جہمیة کے ساتھ مکالمہ
امام احمد رحمہ اللہ نے فر مایا: اسی طرح جہم اور اس کا گروہ، لوگوں کو قرآن وحدیث کے متشا بہات کی طرف بلاتے ہیں۔جو خود بھی گمرہ ہو ئے ایسی باتوں سے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا۔ پس ہمیں جو بات اللہ کے دشمن جہم کے بارے ملی ہے وہ خراسان کے شہر ترمذ کے رہنے والا تھا۔اور وہ سخت جھگڑالو اور باتونی آدمی تھا اور اس کی زیادہ تر گفتگو اللہ تعالی کی ذات کے بارے ہوتی تھی۔
پس مشرکین کے کچھ لوگوں میں سے جنہیں السمنیہ کہا جاتا جہم سے ملے۔ انہوں نے جہم کو پہچان لیا۔ تو انہوں نے کہا کہ ہم تم سے بحث کر تے ہیں۔ اگر ہماری دلیل تم پر غالب آگئی تو تم ہماری دین میں داخل ہو گے۔ اور اگر تمھاری دلیل ہم پر غالب آئی تو ہم تمھاری دین میں داخل ہو ں گے۔ پس جہم سے بات شروع کی۔
سمنیہ نے کہا: کیا تم یہ مانتے ہو کہ تمھاراکوئی الہ ہے؟جہم نے کہا: ہاں میں اس بات کو مانتا ہوں، سمنیہ نے کہا: کیا تم نے اپنے معبود کو دیکھا ہے؟جہم نے کہا: نہیں دیکھا۔سمنیہ نے کہا: کیا تم نے اس کا بات کر نا سنا ہے؟جہم نے کہا: نہیں سنا، سمنیہ نے کہا: کیا تم نے اس کی کوئی بو محسوس کی ہے؟جہم نے کہا: نہیں محسوس کی،سمنیہ نے کہا: کیا تم نے اسکو محسوس کیا ہے؟جہم نے کہا: نہیں کیا،سمنیہ نے کہا: کیا تم نے اسے چھوا ہے؟جہم نے کہا: نہیں چھوا، سمنیہ نے کہا: پھر تم کو کیسے معلوم کہ وہ معبود ہے؟
پس جہم حیران رہ گیا۔ پھر چالیس دن تک وہ یہ ہی نہ جان سکا کہ وہ کس کی عبادت کرے؟ پھر جہم نے زندیق نصاری جیسی ایک دلیل پائی۔اور جس طرح زندیق نصاری عقیدہ رکھتے ہیں کہ عیسیٰؑ میں جو روح تھی وہ اللہ تعالیٰ کی روح تھی یعنی اللہ کی ذات ہے، پس جب وہ کسی کام کا اردہ کر تا ہے، تو وہ اپنی بعض مخلوق میں داخل ہو تا ہے اور اپنی مخلوق کی زبان پر کلام کر تا ہے۔ پس جو چاہتا ہے حکم کر تا ہے اور جو چاہتا ہے منع کر دیتا ہے۔(اور وہ آنکھوں سے غائب روح ہے) پس اس دلیل کی طرح جہمی نے دلیل پالی۔
تو سمنیہ سے کہا: کیا آپ یہ مانتے ہو کہ آپ میں روح ہے؟سمیہ نے کہا: ہاں مانتے ہیں، جہم نے کہا: کیا آپ نے روح کو دیکھا ہے؟سمنیہ نے کہا: نہیں دیکھا، جہم نے کہا: کیا آپ نے اس کا بات کر نا سنا ہے؟ سمنیہ نے کہا: نہیں سنا، جہم نے کہا: کیا آپ نے اسکو محسوس یا چھوا ہے؟سمنیہ نے کہا: نہیں چھوا، تو جہم نے کہا: پس اس طرح اللہ تعالیٰ ہے نہ تو اسکے چہرے کو دیکھا جا سکتا ہے اور نہ اسکی آواز سنی جا سکتی ہے اور نہ اس کی بو کوسو نگھا جا سکتا ہے۔اور وہ نظروں سے غائب ہے۔ اور نہ ایسا ہے کہ ایک جگہ میں ہے اور دوسری میں نہیں۔
اور قرآن کی تین متشابہہ آیات پائی ہیں:1۔“اس جیسی کوئی چیز نہیں”
2۔“اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے: اور وہی ہے معبود بر حق آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی”، 3۔ اللہ تعالیٰ کا فر مان : “ اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہو سکتی اور وہ سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہے۔” اور اپنے مذہب کی بنیاد ان تین آیتوں پر استوار کی۔ اور قرآن کی بے بنیاد تأ ویل کی، اور احادیث رسول اللہ ﷺکو جھٹلایا۔اور یہ عقیدہ رکھا کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے لئے وہ صفات ثابت کرے جو خود اللہ نے اپنی کتاب میں اور اس کے رسول نے احادیث میں بیان کی ہیں تو وہ کافر ہے اور وہ تشبہہ دینے والوں میں سے ہیں۔اس نے اپنے کلام سے بہت لوگوں کو گمراہ کیا (امام) ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھیوں اور بصرہ میں عمرو بن عبید کے بہت سے ساتھیوں نے جہم کی پیروی کی۔
اور جب لوگوں نے اس سے اللہ تعالیٰ کے اس فر مان کے متعلق پوچھا:“اس جیسی کوئی چیز نہیں”تو جہمیہ کہتے ہیں۔ اشیاء میں اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ ساتویں زمین کے نیچے اسی طرح ہے جیسے عرش پر ہے۔اس سے کوئی جگہ خالی نہیں ہے اور نہ ایسا ہے کہ ایک مکان میں ہے اور دوسرے مکان میں نہیں ہے۔ اور نہ کبھی کلام کیا اور نہ کلام کرتا ہے۔ اور نہ اس کو کوئی دنیا میں دیکھ سکتا ہے اور نہ آخرت میں۔ اور اس کے لئے کسی صفت اور فعل کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ اس کے لئے کوئی مقصد ہے۔اور نہ انتہا ہے اور نہ عقل سے اس کا استدراک کیا جا سکتا ہے۔ اور وہ سارے کا سارا چہرہ ہے اور سارے کا سارا علم ہے اور سارے کا سارا نظر ہے اور سارے کا سارا نور ہے، اور سارے کا سارا قدرت ہے۔ دو مختلف چیزیں اس میں اکھٹی نہیں ہو سکتی اور نہ دو متضاد صفتوں سے اللہ تعالیٰ کو موصوف کیا جا سکتا ہے۔اور اس کے لئے بلندی ہے نہ اس کے لئے گہرائی ہے۔اور نہ اس کے لئے اطراف اور جوانب ہیں۔ اور نہ اس کے لئے دایاں ہے اور نہ بایاں ہے، اور نہ وہ بھاری ہے اور نہ ہلکا۔ نہ اسکا رنگ ہے اور نہ جسم۔ اور نہ تو وہ معلوم ہے اور نہ مجہول اور جب بھی تیرے دل میں خیال آتا ہے کہ وہ ایک چیز ہے جو آپ معلوم کر سکیں تو وہ اس کے خلاف ہو گا۔
امام احمد نے فر مایا: اور ہم نے (اسے) کہا وہ ایک چیز تو ہے؟ جہمیہ نے کہا: وہ چیز تو ہے مگر دوسری اشیاء کی طر ح نہیں۔ ہم نے کہا جب کوئی چیز اشیاء کی طر ح نہیں ہو تی تو اہل عقل کے ہاں تو وہ کوئی چیز ہی نہیں ہو تی۔ اس وقت لوگوں کو معلوم ہوا کہ جہمیہ کسی چیز پر ایمان نہیں رکھتے۔( یعنی جو چیز ہے ہی نہیں اس کی عبادت کر تے ہیں)تو یہ جہمیہ خود سے وہ قباحت دور کرتے ہیں جس کا اعلانیہ عقیدہ رکھتے ہیں۔
پس جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آپ کس کی عبادت کر تے ہیں؟ جہمیہ نے کہا: ہم اس کی عبادت کر تے ہیں جو مخلوق کی تدبیر کر تا ہے۔ ہم نے کہا: وہ ذات جو مخلوق کی تدبیر کر تا ہے وہ مجہول ہے اور اس کو کسی صفت سے موصوف نہیں کیا جا سکتا؟ جہمیہ نے کہا: ہاں بالکل، ہم نےکہا: یقیناً مسلمانوں کو معلوم ہو گیا کہ تم لوگ کسی چیز پر ایمان نہیں رکھتے بلکہ تم صرف وہ قباحت جو تم سے ظاہر ہو تی ہے اسے دور کرتے ہو۔ہم نے ان سے کہا : وہ ذات جو تدبیر کر تی ہے، اسی ذات نے موسیٰؑ سے کلام کیا؟ جہمیہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے کبھی کلام نہیں کیا ہے اور نہ کر تا ہے۔ کیونکہ کلام جوارح (منہ زبان) کے بغیر نہیں ہو تا اور جوارح (اعضاء) اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت نہیں۔جب لا علم لوگوں نے ان کی باتوں کو سنا تو یہ گمان کیا کہ یہ جہمی تو لوگوں میں سب سے بڑھ کر اللہ کی تعظیم کر نے والے ہیں۔اور یہ (جاہل)لوگ نہیں جانتے کہ یہ (جہمیہ) اپنے قول کی وجہ سے گمراہی اور کفر کی طرف لوٹتے ہیں اور ان لا علموں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ انہوں نے اپنے قول سے اللہ پر جھوٹ باندھا۔
(امام احمد نے کہا)پس جہمی سے جس چیز کا سوال کیا جائے گا وہ یہ کہ کیا تمھیں قرآن یعنی اللہ کی کتاب سے کوئی ایسی آیت معلوم ہو ئی جس میں یہ خبر ہو کہ قرآن مخلوق ہے؟تو وہ نہیں پائے گا۔ پھر ان سے کہا جائے: کیا تم نےاللہ کے رسول ﷺ کی سنت میں یہ پا یا (کہ قرآن مخلوق ہے ) پس وہ نہیں پائے گا۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نے پھر کہا سے یہ بات اخذ کی؟تو وہ کہے گا کہ اللہ کے اس فر مان سے کہ:“ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے”اور یہ گمان کہ “جَعَلَ” کا معنی “ خَلَقَ” (یعنی پیدا کر نا) پس ہر مجعول مخلوق ہے۔تو مشابہہ آیت سے دعویٰ کیا اور اس کو بطور دلیل بنا یا تاکہ اللہ تعالی کے نازل کردہ میں کج روی اور اس کی تشریح میں فتنہ پیدا کرے۔
قرآن میں جَعَلَمختلف معنوں میں استعمال ہوا اور دو معنوں کے اعتبار سے مخلوق میں سے ہے۔
1۔ایک جعل کا معنی نام رکھنے کے اعتبار سے۔
2۔دوسرا جعل کا معنیٰ مخلوق کے فعل کے اعتبار سے۔
اور اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے: جنہوں نے اس کتاب الٰہی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے”(مشرکوں) نے کہا یہ شعر ہے۔ پہلے لوگوں کی باتیں ہیں اور برے خواب ہیں۔ تو یہ (جَعَلَ کا ) معنی نام رکھنے کے اعتبار سے ہے۔(یعنی یہ نام قرآن کے رکھ دیئے) فر مایا: اور انہوں نے فر شتوں کو جو رحمٰن کی عبادت گزار ہیں عورتیں قرار لیا۔یعنی انہوں نے (فرشتوں کو )عورتوں کا نام دیا۔
پھر “جَعَلَ” کا ذکر دوسرے معنی میں استعمال ہوا۔(یعنی فَعَلَ مخلوق کے فعل کے اعتبار سے) پس فر مایا : “ اپنی انگلیا ں اپنے کانوں میں ڈال لیتے ہیں۔ چنانچہ (جَعَلَ ) کا یہ معنی مخلوق کے افعال میں سے ہیں ۔ (جاری ہے)
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…