فضیلۃ الشیخ ضیاء الرحمن المدنی رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے گوناگوں صفات سے متصف کیا تھا۔ آپ بیک وقت بہترین منظم، کامیاب مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ تقریر وبیان میں بھی ید طولیٰ رکھتے تھے۔ آپ کی گفتگو انتہائی سادہ مگر قرآن وحدیث کے جواہر ولعل سے مزین ہوتی۔ آپ مخاطبین کی نفسیات اور حالات کا مکمل ادراک رکھتے ہوئے خطاب فرماتے تھے۔ قرآن وحدیث سے منفرد نکات کا استشہاد واستدلال آپ کے لطیف طرز استنباط کا مظہر ہوا کرتا تھا۔ مجلۃ اسوئہ حسنہ حضرۃ المدیر کے بیانات کو افکارِ ضیاء کے نام سے سلسلہ وار اپنے قارئین تک پہنچانے کا عزم رکھتا ہے امید ہے کہ قارئین اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں گے۔

بسم الله والصلاة والسلام على رسول الله ﷺ، أما بعد: فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم، وقال الله تعالى: شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَالْمَلٰٓىِٕكَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَآىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ (آل عمران:18) وقال النبي ﷺ :طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ (سنن ابن ماجه: 224)

تمام تعریفات توصیفات تسبیحات تحمیدات طیبات صلوات تکبیرات تمجیدات اچھے کلمات اللہ تبارک و تعالی کے لیے ہیں درود و سلام نبی اکرم ﷺکی ذات گرامی کے لیے جو ہمارے آقا ہیں رہبر ہیں رہنما اسوہ ہیں، مثال ہیںاور نبی اکرم ﷺکی پیروی میں ہی ہماری نجات ہے ۔

علم کی فضیلت کے سلسلے میں میں نے آپ کے سامنے ایک آیت پڑھی ہے جبکہ آیات تو کتاب اللہ کے اندر علم کے متعلق سینکڑوں کی تعداد میں ہیں بلکہ بعض لوگوں نے علم اور علم سے متعلق مشتقات کے بارے میں آیتیں گنی تو یہ تقریباًسات سو سے زیادہ آیتیں کتاب اللہ کے اندر پائی جاتی ہیں یہ جو آیت میں نے آپ کے سامنے پڑھی ہے تلاوت کی ہے یہ سورہ آل عمران میں سے ہے اس میں اللہ تبارک و تعالی نے علم والوں کو اس سلسلے میں اور اس لڑی میں پرویا ہے جس سلسلے کے اندر اللہ تبارک و تعالی فرشتوں اور اولو العلم کو ایک ہی سلسلے میں بیان کیا ہے اور یہ علم کی اہمیت پر دلالت کرتی ہے اور یہ آیت توحید جیسی حقیقت کو جاننے کے لیے اور اس پر عمل کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے کہ بڑی سے بڑی بات ہو چھوٹی سی چھوٹی بات ہو اس پر عمل کرنے کے لیے علم ضروری ہے اسی لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک باب باندھا ہے:

باب العلم قبل القول والعمل

ہر بات سے پہلے جو ہے وہ عمل کرنے سے پہلے علم ضروری ہے اور علم کا تعلق بنی نوع انسانیت سے اس کی پیدائش سے ہی ہے بلکہ اس کی ابتدا سے ہے اللہ تبارک و تعالی نے فرشتوں کے مقابلے میں جب آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو یہی بیان کیا گیا کہ آدم علیہ السلام کو جو اللہ تبارک و تعالی نے فضیلت بخشی ہے وہ اس علم کی بنا پر بخشی ہے اور نبی اکرم ﷺکے اوپر جو پہلی وحی اتری ہے اور اس کے اندر بھی نبی اکرم ﷺکو یہی کہا گیا ہے کہ

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (العلق:1۔5)

کہ انسان کو اللہ تبارک و تعالی نے وہ سکھایا ہے جو انسان جانتا نہیں ہے تو علم جو وہ (من جانب اللہ )ہے اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے ہے اور نبی اکرم ﷺکو اللہ تبارک و تعالی نے تنبیہ کی ہے کتاب اللہ کے اندر کہ اگر علم کے علاوہ کسی چیز کی پیروی کی جائے گی تو وہ خواہشات نفس ہے ۔

وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِيْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّ لَا نَصِيْرٍ (البقرة:120)

کہ اگر علم کے مقابلے میں (جو من جانب اللہ) ہے کسی اور چیز کی پیروی کی جائے گی تو وہ خواہشات نفس ہیں اور اگر انسان خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے آپنی مرضی کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالی کے علاوہ کوئی بھی اس کا نہ مددگار ہو سکتا ہے نہ کوئی دوست ہو سکتا ہے تو اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے علم کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے نبی اکرم ﷺکی حدیث ہے:

طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ (سنن ابن ماجه: 224)

’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔‘‘نبی اکرم ﷺکی یہ بھی حدیث مدنظر رہنی چاہیے۔

«مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الجَنَّةِ»(سنن الترمذي:2646)

جو بھی علم کے راستے پر چلتا ہے بالاخر اس راستے کا اختتام یا منزل جو ہے وہ جنت ہے کہ جو بھی اللہ تبارک و تعالی کے لیے علم حاصل کرنے کے لیے نکلتا ہے اور اگر اس راستے کے اندر اسے موت آ جاتی ہے تو اس کے اور جنت کےدرمیان میں صرف موت ہے نبی اکرم ﷺنے جو احادیث کے اندر علم کی فضیلت بیان کی ہے قران مجید میں تو 700 مرتبہ سے زیادہ ہے احادیث کے اندر تو علم کی جو فضیلت نبی اکرم ﷺنے بیان کی ہے تو اسے تو گنا نہیں جا سکتا جو سب سے اس لحاظ سے نبی اکرم ﷺنے جو علم کی فضیلت بیان کی ہے میرا علم کے مطابق اس حدیث سے بڑی حدیث کوئی نہیں ہے جو نبی اکرم ﷺنے یہ کہا کہ

«فَضْلُ العَالِمِ عَلَى العَابِدِ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ»(سنن الترمذي: 2685)

ایک عالم کو اللہ تبارک و تعالی نے اس قدر فضیلت دی ہے جس طرح مجھ نبی اکرم ﷺکو فضیلت عطا کی ہے تم میں سے کسی ادنی صحابی کے اوپر یعنی نبی اکرم ﷺنے صاحب علم کو اس قدر بڑا مقام دے دیا ہے کہ اس کے بارے میں جو ہے وہ تصور نہیں کیا جا سکتا اور پھر یہی تک نہیں ہم یہ آیت جو ہے وہ بہت زیادہ تلاوت کرتے ہیں ہر خطبے کے اندر تلاوت کی جاتی ہے

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىِٕكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ

کہ بے شک اللہ تبارک و تعالی اور اس کے فرشتے نبی اکرم ﷺپر درود بھیجتے ہیں۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (الأحزاب:52)

کہ اے ایمان والو آپ بھی وہ کام کریں جو اللہ تبارک و تعالی اس کے فرشتے سرانجام دے رہے ہیں یہ اس پیرائے میں اللہ تبارک و تعالی نے نبی اکرم ﷺکا ذکر جو ہے وہ کیا ہے کتاب اللہ کے اندر نبی اکرم ﷺنے اسی انداز میں اصحاب علم کا ذکر کیا ہے کہ بے شک اللہ

«إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَوَاتِ وَالأَرَضِينَ حَتَّى النَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا وَحَتَّى الحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الخَيْرَ» (سنن الترمذي:2685)

بے شک اللہ تبارک و تعالی اور اس کے فرشتے اور جو کچھ اسمانوں میں ہے جو کچھ زمین میں ہے اور پھر نبی اکرم ﷺنے اس حدیث کے اندر بطور مثال بھی جو ہے وہ بیان کیا یہاں تک کہ مچھلی سمندر کے بیچ کے اندر یہاں تک کہ چیونٹی سوراخ کے اندر وہی لفظ ہے وہاں پر ہے یہاں پہ نبی ﷺنے استعمال کیا ہے ایک ہی الفاظ ہیں کہ درود بھیجتے ہیں دعائیں کرتے ہیں جو لوگوں کو خیر کی بات بتاتا ہے یہ بڑی عظیم حدیث ہے وہاں پر صرف اور صرف قران مجید میں اللہ تبارک و تعالی کا ذکر کیا گیا ہے اور فرشتوں کا ذکر کیا گیا ہے یہاں پر نبی اکرم ﷺنے اللہ تبارک و تعالی کا بھی ذکر فرمایا ہے فرشتوں کا بھی ذکر فرمایا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آسمانوں میں تمام مخلوقات کا ذکر کیا ہے اور زمین کے اندر تمام مخلوقات کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ دعائیں مانگتے ہیں جو لوگوں کو خیر کی بات بتاتا ہے نبی اکرم ﷺآپ جانتے ہیں کسی بھی چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے لیکن نبی اکرم ﷺکو یہ حکم دیا گیا ہے کہ

وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا

کے نبی اکرم ﷺیہ دعا کیجئے کہ اللہ تبارک و تعالی ہمیں بہت زیادہ علم نصیب فرما تو یہ احادیث اور وہ ایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اس میں کوئی استثناء نہیں ہے مذکر مونث کی استثناءنہیں ہے چھوٹے بڑے کی استثناءنہیں ہے اور انسان کو پوری زندگی حصول علم میں گزار دینی چاہیے اس لیے کہ جس قدر بھی علم حاصل کر لیا جائے وہ تھوڑا ہی ہے۔

وَ مَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا (الإسراء:85)

ہمیں جو بھی علم دیا گیا ہے وہ تھوڑا سا اللہ تبارک و تعالی کے بہت سارے خزانوں میں سے تھوڑا سا ہے اور جس قدر علم کے ساتھ نسبت بڑھتی چلی جاتی ہے اسی قدر عمل کے اندر رسوخ آتا چلا جاتا ہے اسی قدر بہتری آتی چلی جاتی ہے اسی قدر جو ہے انسان کا تعلق اللہ تبارک و تعالی سے بڑھتا چلا جاتا ہےکہ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ آپ ہمارے درمیان میں کیوں نہیں بیٹھتے آپ کو معلوم ہے کہ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ جو ہے تابعین میں سے تھے (خیر القرون)میں سے تھے تو انہوں نے بڑی خوبصورت بات کہی کہا کہ مجھے نبی اکرم ﷺاور صحابہ کرام کے ساتھ بیٹھنے سے فرصت ملے تو میں آپ کے ساتھ بیٹھا ہوں اس کا مطلب یہ تھا کہ میں جب احادیث پڑھ رہا ہوتا ہوں تو اس طرح ہے جس طرح میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ بیٹھا ہوں جب میں سیرت صحابہ کا مطالعہ کر رہا ہوتا ہوں تو اس طرح ہے جس طرح میں صحابہ کرام کے ساتھ بیٹھا ہوں تو میں وہ جو پیرائے میں یہ بات کی جا سکتی ہے کہ جو کتاب اللہ کی تلاوت کر رہا ہوتا ہے تو دراصل اللہ تبارک و تعالی سے باتیں کر رہا ہوتا ہے اللہ تبارک و تعالی کے ساتھ اس کا تعلق جڑ جاتا ہے اور جو احادیث رسول اللہ ﷺپڑھ رہا ہوتا ہے تو ویسے ہی ہے جس طرح رسول اللہ ﷺکی صحبت میں بیٹھا ہے جو سیرت صحابہ کا مطالعہ کر رہا ہوتا ہے اسی طرح ہے جس طرح وہ صحابہ کرام کے درمیان میں بیٹھا ہوا ہے اسی لیے قران مجید میں یہ بات کی گئی ہے کہ

اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا(فاطر:28)

دراصل اللہ تبارک و تعالی سے ڈرنے والے لوگ تو صرف اور صرف علماء ہی ہیں تو اس علم حاصل کرنے سے عمل کے اندر رسوخ پیدا ہوتا ہے اور رسوخ کے ساتھ ساتھ جو ہے خشیت بھی جو ہے وہ بہت ضروری ہے اور اللہ تبارک و تعالی چاہتے ہیں کہ اس سے ڈرا جائے اور حقیقت ڈرتے وہی ہے جو علم رکھتے ہیں کرتے وہی ہیں جو رکھتے ہیں اور جس قدر علم میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اسی قدر جو ہے وہ خشیت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ہمیں ان باتوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے اوپر عمل کرنے کی توفیق اور عطا فرمائے ۔

وآخر دعوانا عن الحمد لله رب العالمين۔آمين

admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago