Categories: فروری 2009

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہوگا

’’عنقریب لوگ تم پہ ایسے ٹوٹ پڑیں گے جیسے بھوکے دسترخواں پہ۔‘‘

 یہ الفاظ چودہ سوسال پہلے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی زبان سے ادا ہوئے تو آپ کے ساتھیوں نے تڑپ کر پوچھا تھا کہ کیا ہم اس وقت بہت تھوڑے ہونگے؟ دربار رسالت سے جواب ملانہیں بلکہ اس وقت تو تم کثیر تعداد میں ہوگے۔ لیکن تمہاری حالت سیلاب پر بہنے والے تنکے کی ہوگی تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب کھینچ لیا جائے گا جبکہ تمہارے دلوں کو وَھن کا روگ لگ جائے گا پوچھا گیاوھن کیا ہے ارشاد ہوا ۔

حُبُّ الدُّنْیَا وَکَرَاہِیَۃُ الْمَوْتِ

دنیا کی محبت اورموت کا خوف

مسلمانوں کی کثرت کاعالم یہ ہے کہ اس وقت مسلمانوں کی تعداد ایک ارب چالیس کروڑ سے متجاوز ہے۔ دنیا کہ نقشے پر 57 اسلامی ملک موجودہیں ، مگر حال کیا ہے ۔ ’’غُثَائٌ کَغُثَائِ السَّیْلِ‘‘ سیلابی ریلے کے بہاؤ پر بے بسی سے تیرتے ہوئے خس وخاشاک ۔‘‘

یا ڈربے میں بندمرغیاں کہ جب ذبح کرنے کے لیے ایک مرغی نکالی جاتی ہے تو باقی پھڑ پھڑا کراپنی باری کے انتظار میں بیٹھ جاتی ہیں۔ فلسطین الجزائر عراق ، افغانستان اس کی عملی تصویر ہیں ۔سال 2008ء؁ بش کو جوتے پڑنے اورممبئی میں گولیاں برسنے کی خبروں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ۔ممبئی کا بہانہ بنا کر بھارت نے پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈہ کامحاذ کھول دیا ہے ہندو لالہ کی سرشت میں ہے کہ وہ شرافت کے مقابلہ میں غراہٹ اختیار کرتاہے اور سامنے والا گندگی سے بچنے کیلئے منہ پھیر کر جانے لگے تو ٹانگ کاٹ کھاتاہے اور اگر رک کر پتھر اٹھا لے تو اس کی غراہٹ منمناہٹ میں تبدیل ہوجاتی ہے اللہ بھلا کرے ڈاکٹر قدیر کا کہ قوم کو ایٹم بم کا پتھر ہر غرانے والے کا مقابلہ کرنے کیلئے تھما دیا وہ الگ بات ہے کہ ہم محسن کش واقع ہوئے اور اپنے اس ہیروکو زیرو بنانے پر تل گئے۔

 ممبئی حملوں کے بعد بھارت نے بڑا جارحانہ رویہ اپنایا اور پھر روایتی مکاری سے اپنے موقف میں مختلف قلابازیاں کھائیں ۔کبھی پرناب مکھر جی مکرتے ہوئے نظر آتے ہیں تو کبھی ان کا آرمی چیف روایت سے ہٹ کر بوکھلاہٹ میں پریس کانفریس کرکے جنگ کا آپشن کھلا ہونے کی نوید سناتاہے حالانکہ یہ شواہد مل چکے ہیں کہ یہ سب ان کے اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی ہے ۔ایک طرف تو ہندؤں پہ جنگی جنون سوار ہے اور ان کا میڈیا اسے مہمیز دے رہاہے ان کے مقابلے میں پاکستانی عسکری قیادت انتہائی ابرو مندانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے مگر یہ بات سمجھ نہیں آتی ۔جب پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے ہندو کی زبان بولنے لگتے ہیں سلامتی کونسل کا مشیر محمود علی درانی اجمل قصاب سے متعلق وہی راگ الاپتا ہے جسے ہندو اپنا کیس مضبوط کرنے کیلئے پیش کررہے ہیں پاکستان کا رہائشی بتاتے ہیں تو ایک نجی ٹی وی اتنی پھرتی دکھاتا ہے کہ باقاعدہ ایک فلم کاسٹ کرکے اجمل قصاب کو فرید کوٹ کا رہائشی ثابت کردیتاہے ۔آخریہ کیاہے؟ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ایسا تو نہیں کہ رکھوالی کرنے والی… چوروں کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور دوسری طرف چھ ماہ سے زائد مدت سے محصور بیچارے نہتے فلسطینیوں پر بدمعاش اسرائیل چڑھ دوڑا ہے جو پہلے سے غذا ودوا کی عدم دستیابی سے تباہ حال تھے ان پر فاسفورس بم برسا کر اسرائیل انہیں صفحہ ہستی سے مٹادینا چاہتاہے ۔

عالمی سطح پہ کوئی نہیں جو ان کو اس درندگی اور وحشت سے بچا سکے بربریت کایہ عالم ہے کہ اس کی صحیح کوریج بھی آزاد میڈیا کی دسترس میں نہیں مگر وہ جو خبریںجو اسرائیل خود چاہے معصوم بچوں کی لاشے نوجوان بھائیوں پہ نوحہ کناں بہنیں اقوام متحدہ سے سوال کرتی ہیں کہ کیا تمہار ا کام صرف امریکہ اور اسرائیل ہی کے

مفاد ات کا تحفظ ہے ؟یقینا ایسا ہی ہے کہ اس ظلم کو روکنا تو دور کی بات ہے اس کے خلاف بے ضرر سی مذمتی قرارداد بھی سلامتی کونسل میں امریکہ کے ویٹو کرنے پہ منظور نہیں ہوسکی۔اس طاقت ور ادارے میں صیہونی آمریت کا سکہ چلتاہے ۔ کم وبیش پوری دنیا اور بالخصوص نام نہاد مہذب دنیا دہرے معیار مکاری منافقت اور ظلم سے عبارت ہے۔ عراق کے خلاف بش سینئر کی پہلی جنگ سلامتی کونسل کی قرار داد کے مطابق تھی مگر وہ قراردادیں کیا ہوئیں جنہیں یہ کہا گیا تھا کہ اسرائیل کو چاہیے 1967 کی جنگ میں قبضہ کئے ہوئے فلسطینی علاقے فوراً خالی کردے سلامتی کونسل کی وہ قرار دادیں جنہیں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا وہ سردخانے میں پڑی ہیں ۔ کشمیر لہولہو ہے جبکہ سلامتی کونسل میں بھارت کی طرف سے حالیہ ممبئی واقعات کے خلاف قرارداد منظور ہونے کے فوراً بعد جماعۃ الدعوۃ پابندیوں کا شکار ہے ۔ کشمیر و فلسطین میں ظلم کے خلاف جاری جدوجہد تو دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے جبکہ انڈونیشا میں مشرقی تیمور کی عیسائی اقلیت کی اپنے ہی ملک کے خلاف بغاوت جدوجہد آزادی کہلاتی ہے اور سب مل ملا کر ایک عیسائی ملک بنوا دیتے ہیں اصل بات یہ ہے کہ ان کے اپنے لئے اور مسلمانوں کیلئے پیمانے جدا جدا ہیں ۔ پر امن جدوجہد کرنے والا اگر گولی کے مقابلے میں پتھر اٹھائے اور وہ مسلمان ہو تو دہشت گرد اور بدترین خونریزی کرنے والا کافر ہوتو وہ امن پسند ۔

حقیقت یہ ہے کہ صیہونیت کا پنجہ استبداد امن عالم کو جکڑے ہوئے ہے ۔24 عرب ممالک 325ملین کی آبادی کے ساتھ صرف 7.28 ملین اسرائیلی یہودیوں کے سامنے بے بس ہیں۔ جون1967ء؁ کی چھ روزہ جنگ گواہ ہے کہ جارحیت اسرائیل نے کی مگر یورپ کے اخبارات میں عرب جارح قرار پائے ۔ مصر ، سوریا ، اردن پھر ان کے لاجیسٹک مساعدومعاون لبنان ، عراق ، الجزائر ، کویت ، سعودی عرب، سوڈان بری طرح پٹ گئے سب سے زیادہ مصر کانقصان ہوا۔ جزیرہ نمائے سینا پر قبضہ ہوگیا ۔بیت المقدس پر یہودی قابض ہوگئے۔ یہ الأمۃ العربیۃ کے نعرہ کا شاخسانہ تھا کہ جس کے غازہ میں امت مسلمہ کا تصور کجلا گیا ۔ چاہیے تو یہ تھا کہ پھر مسلمان اکٹھے ہوجاتے مگر

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔

آپس کا نفاق دو چند ہوگیا نوبت بہ اینجا رسید کہ جب اسرائیلی جہاز اس سال کی ابتداء معصوم فلسطینی بچوں ، عورتوں ، بوڑھوں اور بیماروں پر بم برسا کر کرتے ہیںعین اسی وقت ان کی وزیر خارجہ کے ساتھ مصری حکمران جشن میں شریک ہورہے ہوتے ہیں۔معصوم پھول سے بچوں کی خون میں لت پت لاشیں اقوام عالم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے اور ان کی چیخیں امت مسلمہ کو خواب غفلت سے بیدار کرنے سے قاصر ہیں یہودی اس درندگی کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھ کر انجام دے رہے ہیں۔یہودیوں کاربی موردافے الیاھو کہتاہے کہ فلسطینی عورتوں اوربچوں کا قتل جائز ہے ۔ دس لاکھ فلسطینی بھی قتل ہوجائیں تو پروا نہ کی جائے۔ ایک اور انتہا پسند ربی یسرائیل روزن تورات کا قانون یوں بتاتاہے کہ دشمن مردوں ، عورتوں ، بچوں ، بوڑھوں یہاں تک کہ جانوروں کو مارنا جائز ہے ۔

صیہونی سانپ ایسا زہر یلا ہے کہ یہ اپنے دودھ پلانے والوں کو بھی نہیں بخشتا۔1967ء؁کی جنگ میں مصر کے قریب اسرائیل نے صرف اس لیے امریکی بحری بیڑے کو شکار کرلیا جس میں پینتیس امریکی ہلاک ہوگئے تاکہ الزام مصر کے سرآئے اور امریکہ عملی طور پر جنگ میں شریک ہوجائے امریکہ اب بھی اسرائیل کی پشت پر کھڑا اپنی قبر اپنے ہاتھوں سے کھود رہا ہے۔غزہ پہ اسرائیل جارحیت میں اس کی مدد کیلئے تین ہزار ٹن جدید ترین امریکی آتشیں اسلحہ اور جنگی سامان سے بھرے ہوئے 325 کنٹینر تل ابیب پہنچے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے جبکہ دوسری جانب منافقانہ طرز عمل اپـنائے ہوئے امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) امدادی سامان پہنچانے کیلئے اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی سے رابطہ قائم کیے ہوئے ہے ۔ مہذب اس قدر ہیں کہ امریکہ کی صرف ایک ریاست ورجینیا میں 60 تنظیمیں جانور وں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کررہی ہیں مگر خونِ مسلم ان جانوروں سے بھی ارزاں سمجھا جاتاہے۔

یہودی دنیا کی مبغوض ترین قوم ہے جس سے بقول فرینکلن امریکہ کو سب سے بڑا خطرہ ہے جو امریکی اقتدار پر چھائے ہوئے ہیں ان کے جرائم کی فہرست طویل ہے۔انبیاء کی نافرمانی سے لیکر ان کے قتل تک سب کچھ کر گزرنے والی اس قوم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

{ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّۃُ أَیْنَ مَا ثُقِفُواْ إِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنْ اللّہِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَآؤُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللّہِ وَضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الْمَسْکَنَۃُ ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ کَانُواْ یَکْفُرُونَ بِآیَاتِ اللّہِ وَیَقْتُلُونَ الأَنبِیَاء بِغَیْرِ حَقٍّ ذَلِکَ بِمَا عَصَوا وَّکَانُواْ یَعْتَدُونَ}(آل عمران : ۱۱۲)

’’یہ جہاں بھی پائے گئے ان پر ذلت کی مار ہی پڑی ، کہیں اللہ کے ذمہ یا انسانوں کے ذمہ میں پناہ مل گئی تو یہ اور بات ہے یہ اللہ کے غضب میں گِھر چکے ہیں ، ان پر محتاجی اور مغلوبی مسلط کردی گئی ہے اور یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا ہے کہ یہ اللہ کی آیات سے کفر کرتے رہے اور انہوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا نتیجہ تھااور اس بات کا کہ وہ حدود شریعت سے نکل جاتے تھے ۔‘‘

سفاکی ان کے دلوں میں گھر کر گئی تاریخ ان کی ذلت اور رسوائی اس طرح بتاتی ہے کہ رومی بادشاہ بخت نصر 587 ق م کے ہاتھوں ان کی بربادی کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر بڑھتاہی چلا گیا ۔سن 66 عیسوی میں رومیوں نے یروشلم پر حملہ کیا جس میں ہزاروں کی تعدا د میں یہودی قتل ہوئے اور بڑی تعداد میں غلام بنا کر بیچے گئے ۔دوسری صدی میں انہوں نے بغاوت اٹھائی تو ان کاقتل عام ہوا یہاں تک کہ 132 میں یروشلم میں ان کے داخلے پر مکمل پابندی لگ گئی۔تیسری اور چوتھی صدی میں رومی حکومت نے ان پر مزید سختی کی ان کی معیشت تنگ کی گئی اور ان کے علماء پر اور زیادہ پابندیاں لگا دی گئیں ۔ چھٹی صدی میں رسول اللہ ﷺ نے ان کی شرارتوں کی وجہ سے انہیں خیبر بدر کیا اور بد عہدی وغداری کے سبب بنو قریظہ کے لوگ قتل ہوئے۔ 1096ء؁ میں جرمنی سے انہیں نکالا گیا بارہویں صدی میں اسپین میں مسلمانوں کو جزیہ دینے پر مجبور ہوئے ۔1394ء؁ میں فرانس سے نکالے گئے 1496ء؁ میں پرتگال سے بے دخل ہوئے ، 1917ء ؁ میںجب روس میں کیمیو نسٹ انقلاب آیا تو ہزاروںکی تعداد میں یہودی قتل ہوئے 1933ء؁ میں ہٹلر نے ان کی خبر لی اور چھ ملین یہودی قتل ہوئے ایک تجزیہ کے مطابق یورپ میں سب سے زیادہ قابل نفرت یہودی سمجھے جاتے ہیں لمحہ فکریہ یہ ہے اس ذلیل ترین قوم سے خیر الأمم مسلمان پٹ رہے ہیں اس کی وجہ آپ ہیںاگرچہ یقینا ہمارے اپنے اعمال ’’حَبْلٌ مِنَ النَّاسِ‘‘ کے تحت انگلستان کے ذریعے ناجائز حکومت انہیں ملی ہے مگر یہ ظلم آخر مٹنے والا ہے ’’فلسطین المسلمہ ‘‘ ایک رسالہ فلسطین سے شائع ہوتاہے اس کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں پچیس فیصد نوجوان جبری فوجی بھرتی سے بھاگ رہے ہیں ۔دس لاکھ یہودی اسرائیل چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں بسیرا کرچکے ہیں ، پچاس فیصد اسرائیلی منشیات استعمال کرتے ہیں ان کے تیس فیصد لوگ اس گھناؤنے کاروبار سے وابستہ ہیں یہ خود تو ڈوبے گا مگراس سے پہلے اسکا پشت پناہ تباہی کا شکار ہوگا ۔( ان شاء اللہ)

11.5 ٹریلین ڈالر کی رقم عالمی ورلڈ آرڈر کے خبط میں اجاڑ چکاہے بڑے بڑے بنک دیوالیہ ہورہے ہیں بڑی بڑی کمپنیاں اپنے ملازمین کی تعداد میں کمی کرنے پر مجبور نظر آرہی ہیں خوشحال قوم قدم بقدم بدحالی کی طرف بڑھ رہی ہے اور بقول علامہ اقبال :

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ خودکشی کرے گی

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہوگا

اسلام تو اللہ کے حکم سے غالب آکر رہے گا مگر دیکھنا ہے کہ ہمارا اس میں کتنا حصہ ہوگا ؟ ہم اسلام سے کتنے مخلص ہیں ؟ ہندی ثقافت ہمارے گھروں میں رقصاں ہے یہودی طرز معیشت اختیار کرکے ہم ان کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں اس سودی نظام ، مغربی اور ہندوانہ ثقافت چھوڑنے کیلئے کیا ہم تیار ہیں یا نہیں؟

دل رو رہا ہے دیکھ کے خیر الامم کا حال

بے دست وپا غریب عجیب بے بسی میں ہے

پروردگار کر کوئی تائید غیب ہے

امت ترے نبی کی بڑی بے بسی میں ہے

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر محمد طاہر آصف

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago