Categories: جنوری2009

نکاح کے لیے ولی کی شرعی حیثیت

اسلام انسان کی فطرت کو مہذب بناکر اسے انسانیت کی حقیقی رفعتوں سے آشنا کرتا ہے ۔ بہیمیت و درندگی جیسے رذیلانہ خصائص سے پاک کرتا ہے ۔ اسلام نے انسان کو کسی مقام پر بھی تنہا نہیں چھوڑا ۔ اس کے گوشۂ زندگی کے ہر مسئلے کا حل پیش کیا ہے اوریہ حل اس قدر حکیمانہ ہے کہ ذہنِ انسانی میں پیدا ہونے والے ہر شک اور خلفشار بپا کرنے والی ہر الجھن کا جواب بھی اسلام ہی دیتا ہے ۔ آج تعمّقِ فکر کی حامل نگاہیں مطلوب ہیں جو ’’ صاحبانِ اشرار ‘‘ کے اذہان میں پیدا ہونے والے اعتراضات کی اصل جڑ کو ملاحظہ کرلیں ۔ ایسے حکیمانہ دماغ درکار ہیں جو مخالفینِ اسلام کے تمام دلائل کے تار وپود بکھیر کر رکھ دیں اور ایسا کرنے کے لیے انہیں ’’ حسبنا کتاب اللہ و سنّت رسول اللہ ﷺ بود ۔‘‘

نکاح انسان کی معاشرتی و تمدنی ضرورت ہے ۔ یہ ایجاب و قبول کا ایسا معاہدہ ہے جو مرد و زن کے مابین باہم طے پاتا ہے ۔ اسلام اس اخلاقی معاہدے سے متعلق کیا نقطۂ نظر رکھتا ہے ۔ کیا مرد و عورت محض ایجاب و قبول کے ذریعے ایک دوسرے کے شریکِ سفر بن سکتے ہیں ؟ کیا انہیں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے ؟ اور اگر ہے تو کیا ان کا اجازت کنندہ ان کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ ان کی مرضی کے بغیر کرسکتا ہے ؟ولی ( سرپرست /اجازت کنندہ ) کے اختیارات کے حدود و دوائر کیا ہیں؟

زیرِ نظر مقالے میں انہی مسائل کا جائزہ کتاب و سنّت کی روشنی میں لیا گیا ہے ۔ اس میں واضح طور پر دو پہلوئوں کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے :

(۱) ولی کون ہے ؟ کیا ولایت کسی دوسرے کی طرف منتقل بھی ہوسکتی ہے ؟

(۲)ولی کی اجازت نکاح میں کس قدر مؤثر ہے ؟

ولی کون ہے؟ اور اس کی ولایت کی حدود

ولی کے لغوی معنی قریب ہونا ، حفاظت کرنا، دوست ، محسن و مربی اور مددگار کے ہیں ۔ تاہم معاملاتِ عقد ونکاح میں ولی سے مراد لڑکی کا قریب ترین عاقل بالغ مسلمان رشتہ دار ہے مثلاً باپ ، دادا، بھائی ……..

امام ابو الطیب شمس الحق عظیم آبادی لکھتے ہیں:

’’ المراد بالولی ھو الاقرب من العصبۃ من النسب ثم من السبب ثم من عصبتہ و لیس لذوی السھام ، و لا لذوی الارحام ولایۃ ، و ھذا مذھب الجمھور ۔‘‘]عون المعبود :۲/۱۹۰[

اگر کسی لڑکی کا کوئی ولی نہ ہو تو فرمانِ رسالت مآب ﷺ کے مطابق :

’’ فالسلطان ولیّ من لا ولی لہ ۔‘‘]سنن ابی داود ، کتاب النکاح ، باب فی الولی[

’’جس کا کوئی ولی نہ ہو تو سلطان ( اولو الامر ) اس کا ولی ہوگا۔ ‘‘

ولی لڑکی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کرسکتا ۔ نکاح میں لڑکی کی رضامندی لازم ہے ۔ اگر ولی لڑکی کی نکاح کی راہ میں مانع ہو ( یعنی نکاح کروانا ہی نہ چاہتا ہو ) تو اس صورت میں لڑکی کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دیگر قریب ترین اعزہ میں سے کسی کو اپنا ولی مقرر کرکے نکاح کرلے ۔

اگر ولی فاسق ہو تو اس کا فسق مانعِ ولایت ہو گا یا نہیں؟ اس میں ائمہ کرام کے مابین اختلاف ہے ’’ رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ‘‘میں ہے:

’’ ولا ولایۃ للفاسق عند الشافعی و أحمد و قال ابو حنیفہ و مالک: الفسق  لا یمنع الولایۃ۔‘‘]بحوالہ فتاویٰ الشیخ شمس الحق عظیم آبادی :۸۶[

ترجمہ :’’ امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک فاسق کو ولایت کا حق حاصل نہیں ۔امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اورامام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیںکہ ولایت کے لیے فسق مانع نہیں ہے۔‘‘

جہاں تک امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق ہے تو چونکہ ان کے نزدیک نکاح کے لیے ولی کی اجازت ضروری ہی نہیں اس لیے حنفی نقطۂ نظر سے ولی فاسق ہو یا متقی یہ بحث لایعنی ہے ۔ احادیثِ صحیحہ کی رُو سے فاسق درجۂ ولایت سے معزول ہوجاتا ہے اور نکاح کے لیے اس کے اذن کی کوئی حیثیت نہیں رہتی ۔ تاہم ایسی صورت میں بھی لڑکی خود مختار نہیں ہوسکتی بلکہ یہ ولایت اس کے دوسرے قریبی عزیز کی طرف منتقل ہوجائے گی ۔ امام خطیب الشربینی الشافعی ’’ مغنی المحتاج شرح المنہاج ‘‘ میں رقمطراز ہیں:

’’  ولا ولایۃ لفاسق علی المذہب ، بل تنتقل الولایۃ للابعد، لحدیث ’’لانکاح الابولی مرشد‘‘ رواہ الشافعی فی مسندہ  بسند صحیح۔ وقال ا لأمام احمد: انہ اصح شئی فی الباب۔ و نقل عن الشافعی فی البویطی أنہ قال: المر اد بالمرشد فی الحدیث العدل۔‘‘]بحوالہ فتاویٰ الشیخ شمس الحق عظیم آبادی :۸۵[

ترجمہ :’’مذہب میں کسی فاسق کو ولایت کا حق حاصل نہیں ہے، بلکہ ایسی صورت میں ولایت دوسرے رشتہ دار کو منتقل ہوجائے گی۔ اس حدیث کی بنیاد پر کہ’’ ولی مرشد (نیک ولی) کے بغیرنکاح درست نہیں ہے ۔‘‘ اس کی روایت شافعی نے اپنی مسند میں بسند صحیح کی ہے۔ اورامام احمد نے کہا ہے کہ اس باب میں یہ سب سے صحیح   (روایت )ہے۔ بویطی میں شافعی سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا کہ مرشد سے مراد حدیث میں عدل ہے یعنی ایسا شریف اور معزز شخص جس کی گواہی قابل قبول ہو ۔‘‘

حاصلِ کلام ولی لڑکی کا قریب ترین مرد رشتے دار ہے جس کے لیے لازم ہے کہ وہ عاقل ، بالغ ، آزاد اور مسلمان ہو۔ اگر لڑکی کا ولی فاسق یا بد کار ہو یا مانعِ نکاح ہو تو یہ ولایت دوسرے مرد رشتے دار کی طرف منتقل ہوجائے گی ۔ تاہم اس صورت میں بھی لڑکی ہر کس و ناکس کو اپنا ولی مقرر نہیں کرسکتی ہے بلکہ شریعت کے مطابق ولایت کا حق جسے پہنچتا ہے وہی ولی بنے گا۔مثلاً باپ مانعِ نکاح ہے تو لڑکی کا بھائی ولی بنے اسی طرح ترتیب وار لڑکی کے قریب ترین مرد رشتے دار ولایت کا حق رکھتے ہیں ۔ لیکن اگر باپ مانعِ نکاح نہیں بلکہ محض کسی رشتے کا مخالف ہے تو اس سے اس کی ولایت پر کچھ فرق نہیں پڑتا ۔ شریعت نے ان مسائل کا حل حکیمانہ اصول و ضوابط پر مقرر کیا ہے اس میں ذاتی اغراض و مقاصد کی آمیزش مبتلائے معصیت کرسکتی ہے ۔

نکاح میں ولی کی حیثیت

نکاح میں ولی کی اجازت سے متعلق مجتہدینِ کرام کے درمیان تین مسلک ہیں:

پہلا مسلک

عورت خواہ کنواری ہو یا بیوہ/مطلقہ اپنا نکاح از خود بلا اذنِ ولی کرسکتی ہے۔یہ مسلک احناف اور اہلِ تشیع کا ہے۔ان کا استدلال قرآن کریم کی حسبِ ذیل آیات سے ہے:

{ فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا  تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہٗ }]سورۃ البقرۃ :۲۳۰[

ترجمہ:’’پھر اگر اس کو ( تیسری بار )طلاق دیدے تو اب اس کے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ عورت اس کے سوادوسرے سے نکاح کرلے ۔‘‘

{ وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْاھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ }]سورۃ البقرۃ :۲۳۲[

ترجمہ:’’اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو انہیں ان کے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جبکہ وہ آپس میں دستور کے مطابق رضامند ہوں۔‘‘

{ وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجاً یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ وَّ عَشْراً فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْ اَنْفُسِھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ } ]سورۃ البقرۃ :۲۳۴[

ترجمہ:’’تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں ، وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں۔ پھر جب مدت ختم کرلیں تو جو اچھائی کے ساتھ وہ اپنے لیے کریں ]یعنی نکاح[اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں۔‘‘

تاہم ان مذکورہ آیات میں خطاب شوہر دیدہ[طلاق یافتہ /بیوہ]عورتوں سے ہے۔

دوسرا مسلک

عورت خواہ کنواری ہو بیوہ /مطلقہ کسی صورت بھی بلااذنِ ولی نکاح نہیں کرسکتی ۔یہ شوافع ، حنابلہ اور اکثر محدثین کا مسلک ہے۔چنانچہ ان کے دلائل حسبِ ذیل ہیں:

{  وَ اَنْکِحُوْ ا لْاَیَامَی مِنْکُمْ }[سورۃ النور:۳۲]

ترجمہ:’’تم میں سے جو مرد عورت بے نکاح کے ہوں ان کا نکاح کردو ۔‘‘

اس آیت میں خطاب اولیاء سے ہے کہ وہ بے نکاح مرد و عورت کا نکاح کردیں۔

رسول اللہﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:’’ لا نکاح الا بولی۔‘‘]سنن ابن ماجہ ، کتاب النکاح،باب لا نکاح الا بولی[

’’ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح درست نہیں ہے ۔‘‘

اور ایک روایت میں یوں ہے:

’’ ایما امرأۃ نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحھا باطل ۔‘‘]سنن ابی داود ، کتاب النکاح ، باب فی الولی ۔سنن ابن ماجہ ، کتاب النکاح، باب لا نکاح الا بولی[

 ترجمہ :’’جو عورت بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے ۔‘‘

تیسرا مسلک

امام داود ظاہری اور بعض اصحاب الحدیث کا ہے کہ ثیبہ(جس کی شادی پہلے ہو چکی ہو)کے لیے ولی کی اجازت ضروری نہیں بلکہ وہ اپنا نکاح بلااذنِ ولی بھی کرسکتی ہے ، صرف ولی کو اطلاع ہوجانا کافی ہے۔ تاہم باکرہ (کنواری)کے لیے ولی کی اجازت ضروری ہے بلا اذنِ ولی اس کا نکاح جائز نہیں بلکہ حرام ہے ۔ان کے دلائل حسبِ ذیل ہیں:

’’ عن ابن عباس  ؓ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم :’’ اَلثَّیِّبُ اَحَقُّ بِنَفْسِھَا مِنْ وَلِیِّھَا ،  وَالْبِکْرُ تَسْتَأْذِنُ فِیْ نَفْسِھَا، وَاِذْنُھَا صِمَاتُھَا ۔‘‘]صحیح مسلم، کتا ب النکاح،باب استئذان الثیب فی النکاح بالنطق و البکر بالسکوت ۔ سنن ابن ماجہ، کتا ب النکاح، باب استئمار البکر و الثیب ۔سنن ابی داؤد ،کتا ب النکاح ، باب فی الثیب ۔ سنن النسائی ، کتاب النکاح ،با ب استئذان البکر فی نفسھا ۔سنن الترمذی ،کتاب النکاح ، باب ما جاء فی استئمار البکر و الثیب[

ترجمہ :’’ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’ثیبہ ]طلاق یافتہ یا بیوہ[ اپنے ولی ]سرپرست[کے مقابلے میں بذات خود زیادہ حقدار ہے اور باکرہ]کنواری[ سے بھی اجازت طلب کی جائے اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہوگی۔‘‘

’’ عن ابن عباس ان رسول اللّٰہ ﷺ : لَیْسَ لِلْوَلِیِّ مَعَ الثَّیِّبِ أَمْرٌ وَ الْیَتِیْمَۃُ تَسْتَأْمِرُ  وَصَمْتُھَا اِقْرَارُھَا۔‘‘[ سنن أبی داود ، کتاب النکاح، باب فی الثیب۔ سنن النسا ئی ، کتاب النکاح ، باب استئذان البکرفی نفسہا ۔التعلیقات الحسان علی صحیح ابن حبان للشیخ محمد ناصر الدین الالبانی :۶/۲۰۵ مطبوعہ ۱۴۲۴ھ؍۲۰۰۳ ء ]

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ثیبہ(طلاق یافتہ یا بیوہ) کے معاملہ میں ولی کو اختیار نہیں ہے اور کنواری سے اجازت چاہی جائے گی، اس کی خاموشی ہی اس کا اقرار ہوگا۔

نتیجۂ بحث :

جن آیاتِ کریمہ میں اللہ ربّ العزت براہِ راست عورتوں سے مخاطب ہیں ، وہاںوہ عورتیںمراد ہیں جو ثیبہ ( بیوہ /طلاق یافتہ ) ہیں ۔ جبکہ جہاں اولیاء کو خطاب کیا گیا ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں کا نکاح کریں تو وہاں باکرہ ( کنواری لڑکی ) مراد ہیں ۔ جبکہ احادیث بھی ان آیات کا یہی مفہوم متعین کرتی ہے کہ ثیبہ اپنے نفس کی زیادہ حقدار ہے جبکہ باکرہ کا ولی اس کے معاملات کا خود باکرہ سے زیادہ اختیار رکھتا ہے ۔

امام ابو الطیب شمس الحق عظیم آبادی لکھتے ہیں:

’’ عورتوں کے نکاح و انکاح ] نکاح کروادینے[ میں ولی کو بھی حق حاصل ہے اور عورت کو بھی حق حاصل ہے۔ نہ عورت بغیر اذن و اطلاع ولی کے اپنا نکاح آپ کرلینے کی مجاز ہے کہ فتنہ و فساد کا دروازہ کھل جائے اور نہ ولی کو خلاف مرضی اور اجازت عورت کے نکاح کر دینے کا حق ہے کہ ظلم و تعدی کا راستہ جاری ہو جا ئے ۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ یہ دونوں حق یعنی عورت کا حق اور ولی کا حق ثیبہ ]طلاق یافتہ / بیوہ[ اور باکرہ ]کنواری[ میں یکساں اور مساوی نہیں ہے، بلکہ فرق ہے اور وہ فرق یہ ہے کہ ثیبہ میں ولی کا حق کم ہے اور خود عورت ثیبہ کا حق زیادہ ہے، یعنی نکاح کا کل معاملہ عورت ثیبہ کے اختیار میں ہے، لیکن ولی کو علم و اطلاع ہو جانا ضروری ہے، بخلاف باکرہ کے کہ اس میں ولی کا حق زیادہ ہے اور عورت باکرہ کا حق کم ہے ، یعنی نکاح کا کل معاملہ ولی کے متعلق ہے، عورت باکرہ کو صرف علم و اطلاع ہو جانا کافی ہے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ عورت اور اس کے ولی کے منشا میں اختلاف نہ ہو ا ورنہ بصورت اختلاف ولی کو حق جبر نہیں ہے، نہ ثیبہ پر، نہ باکرہ پر۔ ‘‘ [فتاویٰ الشیخ شمس الحق عظیم آبادی :۶۷]

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

Share
Published by
محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago