٰ اوصاف کے مالک تھے، بہت زیادہ متواضع ،شریف الطبع اور محبت رکھنے والے انسان تھے ۔ دوستوں کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے اور حاجت مندوں کی ضرورت پوری کرتے تھے۔ اس کے ساتھ بہت زیادہ خوددار بھی تھے ۔عفاف واستغناء کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوٹا۔ جاہ وریاست کے طالب نہ تھے اور اپنی قیمت پہچانتے تھے۔

میرا ان سے ۱۹۸۰؁ء سے تعلق تھا ۔ ہرماہ دوماہ بعد ان سے ملاقات ہوتی تھی۔ بڑی محبت اور شفقت سے ملتے، اور مہمان نوازی میں کوئی کسر نہ چھوڑتے اس میں مبالغہ آرائی نہیں ، بلکہ حقیقت ہے کہ ’’میں نے علماء میں ایسا شریف ، ایسا نیک باطن، ایسا     دور اندیش،ایسافیاض ، ایساسادہ مزاج، ایسامستقل مزاج ، ایساخوش اخلاق ، ایساشرم گفتار ، باغ وبہار ، ایسا خشک اور ایسا تر آدمی نہیں دیکھا۔ ایسا متقی وپرہیزگار اور ایسا وسیع المشرب اور وسیع الاخلاق وہ ومذہبی تھے اور سخت مذہبی۔

مولانا جانباز اس دور قحط الرجال میں گوہر شب چراغ تھے ان کی رحلت سے پاکستان کی جماعت اہلحدیث کو جو عظیم نقصان ہوا ہے۔ اس کی تلافی ناممکن ہے۔

اب نہ آئے گا نظر ایسا کمال علم وفن

گوبہت آئیں گے دنیا میں رجال علم وفن

مولانا جانباز کی دینی وتعلیمی اور علمی خدمات بہت زیادہ ہیں ان کا عظیم علمی کارنامہ سنن ابن ماجہ کی شرح ’’انجاز الحاجہ‘‘ (عربی)جو (۱۲) جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔ لائق ستائش ہے ، بقول پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی صاحب مولانا جانباز نے یہ شرح لکھ کر اپنے آپ کو محدثین کی جماعت میں شامل کرلیا ہے۔ ان کا یہ کارنامہ قیامت تک ان کیلئے خیر وبرکت کا باعث ہوگا اور ان شاء اللہ العزیز ذریعہ نجات ہوگا۔

مدت کے بعد ہوتے ہیں پیدا کہیں وہ لو گ

مٹتے نہیں ہیں دیر سے جن کے نشان کبھی

حالات زندگی

مولانا محمد علی جانبازبن حاجی نظام الدین ۱۹۳۴؁ء میں مشرقی پنجاب کے ضلع فیروزپور کے قصبہ چک بدھو میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کا آغاز قرآن مجید سے کیا ، اور قرآن مجید آپ نے اپنے قصبہ کے مولانا محمد رحمانی سے پڑھا جو دارالحدیث رحمانیہ دہلی کے فارغ التحصیل تھے ۔ اس کے بعد آپ نے دینی تعلیم جن دینی مدارس سے حاصل کی ۔ ان کی تفصیل یہ ہے۔

۱دار الحدیث راجو وال
۲مدرسہ تعلیم الاسلام اوڈانوالہ
۳دار الحدیث منافیہ وزیر آباد
۴ جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ
۵جامعہ سلفیہ فیصل آباد

اساتذہ کرام

مولانا جانباز نے جن اساتذہ سے علوم اسلامیہ کی تکمیل کی ۔ ان کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:

۱مولانا محمد رحمانی
۲مولانا پیر محمد یعقوب قریشی
۳مولانا محمد صادق خلیل
۴مولانا محمد عبد اللہ مظفر گڑھی
۵مولانا ابوالبرکات احمد
۶مولانا پروفیسر غلام احمد حریری
۷مولانا شریف اللہ خاں سورتی
۸حضرت العلام شیخ العرب والعجم حافظ محمد محدث گوندلوی رحمہم اللہ جمیعاً

فراغت تعلیم

۱۹۵۷؁ء میں جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ سے فارغ ہوئے اور ۱۹۵۸؁ء میں جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے سند فراغت حاصل کی۔

تدریسی خدمات

۱۹۵۹؁ء میں شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کی سفارش پر جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں تدریس پرمامور ہوئے اور اس کے بعد جامعہ سلفیہ کے کتب خانہ کی ترتیب اور اساتذہ کی تنخواہوں اور دوسرے جملہ انتظامی امور بھی آپ کے سپرد تھے۔ ۱۹۶۲؁ء تک آپ جامعہ سلفیہ سے منسلک رہے۔

سیالکوٹ آمد

۱۹۶۲؁ء میں مولانا حافظ محمد شریف کی درخواست پر سیالکوٹ تشریف لائے ، اور جامع مسجد اہلحدیث ڈپٹی باغ میں خطابت کے علاوہ درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا ۔ ۱۹۶۴؁ء میں جامعہ ابراہیمہ (اب جامعہ رحمانیہ) میں تدریس پر مامور ہوئے، اور وفات تک آپ اس مدرسہ میں تدریس فرماتے رہے۔ اس مدرسہ میں آپ کے معاون مولانا عطاء الرحمان اشرف حفظہ اللہ تھے۔

تصانیف

مولانا جانبازایک کامیاب مصنف بھی تھے ، آپ نے مختلف موضوعات پر چھوٹی بڑی (۳۰) کتابیں لکھی ہیں۔ جن کے نام درج ذیل ہیں:

۱انجاز الحاجہ شرح سنن ابن ماجہ (عربی) (۱۲)
۲اہمیت نماز
۳صلوٰۃ مصطفی ﷺ
۴معراج مصطفیﷺ
۵آل مصطفیﷺ
۶احکام سفر
۷حرمت متعہ
۸عورت کا سیاست میں حصہ لینے کی شرعی حیثیت
۹احکام دعا اور توسل
۱۰نفحات العطر فی تحقیق مسائل عید الفطر
۱۱ارکان اسلام
۱۲توہین رسالت کی شرعی سزا
۱۳تحفۃالوریٰ فی مسائل عید الاضحی
۱۴دوران خطبہ دورکعت پڑھنے کا حکم
۱۵صفات المؤمنین
۱۶احکام نکاح
۱۷احکام طلاق
۱۸حرمت متعہ بجواب حلتِ متعہ
۱۹اسلام میں صلہ رحمی کی اہمیت
۲۰احکام عدت
۲۱احکام وقف وہبہ
۲۲احکام قسم ونذر
۲۳رزق حلال اور رشوت
۲۴تحریک پاکستان اور موجودہ حکمران
۲۵ووٹ کی شرعی حیثیت
۲۶مشورہ اور استخارہ کی شرعی حیثیت
۲۷رمضان کیسے گزاریں؟
۲۸شرح اربعین ابراہیمی
۲۹شرح اربعین ثنائیہ
۳۰شرح نخبۃ الاحادیث مولانا سید محمد داؤد غزنوی رحمہ اللہ

وفات

مولانا جانباز تقریباً ۴ ماہ علیل رہے آخر آپ نے ۱۴ ذی الحجہ ۱۴۲۹؁ھ مطابق ۱۳ دسمبر ۲۰۰۸؁ء کو ۷۴ برس کی عمر میں رحلت فرمائی۔ پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی نے نماز جنازہ پڑھائی اور قبرستان حسین شاہ میں دفن ہوئے۔ اللہم اغفرہ وارحمہ ووسع مدخلہ ۔ آمین

عبدالرشید عراقی

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago